عالم اسلام کے سیاسی مذہبی مسائل کا حل کیا ہے؟

609
0

alam-e-islam-k-siasi-mazhabi-masail-ka-hal-kya-hai

رسول اللہﷺ نے 25سال کی عمر میں 40سال کی حضرت خدیجہؓ سے نکاح کیا اور آپﷺ بچپن سے بتوں سے بیزارتھے۔ بتوں سے بھرے کعبہ کو چھوڑ کر غارِ حراء کو مسکن بنایا تو پہلی وحی نازل ہوئی ۔ ’’پڑھ اللہ کے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کو لٹکے عضوء سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرے عزت والے ربّ کی قسم ! جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا‘‘۔ پہلی وحی میں انسان کو اسکے پیدائش کے اوقات بتادئیے۔ اللہ رب العزت کا مقام باورکرایا کہ انسان کی حقارت پیدائش کا آلۂ تناسل ہے ۔ اللہ رب العزت جس نے قلم سے وہ سکھادیا، جو وہ نہیں جانتاتھا
جاہل ابوجہل وابولہب انکار نہ کرسکتے کہ جہالت کے باوجود اپنے مقام کا دعویٰ کرنے والے جس چیز سے پیدا کئے گئے۔ کوئی معزز بات نہیں، عضوء کا نام تک لینا گوارا نہیں۔ مگر کیسے باور کریں کہ قلم کی طاقت سے کوئی غلام بھی اپنے سردار سے زیادہ معزز بن سکتاہے۔ آخر کار جہالت نے تمام تر بدمعاشی، دہشت گردی اور منافقت کی انتہاء کرنے کے باوجود اس مدرسہ کے اصحابؓ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے جس کا آغاز اقراء کے لفظ سے ہوا تھا۔ مشرکینِ مکہ کے جاہل قلم اور علم سے عوام کو ڈراتے تھے،اب جاہلوں کے جانشینوں نے اسلامی لبادہ اوڑھ کر جاہلوں کا وہی کام کیا۔
اب کون دیکھتا ہے تیرے شمس کی طرف
سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے
مکہ فتح ہواتو رسول ﷺ نے حضرت علیؓ کی بہن اُم ہانیؓ کے مشرک شوہر کو پناہ دی۔ کیا مشرک شوہر مؤمنہ کو نکاح میں رکھ سکتا تھا؟۔ حضرت علیؓ نے قتل کا فیصلہ کیا اور اُم ہانیؓ اپنے شوہر کو زندہ رکھنا چاہتی تھیں، فیصلہ رسولﷺ نے حضرت اُمّ ہانیؓ کے حق میں کردیا۔ کیا یہ حضرت علیؓ کی شکست اور اُمّ ہانی کی جیت تھی ؟ رائے کی غلطی یا صواب فتح اور شکست نہیں بلکہ تحقیق ہے۔ سورۂ مجادلہ دیکھ لیجئے ، اللہ نے رسول ﷺ سے بحث وتکرار کرنیوالی حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ کے حق میں وحی اُتاردی۔ نبیﷺ نے مشاورت کرکے بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے کا فیصلہ فرمایا تو اللہ نے کہا کہ’’ نبی کیلئے مناسب نہ تھا کہ آپکے پاس قیدی ہوں، یہانتک کہ زمین میں خوب خونریزی کریں‘‘۔ آےۃ آئینہ ہے کہ نبیﷺ نے جب مشاورت کے بعد فیصلہ کیا مگر وحی بر عکس نازل ہوئی تو اسے انا کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ زارو قطار روئے، اللہ نے مسلم امہ کی تربیت کرنی تھی تاکہ روشن خیالی دل ودماغ میں سرایت کرجائے کہ وحی نے نبیﷺ کی رہنمائی کی تو کوئی اپنے آپ کو مولائے کل نہ سمجھے۔ مولانا اور علامہ نے ہٹ دھرمی چھوڑ کر حقائق کو قبول کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن اور علامہ ساجد نقوی کو ایک جگہ بیٹھ کر پوری قوم کو سمجھانا ہوگا کہ ہم مرد ہیں اور مرادنگی کو پسند کرتے ہیں۔ قرآن میں موجود آیات اور سیرت طیبہ کے واقعات اگر عوام اور دنیا کو سمجھائے گئے تو اسلامی انقلاب کی آمد میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ اپنی بلّیوں کو اپنی تھیلیوں میں چھپانا مسائل کا حل نہیں۔
اُمّ ہانیؓ نے شروع میں اسلام قبول کیا مگر ہجرت نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد اسکا شوہر چھوڑ کر گیا تو نبیﷺ نے بجائے طعن کے شادی کی پیشکش کردی۔اُمّ ہانیؓ نے عرض کیا کہ یہ میرے بچوں پر گراں گزریگااور معذرت کرلی تو نبیﷺ اس خاتونؓ کی تعریف فرمائی۔ پھر اللہ نے آیات نازل کیں کہ رشتہ داروں میں جن خواتین نے ہجرت نہیں کی،ان سے نکاح نہ کریں۔پھر فرمایا کہ ’’آج کے بعد کوئی پسند آئے تب بھی اس سے نکاح نہ کریں‘‘۔
رسول ﷺ نے لونڈی ماریہ قبطیہؓسے حرمت کی قسم کھائی تو اللہ نے وحی نازل کی کہ ’’جسے اللہ نے تیرے لئے حلال کیا ،اسے خود پر کیوں حرام کرتے ہو، اپنی ازواج کی مرضی کیلئے‘‘۔ چندآیات ، سیرت طیبہ کے واقعات کو دنیا کے سامنے رکھا جائے تو کئی پیچیدہ فقہی مسئلے، فرقہ وارانہ عقائد، بین الاقوامی مسائل حل ہوجائیں گے۔ قانونی نکاح پر زنا کا فتوی نہ لگایا جائیگا۔کسی مؤقف پر ہٹ دھرمی کا جواز نہ رہیگا، ہتک آمیزکارٹون ختم ہونگے،مسلک سازی، فرقہ بندی ، جدّت طرازی ختم ہوگی۔
شیعہ سنی نے ایکدوسرے کو قرآن کا منکر اور تحریف کا قائل قرار دیا مگر اپنے نصاب کی اصلاح نہ کی۔ شدت پسندوں نے قربانیاں دیں اور جبہ ودستار فرشوں نے ہمیشہ مزے ہی اڑائے، اب حقائق کی طرف آنا پڑے گا۔