بقیہ :اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بہترین ومستند ترین نمونہ

474
0

کراچی سے کانیگرم جنوبی وزیرستان تک علماء ومفتیان نے جو کردار ادا کیا اسکو تاریخ کے اوراق میں جگہ ملے یا نہ ملے اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے لیکن الحمد للہ ہے ہمارا کردار اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ثابت ہورہاہے۔ پہلے میرا بھی علماء کرام و مفتیان عظام سے محض عقیدت واحترام کا تعلق تھا، اب یہ تعلق محض رسمی حد تک نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوچکا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ مرکزی امیر مولانا عبدالکریمؒ بیرشریف لاڑکانہ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمدؒ کندیاں میانوالی ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ گوجرانوالہ اور انکے صاحبزادے مولانا زاہدالراشدی کے علاوہ دیوبندی بریلوی اہلحدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ کے بڑے نامور علماء کرام و سرکاری افسران نے بڑی تعداد میں ہماری بھرپور طریقے سے زبردست حمایت کی ہے۔ جن میں سندھ کے چیف سیکرٹری فضل الرحمن،ایف آئی اے کے داریکٹر، آئی جی ڈی آئی جی سندھ اور دیگر ذمہ دار عہدوں پر فائز شامل ہیں۔ کسی بھی تحریک اور جماعت کو ایسے مختلف الخیال لوگوں کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں کھل کر ایسی حمایت کرنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ہے۔
ٹانک کے تمام مشہور علماء کرام مولانا فتح خانؒ ، مولانا عبدالرؤفؒ گل امام، مولانا عصام الدین محسود، جمعیت علماء اسلام (ف)مولانا غلام محمد ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا شیخ محمدشفیع ضلعی امیرجمعیت علماء اسلام(س)مولانا قاری محمد حسن شکوی خطیب گودام مسجد ٹانک و مہتمم مدرسہ شکئی جنوبی وزیرستان وغیرہ نے کھل کر ہماری حمایت کی مگرقاضی عبدالکریم کلاچی نے کھل کراور مولانا فضل الرحمن نے چھپ کر وار کیا۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے سب کے سامنے گھر پر آکر کہا تھا کہ ’’میں نے ہمیشہ حمایت کی ہے‘‘۔ حالانکہ جب ٹانک کے معروف علماء نے تحریر ی حمایت کا اعلان کیا اور تبلیغی جماعت نے انکے خلاف فضاء کو خراب کرنا شروع کردی توہم نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے تمام دیوبندی مکتبۂ فکر کا پروگرام رکھنے کی تجویز رکھی سب متفق ہوگئے مگر مولانا فضل الرحمن نے مولانا عصام الدین محسود سے کہا کہ یہ پروگرام نہ ہونے پائے۔ انہوں نے پوچھ لیا کہ کیوں؟، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ’’پھر روتے ہوئے میرے پاس نہیں آنا ، میرے پاس کوئی جواب نہیں‘‘۔
مولانا عصام الدین محسود نے مجھے بتادیا ۔ میں خود مولانا فضل الرحمن کے پاس گیا ، پہلے اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور پھر مدرسہ کے منتظم مولانا عطاء اللہ شاہ سے کہا کہ آپ شرکت کرلیں۔ مولانا فتح خان کو میں نے صورتحال سے آگاہ کیاتو یہ طے پایا کہ ٹانک کے علماء کے کھانے کا اہتمام مولانا عصام الدین محسودکے ذمہ لگانا ہوگا تاکہ مولانا فضل الرحمن کے دباؤ سے وہ کہیں غائب نہ ہوجائیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کی دعوت مولانا فتح خان کے ذمہ ہوگی۔ پھر ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئی بھی نہیں آسکا تھا لیکن ٹانک اور مضافات کے علماء کرام کی اچھی تعداد شریک ہوئی۔ میں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کردی تو مولانا فتح خان نے اٹھ کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میری داڑھی سفید ہوگئی ہے، عتیق میرے سامنے بچہ ہے لیکن اسکے علم نے میری آنکھوں سے پٹیاں کھول دی ہیں۔۔۔‘‘۔ مولاناعبدالرؤف مولانا غلام محمد اور دیگر نے بھرپور طریقے سے میرے حق میں تقریریں کردیں۔ جمعیت علماء اسلام کے ذمہ دار عہدوں پر مولانا فتح خان، مولانا عبدالرؤف، مولانا عصام الدین تھے۔
مولانا شرف الدین کی اس وقت کوئی حیثیت نہیں تھی تاہم اس نے اعتراض اٹھایا تھا کہ عہدے مانگنا جائز نہیں، تم خود خلیفہ بننا چاہتے ہو۔ میں نے جواب دیا کہ خلافت حلوے کی پلیٹ نہیں کہ کوئی فرد اس کو اٹھائے اور بھگا کرلے جائے۔ 20افراد مار دئیے جائیں تب 21واں شخص خلیفہ بن جائے تو یہ سستا سودا ہوگا۔ اورجہاں تک عہدہ مانگنے کی بات ہے تو جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو اللہ نے ہجرت کرنے اور اقتدار کو مددگار بنانے کی دعا کا حکم دیا۔ جب خلافت قائم نہ تو اس کا قیام ضروری ہے البتہ خلافت قائم ہوجائے تب عہدہ مانگنے کی ممانعت ہے ،الیکشن کے دور میں ووٹ مانگنے کیلئے جمعیت علماء اسلام کتنے پاپڑ بیلتی ہے اور حکومتوں میں شامل ہونے کیلئے اس کا رویہ کتنا انوکھا ہوتا ہے۔ اسلام کی رو سے اس طرح کی تنظیم سازی جائز بھی ہے یا یہ کسی اور کے اتباع کا شاخسانہ ہے؟۔ پھر مولانا شرف الدین نے کہا کہ آپ اپنے اخبار میں تائیدی بیانات دیتے ہو مخالفت والے شائع نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ میرا اخبار آپ کے مخالفانہ سوالات اور اعتراضات کیلئے ہی وقف ہے۔ آپ لکھیں ہم شائع کریں گے۔ اس نے کچھ دنوں کا وقت لیا مگر مہینوں پھر چھپتا رہا۔ آخر کار میں اسکے مدرسے تجوڑی میں پہنچ گیا ، بعد میں کسی سے کہا کہ خدا کیلئے میری جان چھڑائیں۔ پھر ہم نے کبیر پبلک اکیڈمی میں ایک پروگرام رکھ لیا۔ مولانا فتح خان ، مولانا عبد الرؤف ، مولانا عصام الدین اور مولانا غلام محمد وغیرہ نے بہت کھل کر جلسہ عام میں ہماری تحریک کی حمایت کی جس کو ہم نے اپنے اخبار ضرب حق میں شہ سرخیوں کیساتھ شائع کیا۔ لوگ علماء اور اکابرین کی حمایت سے مطمئن ہوتے ہیں مگر ہمارے حاسدین نے مخالفت میں شدت پیدا کردی۔
مولانا فضل الرحمن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے ساتھیوں کیخلاف علماء کو بھڑکایا ، سپاہ صحابہ کے کارکنوں سے ہمارے ساتھیوں کی لڑائی ہوئی تو خلیفہ عبد القیوم نے بتایا کہ یہ پلان کسی اور کا تھا ہمارے کارکن استعمال ہوگئے۔ اسی دن مولانا فضل الرحمن ہمارا پچھلا اخبار لیکر ٹانک گئے اور جن علماء کی تقاریر شائع ہوئی تھیں ان پر دباؤ ڈالا۔ مولانا عبد الرؤف نے بتایا کہ میں نے مولانا کو کہا کہ ہم عتیق گیلانی کو جانتے بھی نہ تھے آپ نے متعارف کرایا، اب اس میں خامی کیا ہے ؟، اگر کوئی بات ہے تو آپ آرام سے بیٹھ جائیں ہم نمٹ لیں گے لیکن اگر کوئی بات نہیں تو خواہ مخواہ حسد کرنا درست نہیں ہے۔ پھر مولانا عبد الرؤف ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام ٹانک نے اپنا زبردست تائیدی بیان قلم بند کرکے علامہ اقبال کا یہ شعر بھی لکھ دیا تھاکہ
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
قاضی عبد الکریم کلاچی نے اپنے خط میں مولانا شیخ محمد شفیع کو لکھا تھا کہ آپ کی طرف سے عتیق گیلانی کی تحریری اور مجلس عام میں تقریری حمایت پر مجھے دکھ ہوا ہے، باقی (مولانا فضل الرحمن والے)تو ایسے ہیں کہ قادیانیوں کا بھی استقبال کرینگے۔ عتیق گیلانی پر گمراہی کا فتویٰ مہدی کی وجہ سے نہیں لگتا یہ تو کوئی بات نہیں بلکہ اہل تشیع کے کفر پر امت کا اجماع ہوچکا ہے یہ شخص اس اجماع کا منکر ہے اسلئے گمراہ ہے۔ مولانا عبد الرؤف کا بیان ضرب حق کی زینت بنا تھا جس میں قاضی عبد الکریم کو اپنی بھونڈی حرکتیں چھوڑنے کی تلقین کی گئی تھی۔ میں نے قاضی عبد الکریم کے جواب میں لکھا تھا کہ تمہارا فتویٰ سعودی عرب کے حکمرانوں پر بھی لگتا ہے اسلئے کہ غیر مسلم کا حرم میں داخلہ ممنوع ہے۔ جس کے بعد قاضی عبد الکریم نے مولانا عبد الرؤف سے معافی مانگ لی تھی کہ میں غلطی پر تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ ہم نے جان بوجھ کر قاضی عبد الکریم کو عتیق گیلانی سے لڑایا تاکہ اس کے فتوے کند ہوجائیں۔ پھر مولانا فضل الرحمن نے ہمارے گھر پر مولانا گل نواز محسود کے مجھ سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’’میں نے اسکی کبھی مخالفت نہیں کی ہمیشہ اسکی حمایت کرتا ہوں۔ ‘‘ اہل تشیع، اہل حدیث،دیوبندی اور بریلوی علماء ومفتیان کی لمبی فہرست ہے جنہوں نے ہماری حمایت کی ہے لیکن درپردہ حسد کا مسئلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔