امریکہ و اسرائیل کیخلاف بھارت کی حمایت اور کلبھوشن کی فیملی سے ملاقات زبردست اقدام ہے. اشرف میمن

243
0

america-israel-ke-khilaf-india-ki-himayat-aur-kalbhoshan-ki-family-se-mulaqat-zabardast-iqdaam-hei-Ashraf-Memon

پبلشرنوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہاہے کہ ایک طرف بھارت نے امریکہ واسرائیل کی مخالفت کرتے ہوئے کمال کردیا کہ ہماری قرارداد کی اقوام متحدہ میں حمایت کی تو دوسری طرف پاکستان نے جاسوس دہشتگرد کلبھوشن کی ماں اور بیوی سے انسانی ہمدردی کے تحت ملاقات کرواکر مثالی کردار ادا کیا، ٹاؤٹ قسم کی میڈیا نے ان قدامات کووقعت نہیں دی بلکہ بے وقعت بنانے کی کوشش کی جو افسوفسناک ہے۔ انسانیت کی خیر خواہی، عالمی امن سے جڑی ہوئی ہے، علاقائی امن بھی بنیادی بات ہے۔ پاک بھارت تناؤ کم کرنے اور دشمنی کو دوستی میں بدلنے کیلئے ہمیں حدیبیہ پیپرملزنہیں صلح حدیبیہ جیسے معاہدوں کی ضرورت ہے۔ سیدعتیق گیلانی کے بیانات ویڈیو کے ذریعے سے تمام اسٹیک ہولڈر دیکھ سکتے ہیں جس میں قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کو امامت کے مقام پر فائز کرنے کی بھیفکر اجاگر ہوتی ہے۔ سازشوں میں گرفتار سیاسی قائدین کاقومی بیانیہ ہی درست نہیں ۔ ریاست پاکستان اور حکومت نے اچھا کیا کہ انسانی بنیاد پر کلبھوشن کووالدہ اور بیگم سے ملاقات کا موقع دیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ریاستوں کے اصولوں کے خلاف ہو، دنیا میں کہیں ایسانہ ہوتا ہو،اس کو اے آروائی کے سمیع ابراہیم و دیگر صحافی سازش کا نام دیں۔ کلبھوشن کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی و امریکی ایجنسی ایم آئی 6اور سی آئی اے ودیگر ممالک کے ایجنٹ کا نام دیں اور ملاقات کو دباؤ قبول کرنے کا نتیجہ قرار دیں لیکن پاکستان کو ایک دو نہیں100قدم آگے بڑھ کر اسلام کاروشن چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا۔ اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر کی نمائندگی سے پاکستان کو عالم انسانیت کی امامت کا شرف مل گیا ہے۔ دنیانے اس کی حمایت کی ہے، بھارت بھی اس میں شامل ہے۔ جس کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت تھی لیکن ہماری میڈیا نے اس کو اجاگر کرنے کا حق ادا نہیں کیا، یہ ہمارے قومی بیانیہ کا حصہ تھا مگر ہم چوک گئے۔ عتیق گیلانی نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے ضرورت تھی کہ اسکے بدلے میں کلبھوشن کو رہا کردیا جائے۔ یہ وہی عتیق گیلانی ہے کہ جس نے لکھاتھا کہ ’’کلبھوشن کو مارنے کی ہمت نہیں تو بھارت کے بارڈر پر باندھ دو،تاکہ روز روز سرحدات کی خلاف ورزی کرنے والے بھارت کا اپنا گولہ اسی کو لگ جائے۔
کلبھوشن ایک دہشت گردہے لیکن اگر ایک ہفتہ تک اس کی ملاقات کیلئے اسکی بیگم ،ماں اور بچوں کو پاکستان بلایا جائے تو اس سے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں امامت کے قابل بن جائیگا اور دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی، ریاستوں میں تناؤ اور کھچاؤ کی کیفیت کا خاتمہ ہوگا۔ بھارت میں کلبھوشن کا پورا خاندان بھی پاکستان کی بہترین سفارت کاری کریگا۔ پھر کلبھوشن کو پاکستان میں آزادانہ نقل وحمل کی اجازت دی جائے ، جلسے جلوس میں وہ پاکستان کی تعریف اور بھارت کی مذمت پر بھی مجبور نہ کیا جائے اور پھر اس کو ایران ، عرب امارات اور برطانیہ کا آزادانہ دورہ بھی کرایا جائے۔ پھر عالمی عدالت انصاف میں وہ اپنے جرم کا اعتراف کرے اور پاکستان اس کو معاف کردے۔ دنیا کوپیغام دیا جائے کہ دہشتگرد جاسوس کیساتھ بھی اسلام اچھے رویے کی اجازت دیتا ہے۔ دہشت گرد کے انسانی حقوق کو اسلام نے یہ تحفظ دیا ہے، دہشت گرد کی بیوی کے حقوق بھی بحال کرنا ایک اچھا اقدام ہے، دہشت گرد کی ماں اور بچوں سے اچھا سلوک روا رکھنے میں کوئی عیب نہیں بلکہ شرفِ انسانیت ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گردوں،قیدیوں اور جرائم پیشہ افراد کو اچھے سلوک کی بنیادپر راہِ راست پر لانا بہت آسان ہے۔ کلبھوشن سے یہ رویّہ اختیار کیا گیا تو دنیا بھر پر اسکے بہترین اثرات مرتب ہوں گے، اور پاکستان کی سلامتی کے علاوہ پورے خطے اور عالم انسانیت پر اسکے اچھے اثرات سے اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے آئیگا۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے پاکستان کے شانہ بشانہ ہونگے اور دہشتگردوں کو ذہنی شکست کا زبردست سامنا کرنا پڑے گا۔