یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

619
0

ashraf-ghani-tota-mashal-khan-mansoora-lahore-jamiat-ulama-islam-bacha-khan-university-molana-sirajuddin-azan-e-inqalab

آل پختون جرگے کی طرف سے اسلام آباد میں جو خفیہ نعرے لگانے والے تھے جس کی تشہیر زیادہ تر سوشل میڈیا پر ہوئی اور جس کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا نے اس عظیم الشان دھرنے کو دکھانے سے یکسر گریز کیا۔ عوام کے دلوں میں نعرہ یہ تھا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مُلا گردی ہے‘‘ لیکن ایم این اے مولانا جمال الدین محسود اور سینیٹر مولانا صالح شاہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کی نمائندگی کے خوف سے یہ نعرے عوام کے دل ہی دل میں رہ گئے تھے۔
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے مُلا کی کارکردگی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے اہل سیاست کی نامردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے قبائلیوں کی ہمدردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے پختونوں کی سردردی ہے
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے احکام السلطانیہ الماوردی ہے
اگر ہم دہشت گردی کے پیچھے صرف پاکستان کی افواج کا نام لیں تو بڑی زیادتی ہوگی۔ ایک تاجر چین جارہا تھا اور اپنے بچوں سے ان کی خواہشات کا پوچھا ، سب نے اپنی اپنی خواہش بتائی کہ چین سے میرے لئے یہ لانا۔ طوطا بھی بیٹھا دیکھ رہا تھا تو تاجر نے طوطے سے بھی پوچھا ، طوطے نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے، صرف چین کے طوطوں کو یہ پیغام دے دینا کہ تم آزادفضاؤں میں گھوم رہے ہو اور تمہارا ایک طوطاساتھی پنجرے کی سلاخوں میں بند ہے۔
الحبس لیس مذہبی و ان یکن من ذہبی
پنجرہ میرے لئے قابل قبول نہیں ہے اگرچہ وہ سونے کا بنا ہوا ہو۔ یہ شعر ایک پرندے کی فریاد کے طور پر عربی میں بنائی ہوئی نظم میں موجود ہے۔ تاجر نے اپنے بچوں کی خواہشات کے مطابق سب کیلئے الگ الگ چیزیں لیں۔ درختوں پر بیٹھے طوطوں کو دیکھ کر اپنے طوطے کی خواہش بھی یاد آئی۔ طوطے کو پیغام دیا تو ایک طوطا تڑپ کر نیچے گر پڑا ۔ تاجر کو بہت افسوس ہوا ۔ پھر طوطے کو سارا قصہ واپسی پر سنادیا۔ تاجر کا طوطا بھی غش کھاکر کلٹی ہوگیا۔ تاجر نے بہت افسوس کے ساتھ الٹ پھیر کر دیکھا اور پھر گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ طوطا خود کو آزاد پاکر اُڑ کر سامنے والے درخت پر بیٹھ گیا۔ تاجر نے منت سماجت کی کہ واپس آجا لیکن طوطے نے بتایا کہ مجھے چین کے طوطے نے اپنے پیغام میں آزادی کا طریقہ سکھایا۔ کاش ! پختون دھرنے میں لگنے والا نعرہ اشرف غنی تک بھی پہنچے اور وہ امریکی وردی کیخلاف نعرہ لگا کر آزادی حاصل کرلے۔
مشعال خان کے قتل سے بری ہونے والے ملزموں کا استقبال پٹھانوں نے بہت اہتمام کے ساتھ کیا جس میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے مقامی رہنما شامل تھے۔ جبکہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ نے مذمت کرتے ہوئے اپنے مقامی رہنماؤں کو سخت تنبیہ کردی۔ مشعال خان کی بے گناہی کے باوجود جو لوگ اس میں ملوث ہونے سے انکاری تھے تو وہ غازی کیسے بن گئے؟۔ اسکے پیچھے تو کوئی وردی نہیں تھی؟۔ سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کے اندر اگر ایمانی غیرت اور انسانی فطرت ہو تو بیگناہ مشعال خان کے گھر جاکر اعلان کردیں کہ بیگناہ مشعال خان کے والدین ، بہن بھائی ، رشتہ دار اور احباب مُلا گردی کی وجہ سے مصائب کا شکار ہیں جس کی اسلام میں بھی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کارکن درست کررہے ہیں تو پھر خود ہی اپنے کارکنوں کی قیادت بھی کریں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو۔
سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے دہشت گردی کے عروج پر کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا ۔ چھپ چھپا کر تو مولانا معراج الدین شہید نے بھی اس کو غیر ملکی سازش قرار دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جس نے یہاں سے لشکر لے کر طالبان کی حمایت میں سب سے پہلے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ جب شروع میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کوبھی سازش کا کوئی ادراک نہیں تھا اور جب ہوا تو بھی کھل کر نامردی کا مظاہرہ کیا۔ پھر عوام نے بھی یقیناًسازشوں کو سمجھنے میں بڑی دیر لگانی ہی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قبائل نے شروع میں طالبان کو نجات دہندہ سمجھ کر دل و جان سے قبول کیا پھر اس ہمدردی کے نتائج بھی خود ہی بھگت لئے۔ پورے ہندوستان ، پنجاب اور سندھ میں مولوی ایک دوسرے کو کافر اور گستاخ رسول قرار دیتے رہے مگر کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر کسی کالج و یونیورسٹی میں تو دور کی بات ہے کسی مدرسے میں بھی پیش نہیں آیا جو مشعال خان کیساتھ باچاخان یونیورسٹی میں ہوا۔ اسلئے پٹھانوں کو اپنی سردردی کا بہت بغور جائزہ لینا چاہئے۔
کالج اور یونیورسٹیوں میں ہزار سال قبل کی لکھی ہوئی کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں ایک خلیفہ مقرر کرنے کو عالم اسلام پر فرض قرار دیا گیاہے۔ اس فریضے کو جہاں سب سے پہلے چند افراد یا کوئی ایک فرد پورا کرنے کا اعلان کردے تو اس میں لکھا ہے کہ شریعت کی رُو سے پوری دنیا پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ اس امیر المؤمنین کی اطاعت کرے۔ امیر کی تقرری کے بغیر مسلم اُمہ کو جاہلیت کی موت کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ ایک عرصہ مولانافضل الرحمن نے بھی اپنی جماعت پر ان احادیث کو فٹ کرنے کی کوشش جاری رکھی تھی جس کو علماء کے سامنے خطاب میں پیش کرکے آذان انقلاب کے نام سے کتابچہ میں شائع بھی کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن عوام سے اس کی خاطر بندوق اٹھانے کے وعدے بھی لیتے رہتے تھے۔ انتخابی سیاست کو بھی ایک مرحلہ پر خیر باد کہہ دیا تھا۔ جب جمعیت علماء اسلام کے معتبر شوریٰ کو احادیث کی درست تعبیر سمجھ میں نہیں آرہی تھی تو ہم نے ایک کتاب ’’اسلام اور اقتدار‘‘ لکھ دی جس میں مولانا کی غلط فہمیوں کا بہت واضح انداز میں زبردست جواب دیا اور مولانا اس کے بعد اپنی ان جاہلانہ تعبیرات سے رُک بھی گئے۔ جب مُلا عمر امیر المؤمنین کے لقب سے نوازے گئے تو میرے اُستاذ مولانا شیر محمد ؒ امیر JUIکراچی نے مجھ سے کہا کہ مُلا عمر کو امیر المؤمنین مان لو۔ میں نے عرض کیا کہ مُلا عمر خود کو امیر المومنین کہے یا آپ کی جماعت یہ اعلان کردے تو مجھ سے یہ مطالبہ بھی جائز ہوگا لیکن جب وہ خود کو بھی افغانستان تک محدود کرتا ہے اور تم بھی اسکے دائرہ کار کو پاکستان کی حدود میں نہیں مانتے تو مجھ سے یہ مطالبہ درست نہیں۔ جب تک خلافت کا مسئلہ سمجھ کر حل نہ کیا جائے دنیا میں اس کا غلغلہ رہے گا۔