اسلام کی نشاۃ اول کا بہترین و مستند ترین نمونہ

613
0

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاں السابقون الاولون من المہاجرین و الانصار کا ذکر کیا، وہاں انکے ساتھ رضی اللہ عنھم و رضو عنہ کی سند کا بھی ذکر فرمایاہے ۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ انہی کے نقش قدم پر ہوسکتی ہے و الذین اتبعوھم باحسانکی سعادت اس وقت مل سکتی ہے جب پہلوں کے بارے میں حسن ظن کا عقیدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نشاندہی بھی فرمائی ہے کہ ثلۃ من الاولین و قلیل من الاٰخرین پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر والوں میں سے تھوڑے وہ ہونگے جو سبقت لیجانے میں سبقت لے جائینگے۔ اللہ نے ان کو اولٰئک المقربون مقرب ہونیکا درجہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ جمعہ میں بھی اللہ نے صحابہ کرامؓ کو قرآن کی تعلیم و تربیت اور حکمت و تزکیہ کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم اور آخر والے جو ان پہلوں سے ابھی نہیں ملے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے حوالے سے فتح مکہ سے قبل اور فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے پر مختلف درجات کا ذکر ہے۔ بدری صحابہؓ اور غیر بدری صحابہؓ میں بھی فرق تھا۔ عشرہ مبشرہ کے دس صحابہؓ سب میں ممتاز تھے۔ عشرہ مبشرہؓ میں چار خلفاء راشدینؓ کی امتیازی حیثیت بھی ایک مسلمہ بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت انصارؓ و مہاجرینؓ کے درمیان خلافت کے مسئلے پر اختلاف شروع ہوا ، حضرت علیؓ تجہیز و تکفین میں لگ گئے اور انصارؓ نے خلافت کیلئے ایک مجلس کا اہتمام کر رکھا تھا جہاں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ پہنچے۔ مکالمہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی بیعت پر اکثریت کا اتفاق ہوا ، فتنہ و فساد ہوتے ہوتے بچ گیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بعد حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد کردیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے بعد خلافت کا مسئلہ شوریٰ کے سپرد کردیا۔ حضرت عثمانؓ کو شوریٰ نے مقرر کردیا اور جب حضرت عثمانؓ کو شہید کیا گیا تو حضرت علیؓ ہنگامی حالت میں خلیفہ نامزد ہوگئے۔پھر حضرت عثمانؓ کے قاتلین سے بدلہ لینے کے مسئلے پر حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ و طلحہؓ و زبیرؓ کے درمیان جنگیں برپا ہوئیں۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کا تعلق بھی عشرہ مبشرہ سے تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حدیث قرطاس میں ایسے وصیت نامہ کا ذکر کیا تھا جس کے بعد امت گمراہ نہ ہو لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ حضرت عمرؓ نے بعد میں فرمایا تھا کہ کاش! ہم رسول اللہ ﷺ سے تین باتوں کا پوچھ لیتے ، ایک آپؐ کے بعد خلیفہ کون ہو، دوسرا زکوٰۃ نہ دینے والوں کیخلاف قتال ، اور تیسرا کلالہ کی میراث۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ اپنی بیگمات کو مساجد میں آنے سے نہ روکا جائے۔ غیر مسلم یہود و نصاریٰ بیگمات کو بھی انکی عبادت گاہوں میں جانے سے نہ روکنے کا حکم دیا تھا۔ آج جس طرح فیملی پارک آباد ہیں اس وقت مساجد اور عبادتگاہیں آباد ہوا کرتی تھیں۔ آج جس طرح مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں حضرات و خواتین ، بچے اور بچیاں نماز و طواف میں شریک ہوتے ہیں اسوقت مسجد نبوی اور دوسری مساجد کو بھی اسی طرح آباد رکھا جاتا تھا۔ معروف شاعر شاکر شجاع آبادی نے اپنے اشعار میں کہا ہے کہ جن مساجد میں مخلص نمازی ہیں وہ زمین پر بیت اللہ ہیں اور جو مولوی کی تجارت گاہیں بن گئی ہیں انکو ڈھایا جائے۔ عدالتوں کے بارے میں کہا ہے کہ اوپر انصاف کا جھنڈا ہے اور نیچے انصاف بکتا ہے ایسی عدالتوں کو بمع عملہ کے گرادیا جائے۔ شاکر شجاع آبادی بہت ہی مقبول شاعر ہیں وہ کہتے ہیں کہ سنی مشرک ، شیعہ کافر اور وہابی منکر ہیں لہٰذا اے کافر !تم ہی جنت پانے کی تیاری کرلو۔ علماء و مفتیان کرام کو حقائق کی طرف آنے کی ضرورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے فرمایا تھا کہ میرے ساتھ جو حج کرلیا وہ کافی ہے ، میرے بعد حج نہیں کرنا۔ جب حضرت عمرؓ نے اپنی زوجہؓ کو مسجد میں جانے سے روکنے کیلئے رات کو خفیہ طور سے چھیڑا ، جسکے بعد انہوں نے مسجد میں جانا یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ اب مسجد میں جانے کا زمانہ نہیں رہا۔ عربی مقولہ ہے کہ الناس علی دین ملوکھم عوام اپنے حکمرانوں کے طرز عمل پر چلتے ہیں۔ صورتحال اس وقت یہ بنی کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ اگر رسول اللہ ﷺ حیات ہوتے تو خواتین کو مساجد میں جانے سے خود روک دیتے، جب مساجد میں خواتین کا آنا رُک گیا تو ایک درشتی کا سا ماحول پیدا ہوا۔ حضرت عمرؓ کی مسجد میں شہادت کے بعد حضرت عثمانؓ کو گھرمیں محصور کرکے شہید کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا و من اظلم ممن منع مسٰجد اللہ ان یزکر فیھا اسمہ و سعٰی فی خرابھا اولءٰک ماکان لھم ان یدخلوھا الا خائفین لھم فی الدنیا خزی و لھم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم O ’’اور اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ جو منع کرے اللہ کی مساجد سے کہ اس میں اس کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگ ان مساجد میں داخل نہیں ہوں گے مگر خوفزدہ ہوکر ۔ ان کیلئے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بہت بڑا عذاب ہے‘‘( البقرہ : آیت 114)۔
رسول اللہ ﷺ نے آخری خطبہ میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ جب ماحول بگڑ گیا تو بات اس حد تک پہنچی کہ بنو اُمیہ کے حجاج کے مقابلے میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ خوارج سے مدد مانگتے تھے اور خوارج حضرت عثمانؓ کو برا بھلا کہنے کی شرط پر مددکیلئے تیار تھے۔ درج بالا آیت سے پہلے یہود و نصاریٰ کی اس کیفیت کا ذکر ہے جس میں وہ دوسروں کی مذمت کرتے ہیں اور اپنے بارے میں خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ آج اگر بیت اللہ کی طرح مسلمان اپنے گاؤں ، محلہ اور شہروں کی مساجد کو آباد کریں تو اُمت کی اصلاح کیلئے یہ زبردست اقدام ہوگا۔ جن کالج ، یونیورسٹیوں ، دفاتر، ہسپتال ، ایئر لائن اور پبلک مقامات پر مخلوط نظام سے بگاڑ پیدا ہورہا ہے اگر روزانہ کی بنیاد پر پنج وقتہ نماز سے ماحول کی تبدیلی کا آغازکرینگے تو مسلم امہ کو دنیا کی ساری قومیتوں اور مذاہب پر عالم انسانیت میں فوقیت حاصل ہوگی۔ بصورت دیگر امت مسلمہ کے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ سے ہماری عقیدت برقرار رہے گی کیونکہ ان کو سند قرآن نے دی ہے لیکن مسلم امہ کی اکثریت جس طرح سے بے راہ روی کا شکار ہوگی اسکے مناظر کا اندازہ سب اپنے گھروں میں ٹی وی پر چلنے والے اشتہارات سے لگا سکتے ہیں۔
قرآن و سنت میں بہت سی ایسی باتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے فیصلے کے برعکس آیات نازل کیں۔ جیسے سورہ مجادلہ میں خاتون کا ذکر ، بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینا ، عبد اللہ ابن ابی منافق کا جنازہ پڑھانا، فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ کرنے کے باوجود حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت اُم ہانیؓ سے شادی کرنے کی خواہش۔۔۔ خلفاء راشدینؓ کے دور میں بھی اختلاف کا معاملہ رہا۔ مشرکین مکہ زمانہ حج میں عمرہ کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اللہ نے حج اور عمرہ کرنے کی اجازت دیدی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حج کیا ، اس میں عمرہ کا احرام بھی ساتھ باندھا ۔ حضرت عمرؓ نے حج کیساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کو روکا۔ حضرت عمران بن حصینؓ نے کہا کہ جب اللہ نے حکم نازل کیا اور نبی ﷺ نے اس پر عمل کیا تو اس کے بعد کوئی ایسا حکم نازل نہیں ہوا کہ منع کیا گیا ہو۔ جس نے روکا ، اس نے اپنی رائے سے روکا۔ احادیث کی کتب میں تفصیلات ہیں۔ ابن عمرؓ سے کہا گیا کہ تمہارے والد کی رائے یہ تھی تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد نہیں رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لایا ہوں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حیرت ہے کہ تم پر پتھر کیوں نہیں برستے کہ رسول ﷺ کے مقابلے میں عمرؓ اور ابوبکرؓ کی بات کرتے ہو۔ بخاری شریف میں حضرت عثمانؓ سے حضرت علیؓ کے الجھنے کا معاملہ بھی مذکور ہے۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کی بات کو قرآن و سنت کے مقابلے میں کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ باقی مسالک حضرت عمرؓ کی بات کو ترجیح دیتے ہیں۔
اہل تشیع کہتے ہیں کہ عمرؓ نے قرآن و سنت کے مقابلے میں مشرکین مکہ کا مذہب رائج کرنے کی کوشش کی۔ فقہی مسالک کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ مسئلے مسائل رٹنے کے علاوہ سمجھ بوجھ کا اس میں کوئی کام نہیں۔ جب حنفی اپنے مسلک کی وکالت کرتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ وہ بھی اہل تشیع کی طرح حضرت عمرؓ کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ حالانکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد بھی اچھے کلمات سے ان کی تعریف اور توصیف کی جس کا نہج البلاغہ میں ذکر ہے، حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ مسلم اُمہ مشقت میں مبتلا ہوجائے گی ، اگر واحد سنت سمجھ کر حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھا جاتا تو قیامت تک لوگ بڑی مشقت میں پڑ جاتے۔ حج کے دنوں میں پہلے سے لوگ پہنچ جاتے ہیں اگر کئی کئی دنوں تک وہی احرام سنت سمجھ کر زیب تن رہتا تو مکہ کے لوگ حاجیوں کی بدبو سے بھاگ جاتے۔ حضرت عمرؓ قرآن و سنت کی تعلیمات سے نہیں لڑ رہے تھے بلکہ لوگوں کی جہالت سے لڑ رہے تھے، صحابہؓ کس بات پر لڑ رہے تھے اور آج کے مذہبی طبقات کن کن باتوں کے مباح و بدعت ہونے پر لڑ رہے ہیں؟۔ داڑھی کی لمبائی ، مونچھ کی کٹائی ، چوتڑ تک سر کے بال یا گنجاپن ۔ زاغوں کے تصر ف میں ہے شاہیں کا نشیمن