اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہترین و مستند ترین نمونہ

444
0

سورۂ واقعہ میں السٰبقون السٰبقون کی دو جماعتوں کا ذکر ہے ، جومقرب ہیں، پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر میں تھوڑے سے۔ جبکہ دوسرے درجے میں اصحاب الیمیں کا ذکر ہے ، جن کی میں پہلوں میں بھی بڑی جماعت ہے اور آخر والوں میں سے بھی بڑی جماعت ہے۔قرآن میں سبقت لے جانیوالوں کیلئے آخر میں قلیل من الاٰ خرین کا ذکر ہے اور اصحاب الیمین کیلئے بھی آخر میں بڑی جماعت کا ذکر ہے۔ ان دونوں درجات کی حامل جماعتوں کی احادیث میں بھی بھر پور طریقے سے وضاحت ہے۔
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کو آخری دور میں حکمرانوں کی طرف سے سختیاں پہنچیں گی، ان میں سے کوئی محفوظ نہ ہوگا مگر وہ آدمی جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور اسکے ذریعے زباں، ہاتھ اور دل سے جہاد کیا، یہ وہ ہے جو سبقت لے جانے والوں میں شامل ہوگیا، فذٰلک الذی سبقت لہ السوابق، دوسرا وہ شخص جس نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اسکے ذریعے سے تصدیق بھی کردی۔ تیسرا وہ شخص ہے جس نے اللہ کے دین کو پہچان لیا، پھر کسی کو خیر کا عمل کرتے دیکھا تو اس سے محبت رکھی اور باطل عمل کرتے دیکھا تو اس سے دل میں بغض رکھا، یہ شخص حق کو چھپانے کے باوجود بھی نجات کا مستحق ہے۔ مشکوٰۃ، ص438۔ عصر حاضر ۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ
بفضل تعالیٰ ہم نے 1988ء میں حاجی محمد عثمانؒ کیخلاف معروف علماء ومفتیان کے غلط ، گمراہ کن اور مفادپرستی کی بنیاد پر دئیے جانے والے فتوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔بہت سے علماء ومفتیان نے کھل کر اعلانیہ ہمارا ساتھ دیا اور بہت سے درپردہ ہمارے ساتھ تھے، پھر ہم نے 1991ء میں روزنامہ جنگ کراچی، کوئٹہ، لاہور سے ایک اشتہار دیکر باقاعدہ خلافت کے قیام کا اعلان کیا۔خلافت پرالمارودی کی کتاب’’الاحکام السلطانیہ‘‘میں واضح ہے کہ ’’عالم اسلام کے تمام مسلمانوں پر ایک امام کا تقرر فرض ہے۔ جہاں سے جو لوگ بھی پہل کریں دوسرے تمام مسلمانوں پر اس کی اتباع ضروری ہے اور اسکے مقابلہ میں جو امام کھڑا ہو،اس کی گردن ماری جائے‘‘۔ کتابچہ ’’ خلافت علی منہاج النبوۃ کے وجود مسعود‘‘ لکھ کر شائع کیا،کانیگرم وزیرستان کے مولانا اشرف خان کو اپنے مشن کا بتایا تو بہت خوشی کا اظہار کیا، مولاناشاداجان نے کہا کہ مولوی محمد زمان کوقائل کرلو تو مسئلہ نہیں بنے گا۔ مولوی محمد زمان کو تفصیل سے بتایا کہ ہمارے ہاں فتنہ وفساد کی جڑ دومتوازی قوانین ہیں، جس کو شریعت کا قانون مفاد میں لگتاہے وہ فریق شرع کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہتاہے، جس کو پشتو کے قانون کے مطابق مفاد میں لگتاہے وہ روایتی قانون سے چاہتاہے۔ جب کسی بات پر اتفاق نہیں ہوتا تو قتل وغارت تک بات پہنچتی ہے، جب ایک قانون متعین ہوگا تو فتنہ وفساد کی جڑ ختم ہوگی، جب شرع کی حدود نافذ ہونگی تو وزیرستان جرائم کے بجائے امن اور امان کا گہوارہ بن جائیگا۔ قبائل میں اسلامی ریاست کا نمونہ پاکستان کیلئے مشعل راہ ہوگا۔ یوں پورا پاکستان ، افغانستان اور ایران سے اسلامی خلافت کا آغاز ہوگا، ہندوستان کے مسلمان بھی ہمارے ساتھ اٹھ کھڑے ہونگے اور بھارت کے حکمرانوں کو شکست دینگے۔ پھر عرب اور دنیا کے تمام مسلمان ریاستوں کو شریک کرکے عرب کو مرکز بنادینگے۔ مگر حدود کے نفاذ کا اعلان کرنے سے پہلے کانیگرم کے علماء، تبلیغی جماعت کے کارکن اور پیر لوگ یہ اعلان کرینگے کہ سب سے پہلے شریعت پر عمل کیلئے ہم اپنے گھروں سے ابتداء کرینگے، اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو حق مہر کے نام پر بیچیں گے نہیں، جو بھی حق مہر ہوگا، وہ عورت کو دینگے۔ دوسرا یہ کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دینگے۔ تیسرا یہ کہ گھر سے شرعی پردہ شروع کرینگے ۔ مولوی محمد زمان نے شرعی حدود کے اجراء کی حمایت کی لیکن گھر سے شریعت پر چلنے کی بات کو مشکل قرار دیا۔ ہم نے کہا کہ جب اپنی بہن بیٹی کو اس کا حق مہر اور وراثت میں حصہ دینا مشکل ہو تو دوسروں پر شرعی حدود کا اجراء کیسے آسان ہوگا؟یہ منافقت ہوگی اسلام نہ ہوگا۔ پھر تبلیغی جماعت کے چند افراد میرے پاس آئے اور ایک نے پہلے یہ مسئلہ پوچھا کہ میرا بیٹا کراچی میں ٹائیر پنکچرکا کام کرتا ہے ، اس کی کمائی میرے لئے جائز ہے؟۔ میں نے کہا کہ اپنے کاروبار میں دھوکے سے حرام نہ کماتا ہو تو بالکل جائز ہے۔ پھر پوچھا کہ میری بہو، بیٹیوں اور بیوی کو شرعی مسائل کا پتہ نہیں، رائیونڈ سے مستورات کی ایک جماعت آتی ہے اورمیرے گھر کی خواتین کو مسائل سکھاتی ہیں توکیا جائز ہے؟، میں نے کہا کہ بالکل نہیں۔ اس نے کہا کہ کیوں؟۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اپنے نفسوں واپنے اہل عیال کو آگ سے بچاؤ‘‘ یہ تمہاری ذمہ داری ہے، رائیونڈ سے آنے والی مستورات کی نہیں اور وزیرستان کے حالات بہت خراب ہیں، لوگ آغواء ہوجاتے ہیں، خواتین کی جماعت کو اغواء کرلیا گیا اور ان کو زیادتی کا شکار بنایا گیا تو ایک اور جماعت پیدا ہوگی۔ پھر توتبلیغی جماعت نے ہمارے خلاف پروپیگنڈے کی تمام حدود کو پار کیا۔ قادیانی، بریلوی اور شیعہ کے تمام الزامات لگادئیے۔ ایک دن مسجد کا امام نہیں تھا تو ایک تبلیغی آگے بڑھا، ملک ظفر شاہ نے اس کو پکڑ کر پیچھے دھکیل کر کہا کہ چلہ لگاکر جعلی ادویات کا میڈیکل اسٹور بھی کھول لیتے ہو، میرا کہا کہ ایک عمر علم کی تعلیم میں لگادی ہے اور مجھے نماز کیلئے آگے کردیا۔ میں نے نماز پڑھادی تو نماز کے بعد اعلان کیا کہ میرے خلاف انواع واقسام کے پروپیگنڈے چل رہے ہیں وضاحت اسلئے کررہا ہوں کہ جنہوں نے میرے پیچھے نماز پڑھ لی ہے ان کو تشویش نہ رہے۔ ہمارا تعلق مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا الیاسؒ سے ہے جو نام سے ان کو نہیں جانتے ، بہشتی زیور کے مصنف اورتبلیغی جماعت کے بانی۔ قادیانی ، بریلوی اور شیعہ کا پروپیگنڈہ کرنے والوں میں اتنی غیرت ہونی چاہیے کہ مجھے گریبان سے پکڑلیں۔ تبلیغی جماعت کے قیام کا مقصد لوگوں کو شرعی احکام کی طرف راغب کرنا تھا، لوگ یہاں چند فٹ کے فاصلے پر ننگے نہاتے ہیں ، آنے والے مہمانوں کے علاوہ فرشتوں کو اس ننگے مناظر پر شرم آتی ہوگی، فضائل کی تعلیم فرض ،واجب، سنت نہیں بلکہ مستحسن عمل ہے مگر جب فرائض کی تعلیم اور حلال وحرام کی تربیت نہ ہو تو یہ نام کی دینداری رہ جاتی ہے۔ اس پر تبلیغ کے امیر گل ستار نے کہا کہ ’’مفتی زین العابدین کا فتویٰ ہے کہ تبلیغی جماعت کا موجودہ کام فرض عین ہے‘‘۔ پھر مسجد میں یہ بات طے ہوئی کہ جو غلط ہوگا اس کو کانیگرم بلکہ وزیرستان سے نکالیں گے۔تبلیغی جماعت والوں کی کوشش تھی کہ میری غیرموجودگی میں علماء کو جمع کیا جائے اور میرے خلاف اور اپنے حق میں متفقہ فیصلہ لیا جائے۔ جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے بیماری کا بہانہ کرکے بتوں کو توڑا تھا، مجھے بھی حکمت سے کہنا پڑا کہ ’’میں جارہاہوں‘‘۔ میرانشاہ میرا آنا جانا رہتا تھا۔ جب گھر میں چھپ گیا تو دوسرے دن تبلیغی جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام علماء کا اجلاس ہماری مسجد میں ہوگا۔ میں نے اپنے بھانجے اور گومل کے امام حافظ عبدالقادر شہیدؒ کو بھی ٹیپ ریکارڈر کیساتھ بروقت پہنچنے کی اطلاع کردی۔ جب علماء کا اجلاس شروع ہورہا تھا تو میں بھی نمودار ہوگیا۔ پھر ان کی پریشانی کی انتہاء نہ رہی۔ میرا کہنا تھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ لوگ میری وجہ سے اکٹھے ہوئے ہیں، مجھ سے بات نہیں کرنی تو مجھے ویسے بھی میرانشاہ جانا ہے ، چلا جاؤں گا، انہوں نے کہا کہ ہم مشورہ کرکے بتادیتے ہیں کہ آپ سے بات کریں یا نہیں۔ پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ مسجد کے عقب میں چھوٹے کمرے میں عوام کے بجائے مختصر محدود افراد کے سامنے بات کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ غلط ہے، عوام کے سامنے ہی بات ہوجائے مگر وہ نہیں مانے۔پھر بات کو ٹیپ کرنے کیلئے میں نے اصرار کیا کہ کراچی کے معروف علماء ومفتیان نے ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ سے دھوکہ کیا تھا، ملاقات کا اہتمام کرکے من گھڑت استفتاء کے چشم دید گواہ بن گئے۔ تم لوگوں نے خود بھی اس بات پر مناظرہ کیا تھا کہ سنت کے بعد دعا بدعت ہے یا مباح؟، فارسی میں فیصلہ سنانے کے بعد دونوں طرف سے ڈھول کی تھاپ پر اپنی اپنی جیت کا اعلان کیا تھا اور اس بنیاد پر قادیانیت کا فتویٰ بھی مولوی محمدزمان نے مولانا شاداجان پر لگایا تھا۔ جس کا وہ اعتراف کرکے کہہ رہے تھے کہ اب ایسا نہیں ہوگا، فیصلہ تحریری شکل میں لکھ دیا جائیگا۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’’آپ نے مہدی آخر زمان کا دعویٰ کیا ہے؟‘‘۔ میں نے کہا کہ جب میں نے مدینہ دیکھا تک نہیں، اس مہدی کی پیدائش مدینہ اور چالیس سال کی عمر میں خروج مکہ میں ہوگا ، اسکا نام محمد اور والدین کے نام آمنہ اور عبداللہ ہونگے تو میں کیسے یہ دعویٰ کرسکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ مہدی صرف وہ ایک ہے۔میں نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب ’’منصبِ امامت‘‘ دکھادی کہ ’’مہدی آخرزمان سے پہلے مہدیوں کا سلسلہ ہوگا، جن میں سے ایک خراسان کا مہدی ہے‘‘۔ جمعہ خطبات میں بھی خلفاء راشدینؓ کو مہدی کہاجاتاہے۔ پھر انہوں نے میری طرف سے یہ باتیں لکھ کر دستخط کئے کہ ’’میں نے مہدی آخر زمان کا دعویٰ نہیں کیا اور تبلیغی کام مستحسن ہے‘‘۔ سب کے دستخط کئے مگر پھر تحریر دینے سے انکار کرکے مسجد کی امامت اور نیا دین چھوڑ دینے کا مشورہ دیابقیہ صفحہ 2 نمبر1