مغربی معاشرے کا عروج اور مسلم معاشرے کا زوال؟

541
0

barack-hussein-obama-chief-justice-saqib-nisar-chief-justice-rana-bhagwan-das-scheme-33-karachi-dg-rangers-karachi-reham-khan-divorce-

پاکستان کا معاشرہ جمہوری اورترقی پسند ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کے ریاستی نظام کو آئیڈل تصور کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ حلف نامہ میں صدر بارک حسین اوبامہ کاامریکی چیف جسٹس نے ادھورا نام پڑھا مگراوبامہ نے پورا نام لیکر حلف اٹھایا تھا۔ یہ امریکی سپریم کورٹ میں اسٹیبلشمنٹ کے اثرانداز ہونیکی ایک دلیل تھی اور اب برطانوی اپوزیشن لیڈر نے آواز اٹھائی کہ ’’وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے شام پر حملہ میں برطانیہ کو امریکہ کے تابع بنادیا ہے‘‘۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہندؤں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا نام لینا بھی مجھے گوارا نہیں ‘‘ لیکن اگر ہمارا اگلا وزیراعظم کوئی بھگوان داس جیسا بن جائے تو چیف جسٹس پورے نام کیساتھ حلف اٹھانے میں حسد سے کام نہیں لیں گے۔ چیف جسٹس کی ہماری ملک میں نقل وحرکت محدود نہیں بلکہ وہ ایگڑیکٹو کے کام بھی کررہے ہیں۔ جمہوری حکومت ووٹوں کے ذریعے عوام کو پھر بھی جوابدہ ہوتی ہے۔ شہروں میں پانی اور بجلی کی قلت کیلئے عام بلڈرز کو پکڑنے کا کام بھی برا نہیں لیکن فوج نے جس طرح سے تعمیرات کرکے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور کوڑی کے بھاؤ میں بکنے کے قابل علاقے کروڑوں میں بیچے جارہے ہیں ان کا بھی چیف جسٹس کو نوٹس لینا چاہیے۔ سکیم33میں عرصہ سے مکان و پلاٹ کی قیمت بہت سستی تھی۔ پھر فیلکن کی قیمت ڈیفنس سے بڑھ گئی تو اسکی وجوہات پر بھی ازخود نوٹس لیتے، 26 سال سے رینجرز کراچی میں تعینات ہے۔ امن ومان کی خراب صورتحال میں مضبوط ریاستی ادارہ کاروبار کررہا ہو اور پولیس کو قبضہ مافیا میں بنیادی کردار کیلئے استعمال کیا جارہا ہو۔ ریٹارئرڈفوجی افسران اپنی حفاظت کیلئے مجبوری بن جائیں تو معاشرے میں اخلاقیات کی بہتری کی اُمید ہوسکتی ہے؟۔ سیاستدان عوامی ووٹوں پر بھی ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوں اور میڈیا ریڈلائن کو عبور نہیں کرسکتی ہو تو یہ آزادی بدترین غلامی سے بھی بدتر ہے۔ غلامی میں زبان آزاد ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایاکہ ’’افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا ہے‘‘۔ ہمارے ہاں ریاست اصلی حکمران ہے اور اس کے پالتو اور نے نواز بھی اپنی ریاست سے آج آزادی کی بات کررہے ہیں۔
نوازشریف 70سال کی عمر میں کیسے نظریاتی بناہے؟۔ ایک طرف جو لوٹے لعنت ملامت کے قابل ہیں تو دوسری طرف وہی لوٹے سونے کے وزن میں تلنے کے قابل ہیں۔ ترازو کے دونوں پلڑے میں لوٹے ہی لوٹے ہیں ۔ اگر مشاہد حسین سید کو سینٹر ، شہبازشریف کو مرکزی صدر ، امیرمقام کو صوبائی صدر بنانا ہی نظریاتی ہونے کی علامت ہے تو ایسے نظریاتی پر لعنت بھیجنے میں کوئی دیر نہ کریگا اور دوسری طرف عمران خان نے پختونخواہ میں 20لوٹوں کو ٹشوپیپر کی طرح سے استعال کرنے کے بعد پھینکنے کا اعلان کیا ہے اور پنجاب میں لوٹوں کو ویلکم کیا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اشیرآباد میں جینے مرنے والوں کے خمیر و مقدر میں نظریاتی ہونا ممکن نہیں ۔ یہ بہت مکاری وعیاری سے بس اپنی باری اور یاری کیلئے اپنی دُم اپنے سروں پر باندھ کر عوام کو بیوقوف بنانے کے شغل کا پتلی تماشہ دکھاتے ہیں۔
عمران خان جمائما خان کے حقوق ادا کرنے پر پورا نہیں اترا تو اس نے علیحدگی اختیار کرلی۔ ریحام خان علیحدہ نہ ہونا چاہتی تھی ،تب بھی جہاز میں مسیج کیا کہ ’’طلاق، طلاق ، طلاق‘‘ ریحام خان لندن کے ائیرپورٹ پر اتری تو موبائل دیکھ حیران وپریشان ہوئی کہ ’’یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا؟‘‘۔ اصل بات یہ نہیں کہ ریحام خان کیساتھ اچانک کوئی بہت بڑی زیادتی ہوگئی بلکہ اصل زیادتی اس کے علاوہ یہ تھی کہ ’’ ریحام خان کو دھمکیاںیہ دی گئیں کہ اگر پاکستان آئی تو تمہارا برا حشر نشر کردینگے‘‘۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کے بارے میں ہے کہ ’’طلاق کے بعد عورت کو دوسرے سے شادی نہ کرنے دیتے تھے لیکن ان میں یہ غیرت بھی تھی کہ طلاق شدہ سے شادی بھی نہ کرتے تھے‘‘۔ جب عمران خان نے ریحام خان سے شادی کی تو ریحام خان طلاق شدہ تھی، اور ٹی وی چینلوں نے عمران خان کے بغض یا اپنی ریٹنگ کے چکر میں ریحام خان کی واہیات تصاویر اور ویڈیوز نشر کردیں۔ اس سے پہلے کرکٹر شعیب ملک کی شادی ہوئی تھی تو بھی ثانیہ مرزا کی واہیات ویڈیوز نشر کرنے میں بھی میڈیا نے یہی کردار ادا کیا تھا۔
عمران خان سے جمائماخان نے طلاق لی مگر تحریک انصاف کے کارکنوں کو فرق نہ پڑا۔ دوسروں کیساتھ دوستی، مذہب کو چھوڑنے یا مرتد بن جانے بھی پر کوئی مذہبی کارڈ استعمال نہ کیا گیاجبکہ ریحام خان کو چھوڑنے کے بعد پاکستان آنے پر بھی دھمکیاں دی گئیں۔ کمزور کیخلاف مذہب اور کلچر دونوں کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر عمران کی جگہ کوئی اورہوتا اور جمائمایہودی گولڈ سمتھ خان کی چشم وچراغ نہ ہوتی تو یہاں خفیہ ہاتھ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت اور علی محمد خان جیسے لوگوں کی دُم مروڑتے اور غیرت ومذہب کے نام پر ایک طوفان برپاہوتا۔ عربی کی کہاوت ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ’’لوگ حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں‘‘۔ کٹھ پتلیوں کے اثرات سے یہ معاشرہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔
روز روز بچیوں کا اغواء، جنسی تشدد اور قتل ایک معمول بن چکا ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اختیاراور اقتدار کی پڑی ہے لیکن اگر غریب عوام اٹھ گئے تو ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکے گا۔ بچوں سے روز گار لینا قانون کے خلاف اورکوئی اپنے بچوں کو سکول بھیجے تو ریاست اس کی حفاظت نہ کرسکتی ہو۔ نچلے درجے کے ملازمین کا تنخواہوں سے گزارہ ممکن نہ ہو اور بڑی کمائی والے بڑے کرپشن سے بھی دریغ نہ کرتے ہوں تو اس ملک ، قوم اور سلطنت میں کیااور کون زندہ اور تابندہ باد ہوگا۔
قرآن وسنت میں ایک ایسے معاشرے کے قیام کی تعلیم ہے کہ پوری دنیا کا دل ودماغ بھی اسلام کی طرف راغب ہوگا۔ دنیا میں آج غلامی کا سٹم چل رہاہے لیکن اسلام نے 1400سال پہلے غلامی کا خاتمہ کردیا تھامگر افسوس کہ ہم نے یہ نظام اپنانے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔ ہردور اور ہرجگہ اجتہاد و تقلید کے نام پر ایک ایک چیز کا ستیاناس کرڈالا ہے۔ قرآن میں غلام کیلئے عبد اور غلاموں کیلئے عباد کا لفظ استعمال ہوا ہے اورنکاح کیلئے ۔ ولعبد مؤمن خیر من مشرک ولو اعجتکم ’’ اور مؤمن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے‘‘۔ نکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ و بیوہ بیگمات کا۔ والصالحین من عبادکم وامائکم ’’اورجو نیکوکار ہوں غلاموں میں سے اور لونڈیوں میں سے،ان کا نکاح کراؤ‘‘۔
یہ خوشگوار معاملہ ہے کہ اسلام نے غلاموں اور لونڈیوں سے بھی آزادلوگوں کی طرح نکاح کا تصور دیا ۔ نکاح اور متعہ یا ایگریمنٹ میں فرق ہے۔ فتح مکہ میں نبیﷺ نے کسی کو غلام و لونڈی بنانے کی اجازت نہ دی البتہ متعہ کرنے کی اجازت دی۔ اس سے معاشرتی بنیادوں پر ایک بڑے انقلاب کا آغاز ہوا۔ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبیﷺ نے سچ فرمایا کہ ’’ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا، عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ طلاق کا مسئلہ علماء کی سمجھ آگیامگر ابھی بہت کچھ باقی ہے۔