بیت المقدس کو یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کا مشترکہ مرکز بنایا جائے. فیروز چھیپا

422
0

baitul-muqaddas-ko-yahoodi-o-nasara-aur-muslims-ka-mushtarka-markaz-banaya-jae-Feroz-chhipa

نوشتۂ دیوار کے مالیاتی امور کے منتظم اعلیٰ محمد فیروز چھیپا نے اپنے بیان میں کہاہے کہ یہ موقع ہے کہ عالم اسلام اور عالم انسانیت اپنے اندر امن وسلامتی کی فضاء قائم کرے، امریکہ نے ایک طرف اسرائیل کی حمایت میں دنیا کا امن خطرے میں ڈالاہے تو دوسری طرف وہ افغانستان میں منشیات اور دہشتگردی کی فضاء قائم کرکے پاکستان ، ایران اور بھارت کو تباہ کرنے کے درپے ہے،اسلام کا نام لینے والا جہادی طبقہ افغانستان یا وزیرستان سے بیت المقدس تک امن مارچ کا علان کرے۔ مسجدِ اقصیٰ کو گرانے و ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے دنیا کا امن تباہ ہوگا۔ عتیق گیلانی کی تقایر ویڈیو کے ذریعے عام ہونگی تو دنیا کا نقشہ بدلے گا۔ جمعہ کو مسلمان،ہفتہ کو یہودی اور اتوار کو عیسائی ہی بیت المقدس میں عبادت کریں تو سب سازش ناکام ہوگی۔ فلسطین کی حمایت کرنیوالا طبقہ بیت المقدس میں اپنے سفارت خانے کھول دے اور مسلمانوں کے امن مارچ کا حصہ بن جائے تو امن بحال ہوجائیگاجامع مسجد نور جوبلی میں بریلوی مکتبۂ فکر کے مولانا شفیع اکاڑوی ؒ خطیب وامام ہوتے تھے۔ حاجی محمد عثمانؒ کے بیان کی وجہ سے وہاں دیوبندی بریلوی اتحاد کی فضا تھی۔ پھر دونوں میں پھڈہ شروع ہوا، حکومت کی مداخلت سے اب دیوبندی جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں اور بریلوی جمعہ کے بعد صلواۃ وسلام پڑھتے ہیں۔ مولانا اکاڑوی گلزارِ حبیب سولجزبازار منتقل ہوگئے تھے جو دعوتِ اسلامی کا پہلا مرکز تھا، پھر فیضانِ مدینہ کے نام سے مرکز پرانی سبزی منڈی کراچی منتقل ہوا۔ پاکستان میں ایسی فضاء کی ضرورت ہے کہ عبادتگاہوں پر قبضے کرنے کی مہم جوئی ختم ہو، اور دنیا بھر میں بھی عبادتگاہوں کا تصور تجارتگاہوں و سیاسی مقاصد کیلئے نہ ہو۔ مساجد کو دوسرے مکاتبِ فکر والے رونق بخشنے کیلئے آزاد ہوں۔ قرآن وسنت اور شریعت وطریقت کے سلسلے آباد رہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی امریکہ کی طرح ایک اسٹیج سے عوام کو دعوتِ خطاب دینے کا اہتمام کیا جائے تو سیاست نکھر ے گی اور دین کو بھی تفرقوں سے پاک کرنے کی راہ ڈھونڈی جائے۔
مذہب اور جہاد کاروبار بن جائے تو دنیا میں کبھی امن نہیں آسکتاہے۔ بیت المقدس تمام انسانیت کیلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمان، یہود اور نصاریٰ اس میں عبادت کا آغاز کرینگے اور دنیا بھر سے لوگ زیارت کیلئے آئیں تومذہبی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔پھر دنیا بھر میں ریاستوں پر بیٹھے قصائی نما ظالم اور جابر حکمرانوں کے ہاتھوں سے بھی کھیل خود بخود نکلے گا۔ یہ کونسی بات ہے کہ اسرائیل نے اپنا پارلیمنٹ تل ابیب میں نہیں بیت المقدس میں بنایا ہے، امریکہ نے وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا ہے تو ایک دن ترکی بھی اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کردیگا۔ ترکی کو امریکہ سے پہلے اپنا سفارت خانہ وہاں اسلئے منتقل کرنا چاہیے تھا کہ فلسطینیوں کی مدد ہوسکتی تھی،وہ اسرائیل کو تسلیم کرچکا ہے تو فلسطین کی مددکیا صرف قراردادوں سے ہوسکتی ہے؟۔ جب ہم عیسائیوں کو اپنے ساتھ شریک کرینگے تو فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔ یورپ یونین، برطانیہ اور عیسائی دنیا کے پاس طاقت ہونے کے باوجود اپنے مرکز بیت المقدس کیلئے وہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر مسلمانوں کو استعمال کررہے ہیں مگر مسلمانوں کے پاس حکمت عملی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔