بنی اسرائیل کی عوام میں بڑے پیمانے پر جلیل القدر حضرات انبیاء کرام ؑ کی بعثت کا سلسلہ

حضرت ابراہیم ؑ ،اسحاق علیہ السلام ،یعقوب علیہ السلام ،یوسف علیہ السلام ، داود علیہ السلام ، سلیمان علیہ السلام ، زکریا علیہ السلام ،یحییٰ علیہ السلام ، مریم علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام ذوالقرنین، حکیم لقمان،طالوت وغیرہ
اللہ نے فرمایا :’’ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو،جو میں نے تم پر کی اور میں نے جہان والوں پرتمہیں کوفضیلت دی‘‘
دنیاوی فضیلت کا سکہ آج اسلئے برقرار ہے کہ تسخیر کائنات کا نظریہ قرآن نے دیا مگرنفع بخش سائنسی ایجادات انکا مقدربنیں
رسول اللہ نے فرمایا: ’’ اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے‘‘۔ قرآن نے جمہوریت اور اخلاقی نظام دیامگرعمل انہوں نے کیا

بنی اسماعیل ؑ کی اولاد میں رحمۃ للعالمین محمد ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم

رحمۃ للعالمینﷺ کی بعثت ہوئی تو یہودونصاریٰ کی مذہبی حالت ایسی تھی جیسے آج شدت پسندمسلمان فرقوں اور علماء کی ہے
قرآن اور نبی رحمۃ للعالمینﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی دنیا میں پھیل گئی تو اہل مغرب نے مذہبی شدت پسندی کو خیربادکردیا
پہلے اسلام دینِ فطرت کے مقابلے میں یہودونصاریٰ نے اپنی عوام کو غرق کردیا ، آج ہم بھی انکے نقش قدم پر چل رہے ہیں
مغرب نے مذہبی شدت پسندی ترک کرکے امامت کا مقام حاصل کیا، ہم شدت پسندی سے خود کو ذلیل کرنے پر تل گئے۔
طاقت میں بہت آگے مغرب کے عیسائی چاہتے تو اپنا قبلہ بیت المقدس مسلمانوں اور یہودیوں سے چھین کر اور مسلمانوں کے قبلہ کو سکینڈوں میں ملیامیٹ کرسکتے ہیں۔ چاہیں تو دنیا بھر کے مسلمان ممالک کو تہس نہس کرکے انکے مردوں کو مار ڈالیں اور خواتین کو لونڈیاں بنادیں۔ مسلمانوں و ہندؤں نے خواتین کو انسانی حقوق سے محروم کیا ۔ اگر رشتے ناطے کی محبت ، اقدارکا پاس اورمذاہب سے عقیدت نہ ہو تووہ مغرب کی غلامی کو بھی یہاں کی نام نہادآزادی سے بہتر سمجھیں گے ۔ حکمرانوں،اشرافیہ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے جہنم سے نکلنے کیلئے اغیار کی حکومتوں کو غنیمت اور اپنی تقدیر کا عروج قرار دیں۔ برصغیر پاک وہند کے بارے میں یہ درست ہے کہ سکندر اعظم سے برطانوی سامراج تک یہاں کی عوام پر رومیوں نے حکومت کی، عربوں، ایرانیوں ، ترکوں ، افغانیوں ، سکھوں اور پٹھانوں نے حکومت کی اور جو بھی باہر سے آیا تو اس نے فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ لیکن یہ تجزیہ کوئی نہیں کرتا کہ یہاں خوار غریب عوام اور خواتین کیساتھ کیا رویہ رکھا گیا؟۔ جو دوسرے حکمران اس سے زیادہ مظالم کی داستان رقم کرتے اور مزید ستم ڈھاتے؟۔
پاکستان کے قبائلی علاقہ جات نسبتاً آزاد منش، خوشحال اور فطرت کے ترجمان تھے۔ جس طرح عربوں سے فاتح لوگوں نے تاریخ میں کوئی غرض نہیں رکھی تھی۔ خوبی خامیاں عربوں اور پختون قبائل میں تھیں لیکن علامہ اقبال ؒ نے رسول اللہﷺ کو بندۂ صحرائی اور آنیوالے مجاہدکومردِ کوہستانی کا خطاب دیتے ہوئے بہت واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مردِ کوہستانی
پورے برصغیرپاک وہند میں آزاد قبائل نے سب سے زیادہ انگریز کی مزاحمت کی تھی اور خاص طور پر وزیرستان کے لوگوں نے۔ہمارے حکمران مرغا بن کے بھی امریکہ کے بوٹ چاٹنے کیلئے تیار ہوجاتے لیکن آزاد منش قبائل نے قربانیوں کا پہاڑ اپنی بربادیوں پر کھڑا کردیا ۔ ہمیں غیروں نے نہیں اپنوں کی سازش، لالچ اور جہالتوں نے تباہی وبربادی کے کنارے پرپہنچادیا۔ طالبان ریاست کی غلطی سے غلط سمت پر استعمال ہوئے اور اب پی ٹی ایم کو بھی غلط سمت استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ منظور پشتین اتنا کہہ دے کہ ’’نیوزی لینڈ کے دہشت گرد کی ماں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرے بیٹے کو سزائے موت دی جائے ۔ پختونوں میں بے غیرت دہشت گردوں کی ایک بھی غیرتمند ماں ایسی نہیں جو کھل کر سامنے آئے اور کہے کہ میرا حرام زادہ بیٹا دہشت گرد تھا اور اچھا ہوا کہ انجام کو پہنچ گیا یا اس کو انجام تک پہنچایا جائے۔وہ مائیں یہ نہیں کرتیں تو فوجیوں کے ہاتھوں سے ان کا ٹھنڈا ہونا بہتر ہے جن کو طالبان نے گرم کیا ہوا تھااسلئے کہ دہشتگردی پر اوس پڑی ہے‘‘۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ پہلے اپنی کڑک مرغیوں سے گندے انڈے پھنکوادے۔ پھر یہ بات ریاست میں نہیں دنیا بھر میں جگہ پکڑے گی کہ’’ اللہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ہمارے حکمرانوں کی طرح مسلمان بنانے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو اس کی طرح ایک اچھا انسان بنائے‘‘۔ ہماری ریاست ڈرامہ کرتی ہے ، نوازشریف کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے اور عمران خان کو بھی۔ جیسے طالبان سے لڑبھی رہی تھی اور اس پر مر بھی رہی تھی، یہی حال منظور پشتین اوراسکے ساتھیوں کے رویے سے بھی لگتا ہے۔ ڈبل پاٹ، ڈبل گیم اور ڈبل پالیسیوں سے ملک وقوم اور مذہب وملت کو تباہ کیا گیا اور ان کھیلوں سے باز آکر سیدھی راہ پر چلنے کی ضرورت ہے۔طالبان کی مصنوعی فضاء سے جان چھوٹی مگر لسانیت کا رنگ بہت خطرناک ہے۔ حق کیلئے آواز اٹھانے سے زیادہ ان لوگوں کو دبانے کا ماحول وہ بگاڑ پیدا کررہاہے اور لوگ پھراس ڈبل گیم سے بہت مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک سب سے زیادہ انبیاء کرام ؑ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں مبعوث فرمائے۔سب سے زیادہ مذہبی لوگ یہودو نصاریٰ تھے مگر وہ تحریف کی بدولت اس قدر اپنی فطرت مسخ کرچکے تھے کہ اللہ کو اپنا آخری رسولﷺ عرب میں پیدا کرنا پڑا ۔ اور قرآن میں یہ وضاحت کردی کہ ’’اے نبی! یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی ہرگزہرگز بھی راضی نہ ہونگے یہانتک آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں‘‘۔رسول اللہ ﷺ کے دور میں یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ اور انکے پجاری عوام جہاں کھڑے تھے، آج ہمارے علماء ومشائخ اور عوام بھی انکے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ جب یہودو نصاریٰ کے اپنے مذہبی خداؤں بقول قرآن مجید کے احبارو رھبان کو مغرب کی باشعور عوام نے بالکل سائیڈ لائن پر لگادیا توانہوں نے دنیا میں عروج وترقی کی منزل بھی پالی ہے۔
آج عرب علماء، ایرانی حکومت ،برصغیر کے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور شیعہ تمام مذہبی طبقے یہودونصاریٰ کی طرح اپنی فطرت بھی مسخ کرچکے ہیں۔اُمید کی کوئی کرن ان سے پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔ ایک بڑی کہانی ہے جسکے مختصر دو اسکرین شارٹ ملاحظہ فرمائیں۔ بڑھیا کے کم عقل پوتے کو شہزادی کی گڑیا مل گئی۔ بڑھیانے پوتے کو سلایااور صحن میں چنے بکھیر دئیے۔ وہ اٹھا تو بتایا کہ چنوں کی بارش ہوئی ہے۔ بادشاہ نے قیمتی گڑیاکی منادی کرائی تو لڑکے نے بتایا کہ مجھے ملی ہے۔ دادی نے کہا کہ جھوٹ ہے، اس کو پوچھو کہ کس دن کا واقعہ ہے، لڑکے نے کہا کہ جس دن چنے کی بارش ہوئی تھی۔پھرپوتے نے دادی سے اپنی شادی کامطالبہ کیا تو دادی نے کہا کہ کوئی لڑکی پسند آئے تو اس کو کنکر مارو، اگر و ہ ہنسے تو رشتہ مانگ لوں گی۔ لڑکے نے شہزادی کو کنویں کے کنارے کنکر مارا، وہ کم عقل کی حرکت پر مسکرائی لیکن لڑکے نے بڑا پتھر سر پر دے مارا تاکہ خوب ہنسے۔ اپنی دادی کو بتایا کہ لڑکی نے مجھے بڑا پسند کیا مگر وہ ہنستے ہوئے خوشی سے کنویں میں گر گئی۔دادی نے کنویں میں بکرا، گدھا اور دنباپھینک دئیے۔ بادشاہ نے گمشدہ شہزادی کی برآمدگی پر انعام کابڑا اعلان کیا تو لڑکے نے ماجراء سنایا۔ بادشاہ نے لڑکے کو کنویں میں اتارا۔ لڑکے نے کہا کہ بادشاہ تمہاری بیٹی کے جسم پر اون تھا؟۔ بادشاہ نے کہا کہ ہاں، دم تھی،کیا اسکے سینگ تھے؟۔ بادشاہ ہاں ہاں کرتا رہا۔ چارپاؤں، بڑے بڑے کان کے بعد آخر اس کا ہاتھ گدھے کے ذکر پر لگا تو کہا کہ تیری بیٹی کا اتنا بڑا ذکر تھا؟۔ بادشاہ بڑا شرمندہ ہوا ،اور کہا کہ خبیث بس کرو بس کرو، میری کوئی بیٹی نہیں اور اس کو کنویں سے جلدی نکلوادیا۔
جب نبیﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا، اسلام اجنبیت کا شکار ہوا تو بادشاہ کا دل اپنے باپ کی لونڈی پر آگیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ کسی عورت کو ہاتھ لگانا بھی نکاح کی طرح ہے ،باپ کی لونڈی جائز نہیں۔ امام ابویوسف نے حیلہ بتایا کہ لڑکی کی گواہی قابلِ قبول نہیں، لونڈی کی بات ہی مسترد کرو، کہ تمہارے باپ نے اس کو ہاتھ بھی لگایا ہے۔ پھر آنے والوں نے حرمت مصاہرت کے مسائل کو اسطرح دریافت کیا ، جس طرح بڑھیا کا کم عقل پوتا کنویں میں شہزادی کی خبر بادشاہ کو دے رہا تھا۔ نیند میں غلطی سے ساس کیساتھ جماع حرمت مصاہرت ہے اورہاتھ لگنا بھی حرمت مصاہرت ہے، اپنی بیوی کیساتھ مباشرت اور بچے کی پیدائش کے بعد اصولاً حرمت مصاہرت ہے لیکن ضرورت کی خاطر بیوی جائز ہے۔ ساس کی شرمگاہ کواگر باہر سے شہوت کیساتھ دیکھ لیا تو عذر ہے لیکن اندر سے دیکھ لیا تو حرمت مصاہرت ہے۔ ملاجیون کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ برصغیر پاک وہند کے کم عقل پڑھ اور پڑھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انگریز کے ذریعے دنیا پر قبضہ کرواکر ملا سے جان چھڑائی۔پہلے تعلیم ملاؤں کی رہین منت ہوتی تھی ،اب انگریزی تعلیم ہے۔
انگریز کو معلوم ہے کہ جب تک شام وعراق میں داعش کے ذریعے مسلمانوں کی اپنی خواتین کو نکاح بالجہاد کا فلسفہ نہیں سمجھائے، جس میں پنج وقتہ نماز کی طرح ایک خاتون کے دن میں پانچ شوہر بدل بدل کر ریپ کروایا جاتا ہے، تب تک ان کو سمجھ یہ بات نہیں آئے گی کہ مغرب کی خواتین کو لونڈی بنانا بھی برا ہے۔ آج میڈیا میں داعش کی اس کارکردگی پر پرد ہ ڈالا گیا ہے۔ اوریا مقبول جان جانتا ہے کہ ایک دفعہ بیوروکریسی سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد وہ دوبارہ اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتا ہے وہ کوشش میں ہے کہ کوئی نیا سیٹ اپ آجائے تاکہ پھرنوکری کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو اور آدمی کی سوچ اپنے ماحول سے آگے جا بھی نہیں سکتی ہے۔اوریا مقبول نے ملاؤں کی حکومت میں نوکری کا خواب دیکھاہے۔
جب یہودونصاریٰ کے مذہبی گروہ ناقابلِ اصلاح ہوچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے عرب ان پڑھوں کا انسانیت کیلئے انتخاب کیا اور دنیا کو عربوں کے ذریعے انسانیت کا درس دیا۔ یہ وہ عرب تھے جن کے ہاں حضرت ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ بنی اسرائیل کے مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو قدرت نے بھی مسترد کردیا تھا۔ جب ان کی خواتین کو عربوں نے لونڈی بنایا تب انکے دل ودماغ بھی کھل گئے اور پھر مسخ شدہ مذہب کو ترک کرکے عروج کی منزل پر پہنچ گئے۔آج اہل مغرب کی فطرت وہ نہیں۔
اسلام کی نشاۃ اول عربوں کے ذریعے ہوئی تھی اور قرآن کا پہلا مخاطب مسلمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ کا لفظی تحریف سے حفاظت کا ذمہ خود لیا،اسلئے کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے۔ جسطرح ابراہیم ؑ کے بعد عربوں میں دین اجنبی بن گیاتھا، اس طرح حضرت نوح ؑ کے بعد سے ہندوؤں میں دین اجنبی ہے۔ قرآن کا دوسرا مخاطب عوام الناس اور عالم انسانیت ہے۔ دین میں زبردستی کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں ۔ رسول ﷺ کی سیرت طیبہ اعلیٰ نمونہ اور قرآن نبیﷺ کی سیرت ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ نبیﷺ نے کسی مجبوری میں نہیں بلکہ دین کے تقاضے کے عین مطابق کیا تھا۔ اگر مشرکین مکہ اس کو نہ توڑتے تو یہ فتح مبین کا معاہدہ دس سال تک حضرت عمرفاروق اعظم ؓ کے دورِ خلافت تک قائم رہتا۔ مکہ کو جس انداز سے فتح کیا وہ بھی انسانیت کیلئے جیت اور بہت بڑا سبق تھا لیکن اگر معاہدہ برقرار رہتا تو اسلام زمین میں جڑ پکڑ لیتا اور اتنے کم وقت میں فتنے وفساد کا بازار گرم نہ ہوتا اور نہ خلافت راشدہ امارت وبادشاہت میں بدل جاتی۔
صلح حدیبیہ کی ایک اہم شق یہ بھی تھی کہ ’’ کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مشرک بن جائے تو مشرکین اسے مسلمانوں کو واپس نہیں لوٹائیں گے لیکن اگر کوئی مشرک مسلمان بن جائے تو مسلمان اس کو واپس لوٹا دیں گے‘‘۔ آج مغرب نے جاہل مسلمانوں کیساتھ یہ شق مانی ہوئی ہے کہ اگر تم کسی کو عیسائی نہیں بننے دیتے ہوتو خیر ہے لیکن ہمارا کوئی عیسائی مسلمان بنتا ہے تو اس کو اپنے پاس رکھ لو۔ دین کا تعلق روح اور دل کیساتھ ہے۔ جب کوئی دل سے ہی مسلمان نہ ہو تو اس منافق کے دھڑ کو لیکر مسلمانوں نے کیا کرنا ہے؟۔ منافق جہنم کے نچلے درجے میں ہونگے جبکہ مشرک وکافر ان سے کہیں بہتر ہونگے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ فطرت کا تقاضہ تھا لیکن جذباتی صحابہ کرام ؓ نے وقت پر نبیﷺ کی بصیرت کو نہیں سمجھا ۔
اللہ نے مسلمانوں کو قرآن میں یہ گنجائش دی کہ ’’ اگر زبردستی سے جاہل ان کو کلمۂ کفر بکنے پر بھی مجبور کریں تو ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘۔ سندھ میں ہندو بچیاں اسلام قبول کریں تو انکے والدین ، گھر ،محلے ، رشتہ داروں اور کمیونٹی والوں کو اس کرب کی کیفیت سے گزارنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتاہے۔ بچیاں اپنے گھر میں رہیں اگر وہ دل سے مسلمان ہیں اور زبان سے اقرار نہیں کرسکتی ہیں تو بھی مسئلہ نہیں۔ پاکستان، اسلام ، سندھ اور عالمِ انسانیت کی بہادر بیٹی ہدیٰ نے جو آواز اٹھائی یہ اسلام کی روح اور سندھ و پاکستان کیلئے باعثِ افتخار ہے۔ والدین کے دل چھلنی کرنے سے نہیں بلکہ انسانیت کا دل جیتنے سے قرآن ، نبیﷺ کی سیرت اور انسانیت کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔ مولوی، پیر اور فقیر پہلے درسِ نظامی کے گند کو صاف کردیں۔ علامہ خادم حسین رضوی نے بی بی آسیہ کا نام لینا چھوڑ دیا۔ دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر قبضہ کیا لیکن ربوہٰ پر قبضہ نہیں کیا۔ علامہ خادم حسین رضوی ربوہٰ کو فتح کرکے دکھائیں تومحمود غزنوی کے بیٹے بن سکیں گے۔ آج جن کی دم اٹھااٹھاکراستعمال کیا جارہاہے کل یہ ربوہٰ پر چارج ہوکر ہلا بول دیں گے۔ فوج نے دہشت گردوں کو پختونوں پر چھوڑ دیا تو خود بھی محفوظ نہیں رہی اور پختونوں نے دہشت گردوں کو فوج پر چھوڑا تو خود بھی نہ بچ سکے اور یہ مکافاتِ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ جو مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی کی فضاؤں کو بڑا کمال سمجھ رہے تھے انہوں نے نیوزی لینڈ کے ایک واقعہ پر طوفان اٹھا دیا۔ انصاف یہ نہیں کہ اپنے ساتھ زیادتی پر واویلا کیا جائے اور دوسرے کیساتھ زیادتی کو اپنا حق سمجھا جائے۔ سوشل میڈیا پر فضول پروپیگنڈے بھی انسانیت کے بالکل منافی ہیں۔ISI کا نام استعمال کرنے والوں کودھر لیا جائے۔
غزوہ ہند کا مطلب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے جدوجہد اور دوسرے نہیں اپنے حکمرانوں کو ہی پکڑکر طوق وسلاسل میں جکڑنا بھی ہوسکتا ہے۔جس طرح ہندو اپنے ویدوں سے دور ہیں اس طرح مسلمان قرآن وسنت سے بالکل بے بہرہ ہیں۔ جس طرح مشرکین مکہ نے اسلام قبول کرکے قرآن کی نشاۃ اول میں بنیادی کردار ادا کیا، اسی طرح ہندو انسانیت کی بنیاد پر اسلام کو سپورٹ کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کی طرح ہمارے مذہبی طبقات بھی اپنی انسانی فطرت کھو چکے ہیں۔ اگر ہماری اپنی ریاست ان کی پشت پناہی چھوڑ دے تو غیرتمند عوام کے ہاتھوں یہ ایک دن حلالہ کی لعنت پر ایسے شکار ہوجائیں گے جیسے نیوزی لینڈ کے معصوم اور بے گناہ نمازی ہوئے تھے۔ اب انکے دانت کھٹے ہیں ،پہلے انکے دلائل کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوتاتھا اور اندھے ایکدوسرے کے خلاف لاٹھی چلاتے تھے۔ اب وہ دلائل سے بالکل عاری ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں اور مبلغ جہالت کا دفاع بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ اپنے خراب انڈوں پر بیٹھ کرپاگل کڑک مرغی کی طرح کٹ کٹ کرکے اپنا ہی وقت ضائع کررہے ہیں۔ جذبات کی شکار عوام کو حقائق کا پتہ چلاتو وہ مولوی صاحبان کو بھی شعور کی دولت سے نوازیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں