پی ٹی ایم کے علی وزیر اور محسن داوڑ جیت گئے، مصطفی کمال ہار گئے کیوں؟: عبد القدوس بلوچ کا تبصرہ

424
0

ali-wazir-ptm-mohsin-dawar-mqm-syed-mustafa-kamal-establishment-bacha-khan-mian-iftikhar-hussain-hafiz-saeed-justice-shaukat

ادارہ اعلاء کلۃ الحق کے امیر عبدالقدوس بلوچ نے کہا: شمالی و جنوبی وزیرستان سے قائد PTM منظور پشتین کے دست وبازو محسن داوڑ و علی وزیر جیت گئے، PSP کے مصطفی کمال ہار گئے۔ آخر یہ کیوں ہوا؟۔ بعض باتوں میں لوگ شر سمجھتے ہیں مگر اللہ نے خیر رکھی ہوگی۔ اگر مینڈیٹ چوری ہواتو ٹینشن اقتدار سے محروم سیاسی طبقہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ لے۔ بلوچوں میں قومی پرستی اور پختونواہ میں دہشتی گردی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے اور اب پورے ملک کو اس کی طرف دھکیل دیا ۔ بیچ بویا جائے تو فصل تیار ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں عدمِ استحکام کے کھیل میں برابر کی حصہ دار ہیں۔عدالتیں کام کی نہیں۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’ سعودیہ کی وسیع اراضی و دبئی کی مل کو بیچ کر 2006ء میں لندن فلیٹ خریدے جسے میں بلاخوفِ تردید ہر فورم ، ہر عدالت میں ثابت کرسکتا ہوں۔دستاویزی ثبوت موجود ہیں‘‘۔ جس طرح جج اپنی توہین پر ویڈیو ریکارڈ ملزم کے سامنے چلادیتاہے، اسی طرح قوم وملک کا پیسہ کھانے پر ویڈیو کو چلادیتے تو مجھے کیوں نکالا؟ کی تحریک نہ چلتی۔ کوئی کارکن یا رہنما کہہ دیتا کہ جس نے پالا اس نے نکالا۔ ووٹ کو عزت جھوٹ کا منہ کالا۔ اگر نوازشریف کانام نظریہ ہے تو مریم نواز بھی اس بنیاد پر نہیں چل سکتی ۔ موروثی سیاست والو! خدا کا خوف کرو، ٹبر نظریہ نہیں خاندان ہے۔ باچا خان نظریہ تھا مگر اسکا پوتا ، پڑ پوتا معذور ، منحوس اور بیکار ہو تب بھی پارٹی کی صدارت کریگا؟۔ کیا میاں افتخار حسین کو پارٹی کا سربرا ہنہیں بناسکتے اور جب اسفندیارولی کہے کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے گدھے پر سوار ہوکر اقتدار تک رسائی حاصل کی تو کہاجائیگا کہ تم نے گدھے کی دُم پکڑی تھی تو پھر لات ہی پڑناتھی۔بلوچستان میں اے این پی اسی کیساتھ کھڑی ہے جس کی شکایت ہے کہ گدھے پر سوار ہے۔ مصطفی کمال نے ایم کیوایم کے دورِ عروج میں پرورش پائی، علی وزیر اور محسن داوڑ نے مشکل پہاڑ سر کئے۔ بچیوں کیساتھ زیادتوں کا معاملہ جاری ہے اور معاشرہ غفلت کا شکارہے، بڑا عذاب نہ آئے! جسٹس شوکت نے ISI پر الزام لگایا۔ ISI عمران خان کی پشت پر تھی تو نااہل قرار دیدتا۔ مذہبی قومی شدت پسندوں کو سیاست میں لانے پرکسی کے ووٹ کٹ جائیں تو ناک بھی کٹ جائے۔ حافظ سعید سے کہلوایا جائے کہ سعودی بادشاہت کی طرح جمہوری نظام بھی کفر نہیں ۔