علماء اور حکمرانوں سے خصوصی گزارش

654
0

asif-ali-zardari-nawaz-sharif-maulana-fazlur-rahman-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halala-teen-talaq-triple-talaq(2)

حنفی مسلک کے مدارس دیوبندی بریلوی کا نصابِ تعلیم ایک ہے۔ قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کی بنیادی تعلیم کا محور و مرکز اصولِ فقہ ہے۔ بہت کم لوگ اصولِ فقہ کی دقیق، مغلق اور منطقی زباں کو سمجھتے ہیں، تاہم اصولِ فقہ کی کتابوں کے تراجم ہوچکے ہیں اور ان کو سمجھنے کی دشواری کا معاملہ ختم ہے۔ نصاب کی تبدیلی کی بازگشت ہے مگر چوہوں کی مجلس شوریٰ بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے سے کترارہی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سرکاری پلیٹ فارم سے اس نیک کام کا آغاز ہوگا تو دنیا کی سطح پر خوشیوں کا طوفان اُمنڈ آئیگا۔
امام ابوحنیفہؒ نے اپنا سارا عہدِ شباب علم الکلام کی گمراہی میں گزارا اور پھر توبہ کرکے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ علم الکلام سے اصول فقہ محفوظ نہیں ۔ اصولِ فقہ میں کتاب، سنت، اجماع اور قیاس کے چار اصول ترتیب وار ہیں۔ اللہ کی کتاب سے پانچ سو آیات مراد ہیں جو احکام سے متعلق ہیں،باقی آیات قصص و مواعظ ہیں۔ اگر علماء پانچ سو آیات میں سے غسل، وضو، نکاح، طلاق اوررجوع کے احکام طلبہ کو پڑھاتے تو مسائل کا شکار نہ ہوتے۔ قرآن میں ہے۔ ولا جنباً الا عابریٰ السبیل حتیٰ تغتسل ’’ اور نہ حالتِ جنابت میں نماز کے قریب جاؤ مگر یہ کہ کوئی مسافر ہو،یہاں تک کہ نہالو‘‘۔ اس حکم میں مسافر کیلئے غسل کے بغیر تیمم سے بھی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ اجازت میں حکم فرض نہیں مباح کا درجہ رکھتاہے۔ حضرت عمرؓ نے سفر کے دوران حالت جنابت میں تیمم سے نماز نہیں پڑھی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ آپ نے ٹھیک کیا ہے۔ حضرت عمارؓ نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو نبیﷺ نے فرمایاکہ ہاتھ اور چہرے پر مسح کافی تھا۔ پھر اللہ نے وضو کی تفصیل بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔ ظاہرہے کہ وضو کے مقابلہ میں نہانا ہی اچھی طرح پاک ہونا ہے جس کا پہلے ذکرہے۔ دنیا میں انسان تو کیا چرندے اور پرندے بھی نہانا جانتے ہیں۔ صحابہؓ وضوو غسل کرنا جانتے تھے مگر فضول کے فرائض پر اختلافات سے وہ بے خبر تھے۔ آج مسلمانوں کو پھر قرون اولیٰ کا دور زندہ کرنا ہوگا تو لوگوں کی اصلاح ہوگی۔میرے استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب نے میری ایک کتاب پر حضرت امام مالکؒ کا یہی قول نقل فرمایا ہے۔ اصولِ فقہ کی کتابوں میں قرآن کی غیر معقول تعریف سے ایمان سلامت نہیں رہ سکتاہے۔
المکتوب فی المصاحف، المنقول عنہ نقلا متواترا بلاشبۃ کتاب کی یہ تعریف ہے کہ ’’جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے، نبیﷺ سے متواتر نقل کی گئی ہے، کسی شبہ کے بغیر‘‘۔ یہ تعریف ہوتی تومعاملہ ٹھیک تھا مگر اسکی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ مصاحف میں لکھی سے مراد کتاب نہیں، یہ تو نقوش ہیں جونہ لفظ ہیں اور نہ معنی بلکہ یہاں 7قاریوں کے الگ الگ قرآن مرادہیں۔ اسلئے فقہ کا مسئلہ ہے کہ مصحف پر حلف اٹھانا حلف نہیں ہوتا اور شامی، قاضی خان، صاحب ہدایہ نے لکھ دیا ہے کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ حالانکہ ان بکواسات کا تعلق علم الکلام سے تھا جس سے امام اعظم ؒ نے توبہ کی تھی مگر پھر بھی وہی گمراہی ہے۔ پہلی وحی کاآغاز اقراء اور تعلیم بالقلم سے ہواتھا: والقلم ومایسطرون سے مصحف قرآن کا حلف معتبر ہے اور الذین یکتبون الکتاب بایدیھم سے واضح ہے کہ کتاب لکھی ہوئی چیزکا نام ہے۔
لکھا ہے کہ متواترکی قید سے غیر متواتر آیات نکل گئیں۔ جو قرآن پر اضافہ ہے۔ بلاشبہ سے بسم اللہ کے نکلنے کا ذکر ہے جس سے قرآن بلاشبہ نہیں رہتا۔ حالانکہ علم الکلام کو عمل دخل دینے کے بجائے کتاب کی تعریف میں آیات کا حوالہ دینا تھااور قرآن کی حفاظت میںآیات کا حوالہ دینا تھا جن میں کمی بیشی اور شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ امام شافعیؒ کے ہاں خبرواحد حدیث دلیل ہے مگر مشہورو خبر واحد آیت کا وجود اسلئے نہیں کہ قرآن کی حفاظت پر پھر ایمان باقی نہیں رہتاہے۔ امام شافعیؒ نے اہل اقتدار سے ذلت اٹھائی ، ان پر رافضی کی تہمت لگائی گئی۔ امام ابوحنیفہؒ کوجیل میں زہر دیا اور ائمہ کرام کے نام لیواؤں نے بعد میں مزید غلو سے کام لیاہے۔
بنی امیہ کے دور میں ایک طرف اسلام پھیل گیا تو دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں بعض مسائل میں جبر کی فضاء بنائی گئی، چنانچہ جہری نمازوں میں بسم اللہ پڑھنے کو حضرت علیؓ کی شدت سے منسوب کیا گیا۔ جو جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھتے،وہ حکومت کے غدار سمجھے جاتے۔ اصولِ فقہ میں قرآن کی تعریف سے بسم اللہ کو اسلئے مشکوک بناکر خارج کیا گیا ہے۔ آج دور بدل چکاہے اگر ائمہ مساجد جہری نمازوں میں بسم اللہ جہر سے پڑھنا شروع کریں تو قیامت نہیں بہت بڑا انقلاب آئے گا۔
امام ابوحنیفہؒ سمیت تمام ائمہ کرامؒ نے قرآن کو پہلی ترجیح دی، جس کی وجہ سے وہ احادیث مسترد ہیں جن کی وجہ سے قرآن پر حرف آتا ہے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ جب نبیﷺ کا وصال ہوا، تو 10آیات بڑے آدمی کا دودھ پینے کے حوالہ سے تھیں جن کو بکری نے کھا کر ضائع کردیا۔ اہلحدیث ان روایات کو بھی حدیث سمجھتے ہیں۔ انکے مسلک میں یہ ہے کہ بڑا آدمی اگر عورت کا دودھ چوس کر پی لے تو اس عورت سے وہ پردہ نہ کرے لیکن شادی کرسکتاہے۔اسی طرح وہ بچیوں کا ختنہ بھی مستحسن سمجھتے ہیں
جن احادیث سے قرآن کی تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے ان پر ایمان رکھنے سے قرآن پر ایمان نہیں رہتا ہے۔ مسلمانوں کا یہی اعلان ہے کہ قرآن میں کسی حرف کی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے تو اپنی تعلیمات کا نصاب بھی درست کرنا پڑے گا۔ قرآن میں وضاحت ہے کہ اللہ کے کلام پر باطل آگے سے حملے میں کامیاب ہوسکتاہے نہ پیچھے سے۔ بسم اللہ پرآگے کی طرف سے حملہ ہے، قرآن میں موجود ہے مگر نماز اور نصاب میں معاملہ مشکوک بنایا گیا۔
قرآن کی آخری دو سورتیں الفلق اور الناس کے بارے میں لکھ دیا گیا کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں نہیں رکھا، وہ اس کو قرآن میں داخل نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ پہلے ہاتھ سے قرآن لکھا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف عرصے تک موجود رہا۔ پہلا اور آخری صفحہ پھٹ کر ضائع ہوگئے، جس طرح عام طور سے ہوتا ہے، جس نے دیکھ لیا تو اس نے یہی بات کردی کہ میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کا مصحف دیکھا ، لیکن اس میں سورۂ فاتحہ اور آخری دو سورتیں نہیں تھیں۔ اگرچہ بعض نے یہ بھی لکھاہے کہ ابن مسعودؓسورہ فاتحہ کو بھی نہیں مانتے تھے مگر نماز کے اندر فاتحہ کی شمولیت سے یہ بات آسانی سے ہضم نہیں ہوسکتی تھی اسلئے آخری دو سورتوں پر حملہ کیا گیا تھا کہ حضرت ابن مسعودؓ ان کے منکر تھے۔ العیاذ باللہ، قائداعظم کا جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھایا ۔ تفسیر عثمانی میں بھی حضرت ابن مسعودؓ کی طرف سے ان آخری سورتوں پر شیطانی حملے کا ذکر ہے۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی اس پر تفصیل سے انتہائی نامعقول بحث درج کی ہے۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کو قرآن کے بارے میں اپنی غلط تعلیم کا خاتمہ کرنا ہوگا۔لوگ اسلئے علماء کے علمی معاملات سے دور بھاگتے ہیں کہ ان کو اپنے ایمان کی سلامتی بھی خطرے میں لگنے لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ کی شکایت قرآن میں نقل کی ہے کہ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ ’’ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اللہ نے فرمایا کہ قیامت میں ہرشخص کو اسکے امام (سربراہ) کیساتھ بلایا جائیگا۔ یوم ندعوا کل اناس بامامھم بعض نے مغالطہ کھایا اور سمجھا کہ امہاتھم یعنی ماؤں کیساتھ بلانے کا ذکر ہے۔ چناچہ وہ حدیث بھی گھڑ لی کہ ’’قیامت میں سب کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائیگا لیکن حضرت عمرؓ بڑی غیرت والے ہیں صرف ان کو انکے باپ کے نام سے پکارا جائیگا۔
جب اصول فقہ میں قرآن کی تعریف میں علم الکلام کی گمراہی پڑھائی جائے گی۔ قرآن کے علاوہ بھی قرآن کا تصور پڑھایا جائیگا اور اس میں شک وشبہ کی تعلیم ہوگی تو ایسے قرآن کی طرف کون آئیگا جس سے الٹا انسان کا عقیدہ اور ایمان خراب ہو؟۔
قرآن کی تعریف میں سب سے پہلے قرآن کی آیات کے ذریعے کتاب کا معنیٰ درست کرنا ہوگا، پھر ان آیات کو درج کرنا ہوگا جن میں قرآن کی حفاظت کا ذکر ہے، ان روایات کو درج کرکے مسترد کرنا ہوگا جن سے تحریف کا عقیدہ پیدا ہوتاہے۔ یہ صاف ستھری ذہنیت علماء وطلبہ کو قرآن پر عمل کی طرف راغب کریگی۔ اصول فقہ میں ہے کہ قرآن الفاظ اور معانی دونوں کا نام ہے لیکن پھر امام ابوحنیفہؒ کی طرف یہ منسوب ہے کہ فارسی میں نماز پڑھنا جائز بلکہ افضل ہے۔ ایک طرف فقہ کی تعلیم میں فارسی میں نماز پڑھنے کا جواز لیکن دوسری طرف حضرت شاہ ولی اللہؒ پر فارسی ترجمہ کرنے پر کفر ، مرتد اور واجب القتل کے فتوے لگائے گئے جس کی وجہ سے دوسال تک ان کو روپوش ہونا پڑا۔ پھر جب علماء کو بات سمجھ میں آگئی، شاہ ولی اللہؒ کے بیٹوں نے اردو میں قرآن کے ترجمے کئے۔ علماء نے مختلف زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا تو پنجابیوں اور پٹھانوں کے سنگم پر مشترکہ آبادی میں غرغشتو کے عالم نے پشتو میں قرآن کا ترجمہ کردیا تو ان پر فتوے لگائے گئے کہ پشتو میں ترجمہ کرکے کفر کیا ہے۔
جب علماء کرام کے نصاب میں ایسی تعلیم نہیں ہوگی جو طلبہ میں صلاحیت پیدا کرلے تو نالائق پیدا ہونگے اور کوئی لائق ہوگا تو اس کو بروقت پہچاننا مشکل ہوگا۔یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے مجھ سے پہلے کہا تھا کہ ’’ آپ نصاب مرتب کرلیں تو میں مدراس میں پڑھانے کی ذمہ داری لیتا ہوں مگر مجھے ان کی بات پر یقین نہیں آیااور نہ ان کی اتنی حیثیت تھی اوراسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بن گئے تو طلاق کے مسئلہ پر تفصیل بتائی ، اپنی کتاب پیش کی مگر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ ایک موقع پر مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن اور قاری عثمان بھی تھے تو میں نے قرآن کی تعریف پر اصول فقہ کی تعلیم کا بتایا۔ مولانا عطاء الرحمن بنوری ٹاؤن میں فیل ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے تھے۔ جبکہ میں شروع سے نصاب کی تعلیمات پر جاندار تنقید کرتا تھا۔
درسِ نظامی کی آخری تفسیر بیضاوی تھی جس میں لکھا ہے کہ ’’ الم کی مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بھی کہا گیاہے کہ الف سے اللہ ، لام سے جبریل اور میم سے محمد مراد ہیں۔اللہ نے جبریل کے ذریعے یہ کتاب محمدﷺ پر نازل کی ‘‘۔ میں نے استاذ مولانا شبیر احمد رحیم یار خان سے کہا کہ اس تفسیر میں دو تضاد ہیں۔ پہلا یہ کہ جب صرف اللہ ہی کو پتہ ہے کہ الم سے کیا مراد ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اس سے یہ مراد ہے اور دوسرا یہ کہ الف اللہ کا پہلا حرف اور مم محمد کا پہلا حرف ہے تو جبریل کا بھی پہلا حرف ہونا چاہیے تھا پھر الف جیم میم کیوں نہیں؟۔ استاد نے کہا کہ عتیق کی بات صحیح اور بیضاوی کی تفسیر غلط ہے۔
اصولِ فقہ کی کتاب ’’اصول الشاشی ‘‘ کا پہلا سبق ہے: حتی تنکح زوجاً غیرہ آیت میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے ، لہٰذا جس حدیث میں عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر باطل قرار دیا گیا وہ قرآن کی آیت سے ٹکراتی ہے، اس پر عمل نہیں ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ کا ذکرہے، قرآن و حدیث میں ٹکراؤ نہیں ۔کنواری کا ولی باپ ہوتاہے، شادی کے بعد شوہر سرپرست بنتاہے، طلاق یا شوہرفوت ہو توعورت خود مختار بنتی ہے۔ وزیراعظم نے زیرِ کفالت افراد میں مریم نواز کا ذکر کیا۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیرِ غور ہے۔ ولی اور مولا کے معنی دوست بھی ہیں اور سرپرست و صاحبِ اختیاربھی عورت کا ولی اس کا والد ہوتاہے یا شوہر ۔ اور دونوں کا تعلق منقطع ہوجائے تو پھر اس کو خود مختار کہتے ہیں۔ ولی کے معنی صرف دوست کے نہیں، قرآن میںیہود و نصاریٰ کو اولیاء بنانے سے روکا گیاہے تو اختیار دینا منع کیا گیاہے، دوستی سے نہیں روکا گیا ہے،والمحصنات من اہل الکتاب حل لکم اوراہل کتاب میں پاکدامن خواتین سے شادی کی اجازت ہے۔
یہود ونصاریٰ کی خواتین سے شادی کی اجازت ہے تو بیوی سے بڑھ کر دوستی نہیں ہوسکتی ہے۔ بیوی بچوں کی ماں ہوتی ہے، اس سے دشمنی تو نہیں کی جاسکتی ۔ دہشتگرد اسلئے مسلم حکمرانوں کو اسلام دشمن سمجھتے ہیں کہ ان کی عیسائی حکمرانوں سے دوستی ہے اور یہ انکے نزدیک قرآن سے بغاوت کا درجہ ہے۔ جب ہمارے علماء اور حکمران طبقہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی آگاہ نہ ہو تو اسکے نتیجے میں افراتفری کی فضاء کبھی بھی ختم نہیں ہوگی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ،کوئی پنڈورہ بکس نہیں کھلے گا۔ مشکل کو قابو کرنیکا درست راستہ علم ہے جہالت نہیں۔ حضرت علیؓ میں تمام صلاحیتیں تھیں اور نبیﷺ کے بعد انصار وقریش کی طرح خلافت کے حقدار ہونے کا معاملہ درست تھا۔ نبیﷺ کی چاہت بھی ٹھیک تھی لیکن یہ منشاء الٰہی نہیں تھی۔ پھر خلافت کے علاوہ مساجد، مدارس ، خانقاہوں پر بھی موروثی نظام کے اثرات مرتب ہوئے۔ خلافت راشدہ کو اللہ نے موروثیت کی بیماری سے پاک رکھنا تھا۔ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں، چندہ سے بننے والے ٹرسٹ، مدارس اور سب چیزوں کو عوامی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اب تو پارٹیاں حکومتوں کو بھی اپنی وراثت بنانے میں مشغول ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کے علاوہ دوسرے بھی ریاستی اداروں سے مل کر حکومتی کاروبارپر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عدالت اس وقت نااہل تھی کہ جب آصف علی زرداری کو11سال جیل میں رکھا مگر چوری کا مال بھی نہیں پکڑ ا۔ اب تو اس میں اہلیت آگئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا اور تحقیقات کرکے کرپشن ثابت بھی کی جائے گی اور سزا بھی دی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسا بھی لوگ کرتے ہیں کہ بڑے غبن، چوری اور ڈکیٹی کے بعد کچھ عرصہ جیل جاتے ہیں وہ کاروبار ہی یہ کرتے ہیں۔ عدالت صرف اتنا بھی کرے کہ نوازشریف اور تمام ذمہ دار عہدوں پر رہنے والوں نے باہر اثاثے بنالئے ہوں تو ان کو جائز وناجائز کی بحث سے پہلے اپنی آل اولاد اور دولت سمیت اپنے ملک میں لانے پر مجبور کردے۔
سیاسی کارکن اور سیاسی رہنماؤں کو یہ بھی کر گزرنا ہوگا کہ موروثی قیادت اہلیت بھی رکھتی ہو تو قیادت کسی اور تجربہ کار اور اہل شخص کو سپرد کردی جائے۔ امریکہ میں ایک شخص دو مرتبہ سے زیادہ صدر نہیں بن سکتاہے تو ہمارے ہاں بھی نسل در نسل اس جہالت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ استعداد والے لوگوں کی بہت حق تلفی ہوتی ہے۔ عمران کا ہسپتال بھی موروثی نہیں ٹرسٹی ہونا چاہیے، مدارس پر بھی موروثیت کا قبضہ ختم کرنا ہوگا اور اس بات میں تفریق ضروری ہے کہ جو ذاتی ملکیت ہوتی ہے وہ کیا ہے اور عوام کا چندہ لیکر بنانے والے اداروں کی حیثیت کیاہے؟۔ کسی آدمی نے اپنی زمین پر اپنے پیسوں سے مسجد بنادی توملکیت ختم ہوجاتی ہے، کانیگرم جنوبی وزیرستان میں میرے باپ دادا نے ایسا کیاہے لیکن اس کا اختیار عوام کے پاس ہے۔
جب انسان میں مفاد کا نہیں خدمت کا جذبہ ہوتاہے تو خدمت پر کوئی لڑائی نہیں ہوتی ہے۔ پیپلزپارٹی، ایم کیوایم اور ن لیگ جھاڑو لیکر صفائیاں شروع کردیں پھر دیکھیں کہ اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ اس طرح ایم این اے، سینٹ، ایم پی اے، بلدیاتی اداروں کے کونسلر اور تمام ذمہ دار عہدوں وزیراعظم اور صدر مملکت خدمت کا جذبہ رکھ کر کام کریں تو بہتان تراشی اور اخلاق باختہ گالیوں کی نوبت نہیں آئیگی۔ ماتحت ملازم ڈیوٹی پر مجبور ہوتے ہیں لیکن بڑے گریڈ کے افسروں کو حکومت مجبور نہیں کرسکتی ہے۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بہت اچھے انسان ہونگے مگر جب صوبائی حکومت کا اختیار بھی ہے اور وہ نہیں چاہتی ہے کہ آئی جی کے عہدے پر وہ کام کرے تو آئی جی کواس خدمت کی کرسی پر لات مارنا چاہیے۔ اس سے ان کی ذات اور عہدے کا وقاربھی مجروح ہورہا ہے۔
نوازشریف کیساتھ اگر اسٹیبلشمنٹ کی کوئی لڑائی ہے تو عوامی اختیار کیلئے حکومت سے زیادہ حکومت سے باہر رہ کر جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتاہے۔ عہدے سے چپک جانے میں وہ عزت نہیں جو اس کو ٹھکرانے سے ملتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کو خلافت کی کوئی لالچ نہیں تھی ، ان کا دور بھی بڑے اطمینان سے گزرا۔ امام حسنؓ نے خلافت کی مسند چھوڑی تو اللہ نے عزت سے نوازا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان پیدا ہی خلافت کیلئے کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردے؟۔ انا عرضنا الامانت علی السمٰوٰت واالارض و الجبال فابین ان یحملنہا و اشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کانا ظلوما جہولا ’’بیشک ہم نے امانت کو پیش کیا،آسمانوں زمین اور پہاڑوں پر مگر انہوں نے امانت اٹھانے سے انکار کردیا اور انسان نے امانت اٹھالی، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل تھا‘‘۔ انسان کو مکلف بنایا گیاہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اختیار دیا گیاہے۔ اختیار اس کی جبلت کا حصہ ہے، جتنا اختیار مل جائے اس کو پورا کرنے کیلئے بہت ساروں کی اگر کوئی دم ہوتی تو اٹھائے اٹھائے گھومتے کہ مجھے یہ اختیار چاہیے مگراللہ نے بنی نوع انسان آدم علیہ السلام کی اولاد پر کرم کیا اور عزت سے نوازا ۔ انسان کی عزت اور اختیار اسکے ہاتھ میں ہے اسلئے اللہ نے فرمایا کہ لایکلف اللہ نفس الا وسعہا لہا ماکسبت و علیھا مااکتسبت ’’ اللہ نے کسی نفس کو مکلف نہیں بنایا ہے مگر اسکے دائرے وسعت کے مطابق، پھر وہ اچھا عمل کرتا تو اس کو اجر ملتاہے اور برا عمل کرتاہے تو اس کی سزا بھگت لیتا ہے‘‘۔
اس آیت کا بھی غلط مفہوم نکالا گیا کہ اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ہے۔ حالانکہ اگلے جملے میں دعاہے کہ ہم پرہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا۔ آیات کا غلط مفہوم مرتب کرنے پر ہماری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ غریب و مظلوم طبقے انسانیت کے ظلم وجبر اور تشدد کا شکار بنتے ہیں تو کہا جاتاہے کہ اللہ نے جو بوجھ ڈال دیا ہے اس کو برداشت کرنا چاہیے۔
سابق ایم این اے صدیق کانجو کے بیٹے مصطفی کانجو نے بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو نشے میں دھت ہوکر قتل کیا تو بیوہ نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنی مجبوری بتائی کہ میری بیٹیاں ہیں ان کی عزتوں کو خطرہ ہے اسلئے کیس سے دستبردار ہورہی ہوں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ن لیگ کی حکومت کھڑی ہوجاتی اور بیوہ کو انصاف دلاتی تو مخلوقِ خدا خوش ہوتی، اللہ بھی راضی ہوجاتا۔ تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے اس غریب بیوہ کا ساتھ نہیں دیا۔ طاقتور خاندانوں کے ذریعے جمہوری جماعتوں کو طاقت میں آنا ہوتاہے، اسلئے غریب اور مظلوم عوام بے بسی سے مظالم سہنے کا شکار رہتے ہیں۔
اصول فقہ کی ’’نورالانوار‘‘ میں ثلاثۃ قروء 3ادوار پر ریاضی کی غلط بحث کی گئی ہے۔ عدت کے 3ادوار کا تعلق طلاق کے 3مراحل سے کیسے بنتاہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن عمرؓ پر ناراضگی کا اظہار کیا، اور قرآن میں عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق کے مراحل سمجھائے۔ اگر اس حدیث کو قرآن فہمی کیلئے بنیاد بنایا جاتا تو طلبہ، علماء، عوام کے دماغ کھل جاتے۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اپنے بیٹے کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیکر فرمایا کہ’’ اس کو طلاق کا بھی پتہ نہیں تو خلافت کے امور کیسے چلائے گا‘‘۔علماء ہمیشہ سے نااہلی کا شکار اسی لئے رہے کہ طلاق کے مسئلے میں بھی مار کھاگئے تھے، وزیراعظم کو مریم نواز کے زیرسرپرستی کا پتہ نہ تھا تو کاروبارِ حکومت کیلئے ان کی اہلیت الیکشن کمیشن نے کیسے تسلیم کرلی؟، الیکشن کمیشن کے اس ذمہ دار عملے کوبرطرف کیا جائے تومیرٹ پر بھرتی کرنے کے موقع بھی پیدا ہونگے۔