اسلامی تہذیب و تمدن اورہمارے اقتدار کا ایک آئینہ

601
0

افغانستان کے مشہور بادشاہ امیر امان اللہ خان 1919ء تا1929ء اپنی بیگم ثریا کے ساتھ جرمنی1928ء میں مندرجہ بالا تصویر میں نمایاں ہیں۔ وزیرستان کے لوگوں کا اس وقت لباس سے بہت مختلف تھا۔ عام لباس کو ایسا سمجھا جاتا جیسے شلوارقمیص کے مقابلے میں پینٹ شرٹ کا تصور ہے۔ وزیرستان میں روایتی پردہ و برقعہ نہ تھا مگر سفید شٹل کاک کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا ،کالا برقعہ فیشنی برقعہ کہلاتا تھا۔ طالبان شدت پسند قائدین حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کے گاؤں کوٹ کئی جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم کراچی کے فاضل مولانا زین العابدین جس نے ایم اے بھی کیا تھا اور پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ تھا۔ طالبان کا قاضی بھی رہا ۔ اس نے کہا کہ ’’ مولانا فضل الرحمن کے گھر کی خواتین فیشنی برقعہ پہنتے ہیں‘‘۔ جس پر میں نے جواب دیا تھا کہ ’’ یہ غیر اسلامی نہیں ہے‘‘۔ دارالعلوم کراچی کے طلبہ کہتے تھے کہ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین بھی دارالعلوم سے باہر نکلتے ہی برقعہ اتار دیتی ہیں۔مولانا سندھیؒ روایتی پردے کو غیر شرعی کہتے تھے۔
کچھ عرصہ قبل برقعوں کا تصور بھی نہ تھا۔ خواتین روایتی پردہ بھی نہ کرتی تھیں، معاشرہ کی اشرافیہ میں چوٹی کے لوگوں کا پردہ ہوتا تھا ، جن میں نواب، پیر اور بڑے لوگ تصور کئے جانے والے پردہ کرتے تھے مگر وہ بھی شرعی پردہ نہ تھا بلکہ ہندوستانی روایات کی پاسداری تھی، بہت قریب کے دور میں شرعی پردے کا تصور بھی اجاگر ہوا، ایسے شرعی پردے کا وجود مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قدیم اسلامی معاشرے میں بھی نہیں تھا۔ نبی ﷺ کی ازواجؓ کو خاص طور سے مخالب کرکے پردے کا حکم اللہ نے اسلئے دیا کہ آپﷺ کے دروازے پر ہر قسم کا دوست، دشمن، منافق، کافر ، جان پہچان والا اور اجنبی دستک دیتا تھا۔ آج جس کسی کی بھی ایسی حالت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین احتیاط برت رہی ہوتی ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی طرف سے ایک جہادی و سیاسی لشکر کی قیادت اور حضرت زینبؓ نے جس طرح واقعہ کربلا پر احتجاج کا مظاہرہ کیا، یہ سنی اور شیعہ کیلئے لازوال مثالیں ہیں۔ جب حج کے موقع پر طواف اور کعبہ میں ایک ساتھ خاندان سمیت نماز پڑھی جاتی ہے تو اپنا روایتی اسلام سب بھول جاتے ہیں۔ اگراسلامی شدت پسند مغربی خواتین کو روایتی پردے پر مجبور کریں اور خلافت کے قیام کے بعد انہیں لونڈیاں اور اپنی بیبیاں بناکر نیم برہنہ لباس پہنے کا مظاہرہ کروائیں تو دنیا ہماری اس حرکت پر حیرانی سے کہیں مر نہ جائے۔نبیﷺ کے دور میں تو شلوار یہود کا لباس تھا لیکن نبیﷺ خود نہیں پہنتے تھے البتہ پہلے سرکے بال مشرکین مکہ کے طرز پر مانگ نکال کر پیچھے کی طرف گنگی کرتے تھے اور بعد میں یہود کی طرح آگے کی جانب گنگی کرنے لگے، پھر آخر میں پہلے کی طرح پیچھے کی جانب گنگی کرنے لگے (بخاری) ۔ بلوچوں میں گھیر والی شلوار قومی لباس ہے اور پنجابیوں کا تہبند قومی لباس ہے، اس طرح کسی کی شلوار قمیص اور کسی کی پینٹ شرٹ قومی لباس ہے۔ مذہبی لوگ اگر سنت پر عمل پیرا ہوں تو انکے لئے مخصوص پہچان کے بجائے عوامی لباس پہننا ہی سنت ہے۔ مولانا مودودیؒ پہلے کلین شیو تھے ، پھر چھوٹی داڑھی اورپھر علماء کے اصرار پر لمبی داڑھی رکھ لی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا تعلق پنجاب سے تھا ساری زندگی شلوار پہنی اور آخر بڑھاپے میں سنت زندہ کرنے کیلئے دھوتی پہننا شروع کی۔ حدیث میں کچی اینٹوں کے تکلف کی مخالفت تھی اور شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ نے سنت پر عمل پیرا ہونے کیلئے کچی اینٹوں سے تکلف کرکے اپنا مکان بنوایا۔ سبز عمامے پیلے رومال رنگ رنگیلے لباس نبیﷺاور صحابہؓ کے طرزِ عمل کی نفی اور فرقوں کی خاص شناخت ہے۔اسی طرح مونچھ اور داڑھی مخصوص تراش خراش کا معاملہ بھی ہے۔علماء و مفتیان کی اکثریت ہمیشہ بادشاہوں کی درباری رہی ہے اور بادشاہوں کا حال مختلف ادوار میں کسی سے مخفی نہیں رہا ہے۔
پاکستان کا قانون یہ ہے کہ ریاستی اداروں کے ملازمین ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک سیاست نہیں کرسکتے۔ جنرل ایوب ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے ملازم ہوکر بھی سیاست کی اور سیاستدانوں کی اکثریت انکی پیداوار ہے۔ جنرل راحیل کیلئے کسی این او سی کی قانونی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن جب پاکستان کے اندر باہر سے ملازم معین قریشی لاکر وزیر اعظم بنایا جاسکتا ہے تو ہمارا جنرل راحیل باہر ملازمت کیوں نہیں کرسکتا؟۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پر حکومت کی تذلیل اس لئے تو نہیں ہورہی ہے کہ عوام سے راجا داہر کا بدلہ اتارنے جیسا سلوک ہورہا ہے؟۔