Home اہم خبریں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پی ٹی ایم کے منظور...

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پی ٹی ایم کے منظور پشتین: تحریر محمد اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار

322
0

arm-chief-journal-qamar-jawed-bajwa-ptm-mnzoor-pashteen-editor-muhammad-ajmal-malik-supreme-court-marvi-memon-irshad-bhatti-hasan-nisar-abdul-haseeb-mqm-ayoub-khan-panama-leaks-isi

انسان ماحول سے بہت متأثر ہوتا ہے۔ بدر واُحد اور صلح حدیبیہ کا ذکر قرآن وسنت میں جلی عنوانات کیساتھ موجود ہے۔ قرآن وسنت مسلمانوں کیلئے عمومی طور پر اور پاکستانیوں کیلئے خصوصی طور پر مشعلِ راہ ہونے چاہیے۔ گھر بار چھوڑ کربے سر وسامانی کی حالت میں ہجرت کرنیوالے صحابہؓ نے نبیﷺ کی قیادت میں تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا۔ حال میں سپریم کورٹ کی ججمنٹ میں قرآن کی آیات کا حوالہ بھی دیا گیاہے اور 100 بااثر شخصیات پر معروف مصنف کی معروف کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ جب تک درست پسِ منظر پیش نہ ہو بات سمجھ نہیں آسکتی ہے، کسی چیز کے ادراک کیلئے ماحول سمجھنا ضروری ہے۔
امتحان اگر معلوم ہو تو امتحان نہیں ہوتا۔ ساری زندگی جس طرح اداروں کے احترام میں نوازشریف نے کھپائی ہے، اس کا منظر روز مختلف چینلوں پر عوام دیکھتے ہیں۔ جب افتخار احمد کی طرف مریم نواز کے حوصلے، جرأت اور شاطربیانی کو داد دی گئی تو ارشاد بھٹی نے ماروی میمن کے پروگرام میں کہا کہ میں خود بھی پنجابی ہوں مگر اس ڈھٹائی پر مجھے شرم آتی ہے، یہ کونسا طرزِ عمل ہے کہ دن رات جھوٹ بولو، اداروں کو کرپشن پر قربان کردو۔
ایک دوسرے ٹی وی چینل پر حسن نثار نے سرائیکی صوبے کے حوالہ سے کہا کہ ’’ ایم کیوایم کے عبدالحسیب نے صوبوں پر کتاب لکھی تھی جس کو پڑھنے کے بعد میں نے کئی کالم بھی لکھے اور میں نجیب الطرفین پنجابی ہوں ، میری والدہ اور والد دونوں پنجابی ہیں لیکن مجھے شرم آتی ہے کہ بنگلہ دیش سے ہم نے سبق نہیں سیکھا‘‘۔ پنجاب کے ان باسیوں کے علاوہ وسعت اللہ خان، مبشر زیدی اور ضرار کھوڑو جیسے لوگ ایک مخصوص نظام اور مخصوص ذہنیت سے بہت مایوس ہیں لیکن اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کو سلامت رکھے۔
سرائیکی صوبے کی ڈیمانڈ اسلئے درست نہیں کہ وہ پسماندہ ہیں ، پسماندگی پر سندھ کے تھر اوربلوچستان کے پسماندہ بہت سے علاقوں کو صوبہ بنانے کی تجویز آسکتی ہے بلکہ پنجاب ملک کا 60 سے 65 فیصد ہے۔ باقی صوبوں یا علاقوں سے وزیراعظم منتخب ہوتا ہے تو وہ 35سے 40فیصد کا حکمران ہوتا ہے پنجاب کا وزیراعلیٰ 60 سے 65فیصد پر حکومت کرتاہے۔ پاکستان کا توازن برقرار رکھنے کیلئے صرف یہ ضروری نہیں کہ پنجاب کے کم ازکم 2 صوبے بنائے جائیں بلکہ اٹک سے بھکر تک پختونخواہ میں شامل کیا جائے۔ ڈیرہ غازی خان کاکچھ علاقہ اور آبادی کو بلوچستان میں شامل کیا جائے۔ کچھ علاقے کو سندھ کا حصہ بنایا جائے اور اسلام آباد سے دارالخلافہ اور پنڈی سے GHQ بھی پاکستان کے مرکز میں میں منتقل کیا جائے۔ تاکہ کوئٹہ لاہور اور پشاور کراچی کیلئے درمیانی اور مرکزی جگہ ہو۔ قائداعظم کے وقت میں ملتان کو دارالخلافہ بنایا جاتا تو جنرل ایوب خان اس کو ہزارہ کے قریب اسلام آباد منتقل کرنے کی زحمت نہ کرتے۔
پاکستان میں تمام دریاؤں کو ڈیم بنایا جاسکتا ہے اور سیورج کے گٹرکو بھی پینے کے پانی سے الگ کیا جاسکتاہے۔ سستی بجلی بھی پیداکی جاسکتی ہے اور آئندہ سب سے بڑی ترجیح یہی ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کی مشاورت سے مشرکین کا شام سے آنیوالے قافلے کو لوٹنے کا پروگرام بنایا۔بہت کم تعداد میں معمولی اسلحہ کیساتھ جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو قافلہ نکل چکا تھا اور کئی گنا بڑا لشکر مقابلے کیلئے موجود تھا۔ اس امتحان میں صحابہؓ اور نبیﷺ نے اللہ سے خوب دعائیں مانگیں۔ اللہ نے فرمایا کہ لڑانے کیلئے میں نے دونوں کو ایکدوسرے سے کم دکھایااور ایسا نہ کرتا تو تم لڑنے سے گریز کرتے۔ تلواروں کے سامنے جانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا۔ ہمارے ریٹائرڈ دفاعی تجزیہ نگار بن کر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں مگران کی ٹرینگ فوجی ہوتی ہے،ان کو نیٹو اور طالبان کے درمیان پیرا شوٹ سے اتار دیا جائے تو پتہ چل جائیگا کہ یہ کس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ٹی وی پر پھسکڑیاں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، میدان میں پتہ چلتاہے۔
بدر کے میدان میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد کی اورموسمی حالات بھی مسلمانوں کے موافق کردئیے۔ 313 مجاہدین نے ہزار کو بدترین شکست دیدی۔70مار دئیے اور 70کو قیدی بنالیا۔ مدینہ میں مشاورت ہوئی کہ قیدیوں سے کیا سلوک کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت سعدؓ نے مشورہ دیا کہ جو جس کا قریبی رشتہ دار ہے وہ اس کو قتل کردے۔ باقیوں نے یہ مشورہ دیا کہ اپنی قوم کے افراد ہیں، کل ان کو ہدایت بھی مل سکتی ہے۔ ہمیں مال کی ضرورت بھی ہے، فدیہ لیکر چھوڑ دیتے ہیں۔
نبیﷺ کو فدیہ کا مشورہ پسند آیا۔ پھر اللہ نے وحی اتاری کہ ’’نبی (ﷺ) کیلئے یہ مناسب نہیں کہ آپکے پاس قیدی ہوں، یہانتک کہ زمین میں خوب خون بہاتے۔ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے۔ اگر پہلے سے اللہ لکھ نہ چکا ہوتا تو بہت سخت عذاب نازل کردیتا۔ جن لوگوں سے فدیہ لیکر چھوڑ دیاہے اگر انکے دل میں خیر ہے تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دیگا اور اگر انکے دلوں میں خیانت ہے تو اللہ ان سے پھر نمٹ لے گا‘‘۔
نبیﷺ زار وقطار رورہے تھے کہ مجھے نازل ہونے والے عذاب کا نقشہ بھی اللہ نے دکھا دیا ، اگر عذاب نازل ہوتا تو عمرؓ اور سعدؓ کے علاوہ کوئی نہیں بچتا۔ کہاں وہ بدر کا غزوہ اور کہاں یہ نوازشریف، اسکی صاحبزادی اور حواریوں کی جنگ؟۔ اللہ کی طرف سے ٹھیک فیصلہ آیا کہ پہلے شام کے قافلے سے جو جنگ شروع کی تھی ،اب اسکو فدیہ لینے پر ختم کررہے ہو؟ ن لیگ نے تو لندن کے فلیٹ ، پانامہ کی دولت اور نہ جانے کیا کیا 22 کروڑ عوام کیلئے بنایا ہے ۔ اب بھی عوام کی جنگ لڑرہے ہیں۔
قرآن وسنت کی تعلیمات اسلئے ہیں کہ جب صحابہؓ نے شام کے قافلے کا قصد کیا، فدیہ لینے کا مشورہ دیا اور اللہ نے کہا کہ تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتاہے تو کسی اور کیلئے اس بات کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ مجھے ذات کیلئے نہیں عوام کیلئے جنگ لڑنی ہے۔ ارے تمہارے رائیونڈ کے محل، پانامہ کی دولت اور لندن کے فلیٹ وغیرہ سے بہترین ہسپتال، تعلیمی ادارے ، بجلی بنانے اور دیگر اشیاء کے کارآمد کارکانے بن سکتے تھے۔ مگر تم نے اپنا خیال رکھا۔ ساری زندگی جن سازشوں میں گزاری اس کی بیماری ہوگئی ہے ، سازش کوئی بھی نہیں کررہا ہے۔
نبیﷺ اور صحابہؓ نے وحی کے بعد محسوس کیا کہ اس دفعہ وہ ہاتھ آگئے تو نہیں چھوڑنا ہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ غزوۂ احد کی باری آگئی اور مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچنے کا سامنا ہوا، صحابہؓ میں بعض بھاگے۔ اللہ نے فرمایا:ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل أفان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’ اور محمد کیا ہیں مگر ایک رسول، آپ سے پہلے رسول گزرچکے ہیں ،اگر آپ فوت ہوجائیں یا قتل کردئیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے؟‘‘۔ نبیﷺ اور صحابہؓ نے کہا کہ ہم سخت انتقام لیں گے، حضرت امیر حمزہؓ کے بدلے 70کے ساتھ ایسا برتاؤ کرینگے۔ اللہ نے فرمایا: اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے ان کو بھی پہنچا ہے۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ اس حد تک نہ لے جائے کہ اعتدال سے ہٹ جاؤ۔ اگر ان کو معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے بلکہ معاف ہی کردو اور معاف کرنا بھی تمہارے لئے اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
شریف برادری کی اصلاح اس وقت ہوگی جب کوئی ان کا فرد کہہ دے کہ آصف علی زرداری نے بھی تو 11سال جیل میں گزاردئیے۔ سعودیہ میں سہیل وڑائچ سے کہا کہ ISIکے کہنے پر غلطی کی تھی اور پھر پیٹ پھاڑ کر، سڑکوں پر گھسیٹ کر اور چوکوں پر لٹکاکر سزائیں دینے کے اعلان کئے تھے۔ جب وہی زبان عمران خان نے استعمال کی تو تمہیں اخلاقیات یاد آگئے۔ فیصلہ چوکوں کے بجائے عدلیہ لے جانے کی تجویز بھی خود پیش کی تھی حالانکہ عاصمہ جہانگیر نے کہا تھا کہ عدالت کے دلدل میں نہیں پھنسنا چاہیے تھا۔ پارلیمنٹ میں جھوٹی تقریر کرنے کی ضرورت کیا تھی؟، جن سوالات کے جوابات مانگے گئے تھے وہ اب بھی دیدینا تو اگر سچے ہو تو عوام کی عدالت میں سرخرو ہوجاؤ گے۔
یہ بات عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بدر کے فدیہ پر اسلئے ڈانٹ پڑی تھی کہ صحابہؓ کو کتاب کی تعلیم دینی تھی، انکا تزکیہ کرنا تھا اور حکمت کی تعلیم دینی تھی۔ حکمت یہی تھی کہ اللہ نے فدیہ کو رد نہیں کرنا تھا بلکہ مشرکوں کے دل میں خوف بٹھانا تھا کہ آئندہ نبیﷺ نے بھی معاف نہیں کرنا ہے۔ غزوہ احد میں اللہ نے پھر صبر وتحمل کی تعلیم دی۔ پھر اللہ نے خواب میں دکھایا کہ مکہ میں عمرہ کیلئے جاتے ہیں۔ نبیﷺ کے خواب پر ایمان رکھ کر صحابہؓ نے عمرے کیلئے احرام باندھے۔ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے توکچھ اور معاملے کا سامنا ہوا۔ جنگ کی خواب و خیال میں بھی تیاری نہ تھی ۔ عبادت کی غرض سے آئے تھے لیکن ان کو خبر دی گئی کہ ان کا سفیر حضرت عثمانؓ شہید کردئیے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں جنگ کیلئے مجبور ہونا کس قدر آزمائش تھی؟۔ نبیﷺ نے ایک درخت کے نیچے بدلہ لینے کی بیعت لی۔ اللہ نے وحی اتاری کہ جن لوگوں نے آپکے ہاتھ پر بیعت کی ہے انکے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
پھر حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ جھوٹی نکلی۔ صلح حدیبیہ کا معاملہ ہوا، جس کو اللہ نے فتح مبین قرار دیا، حالانکہ صحابہ کرامؓ کے جذبات بالکل مختلف تھے۔ پھر وہ دن بھی دیکھنے کو مل گئے کہ حضرت عثمانؓ کو مدینہ میں تختِ خلافت پر شہید کیا گیا۔
انسان ماحول سے متأثر ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کو درست معلومات بھی مل جائیں اور فیصلہ بھی درست کرلے۔ یہ معلومات مقدمہ کے طور پر بیان کررہا ہوں تاکہ آرمی چیف اور پشتون تحفظ موومنٹ کے درمیان کسی غلط فہمی کے نتیجے میں قوم کا نقصان نہ ہو۔ نوازشریف اور عمران خان کی شخصیات ہرگز اس قابل نہیں کہ ملک وقوم کو درست طرف لے جائیں۔یہ بڈھے بڈھے اب سیاست کی بجائے کوئی ریٹائرمنٹ والا کام کریں۔ سیاست میں جوان دماغ اور قابلیت کی ضرورت ہے۔ سیاست ایک تجارت بن گئی ہے۔ ڈراینگ روم سے باتھ روم کے لوٹوں تک بات پہنچ گئی ہے۔ کوئی شریف آدمی یہ ڈرامہ بازی نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔اور بہروپئے یہ کام کررہے ہیں۔ جسکے پاس جتنے شرمناک لوٹوں کی تعداد ہوتی ہے وہ اتنے اسٹار کالیڈر ہوتا ہے اسکے پیٹ اورپیٹھ پر اتنے لوٹوں کے نشان بنانے ہونگے ۔
روزوں میں بنوں والوں کا دماغ کام نہیں کرتا اور لوگ قتل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ مسلح بدمعاش گروپ آیااور اعلان کیا کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ نہیں کرتا تو ان کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ وہ گروپ گیا تو تھوڑی دیر میں دوسرامسلح جتھہ آیا اور اسی چوک پر اعلان کہ کون کہتا ہے کہ روزہ تنگ کرتاہے تو اس کی ماں بہن کی ایسی کی تیسی کردینگے۔ بنوں والوں کی مثال اب ہمارے فوجی بھائیوں پر پوری اترتی ہے۔ ایک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’ جنرل اشفاق کیانی انتہائی بے غیرت وبے ضمیر انسان تھا، حامد میر بھی CIA کا ایجنٹ ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو امریکہ کے کہنے پر تیار کیا گیا۔ فوج میں بھی ایسے بے غیرت اور بے ضمیر عناصر تھے جنہوں نے جنرل اشفاق کیانی کا ساتھ دیا، اور ایک بڑے منصوبے کے تحت ملالہ یوسفزئی کو تیار کرکے بھیجا گیا لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے اس پرتحفظات تھے، انہوں نے اس ڈرامہ کی مخالفت کی تھی‘‘۔ اس بیان کے بعد میجر عامر پنچ پیر صوابی کا ایک بیان آیا’’ جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے گورنری ٹھکرادی۔ اغیار کے ایجنڈے پر جنرل راحیل شریف نے پٹھانوں کو قتل کیا، 4ہفتے میں جنگ ختم کرنے کا کہا تھا لیکن اب چار سال ہوگئے ہیں وہ خود سعودیہ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے۔ میں نے امریکہ کی سازش پر پٹھانوں کو قتل کرنے سے انکار کیا ، سب سے بڑا ظالم اور قاتل راحیل شریف تھا‘‘۔ دونوں طرف سے فوج ہی کو برا بھلا کہا گیاہے۔
پاکستان تحفظ موومنٹ کے نام سے ایک بریگڈئیر کا بیٹا یہ الٹی سیدھی تقریر کررہاتھا کہ جس کا کوئی ربط اور ضبط نہیں تھا لیکن ایک بات واضح تھی کہ ’’میں پشاور میں کھڑے ہوکر کہہ رہا ہوں کہ قوم کی بیٹی ملالہ نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے‘‘۔ ٹھیک ہے لیکن اس میں فوج کے تحفظ اور بدظنی دور کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اگر ملالہ ایجنٹ ہے تو بھی اشفاق کیانی اور فوج کو کریڈت جاتا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیرو ہے تو بھی پرویزمشرف کے دور میں آرمی چیف نے اس کو امریکہ کے حوالہ کرکے اپنا منہ کالا کیا تھا۔ اس سے فوج کے بارے میں اچھا تأثر قائم نہیں ہوتاہے۔
جس طرح سیاستدان بے سُر کے ڈھول بجاتے ہیں اسی طرح فوجیوں کی تعریف کرنیوالے بھی بے پر کی اڑاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ریاست اور سیاست دونوں کمزور ہوتے ہیں مگر جوان کے بچوں کو کوئی پرواہی نہیں ہے۔ پرتعیش کھانوں اور آرام دہ جگہوں سے اٹھ کر بحفاظت تقریریں کرنے والوں کی عقل بھی ماری گئی ہے ۔ قوم کو بنانے کیلئے قرآن وسنت سے ہی استفادہ کرنا پڑے گا۔ فوجی کیپٹن بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچنے سے پہلے صرف آرڈر ہی کو سمجھتا ہے۔ کوئی وردی ہی کو اپنی کھال قرار دیکرپرویزمشرف کی طرح بیٹھ جاتا ہے تو اس کو اپنے حق کیلئے بھی سالوں سال تک اٹھانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے۔ جب آرمی چیف بن جاتا ہے تو آدھی آزاد نوکری سکتے میں گرزرتی ہے اور بقیہ ایک آدھ سال رہ جاتا ہے تو اسکے ریٹائرڈمنٹ کا وقت پورا ہونے لگتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادت کا بحران آیا ہواہے۔ PTM کی اتنی بڑی حیثیت نہیں کہ ا سے ملک کو خطرہ لاحق ہو۔ اس سے اعتدال پر لانے کیلئے وہاں کے عوام بھی اپنا کردار ادا کریں گے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جو سیاستدان بہت پیسہ خرچ کرکے بھی باشعور عوام کو جلسے جلوس میں نہیں لاسکتے ہیں، یہاں کا ماحول دیکھنے کے بعد قوم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگا۔ فوج کی طرف سے انکے کندھے پر بزرگوں کو ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تو جن کو ساری زندگی شعور نہیں مل سکا ہے وہ بھی سمجھ بوجھ لے لیں گے۔ درد مند وں کو پختون تحفظ موومنٹ کے ذریعے ڈھارس مل گئی تو پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی عوامی تحریکوں سے لوگوں میں مایوسی کی فضا ختم ہوگی۔ کسی کے خلاف نفرتوں سے اسکے جذبے کارخ غلط راستے کی طرف مڑ سکتا ہے۔ اگردلوں میں بغض رہ جائے تو بھی یہ پوری قوم کا نقصان ہے۔
منظور پشتین کو محسودوں کی اجتماعیت بھی قبول نہیں کرسکتی۔ اگر محسودوں نے قبول کیا تو وزیر کہاں قبول کرینگے؟۔ وزیر بھی قبول کرلیں تو بیٹنی کہتے ہیں کہ محسود پیغمبر بھی بن جائے تو اس کو قبول نہیں کرینگے۔ وہ اعتماد بھی نہیں کرتے کہ یہ بک جاتے ہیں اور اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی خان، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ کہاں قبول کرینگے؟۔ منصوبہ انکے خلاف سیاسی جماعتوں کا تھا مگر فوج استعمال ہوگئی۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ پاک فوج انکے بارے میں اپنا رویہ بالکل بدل دے۔ یہ ایک فکروشعور کی تحریک ہے اور اسکے دل و دماغ کو بھی شعور وآگہی سے درست کیا جاسکتا ہے۔
بندوق کا مقابلہ بندوق اور فکر کا مقابلہ فکر سے کیا جاسکتاہے اور اگر کسی غیر ملکی فنڈنگ کا پتہ چلے تو کوئی مسئلہ نہیں ان سے وہ فنڈ چھینا جائے، ہماری ریاست کا قرضہ اس سے چکایا جائے ۔ اُوچھے ہتکنڈوں سے یہ ملک اس تباہی کے کنارے پہنچ چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کیساتھ پٹھان اورمحسود ہی خاص طور پر ملوث تھے۔ منظور پشتیں کے گرد وہی لوگ دکھ، درد لیکر پہنچ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی غلط سر گرمیوں میں ملوث تھے۔ عام عدالتوں سے سزائیں مل سکتی تھیں تو فوجی عدالتوں کا جواز نہیں ہوتا۔ یہ فوج ہی کمال ہے کہ پختونوں کو طالبان سے اب نجات دلانے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے ہیں، بلوچستان اور کراچی کا امن لوٹانے میں بھی پاک فوج نے تاریخ ساز کام کیا ہے۔ پختونوں، بلوچوں اور کراچی کے مہاجر عوام کو فوج کا بہت شکریہ ادا کرنا چاہیے۔آج بھی پاکستان کے شہری علاقوں سے پاک فوج کا رعب ودبدبہ اور دہشت ہٹ جائے تو اپنے معاشرے کی تباہی کیلئے بیرونی دشمن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کی ریاست میں پاک فوج واحد ادارہ جسے اللہ قیامت تک سلامت رکھے جس نے ریاست کے نظام کو سہارا دیاہے، طاقت کے بغیر کوئی ریاست ریاست کہلانے کے قابل نہیں۔
ہاں ریاست کو صرف طاقت کے بل بوتے پر کنٹرول کرنا بھی انتہائی غلط ہے، پھر آزادی نہیں غلامی کا تصور پیدا ہوتاہے اور جب پیپلزپارٹی ، ایم کیوایم اور اے این پی پر طالبان نے امریکہ کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگادیا اور دہشت گردانہ حملے شروع کردئیے تو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف طالبان سے عقیدت ومحبت اور یکجہتی کا اظہار کررہے تھے لیکن جب دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن شروع ہوا توبہت افسوس کیساتھ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین پر سہولت کار کے الزامات لگائے گئے۔ جن مریضوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا تھا تو میڈیا نے سروے میں بتایا کہ وہ بھی بالکل عام لوگ تھے جن کو پتہ بھی نہیں تھا کہ انہی پر دہشت گردی کاالزام لگاکر ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ کیلئے رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے۔
بندے کے پاس مال شال ہو تو وہ ریمانڈ میں بھی مار نہیں پیار کھاتا ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے بھی کہہ دیا کہ ہسپتال میں جو آتا ہے اس کا علاج کرنا ہمارا کام ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟۔ البتہ قصور کے ایک بے قصور شخص نے پولیس تشدد سے چھوٹی بچی کیساتھ زیادتی اور قتل کا اعتراف کیا تو اس کو پولیس ہی نے قتل بھی کردیا اور اسکے بھائیوں رشتہ داروں پر مقدمات قائم کرکے خاموش بھی کردیا گیا۔ عوام کیلئے عدالت بھی کسی کام کی نہیں ۔ اداروں کی طرف سے زیادتی پر ایکشن تو بہت دور کی بات ہے، مظلوم کو پیشیاں بھگتنے میں بھی جان کے لالے پڑے ہوتے ہیں اسلئے کہ ہمارا معاشرتی نظام بھی بہت زیادہ گراوٹ کا شکار ہے۔ مشال خان کے والد جس طرح سے بے بسی کی تصویر بنے کھڑے رہتے ہیں اگر آرمی چیف ان کے سرپر ہاتھ پھیرنے چلے جاتے تو بہت سی جماعتیں کتیا کی طرح اقبال خان کے پاس دُم ہلاتی نظر آتیں۔ اب بھی پاک فوج کا ہی دبدبہ ہے ورنہ دوپولیس اہلکار ان کی کیا حفاظت کرتے؟۔
پختون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین بذاتِ خود ایک اچھا انسان ہے ، اس کے اردگرد جمع ہونے والوں کی اکثریت اچھے لوگوں کی ہے۔ ان میں محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ اور پھر مظلوم تحفظ موومنٹ میں بدلنے کی صلاحیت بھی ہے،کچھ ہی سڑیل، بدبوداراور متعصب لوگوں کا گھیرا اس تحریک کو نقصان پہنچارہاہے مگرخیر کی روشنی برائی کے اندھیرے پر غالب آسکتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے برخودار سارا دن فوج کی برائی کریں جس میں انکی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ پرویزمشرف ہی کا پروردہ عمران خان فوج کی تعریف کرے تو فوج کی بھی آنکھ نہیں کھل سکتی ہے اور قوم بھی بتدریج خرابیوں کا شکار بنے گی۔
ماحول میں مشاورت اور مخالف رائے کو برداشت کرنے پر معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ امریکہ کردار سے سپرطاقت بنا ہے۔ بھارت نے من موہن سنگھ کے دور میں کھربوں ڈالر سے ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا اور ہم US AEDکے زکوٰۃ کی رقم کیلئے ترستے ہیں۔ فوج سے محبت رکھنے والا میڈیا یہی راگ الاپتا رہتا ہے کہ جمہوری حکمران امریکہ کے ایجنٹ ہیں اور ہمارا ڈی جی آئی ایس پی آر بیان دیتا ہے کہ ’’ امریکہ کو ہم نے مثبت انداز میں سپر طاقت بنایا‘‘۔ارے ! اتنی قربانی پر تو کشمیر آزاد ہوجاتامگر تمہارا دماغ نہیں ۔ قوم کی آزادی کیلئے آزاد عوام سے آزاد سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی یہ ادارے فوج، عدلیہ، سول بیوروکریسی وغیرہ موجود تھے، پہلے انگریز کے ملازم تھے اور ملک آزاد ہوا تووہ بھی اس کی برکت سے آزاد ہوگئے۔ چیف جسٹس کسی بھی مثبت کام سے قابلِ تعریف بن سکتے ہیں لیکن نظام کو نہیں بدل سکتے۔ عراق کی عدلیہ صدام حسین کیساتھ کام کررہی تھی، جب امریکہ نے قبضہ کیا تو اسی عراقی عدالت نے صدام حسین کو پھانسی کے پھندے پر لٹکادیا۔ امریکہ کو مجاہدین اپنے جذبے سے نانی اماں کی یاد نہ دلاتے تو افغانستان، پاکستان اور اسلامی ممالک کو بڑی مشکل سے دوچار کرتے، قوم جذبہ جہاد سے زندہ رہ سکتی ہے، اداروں کا احترام بھی خوف نہیں بلکہ معروضی حقائق کی بنیاد پر لازم ہے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی سب سے بڑا جہاد ہے۔ قوم کی بیداری کیلئے مظلوم پنجاب کا اٹھنا بھی بہت ضروری ہے۔ بعض طالبان نما افراد سے منظور پشتون کو شکایت ہے لیکن جبتک قوم کے اپنے افراد فوج کیساتھ نہیں ہونگے تو دہشتگروں سے وہ مقابلہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ان کیلئے پہچان ممکن نہیں ہے۔