اہلسنت کے نظریۂ خلافت اوراہل تشیع کے عقیدۂ امامت کا فرق

676
0

ahl-e-sunnat-k-nazaria-e-khilafat-aur-ahle-tashi-k-aqeeda-e-imamat-ka-farq

درسِ نظامی کی کتاب ’’ شرح العقائد‘‘ میں ہے کہ ’’خلافت کا قیام واجب ہے ، سنی کے نزدیک خلیفہ کا تقرر مخلوق پر واجب ہے ، شیعہ کے نزد خلیفہ کا تقرر اللہ پر واجب ہے۔ درست عقیدہ ہے کہ اللہ پر کوئی واجب نہیں ۔ شیعہ کا عقیدہ غلط ہے کہ اللہ پر کوئی بات واجب ہے‘‘
علم الکلام کا دوسرا نام علم العقائد ہے جس کا تعلق فلسفہ سے ہے۔ امام ابوحنیفہؒ نے جوانی اس میں کھپادی ،آخر توبہ کی ،اس کو گمراہی قرار دیکر فقہ کی طرف توجہ کی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمود بڑے قابل عالمِ دین تھے، مگر انہوں نے زیادہ تر توجہ سیاست کی طرف دی۔ شرح العقائداور دیگر چند کتابوں کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ یہ شیعہ کی سازش ہے، ان کو اپنے نصاب سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔
اصول فقہ میں قرآن کی تعریف علم العقائد سے پڑھائی جاتی ہے۔ جس میں قرآن کی تحریر کومحض نقش قرار دیا گیاہے جو الفاظ ہیں اور نہ معنیٰ۔ حالانکہ قرآن کی بہت سی آیات سے یہ ثابت ہے کہ قلم کے ذریعہ علم، جو سطروں میں ہے ، جو ہاتھ سے لکھی جاتی ہے، یہ کتاب ہے، جاہل مشرک بھی سمجھتے تھے کہ جو صبح شام لکھوائی جاتی ہے یہ کتاب ہے۔ ایک بچہ، ان پڑھ اور جاہل بھی کتاب کی کتابت کا انکار نہیں کرسکتا۔
علم العقائد کی گمراہی میں حقائق کی شکل مسخ کی گئی ہے اسلئے امام ابوحنیفہؒ نے اس سے توبہ کی مگر اہل تشیع کے بڑے لوگوں نے مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو باقی رکھا اور اپنے نادان علماء ومفتیان بھی اس کا شکار ہوگئے۔ یہ حقیقت ہے کہ درباری علماء ومفتیان کا ہر دور میں راج رہا ہے جن کی وجہ سے اسلام اجنبی بنتا چلا گیا۔ قادیانیوں کیخلاف تحریک چل رہی تھی تو جب پاکستان کی ریاست نے نہیں چاہا کہ مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگے تو ہماری عدالت و حکومت نے ’’ختم نبوت زندہ باد‘‘ کے نعرے پر پابندی لگادی۔ آج ریاست کا من چاہے تو مولویوں کو کھڑا کرکے آغا خانیوں پر نہ صرف کفر کے فتوے لگادے بلکہ انکے ہسپتال ، تعلیمی اداروں اور آبادیوں کا بھی بیڑہ غرق کردے۔
قادیانیوں پر کفر کا فتویٰ لگانا ریاست کا موڈ نہ تھا تو ختم نبوت کی تحریک پر مشکلات کا سامنا تھا۔ مولانا عبدالستارخان نیازی نے داڑھی مونڈھ ڈالی ، مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان ، مولانا احتشام الحق تھانوی درپردہ قادیانیوں کیساتھ تھے، تاریخ کے اوراق مٹ نہیں سکتے، ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کی کم تعداد کے باجود فوج میں انکی طاقت سے جان چھڑانے کیلئے تحریک ختم نبوت کو آزاد ی دی۔ تو قادیانی کافر قرار دئیے گئے۔ بھٹو کا تختہ الٹنے میں فوج کے اندرقادیانی اور باہر سے تحریک نظام مصطفی کے قادیانی ائر مارشل اصغر خان نے بڑا کردار ادا کیا اور جنرل ضیاء نے مرزائیوں سے مراسم بنانے کیلئے اعجازالحق کی شادی مشہور قادیانی جنرل رحیم کی بیٹی سے کرادی۔ مفتی تقی عثمانی نے اس کا نکاح پڑھانے کیلئے اپنے مرشد اور مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ ڈاکٹر عبدالحی کو استعمال کیا جس پرہمارے استاذ جمعیت علماء اسلام کراچی کے امیر مولانا شیر محمد بہت برہم تھے۔ اگرریاست کی طرف سے اشارہ یا پیسہ ملتا تو شیعہ کیخلاف مفتی تقی عثمانی دوسروں کا ساتھ دیتے، جیسے حاجی عثمانؒ پر فتویٰ لگایا تھا۔
قرآن کیخلاف شیعہ سنی کتابوں میں موجود تمام مواد کی نشاندہی کرکے فرقہ واریت کی سازش کو ناکام بنایا جاسکتاہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نبی و مہدی تو دور کی بات، قابل مولوی بھی ہوتا تو درسِ نظامی کی خامیوں کی نشاندہی کرتا۔ مولوی نصاب ٹھیک کریں تو قادیانیوں کی بھی آنکھ کھول دینگے اور انکے مربی توبہ کرکے حقائق کوقبول کرینگے۔ شیعہ مخمصے سے نکلیں گے کہ قرآن کو درست مانیں یا نہیں؟ بریلوی بھی علامہ انور شاہ کشمیری کی قرآن کے بارے میں تحریف کے عقیدے کی رٹ کوچھوڑ کر خود راہِ راست پر آئینگے اور دیوبند کے علماء بھی بدترین منافقانہ فضاؤں سے نکل آئینگے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ جیسے اللہ انبیاء کو مبعوث کرتاہے،ویسے ائمہ مبعوث کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’میں زمین میں خلیفہ بنانیوالا ہوں‘‘۔ اللہ نے آدم ؑ کونبی و خلیفہ بنایا۔ بعثت کے لفظ سے نبوت ورسالت کا ہونا لازم نہیں آتا۔ قابیل نے بھائی کو قتل کردیا تو اللہ نے فرمایا : فبعث اللہ غرابا’’ اللہ نے کوا بھیج دیا‘‘۔ بعثت سے کوا نبی نہ بنا۔ ابراہیمؑ سے فرمایا: ’’میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ عرض کیا کہ میری اولاد میں سے بھی۔ فرمایا : میرا وعدہ ظالموں کو نہ پہنچے گا‘‘۔مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’اللہ نے جن الفاظ میں جواب دیا ، یہ دعا کی قبولیت ہے اور جب تک نبوت کا سلسلہ جاری رہا اللہ نے بنی اسرائیل اور پھر آخر میں حضرت محمدﷺ کی بعثت سے یہ وعدہ پورا کردیا۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہوا تو قریش کیساتھ قیامت تک وعدہ ہے‘‘۔صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ اور صحیح بخاری کی کتاب الفتن میں نبیﷺ کی حدیث ہے کہ قیامت تک ائمہ قریش میں سے ہونگے چاہے 2 آدمی باقی ہوں۔
خلافت راشدہ کے بعدبنو امیہ وبنوعباس تک خلافت قریش میں رہی اور خلافت عثمانیہ کے ترک خلفاء قریش نہ تھے۔ شیعہ مکتب کا کہنا ہے کہ عثمانی خلفاء کی طرح جو قابض بنوامیہ و بنوعباس خاندان تھے وہ شرعی خلفاء نہ تھے۔ بریلوی مکتب کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے خلافت عثمانیہ کی غیر قریشی خلفاء کو غیر شرعی قرار دیا تھا۔
جنرل ضیاء دور میں سید جمال الدین کاظمی نے دیوبندی بریلوی مشہور مدارس سے خلیفہ کی تقرری پر فتویٰ مانگا تھا تو دیوبندیوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔ بریلوی کے علامہ عطاء محمد بندھیالوی نے تفصیلی جواب دیا تھا۔ ایرانی انقلاب کے بعد شیعہ کے رویہ میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئی ، مہدی غائب کے غَیبت کبریٰ میں وہ مخلوق کی طرف سے امام کی تقرری کا فریضہ ادا کرنے کے قائل ہوگئے۔
شاہ ولی اللہؒ نے لکھا: ’’مشاہدہ میں نبیﷺ نے فرمایا کہ شیعوں کی گمراہی کی بنیاد امامت کا عقیدہ ہے‘‘۔بیشک اگرشیعہ عقیدۂ امامت نہ رکھتے تو صحابہؓ سے لیکر موجودہ دور تک وہ قرآن سمیت بہت سی باتوں سے بدظن نہ ہوتے۔ شاہ ولی اللہؒ نے لکھا کہ ’’میں اس مشاہدہ کی وجہ سے اس نتیجے پر پہنچا کہ عقیدۂ امامت در اصل ختم نبوت کا انکار ہے‘‘۔ اگریہ صحیح ہو توشاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے سید احمد بریلویؒ کو خراسان کا مہدی ثابت کرنے کی غرض سے ’’منصبِ امامت ‘‘ کتاب لکھ دی تھی اور اس میں بھی امام کیلئے بعثت کا عقیدہ ہے۔
شاہ اسماعیل شہیدؒ کے خلوص میں کوئی شک نہ تھا مگر انگریز نے ان کو راستہ اسلئے دیا تھا کہ پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ کااقتدار ختم ہو۔
مولانا اشرف علی تھانوی نے لکھا کہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے کہا: ’’ جب تک امام مہدی کا ظہور نہ ہوگا، امت کی اصلاح نہ ہوگی اور مہدی میں اس قدر روحانی طاقت ہوگی کہ پوری دنیا کے حالات کو بدل دیگا‘‘۔ ایسا کوئی نبی اور رسول بھی نہیں آیا ۔ یہ عقیدہ قادیانیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے اسلئے کہ کہاں ظلی و بروزی نبی اور کہاں تمام انبیاء سے بھی طاقتور ہونے کا دعویٰ؟۔ شیعہ ،سنی اور قادیانی وغیرہ کتابوں کے مندرجات کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ سب کوخوش فہمی ہے اور مذہب کے نام پر پیٹ پوچا کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شیعہ علیؓ کی خلافت کی ’’عید غدیر‘‘ منائیں تو یہ اس کی نفی ہے کہ امام کا تقرر اللہ کی طرف سے ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مان لیا ، نبیﷺ کی طرف سے حضرت علیؓ کو امام و خلیفہ اور امیر بنایا تو صحابہؓ نے ارتداد کا راستہ اختیار کیا،علیؓ کے بعد 10امام مزید آئے ، ان کا طرزِ عمل اتنا جدا تھا کہ شیعوں میں بھی فرقے بن گئے۔ امامیہ کا 12واں امام مہدی غائب ہے ، ایرانی اقتدار حاضر خدمت ہے لیکن امام مہدی کا ظہور نہیں ہورہاہے۔ سخت مخالفین میں جینے والے شیعہ کے 11امام عوام کے اندر موجود رہے تھے۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے بھی کہاکہ مہدی آئیگا تو اختلافی مسائل کی اصلاح کردیگا۔ قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب وہ مہدی اور مسیح تھا جس کا انتظار تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ طبعی موت مرچکے ۔مسیح اور مہدی دونوں ایک شخصیت ہے۔ مہلک ہتھیا روں کی موجودگی میں مرزا نے جہاد کو منسوخ کردیا اور مولوی بھی ریاست کے بغیر جہاد کا فتویٰ دینے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ یونیورسٹی کے طلبہ میں خلافت کا شعور حزب التحریر اجاگر کرتی ہے جو برطانیہ میں وجود میں آئی ۔ وہاں اس پر پابندی نہیں ۔ اوراس کی تحریر کا کوئی سر پیر بھی نہیں ہوتا ہے۔
اگر ریاستِ پاکستان ہمیں کینیڈا بھیجے تو ہم اسلام کے سفیر بن کر مسلمانوں کے گمراہ لوگوں کو خلیفہ وامام کی درست راہ دکھا دینگے، جس پر سب ہی متفق ہونگے بلکہ مغرب کی سازشوں کو مغرب میں ہی بے نقاب کرینگے۔ مغرب کی سازش سے زیادہ ہمارے اپنے پیچیدہ اور الجھے مسائل کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جہادمدافعت اور ظالم کو ظلم سے روکنے کا فطری راستہ ہے ،قیامت تک اسکا انکار ممکن نہیں۔
ہزار سال قبل الماوردی کی کتاب ’’ الاحکام سلطانیہ‘‘ سے مدارس کے علماء وطلبہ واقف نہیں اور یونیورسٹیوں میں اس کا تعارف ہے۔ امام کا تقرر پہلے افراد کا کام تھا، اب ریاستوں نے مل کر اس فریضہ کو ادا کرنا ہے۔ خمینی فرانس میں بیٹھ کر امام بن گئے تو ایرانی انقلاب آیا۔ تمام مسلم ممالک کو متفقہ امام دینا ضروری ہے۔اور پاکستان، افغانستان اور ایران آغاز کریں۔