شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی کا اُم المؤمنین حضرت عائشہ کی ناموس کو سب سے زیادہ مقدس قرار دینا اور قرآن میں بہتان کے واقعہ پر اپنوں کیلئے دلیل پکڑنا!

Shia Sunni, Karbala, Hazrat Ayesha, Mufti Tariq Masood

شیعہ عالمِ دین علامہ امین شہیدی کا اُم المؤمنین حضرت عائشہ کی ناموس کو سب سے زیادہ مقدس قرار دینا اور قرآن میں بہتان کے واقعہ پر اپنوں کیلئے دلیل پکڑنا!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

امین شہیدی نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ” یہ سب قرآن میں ہے” حالانکہ قرآن میںواقعہ کا اجمالی تذکرہ ہے!

اگر واقعہ میں اللہ کی حکمت یہی تھی کہ بہتان لگانے والوں کو کافر نہیں کہا گیا تاکہ برا بھلا کہنے والوں کو کافر نہ کہا جائے تو

پھر یہ حکمت بھی ہوگی کہ حضرت علی کے بارے میں غلو کرنے والے اہل تشیع بھی اپنے عقائد میں کچھ اعتدال پیدا کریں!

اہل تشیع کے معروف و معتدل عالمِ دین علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ ”حضرت عائشہ کے جوتوں پر لگنے والی گرد کو بھی ہم اپنی آنکھوں کیلئے بڑا اعزاز سمجھتے ہیںاسلئے کہ ام المؤمنین کا شرف آپ کو حاصل تھامگر آپ پر بہتان لگایا گیا تو ایک ماہ تک یہ ایک زبان سے دوسری زبان تک گردش کرتا رہا، نبیۖ نے قطع تعلق رکھا، حضرت عائشہ نے کہا کہ مجھ پر زمین تنگ تھی اور جن صحابہ نے یہ بہتان لگایا تو ان میں بدری شامل تھے۔ یہ سب واقعہ قرآن میں ہے۔اس سے ایک سبق یہ ملتا ہے کہ ام المؤمنین کو برا کہنے سے کوئی کافر نہیں بنتا، ورنہ ان سب صحابہ پر کفر کا فتویٰ لگتا۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ حضرت عائشہ کو برا بھلا کہنا جائز ہے۔ان کا احترام ہم پر ضروری ہے کیونکہ آپ مؤمنوں کی ماں ہیںلیکن قرآن کے اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اتنا بڑا بہتان لگانے والوں کو بھی کافر نہیں قرار دیا گیا، جس کی حکمت یہ تھی کہ آئندہ بھی کوئی برا بھلا کہے گا تو کافر نہیں ہوگا”۔
ہم علامہ امین شہیدی کے بیان پر تبصرہ ضروری سمجھتے ہیں۔ پہلی بات یہی ہے کہ قرآن میں وہ تمام تفصیلات نہیں ہیں جن کو علامہ نے قرآن کی طرف اپنی لاعلمی کی وجہ سے منسوب کیا ہے۔ غلام احمد پرویز نے یہ لکھا کہ ” اہل سنت کی احادیث کی کتابوں میں اہل تشیع نے سازش سے حضرت عائشہ کانام ڈال دیا ہے، قرآن میں حضرت عائشہ کے نام کی کوئی بات نہیں ہے”۔
تاہم جن قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں واقعہ کی تفصیلات ہیں وہ بھی اسلام کیلئے بہت بڑا اعزاز اور انسانیت کیلئے نجات کا ذریعہ ہیں۔ قرآن میں یہ بھی اللہ نے فرمایا ہے کہ ” اگر تم یہ بات سنتے ہی کہتے کہ یہ بہتان عظیم ہے تو یہی تمہارے لئے بہتر تھا”۔ (سورۂ نور) احادیث و تفسیر کی کتابوں میں بعض صحابہ کے نام موجود ہیں جنہوں نے اس کو بہتان ہی قرار دیا تھا۔یہ اعزاز ام المؤمنین حضرت زینبنے بھی حاصل کیا تھا جس کی حضرت عائشہ سے سوکن ہونے کی وجہ سے بنتی بھی نہیں تھی اور اس دشمنی کی وجہ سے آپ کی بہن حضرت حمنا نے بھی اس بہتان میں حصہ لیا تھا اور اس کی وجہ سے اسّی (80)کوڑوں کی سزا بھی کھانی پڑی تھی۔ اہل تشیع اپنی کتابوں میں دیکھیں کہ حضرت علی اس میں شامل تھے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تھے تو دوسرے کئی صحابہ کی طرح ان کی شان پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑتا ہے ۔ البتہ جب ایک مہینے تک وحی نازل نہیں ہوئی تو علی مولائے کائنات نے اس مشکل میں رسول اللہۖ کی مدد کیوں نہیں کی؟۔ شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ آنے والے مخلص شیعہ حضرت علی کی امامت کو نبیۖ سے بھی زیادہ اہمیت اور عقیدت سے دیکھیںگے۔ جب ام المؤمنین حضرت عائشہ کی برأت کیلئے بھی حضرت نبیۖ اور حضرت علی کی موجودگی سے کوئی فائدہ نہیں تھا تو پھر بارہ امام اور آخری امام کی امیدوں پر اُمت کو ورغلانے کی بجائے قرآن کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیناتھا مگر افسوس کہ سنی شیعہ کسی نے بھی یہ نہیں کیا۔
اہل تشیع کے امام خمینی نے انقلاب برپا کرکے کمال کردیا اور ملاعمر نے بھی حکومت قائم کرکے کمال کردیا لیکن اسلام کے درست خدو خال اجاگر کیے بغیر کام نہیں چلے گا۔ تعصبات کی فضاؤں سے نکلنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
خلفاء راشدین حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان، حضرت علی کے قد کاٹھ بہت اونچے تھے اسلئے شیعہ سنی کے بونے یہ فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں کہ کس کا مقام بلند ہے اور کس کا درجہ کم ہے۔ کسی کو بڑا یا چھوٹا درجہ دینا ہمارا کام بھی نہیں ہے۔ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے درباری علماء ومفتیان کو کھلایا پلایا تو اس کو بھائیوں کے قتل اور باپ کو قید کرنے کی سزا بھی معاف کردی گئی۔ امام ابوحنیفہ کے شاگرد شیخ الاسلام ابویوسف قاضی القضاة چیف جسٹس تھے لیکن امام ابوحنیفہ کو جیل کے اندر تنہائی کی قید میں زہر دے کر شہید کردیا گیا تھا۔
مفتی محمود کو وفاق المدارس کے صدر اورمفتی اعظم پاکستان کا مقام ملا تھا۔ جنرل ضیاء الحق پر مفتی محمود کے علم وعمل کو قربان کیا گیا اور پھراسلام کے نام پر بھی ریفرینڈم میں جنرل ضیاء کو مجسمہ اسلام قرار دیا گیا۔ اکبر بادشاہ مغل اعظم کو بھی سجدہ تعظیمی کا مستحق قرار دیا گیا۔ ہردور کے یزیدکو اپنے وقت کے قاضی شریح بھی حسین کے قتل کیلئے میسر آگئے۔ ان کی بصیرت پر اعتماد کرکے خلفاء راشدین کے درجات بھی حکومت میں نمبروار کے حساب سے دئیے گئے۔ خلافت عباسیہ میں حضرت علی کی اولاد کو اقتدار سے محروم کرنے کیلئے حضرت علی کے باپ کو ہی دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی روایتیں گھڑی گئیں۔ حالانکہ ابوبکر،عمر ، عثمان کے باپوں سے زیادہ حضرت علی کے باپ نے اسلام کی خدمت کی تھی۔ قرآن کا واضح پیغام ہے کہ جنہوں نے نبیۖ اور مؤمنوں کو ٹھکانہ دیا اور مدد کی تو وہی سچے مؤمن ہیں۔ الذین آؤواونصروااولئک مؤمنوں حقًا حنفی مسلک والوں کا یہ فرض ہے کہ ابوطالب کے بارے ان روایات کو رد کریں جو قرآن کے منافی ہیں۔ یہ کس قدر بیکار بات ہے کہ حضرت علی سے زیادہ حضرت عباس کی اولاد خلافت کی مستحق تھی اسلئے کہ علی کے والد نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور چچاکے مقابلے میں چچازاد کی اولاد خلافت کی مستحق نہیں ۔ پھر خلفاء راشدیناور بنوامیہ کے خلفاء کا کیا بنے گا ؟ جو نہ چچاکی اولاد تھے اور نہ چچازادکی اولاد تھے۔
امام بخاری نے اہل بیت کیساتھ علیہ السلام لکھ دیا مگر ان کی روایات کو نقل کرنے سے گریز کیا اور پھر حضرت عائشہ پر ایسا بہتان باندھ دیا کہ اپنی بہن کے ذریعے دودھ پلاکر بڑوں کو محرم بناتی تھی۔ حنفی مسلک نے کئی روایات کو قرآن کے منافی قرار دیکر ٹھکرانے کا درست فیصلہ کیا۔امام بخاری نے اپنے خلوص اور حالات کے مطابق نیک نیتی سے جو کچھ کیا وہ حرفِ آخر بالکل بھی نہیں ہے۔

جواب دیں

Back to top button