عمران خان کے برگشتہ ساتھی بیت اللہ بیٹنی کا تہلکہ خیز ویڈیو بیان

بیت اللہ بیٹنی کا ویڈیو پیغام، عمران خان کے برگشتہ ساتھی کا تہلکہ خیز بیان پہلے پی ٹی آئی کا دوپٹہ اپنے گلے میں ڈالا تھا

السلام علیکم خوش آباد رہو۔ پی ٹی ایم کے ساتھیو! موجودہ پروپیگنڈہ میں آپ کو بیدار ہونا چاہیے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ علماء خاموش ہیں، فتویٰ نہیں دے رہے۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو فتویٰ جاری کرنا چاہیے کہ جہاد ہوگا۔ Retreat (پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے) نہ کرنا چاہیے، اسلام میں Retreat نہیں، انکے فتوے افغانستان کے جہاد میں پشتونوں کو لیجانے ہیں۔ انکا فتویٰ ہے کہ تورخم کو بند کرنا جائز ہے۔ یہ فتویٰ نہیں ہوتا کہ انڈیا سے ہم لڑینگے۔ فتویٰ ہوتا ہے کہ وزیرستان کے معصوموں کیلئے دعا ناجائز ہے اور یہ ذکر کہ وہاں مائن لگے ہیں یہ ناجائز ہے۔ مولانا مسعود اظہر نے سخت زبان استعمال کی ہمارے عظیم لیڈر منظور، پشتونوں، ولی خان ،ہم کامریڈز کے بارے میں۔ ہم نے خود کو بیچنا نہیں ۔ پشتونو! خود کو نہ بیچو!۔ اس دور میں آپ کو پھر کوئی ایندھن نہ بنائے۔ ہم ضرور ساتھ دینگے مگر دیکھیں گے یہ لڑتے یا نہیں؟۔ اربوں روپے دفاع پر خرچ مگرآؤٹ پٹ نہیں۔ وہ ہمیں یا ہم ان کو قبضہ کریں لیکن ضرور کریں۔ اتنا بڑا بجٹ، ٹینک، میزائل، توپیں ، طالبان اور مجاہدین بنانا،اُ دھر سے انہوں نے بھی بنائے، آخر ان کا استعمال ہونا چاہیے۔ ہم امن کی بات کریں تو ہمارا امن ان کو پسند نہیں آتا۔ خیبر ٹی وی پر ہمارے مشر بولتے ہیں تو امن والوں کو یہ چھوڑتے نہیں تو جنگ میں جاؤ ۔ جتنا غصہ افغان باونڈری پر آتا ہے اتنا غصہ ادھر بھی دکھانا پڑیگا ورنہ ہم کہیں گے کہ تم ادھر بھی پشتون اور اُدھر بھی پشتون کو مروا رہے ہو۔ دیکھو اُدھر سے انکا پنجابی بھائی پیدا ہوا، جنہوں نے سب سے زیادہ پاکستان کی مخالفت کی، مسلمانوں کو قتل کیا لیکن یہ پھر بھائی بنتے ہیں۔ واہگہ بند نہ کیا مگر طورخم ، چمن کو بند کرتے ہیں۔ وزیرستان کی راہ بند کردیتے ہیں۔ یہاں کارڈ تھا وہ دیکھتے تھے تاکہ لگے کہ ہم فلسطینی اسرائیل میں جاتے ہیں، اپنے ملک میں۔ ان کو تو آزادی ہم نے دلوائی تھی۔ ان مولویوں کی آواز آنی چاہیے فیس بک میں میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔ جتنے بھی پشتون ہیں پھر نہ کہیں ہم میں لیڈر نہ تھے یا خبردار نہ کیا، لڑائی ضرور ہوگی، میری Prediction (پیشگوئی) کبھی غلط نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ پوری دنیا اس میں کوشش کریگی۔ یہ لڑائی کوئی نہیں روک سکتا۔ ابھی غزوہ ہند کا موقع آگیا۔ آگے بڑھنا چاہے مگر چھپ رہے ہیں، مولانا مسعود اظہر کو فرنٹ لائن پر بھیجنا چاہیے، انکے بچوں کو بھی لیجانا چاہیے، اگریہ چلے گئے تو میں آؤں گا کیونکہ ابھی شوق پیدا ہوگیا۔ اگر یہ نہیں جاتے تو ہم سمجھیں گے کہ پشتونوں کو مروانے کیلئے اسلام کا استعمال ہے، یہ لبادہ ہے اور ہم کو چکی میں پسوارہے ہیں۔ ہماری ترقی، معیشت ، ہر چیز پر ۔۔۔ اور ہم اتنا بڑا بجٹ تیار کرتے ہیں۔ روز روز کا معاملہ لازم فائنل ہونا چاہیے۔ ہم نے تو بال سفید کئے، آنیوالی نسلیں اچھی رہ سکیں ،پشتونوں کا خون اتنا ارذاں نہیں کہ پی ٹی ایم کو نیچے کردیگا اور پی ٹی ایم ختم ہو گی۔ پی ٹی ایم ہی مستقبل ہے۔ ہم وہ نہیں کہ لیٹ جائیں۔ چند جرنیل پالیسی بنائیں اور ہم پر مسلط کریں؟۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو ،پالیسی بنے تو ٹھیک ہے۔پورے پاکستان کا دماغ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہے، بارہویں پاس یا نالائق جرنیلوں کی پالیسی سے گھٹن ہو رہی ہے۔اُدھرمشرف بیٹھا ہے اور جنرل راحیل اِدھر سلام نہیں دیتا، عربوں کوسیلیوٹ مارتا ہے۔ ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں انہی کا ہاتھ ہے۔ جرنیلوں کا ہاتھ ہے۔ جنرل ضیاء ، جنرل ایوب کا ہاتھ ہے، سویلین کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہیں، دعویٰ ہے کہ اگر ہم نہ ہوں تو سیاستدان پاکستان توڑ دینگے۔ اگر اتنی فکر ہے تو ملک کو سیاستدانوں نے بنایا، جرنیلوں نے نہیں بنایا، ابھی باری آئی تو یہ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کا نقصان ہوگا، لڑائی میں تو نقصان ہوتا ہے۔ جہاد کا فلسفہ یہی ہے کہ مرینگے یا مار ینگے۔ یہ جو فلسفہ آپ نے تیار کیا، پشتونوں کیخلاف 70سال استعمال کرکے استحصال کیا اور ابھی آپ کرانا چاہتے ہو۔ ابھی ادھر پتہ نہیں کس کس کو اسلحہ دیا اور کس کس معصوم پشتون کو ذلیل کروارہے ہو۔ کل تو ایک ترکستان بیٹنی تھا وہ مسلمان ہوگیا۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ سب کو یہ دن دکھائے۔ ترکستان بیٹنی! میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ نے مجھے بھی مارا ہوتا اور مجھ سے پوچھتے کہ آپ ابھی مسلمان ہوگئے تو میں کہتا ٹھیک کیا آپ نے۔ انسان غلطی کرتا ہے۔ ابھی وقت ہے صحیح راہ پر آنے کیلئے۔ تمام گل خانوں کو کہتا ہوں کہ صحیح راہ پر آجاؤ، اپنی حیثیت منواؤ کہ تم پشتون ہو، تمہارے ساتھ پراکسی کھیلی جاتی ہے اور آئین ہے، آئین کو مسخ کرکے قبائل پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ انتہا ئی ظالم ہیں۔ چند کو FC میں بھرتی کرکے پشتونوں کا سارا مال اُدھر خرچ کرتے ہیں۔ پوری زندگی پڑھایا کہ ادھر جہاد ہوگا، غزوہ ہند ہوگا اور موقع آتا ہے تو فتویٰ نہیں جاری کرتے۔ عجیب تماشہ ہے ڈھول بجا بجا کر شادی کا ٹائم آتا ہے تو نکاح نہیں پڑھاتے۔ فتویٰ دیا کہ افغانستان میں جہاد ہے اور دنیا کے مسلمانوں نے کہا کہ نہیں بھائی بھائی قتل ہورہے ہیں اور ملک کے سارے چیدہ چیدہ علماء نے کہا، حالانکہ محمد خان شیرانی اور بہرام خان بھی ہے اس طرح کے علماء کو ہم نہیں کہتے۔۔۔ اچھے بہت اعلیٰ، نمبر ون علماء کو جانتا ہوں۔ وہ دیکھو کوئی ہسپتال میں داخل، کوئی ادھر بیمار ہے، کوئی ادھر چھپ رہا ہے، جس نے دعوے کئے، اب آگے بڑھیں۔ یہ ادھر منظور کی آئی ڈی کو ہیک کرتے ہیں کہ منظور کو خیبر ٹی وی پر نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہمیں زندگی دی۔ یہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ گل خانوں کو تھوڑا سوچنا چاہیے۔ ہم ان کیلئے کام کررہے ہیں بنگلہ دیش کدھر پہنچ گیا دیکھ لو۔ اس کی معیشت کتنی مضبوط ہے۔ فوج نے ہمیں ہر لحاظ ، ہر سوچ کیساتھ دلدل میں پھنسایا۔ آپ کو سمجھ نہیں آرہی ہے بیوقوف کی طرح ہم انکے پیچھے جائیں۔ یہ ہمیں پالیسی بناکر دیں۔ ہمارے ذہین شخص بھٹو کو نہ چھوڑا، فاطمہ جناح کو نہ چھوڑا، قائد اعظم کو 1935کے قانون پر عمل نہ کرنے دیا، شیخ مجیب کو حکومت کرنے نہ دی، پانچ فٹ چھ انچ کا قد رکھ کر بنگالیوں کو فوج سے آؤٹ کیا، 1947سے لیکر1971 تک انتخابات نہ کرائے۔ انڈیا کو تین دریا دئیے۔ کشمیر میں 1948میں لڑنے سے انکار کیا ۔ امریکہ سے پیسے لیکرافغانستان میں روس کیخلاف نقلی جہاد لڑا ۔ یہ کرایہ دارہیں۔ ابھی موقع ہے یہ Retreat کررہے ہیں۔ مجھے بتائیں کیا کروں بٹن نہیں دبا سکتے؟ میں دباتا ہوں ٹریگر، مجھے لیجاؤ۔ مار دونگا فائر مگر اسٹارٹ کرنا ہے۔ آپ کو سب دیکھ رہے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ زیادہ ہیں وہ طاقتور ہیں ہم کم ہیں۔ حضور ﷺ کے جہاد 3 سو ہوتے، وہ3 ہزار ہوتے۔ کبھی اکیلے حضرت علی ؓ ہوتے۔ سبحان اللہ۔ قربان ہوں ان ناموں پر۔ یہ نام نہاد جو داڑھی رکھ کر اسلام کو غلط استعمال کرتے ہیں، وزیرستان آتے ہیں، شیعہ سنی کو لڑاتے ہیں ان کو ہم نے دیکھنا ہے۔ مجھے اگر کوئی پاور ملی نا انشاء اللہ تعالیٰ یہ راہ حق ہے تو پھر سب کے سامنے احتساب ہوگا۔ مقدمہ بھی سب کے سامنے ہوگا۔ جیسے درانی کے گھر سے کل سونا اور نوٹ نکلے تو کسی جرنیل کے گھر سے کوئی سونا اور نوٹ کیوں نہیں نکلتا؟ وہ فرشتے ہیں؟۔ انہوں نے اس ملک کو نہیں لوٹا؟۔ جب لڑنے کا ٹائم آتا ہے تو ہم امن کی آشا کرتے ہیں۔ وہ دھمکیاں دیتے ہیں تو تم کہہ رہے ہو وت مار وت مار۔ افغانستان والے ایک سپاہی کو ماردیتے ہیں تو آپ کہتے ہو ہم بدلہ لیں گے۔ اُدھر آپ کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے اِدھر آپ کو بہت کم غصہ آتا ہے۔ دونوں طرف پشتون اور مسلمان ہیں، کیا پشتون مسلمان نہیں ؟۔ پتہ ہے یہ سب۔۔۔ پالیسی والے ہیں۔ انکے پاس دلائل نہیں، یہ کہتے ہیں ہم تمہیں مار دینگے ہم نے بہت ساروں کو مارا۔ پتہ ہے بہت ساروں کو مارا، بنگالیوں کو بھی مارا، تم نے سب کو مارا لیکن تم نے حاصل بھی بہت کچھ کیا ۔ تم نے وزیرستان میں 70ہزار گھر گرائے لیکن تم نے بہت محلات بنائے ،تم بنگلہ دیش سے Economically آگے بڑھ گئے۔ تم نے ہمیں طعنے دئیے، 33بلین ڈالر امریکہ سے لئے ، نام نہاد جہادسٹ پیدا کئے ۔ کچھ کر نہیں سکتے تو آرام سے بیٹھ جاؤ۔شریفوں والی زندگی گزارو۔ کرنا ہے تو پھر کرو۔ ایٹم بم ہے آپکے پاس۔ یہ نہ بتانا کہ دنیا غرق ہو جائے گی ہم غرق ہوجائیں گے وہ غرق ہوجائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اسٹارٹ کرینگے تو کون ختم کریگا؟ ۔ یہ سوچ پھر نہیں چلے گی۔ اگر ملک کو آگے بڑھانا ہے تو پھر لازماً نان اسٹیک ہولڈر جتنے ہیں آرام سے بٹھانا ہوگاکہ ادھر بیٹھ جاؤ۔ 18 بلین ڈالرلیتے ہو، نان اسٹیک ہولڈر بھی پیدا کرتے ہو۔ پھر انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے جواب بھی نہیں۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے۔ پھر تگڑا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ہم حیران کرینگے، کیسے حیران کرینگے؟۔ میرا ذہن ہے کہ جتنی پالیسی بنائی یہ صرف بجٹ کاچکر ہے یہ اٹھارویں ترمیم ختم کراتے ہیں تاکہ مرکز میں پیسہ آئے اور خیبر پختونخواہ ، سندھ اور بلوچستان مٹی کھائیں اور ہم پیسہ اٹھالیں، اور سوشل اکنامک نہ ہو۔ سیکورٹی زون بنایا ہے ہمیں۔ تگڑے ہیں کہ بیت اللہ خان کو پکڑ لو جیل میں ڈالو، عالم زیب کو ڈالو، منظور کی آئی ڈی بند کرو، عارف وزیر کو ڈالو، ولایت خان کو ڈالو، ان کو مارو، پشتونوں کے گھر گراؤ، بڑے تگڑے تھے، اسوقت تو دلائل نہ دئیے ۔ یہ نہ کہا کہ امن کی آشا ہوگی۔ اب امن یاد آیا۔ ہمیں تو برباد کردیا ابھی بربادی کرو، تاکہ نئی دنیا بنے، ویسے بھی تبدیلی ہوتی ہے، اگر ہم بیس کروڑ نہ رہیں تو نہ رہیں دنیا میں لوگ ہیں، مسلمان بھی زیادہ بنیں گے۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں اگر لیڈ کرتا تو انشاء اللہ آپ کو پتہ چل جاتا کہ پشتون واقعی میں ایسے ہیں، لیڈر شپ ایسی ہوتی ہے۔ ابھی ہم کچھ کر نہیں کر سکتے۔ آپکے ہاتھ میں ہتھیار ہے، آپ آگے بڑھو۔ لڑائی ہوگی، وہ لڑائی نہ روکیں گے، یاد رکھنا چاہیے، کسی کو دو نمبر بات نہ کرنی چاہیے۔ سٹیک والی بات ہے انہوں نے سٹیک کیا ہے وہ لڑینگے۔ پتہ ہے مودی لڑیگا، مودی بہت بڑا حرامی ہے، اس کی سوچ لڑاکو ہے وہ چاہتا ہے کہ میں ہسٹری میں رہوں اس کو تھوڑا غرور ہے مگر علماء ابھی فتویٰ نہیں دیتے، ہماری سوئی اٹک گئی کہ ادھر جہاد اناؤنس کرینگے، ہم سب جائیں گے کیونکہ میری ماں کو بھی بڑا مرنے کا اور شہادت کا شوق ہے، یہ شہادت صرف خیبر پختونخواہ میں ہونا چاہیے۔ ادھر پشتون ہو تو شہادت ملے۔ ان کو نہیں شہادتیں چاہئیں۔ مجھے سننے کا حوصلہ رکھیں، جانتا ہوں کہ یہ لڑائی نہیں کرسکتے۔ خواہ مخواہ غزوہ ہند کا ڈھنڈورا کرتے ہیں، یہ سوچ ہے کہ لوگوں کو پھنسا کر رکھیں۔ کاش! آج یہ آگے بڑھتے اور فتویٰ آتا کہ جہاد اناؤنس ہوگیا، انڈیا کیخلاف جہاد ہے۔ تمام علماء پاکستان فتویٰ دیتے کہ انڈیا کیخلاف جہاد فرض ہوچکا ہے۔ تو پھر ہم بھی تیاری پکڑ لیتے کیونکہ سال میں کبھی کبھار تو ہم بھی وضو کرتے ہیں۔ علماء جیسے مولانا مسعود اظہر ہے، مولانا حافظ سعید ہے، زید حامد ہیں جو غزوہ ہند کا ڈھنڈورا لئے پھرتے ہیں، مولانا طاہر اشرفی کی طرف سے کوئی خاص پیغام نہیں ملا ورنہ ہم بھی چلتے۔ کم از کم بہت نالائق پٹھان ہوں تھوڑا مجھ میں بھی حوصلہ آجاتا لیکن یہ خود چھپے ہیں ہم کیسے چلے جائیں۔ امن کی آشا کی بات لاکھ کریں مگروہ اٹیک کرینگے۔ مجھے انکے دما غ کا پتہ ہے انڈیا کا ماحول جانتا ہوں۔ انڈین کیا سوچتے ہیں پتہ ہے مگر ہمارے علماء چپ ہیں یہ فتویٰ دیں اور شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں تو بات بنے۔ بہت شکریہ سب کا، ناراض نہیں ہونا۔ زندگی خراب ہے ورنہ موت نے تو کسی کو دھوکہ نہیں دیا ۔ یہ زندگی انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ موت کسی کو بھی دھوکہ نہیں دیتی جیسے جاؤ، موت مل جائے گی۔ اللہ آپ کو خوش اور امان میں رکھے۔ پھر بھی میں کہتا ہوں لڑائی ہوگی ،حالات ٹھیک نہیں۔ بڑی بڑی طاقتیں آئیں گی ، مودی چاہتا ہے کہ لڑائی ہو۔ وہ تاریخ میں زندہ رہناچاہتاہے۔ ان کو بھیجا احسان اللہ احسان کو، راؤ انوار کو، کم از کم ادھر سے تو یہ لوگ اعلان کردیں کیونکہ یہ تو ہیرو ہیں ۔ احسان اللہ احسان اعلان کردے کہ بھئی جہاد ہوگا۔ مگر کہیں چھپا ہوگا بیچارہ۔ راؤ انوار بھی چھپا ہوگا، یہ اصل میں کیا کرتے ہیں؟، کہیں غریب پشتون ملا تو اس کو گریبان سے پکڑا، آپ نے اس کو پکڑ لیا توبس؟، پھر آپ ان بیچاروں کو قتل کراتے ہیں اور آپ کی کوشش بس یہ ہوتی ہے کہ کسی کو قتل کرواور بالخصوص وہ پشتون ہو تو اس کو مارنے میں بھی آپکو بڑا مزا آتا ہے۔ اور یہ آپ کو پتہ ہے کہ کتنے بے گناہ پشتون لوگوں کو آپ نے مارا ہے۔

***2016 میں بیت اللہ بیٹنی پی ٹی آئی کیلئے اڈیالہ جیل گیا جہاں دل کا دورہ پڑا جس پر اسد عمر نے عیادت کی***

بیت اللہ بیٹنی نے کل عمران خان کے حق میں اور سیاستدانوں کیخلاف کیا کہا تھا؟ کیا فصلی بٹیر ہر تحریک کے اُفق پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے بدلتے آئیں گے اور لوگوں میں اپنی بولتی کا جادو جگائیں گے؟

دوستو! سلام! جو مجھے سنتے ہیں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ لازمی سنیں۔ ضرور شیئر کریں۔ آج میں آپ کو وہ حقیقتیں بتاؤں گا کہ پاکستان کی سیاست میں کیا ہوا تھا؟۔ میں شروع کرتا ہوں ڈی آئی خان سے جہاں پر 40لوگ مارے گئے۔ بذات خود فائرنگ وزیر اعلیٰ سرحد عنایت اللہ خان گنڈہ پور نے کی۔ وہ ایسے ہی گھومتا تھا بھٹو کی حکومت تھی۔ جناب اکبر خان ڈی ایسی پی نے استعفیٰ دیا اور اس کو پکڑا نہیں۔ اور اس کو جسٹس سسٹم میں گھسیٹا نہیں گیا تھا۔ اسکو بلٹ پروف گاڑی پیپلز پارٹی نے Provide کی تھی۔ دوسرا 12اکتوبر کو ایم کیو ایم ، جنرل پرویز مشرف نے جو قتل عام کیا اور پھر اے این پی والوں نے پختونوں کے سر پر پیسہ لیکر ان کو معاف کیا۔ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہاں انسان قتل ہوتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جس طرح آپ نے ماڈل ٹاؤن میں دیکھا ایسے کیس اس سے پہلے بھی ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وہ جو کہتے تھے کہ ہم ڈرنے والے نہیں وہ باہر بیٹھے ہیں۔ میں ان ظالموں سے پوچھتا ہوں کہ یہ مولانا فضل الرحمن کے والد بھی اس وقت حیات تھے ان سب کو یہ واقعات معلوم تھے لیکن انہوں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہ آج عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہیں، مجھے لگتا ہے انہوں نے آج تک کوئی ایماندار شخص زندگی میں دیکھا ہی نہیں۔ ان سے اُن کا واسطہ ہی نہیں پڑا۔ لہٰذا سب سے درخواست ہے آپ پہچانیں۔ شاہی سید آپ نے پیسے لئے ہیں، پختونوں کے سر کی قیمت اور سودے بازی آپ نے کی ۔ سب سے درخواست ہے ان ظالموں سے بچو۔ یہ ہمیں بیچنا چاہتے ہیں ،مختلف برادریوں میں مختلف فرقوں میں بانٹ کر یہ ہم پر حکومت کرینگے لیکن کتنے قتل عام ہوئے آج تک اس پر مقدمہ چلا؟۔ عنایت اللہ خان گنڈہ پور پر؟۔ کس پر چلا تھا؟۔ یہ مانتا ہوں کہ اسکے بیٹے نہایت معزز ہیں۔ اللہ جنت نصیب کرے۔ اسرار اللہ خان کو سب کو بڑے معزز ہیں۔ انہوں نے سارے صلحے کئے لیکن حکومت نے اور اس وقت کی لیڈر شپ نے اس پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ خدا حافظ۔ سنئے بیت اللہ خان کو، آپ کو میں بتاؤں گا سیاست کیا ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں