عورت کی غلامی اور اسلام کا کردار! نادر شاہ۔۔۔ مدیر منتظم ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی

616
0

عورت کو اسلام نے عزت دی۔ زن ،زراور زمین کی فتنہ سامانیوں کے نام پر قوانین بنائے گئے مگر اسلام نے دنیاکو جہالت سے نکالنے میں جو کردار ادا کیا، اسلام من وعن نافذ ہوتا تو آج دنیا کی حالت بدلی ہوتی ۔ اسلام نے زمین کی ملکیت کوجائز اور مزارعت کو سود قرار دیا،اگر عمل ہوتا تو غلامی کا نام ونشان نہ ہوتا۔امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ سب متفق تھے کہ مزارعت جائز نہیں کیونکہ اس پر احادیث صحیحہ کا بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن مسلمان اس سے روگردان ہوگئے، اگر مسلمان اس پر عمل پیرا ہوتے تو کمیونزم اور کیپٹل ازم نہ ہوتا۔ حیلہ ساز فقہاء نے ہردور میں طاقتور طبقے کا ساتھ دیا اور اسلام کا بیڑہ غرق کردیا، شیخ الاسلام نے پھر سودی نظام کو بھی جواز بخش دیا۔ زمین و زر کے مسائل بھی حل کرنے ہونگے لیکن اب زن کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔
زمین کوکرایہ، لیز اور ملکیت پر لیا جاسکتاہے۔اگر متعہ کی حیثیت کرایہ ، نکاح کی لیز ، لونڈی کی ملکیت کا تصور ہوتا تو بھی عوام سمجھ سکتے کہ خواتین کیلئے کیا قوانین ہونگے لیکن عورت کے حوالہ سے بڑی کنفیوژن ہے۔ علماء کا خیال ہے کہ شوہر بیوی کے3 طلاق کا مالک ہے۔ ایک طلاق دی تو2طلاق کی ملکیت باقی ہے ، 3طلاق دی تو شوہر رجوع نہیں کرسکتا، ایک طلاق کے بعدعورت نے دوسری جگہ شادی کی پھر دوسرے نے طلاق دی اور پہلے شوہر کا دوبارہ نکاح ہوا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر نئی تین طلاق کا یا بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا؟۔ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، محدثینِ عظام ؒ ، بعض اکابرصحابہؓ کے نزدیک بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوگا۔ ابن مسعودؓ، ابن عباسؓ،ا بن عمرؓ کے نزدیک دوبارہ پھر 3طلاق کا مالک ہوگا۔ امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ سے امام محمدؒ اور امام زفر ؒ کا اختلاف اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ ایک ضعیف حدیث ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت کا کسی اور شوہر سے نکاح ہوتو دوبارہ نکاح سے پہلا شوہر پہلے بقیہ 2طلاق کا مالک ہوگا۔
اگر نبیﷺ پر کوئی جھوٹ گھڑ سکتا ہے تو باقی لوگوں پر زیادہ جھوٹ گھڑنے کا امکان تھا۔ایک طرف کیسے سمجھا جائے کہ اکابر واصاغر صحابہؓ ، ائمہ مجتہدینؒ ، ومحدثینؒ اور معتبر علمی کتب میں یہ اختلاف بے بنیاد کیسے ہوسکتا ہے؟۔ دوسری طرف یہ بڑا عجیب وغریب معمہ ہے کہ پہلا شوہر ایک طلاق دے اور عورت دوسری شادی کرلے تو پھر بھی پہلا شوہر بقیہ 2 طلاق کا مالک ہوسکتاہے؟ ۔ دنیا میں ایسی ملکیت کا تصور نہیں کہ عورت کو10 شوہر ایک ایک طلاق دیکر فارغ کریں توپھر اس عورت پر دو دوطلاق کی 20 منزلہ عمارت کھڑی ہو؟، یہ عقل ونقل ، فطرت وشریعت اور سائنس وریاضی کے منافی ہے۔ ملاجیونؒ نے نورالانوار میں نقل کیا ۔ ہمارے استاذ قاری مفتاح اللہ صاحب نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میںیہ لطیفہ سنایاتھا کہ ملا جیون ؒ بڑے غصے میں اورنگزیب بادشاہ کے پاس لوٹ گئے، کہا: میرا گھر کسی نے گرا دیا۔ اورنگزیب سمجھ گئے کہ بچوں نے مذاق کیا ہے۔ پوچھا کہ کیسے گرا، ملاجیون نے کہا کہ فلاں گاؤں کے نہر کا پل کوئی کاندھے پر اٹھاکر لے جارہا تھا تو اس کا ایک کونہ گھر پر لگا اور گھر مسمار ہوگیا۔ اورنگزیب نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی آدمی 4 میل دور اتنے بڑے پل کو اٹھاسکے ؟۔ اس نے کہا کہ یہ ممکن نہیں، بادشاہ نے کہا کہ پھر یقین کیوں کرلیا؟، ملاجیون نے کہا مسلمان بچے جھوٹ نہیں بول سکتے، اسلئے یقین کرلیا۔ طلبہ نے بڑا زور دار قہقہہ لگایاکہ ملاجیونؒ کتنے سادہ تھے؟۔ سب لوگ ملا جیونؒ کو بڑا ولی مانتے تھے مگراس کی بیوی مخالف تھی۔ ایک مرتبہ بیگم صاحبہ نے آسمان میں اڑتے ہوئے ایک ولی کو دیکھا تو ملا جیون سے کہا کہ ولی ایسے ہوتے ہیں۔ ملاجیون نے بتایا کہ جس کو اڑتے دیکھا ، وہ میں ہی تو تھا، بیگم نے کہا: اسلئے چوتڑ ٹیڑھا ٹیڑھا کرکے اُڑرہے تھے؟۔
دنیا نے ترقی کرکے سیاروں کو مسخر کیا۔ ہمارے علامہ ’’ بے یدبیضاء ہے پیرانِ حرم کی آستیں‘‘ کا رونا رو ئے۔ کرامات کے نام پر جھوٹے نبی و مہدی کو پڑھا لکھا طبقہ بھی مان گیا۔ نصاب کی اصلاح سے علماء کی فکر درست ہوتی۔ اسلام کا بیڑہ تحریف نے غرق کرکے رکھ دیا۔ اسلام عظیم ، آخری اور انقلابی دین ہے۔ مردہ قوم کو اسلام سے زندہ کرنے میں دیر نہ لگے گی مگر افسوس کہ مذہب و سیاست پر مفاد پرستوں کا قبضہ ہے، عوامی آنکھوں میں جھوٹی شخصیت پرستی کی دھول جھونکی گئی۔ ملا جیونؒ کی اڑن طشتریاں اڑانے کاسلسلہ چل رہاہے، گھر کی تخریب پر یقین سے بڑامعاملہ ملکوں اور قوموں کی تعمیر کا دعویٰ ہے مگرہر لیڈر آتاہے اور اپنی بازیگری دکھاتا ہے اور ہماری قوم بے وقوف بنتی ہے۔
عربی میں مس کے دومعانی ہیں، ایک مباشرت اور دوسرا ہاتھ لگانا۔ قرآن لمس سے مراد مباشرت ہے لیکن فقہ کے بعض ائمہ نے ملاجیونؒ کی طرح ہاتھ لگانا مراد لیا ۔ قرآن میں یہودی علماء کی مثال گدھوں سے دی گئی جنہوں نے کتابیں لادی ہوں۔بخاری میں واضح ہے کہ کتابیں لادنے سے ذمہ داری اٹھانا مراد ہے۔ اسی طرح قرآن میں لایمسہ الا المطھرون ’’ اس کتاب کو نہیں چھوتے مگر پاکیزہ لوگ‘‘سے مراد عمل ہے۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا تھا کہ ’’ دنیا میں موجود قرآن کو ہندو اور ناپاک لوگ چھوسکتے ہیں اسلئے یہ قرآن اصل نہیں بلکہ اس کی فوٹو کاپی ہے، اصل قرآن لوح محفوظ میں ہے‘‘۔
درسِ نظامی میں ہے کہ’’ قرآن تحریری شکل میں نہیں، کیونکہ تحریرنقش ہے جو نہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ‘‘ اسلئے بڑے بڑوں نے سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز کہا ہے۔ جو لوگ ذرا زیادہ سمجھدار تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’’لایمسہ الا مطہرون سے ثابت ہوتاہے کہ ہاتھ سے چھونا ممکن ہے اور یہ تحریری شکل میں ہی ہوسکتاہے‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے دور میں بادشاہ اپنے باپ کی لونڈی سے ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہتا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ نے اس کی اجازت نہیں دی، فرمایا کہ نکاح سے مراد عورت کیساتھ لمس ہے، یہ لونڈی اسکے بیٹے کیلئے جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ جن نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر جیل میں قتل ہوئے وہ معلوم تھے مگر کوئی زباں نہ کھول سکتا تھا۔ ابویوسف کو قاضی القضاۃ کا عہدہ اسلئے ملا کہ بادشاہ کیلئے ناجائز لونڈی کو جائز قرار دیا اور اس سے بڑی بات موجودہ دور کے شیخ الاسلام نے کی کہ سودی نظام کو معاوضہ لیکرجائز کردیا۔فقہاء نے ایک طرف حنفی فقہ میں حرمت مصاہرت کے عجیب وغریب مسائل گھڑ دئیے اور دوسری طرف ابویوسف کیخلاف لکھنے پر مصر کے بازاروں میں امام غزالی کی کتابیں جلاڈالیں۔ امام غزالیؒ نے فقہ کی گمراہی سے نکل کر تصوف کا رخ کیا اور اسے کتابی شکل میں بھی اسی نام سے شائع کردیا ۔
اگر تاریخ وفقہ کے وسیع تناظر میں کہا جائے کہ عورت لونڈی ہو تو وہ موروثی جائیداد اور بیوی ہوتو لیززمین اور متعہ کی مثال کرایہ کے گھر کی طرح ہے تو بھی عوام کو کچھ نہ کچھ بات سمجھ میں آئیگی۔ موروثی زمین کی خرید وفروخت ہوتی ہے اور اس میں وراثت کا تصور ہوتاہے، لیز زمین کی ملکیت نہیں ہوتی البتہ فائدہ اٹھا یا جاتاہے، کرایہ وقتی بات ہوتی ہے۔ اسلام نے بہت بڑا اور بنیادی کارنامہ یہ انجام دیا تھا کہ لونڈی کی ملکیت کا بھی تصور بالکل ختم کرکے اسے ماملکت ایمانکم میں بدل ڈالا۔عربی میں ملکت فعل ہے اور ایمانکم اسکا فاعل ہے۔ یمین اصل میں دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں، کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے تو اس میں دایاں ہاتھ ہی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں ہاتھ بھی مؤنث ہے۔ یمین کی جمع اَیمان ہے۔آیت کے جملے کا لفظی ترجمہ یہ بنتاہے کہ ’’جسکے مالک تمہارے معاہدے ہوں‘‘۔ معاہدہ پر حقیقی ملکیت کا تصور ناممکن ہے۔ غلام اور لونڈی کی حقیقی ملکیت کا تصور اسلام نے ختم کیا۔ جسطرح جانور، مکان ، جائیداد اور سونے چاندی کی ملکیت ہے اسطرح کی ملکیت کا تصور معاہدے کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔ ملکی سطح پر معاہدہ ہو تو اس پر ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے، کاروباری شریک و قومی حلیف پر بھی ملکت ایمانکم کا اطلاق ہوسکتاہے۔
کوئی غلام یا لونڈی خریدے تو مخصوص رقم کی بنیاد پر معاہدے کا مالک بنتاہے مگر انسان کا جانور کی طرح مالک نہیں بن سکتا ۔ جانور کی ذبح پر پابندی نہیں مگر لونڈی وغلام کو قتل کا حق نہیں۔ غلام یا لونڈی کو دس لاکھ میں گروی رکھا گیا، جب دوسرا شخص اس کو آزادی دلانا چاہے تو معاہدے کا مالک اس کی روک تھام کیلئے کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔
لونڈی کا دوسرے شخص سے نکاح ہو تو مباشرت کا حق صرف شوہرکو ہوگاپھر ملکت ایمانکم کی نسبت شوہر کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ یہ بڑی انقلابی تبدیلی تھی کہ اسلام نے انسانوں کو غلامی کے نظام سے نکال کر گروی حیثیت دی، آج بھٹہ مالکان مزدور کو گروی رکھتے ہیں اور جاگیردار مزارعین کو گروی رکھتا ہے اور یہ بھی گردنوں کی غلامی ہے۔ اسلام نے رقم کے بدلے قرض کی زیادتی کو سود قرار دیا، اس سے بڑھ کر انسانوں کو گروی رکھنے کی اجازت نہ دی۔
ابن حجر مکیؒ نے نبیﷺ کی28ازواجؓ کا ذکر کیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے 27کے نام نقل کرکے لکھا کہ ’’ ایک کا نام لکھنے کا وعدہ علامہ ابن حجرؒ نے پورا نہیں کیا‘‘۔ ان ازواجؓ میں حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کا بھی ذکر ہے۔ فتح مکہ کے بعد علیؓ نے اسکے شوہر کوقتل کرنا چاہاتو رسول اللہﷺ نے ان کی فرمائش پر اسکے مشرک شوہر کو پناہ دی مگر اسکا شوہر اسے چھوڑ کر گیا،پھر نبیﷺ نے ام ہانیؓ کو نکاح کی دعوت دی مگر اس نے معذرت کی۔ پھر اللہ نے آیات اتاریں کہ ’’ہم نے اے نبی تیرے لئے ان چچازاد و خالہ زاد کو حلال کیا، جنہوں نے آپکے ساتھ ہجرت کی‘‘۔ پھر حکم دیا کہ آج کے بعدآپ کو کسی سے نکاح نہیں کرنا چاہے کسی کا حسن آپ کو بھلا لگے اور نہ ایک کے بدلے دوسری کرنی ہے۔ الاماملکت یمینک ’’مگر جو تیرے لئے معاہدہ والی ہو‘‘۔ اس سے مراد لونڈی اور متعہ ہوسکتا ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبیﷺ چاہتے تو مفتوحہ خواتین کو لونڈی بناتے مگر آپﷺ نے سب کو آزاد کہا، البتہ متعہ کی اجازت دی۔ دشمنوں سے یہ حسنِ سلوک بہت بڑے عالمگیر انقلاب کا ذریعہ بن گیا۔ اُم ہانیؓ کو لونڈی بنانا ناپسندیدہ تھا تو دوسری خواتین کو بھی برابری کی عزت ملی۔
یہ مثالی کیس تھا، نبیﷺ کو نکاح سے روکا گیامگر متعہ کی اجازت ملی ،علیؓ نے اسلئے کہا کہ ’’ اگر عمرؓ متعہ پر پابندی نہ لگاتا تو قیامت تک کوئی زنا نہ کرتا مگر بد بخت‘‘۔ عوام نے متعہ کے نام پر حدود سے تجاوز کیا۔ کبھی اولاد سے انکار، کبھی کم سن بچی سے زیادتی کو متعہ کا نام دیا تو پھر حضرت عمرؓ نے پابندی لگادی۔ روایات میں یہ ہے کہ رسول ﷺ نے دو مرتبہ متعہ کی اجازت اور دومرتبہ پابندی لگادی۔
اگر امریکہ ومغرب میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو جو عمران خان کی طرح اپنی بیٹی ٹیرن سیتاوائٹ سے انکار کردیتے اور عورتوں کو عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا اور پھر اس وقت DNA ٹیسٹ سے تصدیق یا تردید بھی ممکن نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ امریکہ وبرطانیہ اور تمام ترقی یافتہ ممالک بھی یہ پابندی اسلئے لگادیتے کہ انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ کوئی بچی یا بچہ اپنے باپ اور شناخت سے محروم ہو تو انسانی حقوق کی اس سے زیادہ خلاف ورزی کیا ہوگی؟ برطانیہ کو جانوروں کے نسل کا بھی ریکارڈ رکھنا ہوتا ہے ۔ جمائمانے ہوسکتاہے کہ عمران کو سمجھایا بھی ہو کہ انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزی ٹھیک نہیں کہ لڑکی باپ کی شناخت کا حق بھی کھودے۔ بشریٰ بی بی عمران خان کی روحانی مرشد ہے توگزشتہ کل زن مرید کی بیگم ریحام تھی پہلے جمائما نے عمران خان کو انسانیت سکھائی تھی، ان منازل سے گزر کر عمران خان کا دعویٰ ہے کہ بڑے لیڈر بن گئے۔
سعودیہ نے مسیار کے نام پر متعہ کی اجازت دی لیکن پہلے یہ اجازت نہ تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ اور سعودیہ کا یہ اقدام درست ہے یا غلط کہ متعہ سے روکا جائے یا اس کی اجازت دی جائے؟۔اسلام کے عظیم دین کو فقہ کے نام پر جس گرداب کا شکار کیا گیا، اس کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانا ثریا سے علم ، دین اور ایمان کو واپس لوٹانے کے مترادف ہے۔ شرعی و اجتہادی احکام میں بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔شرعی حکم دائمی ہوتا ہے اور اجتہادی حکم وقتی ہوتا ہے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواء ؑ کو اجتہادی حکم کے تحت جنت میں شجرۂ نسب کے درخت کے قریب جانے سے روکا گیا، کوئی اور ایسا درخت نہیں ہوسکتا کہ جسکے قریب جانے اور ذائقہ چکھنے سے کوئی بھوکا اور ننگا ہوجائے لیکن اپنی جنسی خواہش سے بے بس ہوگئے ، بے قابو ہوکر حکم کی خلاف ورزی کردی ۔ پھر اسکے نتیجے میں قابیل کی پیدائش ہوئی، جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا ۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکینِ مکہ سے نکاح کو اجتہادی حکم ہی سے منع کیا تھااسلئے انکے مقابلے میں لونڈی مؤمنہ اور غلام مؤمن سے نکاح کرنے کو زیادہ بہتر قرار دیا تھا۔ مہاجرینؓ کے قریبی رشتہ دار کزن وغیرہ کا تعلق مشرکینِ مکہ سے تھا۔ رشتہ کے معاملہ میں عزیز واقارب کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اللہ نے شرعی بنیاد پر یہ حکم نہ دیا تھا۔ عیسائی تثلیث کا عقیدہ رکھتے، یہودی عزیرؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے تو اللہ نے فرمایا: والمحصنٰت من اہل الکتٰب حل لکم’’اور اہل کتاب کی پاکدامن خواتین تمہارے لئے حلال ہیں‘‘۔ مشرکوں سے نکاح ناجائز نہیں بلکہ مصلحت سے منع تھا،یہ شرعی نہیں اجتہادی حکم تھا، شرعی حکم ہوتا تو اہل کتاب سے بھی نکاح جائز نہ ہوتا۔وہ بھی تو شرکیہ عقیدہ رکھتے تھے۔
شرک میں اہل کتاب اور مشرکین برابر تھے، اللہ نے اہل کتاب اور مشرکینِ مکہ میں فرق روا رکھا تو کردار کو بھی اہمیت دی، چناچہ واضح فرمایاکہ ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام ہے‘‘۔ شوہر پاک کردار کا مالک ہو تو عورت بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور شوہر داغی ہوتو عورت بھی باغی ہوگی۔ خبیث مردوں کیلئے خبیث عورتیں اور خبیث عورتوں کیلئے خبیث مردوں کا ذکر قرآن میں ہے لیکن اسکا تعلق عقیدے سے نہیں کردار سے ہے۔
جب مسلمان سپر طاقت بن گئے اور یہودونصاریٰ کی خواتین مسلمانوں کو نکاح کیلئے ترجیح دیتی تھیں لیکن حضرت عمرؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ مسلم خواتین بے نکاح رہیں گی تو اہل کتاب سے نکاح پر پابندی لگائی۔ یہ اجتہادی پابندی مصلحت تھی مگرا بن عمرؓنے علت نکالی کہ ’’ یہ شرعاً ممنوع ہے اسلئے کہ تثلیث کے عقیدے سے بڑا شرک کیا ہوسکتا ہے‘‘۔ اجتہاد ی غلطی کو سمجھناباریک تھا مگر ابن عمرؓ سے کسی نے اتفاق نہیں کیا اسلئے کہ قرآن کی نص موجود تھی، حضرت علیؓ نے ہجرت نہ کرنیوالی بہن کے شوہر کو قتل کرنا تھا لیکن نبیﷺ نے بچالیا۔ اللہ نے قرآن میں ہجرت کرنیوالی کیلئے فرمایا جو شوہروں کو چھوڑ چکی تھیں کہ ’’ان کو واپس نہ لوٹاؤ، یہ ان کیلئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں‘‘۔ نبیﷺ نے خولہؓ کو ظہار کا فتویٰ دیا تو اللہ نے سورۂ مجادلہ میں اس کی تصحیح کی تھی۔ اولی الامر سے اختلاف کی اجازت اورمشورہ اللہ نے صحابہؓ اور نبیﷺ کے ذریعے سمجھایا جو رہتی دنیا تک کیلئے بہترین نمونہ ہے۔انفرادی سیرت اہم ہے مگر سیرت طیبہ کا اجتماعی پہلو ہی درحقیقت دنیا کے مردہ لوگوں میں زندگی کی روح پھونکنے کیلئے زیادہ اہم ہے۔ نبیﷺ کو سورج ڈھلنے سے رات کی تاریکی ، نصف ، تہائی اور رات کے کم وبیش حصے میں عبادت کا حکم تھا مگر عوام پنج وقتہ نماز کی پابندی بھی کریں تو بڑی بات ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کے دور میں غلامی کو ختم کرنا ممکن نہ تھا تو اللہ نے حضرت حاجرہؓ کو وادی غیرذی زرعہ مکہ میں چھوڑنے کا حکم دیا، جبکہ نبیﷺ کے ذریعے اللہ نے غلامی کا نظام ختم کرنا تھا اسلئے جب ازواج کی رضا کیلئے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہؓ کو حرام کہا تو اللہ نے سورۂ تحریم نازل کی۔ اللہ نے لونڈی کیلئے فرمایا کہ ’’جس چیز کو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ، اسے کیوں حرام کرتے ہو؟‘‘ ،نبیﷺ نے متعہ کیلئے آیت کا حوالہ دیا : لاتحرموا ما احل لکم من الطیبات ’’جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا، اسے اپنے اوپر حرام مت قرار دو‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم)
لونڈی سے کسی اور کا نکاح کرایا جاسکتا تھا اسلئے کہ حکم تھا کہ’’ نیک لونڈیوں کا نکاح کراؤ‘‘ اور یہ کہ ’’ آزاد میسر نہ ہو تو لونڈی سے اسکے مالک کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ قرآن کو احادیث کی روشنی میں دیکھیں گے تو مسائل کا حل خود بخود نکل آئیگا۔ جن خواتین کے شوہر گم ہوں یا جنکے شوہر فوت ہوں اور ان کو سرکاری مراعات ملتی ہوں تو ان کیلئے والمحصنٰت من النساء الاما ملکت ایمانکم کے تحت ایگریمنٹ کی اجازت ہوگی اور جب انکا شوہر واپس آجائے تو پہلے سے تعلق بحال ہوگا اور ایگریمنٹ کا نکاح متعہ ہو توسرکاری مراعات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ فوجی جوانوں اورسرکاری افسران کی بیگمات کیلئے یہ مسئلہ ہے کہ اپنے شہید شوہر یا گم شدہ شوہروں کے بعدزندگی بھر جنسی تعلق سے محروم ہوں، بے راہروی اختیار کریں ، مراعات کی قربانی دیںیا بے راہ روی کا شکار ہوں؟۔
اسلام عظیم دین ہے اور بلاشبہ اس میں دنیا کے تمام سماجی، اقتصادی، تہذیبی، معاشرتی اور انسانی مسائل کا حل موجود ہے، افسوس کہ قرآن پر تدبر نہیں کیا گیا۔بڑی موٹی بات تھی کہ قرآن نے طلاق کیلئے عدت رکھی اور عدت میں باہمی صلح کی بنیاد پر رجوع کی اجازت دی۔ بار بار عدت میں اور عدت کی تکمیل اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی صلح سے رجوع کی اجازت دی مگر صلح کا معاملہ نصاب سے نکال دیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اسلئے اکٹھی تین طلاق پر فیصلہ دیا کہ قرآن کا تقاضہ تھا۔ ائمہ اربعہ نے اپنے فتوے سے فیصلے کی درست توثیق کی۔ یہ فیصلہ و فتویٰ قرآن کی روح کا تقاضہ تھا مگر بعد والوں نے قرآن کی روح کے بالکل برعکس باہمی رضا سے رجوع پر پابندی لگاکر اسلامی کی فطری تعلیمات کے چہرے پربڑی کالک مل دی۔
ترقی یافتہ ممالک میں لوگ قانونی سختیوں سے بچنے کا راستہ یہ ڈھونڈلیتے ہیں کہ نکاح کے بجائے گرلز وبوائے فرینڈز رکھ لیتے ہیں۔ سیتاوائٹ کی بچی سے انکار کی طرح واقعہ ہوتا ہے تو عدالت کا رخ کیا جاتاہے۔ اسلام کی بات واضح کی جاتی تو نکاح کیلئے مخصوص حق مہر اور وقتی نکاح میں ایگریمنٹ کا قانونی جواز بہت سی برائیوں کا خاتمہ کردیتا، بیک وقت کئی افراد سے لڑکی کاتعلق عمران خان جیسے کو بھی انکار اور عدالت تک بات پہنچانے پر مجبور کردیتا ہے۔