پاکستان کی ریاست اور سیاسی قیادت کا حال

392
0

amir-muqam-fawad-chaudhry-sheikh-rasheed-democracy-lanat-shame-on-democrats-zhob-balochistan-internet-social-media-haq-nawaz-jhangvi-shia-kafir-qazi-abdul-kareem-fatwa (1)

شیخ رشید، امیر مقام،فواد چوہدری، دانیال عزیز، بابر اعوان، جان اچکزئی، مشاہد حسین سیداور ، اور اور بہت سے سیاسی قائدین اور رہنماؤں نے کس کس کی گھاٹ کا پانی نہیں پیا ہے۔ عورت کیلئے طلاق اور خلع کے علاوہ بدکاری کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو وہ احتجاج کرتی ہیں کہ عورت کیوں نشانہ بنتی ہیں اسلئے طلاق ،خلع اور بدکار عورت کے بجائے ملوثی کا لفظ زیادہ موزوں لگتاہے۔ قرآن میں زنا کار مرد اور عورت کیلئے برابر کی سزا کا حکم ہے اور اگر مرد آپس میں برائی کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت دینے کا حکم ہے ، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ مغفرت والا ہے۔یورپ اور مغرب میں جنسی آزادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اسلئے وہاں اس جرم کو جرم تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں پارٹیاں بدلنا، وعدوں کی تکمیل نہ کرنا اور سیاسی مؤقف بدلنے کے دور سے گزر رہی ہیں۔ اخلاقیات تباہ ہوگئے ہیں اور اس صورتحال میں سیاسی قیادت کا بحران اور ریاست کا فقدان بڑا خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ شیخ رشید جیسے لوگ رات کو برملا کہتے ہیں کہ میں جمہوریت اور پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں، لعنت بھیجتا ہوں اور یہ ہے میرا استعفیٰ ۔ عمران خان بھی اس کی بھر پور تائید کردیتے ہیں ۔ اس جلسے میں زرداری نے بھی شرکت کررکھی تھی اورڈاکٹر طاہرالقادری میزبان تھے۔ علامہ طاہر القادری نے کہا کہ ’’ یہ محفل شیخ رشید نے لوٹ لی‘‘۔ پنجاب میں ناچ گانے والی ہوتی ہیں اور پختونخواہ میں لڑکوں اور مردوں سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ گویا رنڈی کا نعم البدل ہوتا تھا۔ شیخ رشید نے ساری زندگی جمہوریت کی خدمت میں گزاردی اور آخر کار اس پر لعنت بھیج کر بڑی داد بھی حاصل کرلی مگر افسوس کہ دوسرے دن پھر چوتڑ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں یہ لعنت والا کام جاری رکھوں گا۔
یہی حال پارٹیاں بدلنے والے سیاسی رہنماؤں کا ہے۔ کیا ایسے لوگ فوج یا سیاستدان کے مورال کو بلند رکھ سکتے ہیں؟۔ عوام کے اندر صرف طاقت اور پیسے کی بنیاد پر زندہ ریاست اور سیاسی قیادت غریب عوام کی غربت میں ڈوب مری ہے لیکن اس کی آنکھوں میں شرم وحیاء کی چمک ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ژوب، قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ میں قیادت کی پیاسی عوام نے منظور پشتوں کا بھرپور استقبال کیا اور جو لوگ جلسہ میں نہیں پہنچ سکے تھے وہ جلسے کا احوال سن کر پیاسے ہوگئے کہ اس منظر کو دیکھنے سے کیوں محروم رہ گئے؟۔ اس جلسے میں ایک درد، ایک ولولہ اور حقیقی قیادت تھی۔ بلوچ رہنما اور ہزارہ برادری کی شیعہ رہنما نے بھی اپنے خطاب کے جوہر سے عوام کا لہو گرمایا اور اپنے ان جذبات کا اظہار کیا جس کا وہ پہلے اپنے خفیہ محافل میں کرتے ہونگے۔الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ کوئٹہ میں انٹرنیٹ بھی بند کیا گیا تھاتاکہ جلسے کی کوریج نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی لوگ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ جمعیت علماء اسلام آئینی کے مولانا عبدالقادر لونی اور محمود خا ن اچکزئی کے بھیجے گئے نمائندے کو بھی شرکاء کی طرف بہت سخت ردِ عمل اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عوام علماء اور قوم پرستوں سے بہت بیزار ہوچکے ہیں۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن عوام کویہ احساس دلایا گیا کہ اسلام کے نام پر دھوکہ دیا گیا ۔ تحریکِ نظام مصطفی کے وقت بھی قومی قیادت نے نعرہ لگایا تھا۔ اسلامی جمہوری اتحاد نے بھی اسلام کا نعرہ لگایا تھا۔ طالبان نے بھی اسلام کا نعرہ لگایا تھااور متحدہ مجلس عمل نے بھی اسلام کا نعرہ لگایاتھا۔ میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا۔ غالباً 1984ء کا سال تھا جب طلبہ میں ایک جماعت ’’جمعیۃ اعلاء کلمۃ الحق ‘‘کی بنیاد رکھی۔ میری پوری کوشش تھی کہ صدر کسی دوسرے کو منتخب کیا جائے کیونکہ صدر سے زیادہ کارکن کے طور پر کام ہوسکتا ہے مگر میری یہ کوشش ناکام ہوئی۔ میں نے کبھی جمعیت طلبہ اسلام اور علماء اسلام کی رکنیت کے طور پر بھی کام نہیں کیاہے لیکن ایک کارکن اور رہنما سے زیادہ اس کیلئے کام کیا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا فضل الرحمن بنوری ٹاؤن میں آتے تھے تو جمعیت طلبہ کا کوئی کارکن ہاتھ ملانے کی جرأت نہیں کرسکتا تھااور کسی رہنما کو ساتھ آنے کی جرأت نہ ہوتی تھی یا ساتھ لانا حکمت کے تقاضے کے منافی سمجھا جاتا تھا اور میں مولانا کو عزت دینے کیلئے ساتھ چلتا تھا۔ ممکن ہے کہ وہ خوفزدہ بھی ہوں کہ تعاقب کرنے والے کے کچھ اور مقاصد تو نہیں ہیں۔ تصویر کو ناجائز سمجھ کر میں شناختی کارڈ پھاڑ چکا تھا لیکن مولانا فضل الرحمن کو ووٹ دینے کیلئے شناختی کارڈ بنا ڈالا۔ مولانا حق نواز جھنگوی انجمن سپاہ صحابہ کے بانی و قائد تھے اور جمعیت علماء اسلام پنجاب کے نائب امیر بھی تھے۔ جب سپاہ صحابہ کے قائد شہید ہوگئے تو ایسا دن بھی آیا کہ ان کا نعرہ آگے بڑھا اور یہانتک پہنچا کہ ’’ کافر کافر شیعہ کافر اور جو نہ بولے وہ بھی کافر‘‘۔ میں نے 1992ء کے ابتدائی سال میں کتاب ’’ عروج ملتِ اسلامیہ کا فیصلہ کن مرحلہ‘‘ لکھ ڈالی اور اس میں تمام مذہبی فرقوں کے اتحاد کے علاوہ یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ سپاہِ صحابہ کا ہدف صرف مولانا فضل الرحمن کیوں ہے؟۔ سعودیہ کے بادشاہ اہل تشیع کو حرم میں آنے دیتے ہیں ، یہ فتویٰ ان پر کیوں نہیں لگایا جاتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن کے اسٹیج سے مولانا حق نواز جھنگوی شیعہ کافر کا نعرہ بھی نہیں لگاتے تھے تو اپنے قائد سے انحراف ہے‘‘۔ پھر وہ وقت آیا کہ جمعیت علماء اسلام ف اور س کے دونوں دھڑوں کو الیکشن کے موقع پر ایک ساتھ جلسے کیلئے جمع کرنیوالا عتیق الرحمن دونوں کے فتوے کا نشانہ بن گیا اور فتویٰ نہیں تھا ایک خط تھا جو قاضی عبدالکریم مرحوم نے اپنے شاگرد مولانا شیخ شفیع کے نام لکھ دیا تھا کہ ’’جس شخص کی آپ عوام کے اندر تقاریر اور تحریرات کے ذریعے حمایت کررہے ہیں ، اس سے مجھے بڑا افسوس ہوا، اسلئے کہ عتیق الرحمن کی طرف سے مہدی وغیرہ کی بات مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ شیعہ کوکافر قرار دینے پر اجماع ہے اور یہ شخص اس اجماع کا منکر ہے اسلئے گمراہ ہے۔دوسرے لوگ جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما تو قادیانیوں کا بھی استقبال کرینگے‘‘۔ جس کو مولانا شفیع نے تسلیم کرنے سے انکار کردیالیکن جمعیت علماء اسلام ف کے رہنماؤں نے الجواب صحیح لکھ دیا۔ یہ فتویٰ خود ہی انہی پر لگ رہا تھا اور مولانا فضل الرحمن ہمارے اخبار کے پرچے کو سائیڈ کی جیب میں رکھ کر علماء کرام پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ تم نے ایسی حمایت کیوں کی ہے؟۔ مولانا عبدالرؤف نے جرأتمندانہ بیان دیا تھا کہ قاضی عبدالکریم ان بھونڈی حرکتوں سے باز آجائے اور عتیق گیلانی سے کہتا ہوں کہ
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
مولانا عبدالرؤف نے مولانا فضل الرحمن سے کہا تھا کہ چھپ کر وار کرنے کے بجائے اگر عتیق گیلانی میں کوئی غلطی ہے تو ہم سیدھا کردیں گے۔