بلور خاندان نے مسلسل قربانی دی. سراج رئیسانی محب وطن سیاستدان تھا. آرمی چیف

316
0

bilour-family-terrorism-in-balochistan-khalai-makhlooq-zaid-hamid-manzoor-pashtoon-asif-ghafoor-Imran-khan-falls-off-stage

ایڈیٹرنوشتۂ دیوار اجمل ملک نے کہاکہ بشیر بلورایک بہادر شخصیت تھی، بہادری کی جتیے جاگتی تصویر بن کر ہر حادثے میں پہنچ جاتے تھے۔ بشیر بلور کے فرزند ہارون بلور نے بھی شہید ابن شہید بن کر جمہوریت کا حق ادا کردیا ۔ 2013ء کے الیکشن میں عمران خان نے نوازشریف کو غلیظ گالیوں سے ہر محفل، ہر جلسے اور ہر پریس کانفرنس میں یاد کیا۔ ساری انتخابی مہم گالی گلوچ تھی لیکن جب اسٹیج سے گرکر زخمی ہوگئے تو نواز شریف نے انتخابی مہم کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ میاں نوازشریف کے اس اقدام سے عوام خوش ہوگئی کہ سیاسی قیادت میں ابھی اخلاقیات کی رمق باقی ہے، ہارون بلور کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو اخلاقیات بھول گئے تھے اسلئے شہبازشریف نے جنازہ ہی کے دوران میڈیا کے سامنے اپنا منحوس چہرہ دکھانا لازم سمجھا۔ شاید یہ بتانا چاہ رہا تھاکہ دہشت گرودں کے اس واقعہ سے ہم پر اثر نہیں پڑا ۔ جب یونیورسٹی پر دہشگرد حملہ ہوا تھا تب بھی شہباز شریف نے ایک تقریب سے اپنا خطاب کیا تھا۔ جس کی ہم نے اس وقت بھی نشاندہی کی تھی۔ لوہار اور کھلاڑی سیاست کے بجائے اپنے کام میں مشغول ہوتے تو قوم کا بیڑہ غرق نہ ہوتا۔سیاسی جماعتوں کے قائدین میں اگرانسانیت، غیرت اور معاشرتی قدریں ہوتیں تو ہارون بلور کے جنازہ میں سب کے سب شریک ہوتے۔ تعزیت کیلئے بھی آرمی چیف کو پہل کرنی پڑی۔ بلوچستان دھماکہ میں میڈیا کے رویے پرعوام کو بہت غصہ آیا تھا۔ ہزاروں لعنت بھیجنے کی بات کو آوازِ خلق اور نقارۂ خدا سمجھو۔ عمران خان شہباز ونوازشریف سمیت سبھی نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ دہشتگردی ختم کرنے کا سیاسی قائدین کریڈٹ لے رہے تھے مگر اب ان کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ دہشتگرد کسی فرد کو بھی چھوڑنے والے نہیں، اپنی اپنی باری کا انتظار کرنا ہے، بہادری سے جان دے یا پھربزدلی ہی دکھائے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنی طرف سے پوری صلاحیت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی ترجمانی کا بھرپور حق ادا کرتے ہیں۔ جب ملک میں دو مقبول جماعتیں ایکدوسرے پر آرمی کی پشت پناہی سے اقتدار حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہوں تو باقی لوگوں کیلئے فوج کی صفائی بھی سمجھ سے بالاتر نظر آتی ہے۔ آصف غفور نے کہاکہ خلائی مخلوق کا ہمیں نہیں پتہ لیکن ہم اللہ کی مخلوق ہیں۔ ایک طرف پاک فوج کیخلاف کھل کر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگ ہیں جن کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ ان کو روکا کیوں نہیں جاتا؟۔ تو فوج کے ترجمان آصف غفور نے کہا: ’’کسی کے ذہن کو ڈنڈے کے زور سے نہیں بدلا جاسکتا ہے، یہ لوگ تھک جائیں گے اور ہمیں کوئی ملک کی سطح پر سیکیورٹی کا خدشہ ہوگا تو ایکشن لیں گے، اس کے علاوہ میڈیا کی آزادی سے لوگوں میں شعور وآگہی آتی ہے‘‘۔
جب پاک فوج اپنے مخالفین کی روک تھام کو نہیں روکتے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان سے محبت کا دم بھرنے والوں کی راہوں کو روک لے؟۔ نبیﷺ نے کسی بات پرفرمایا کہ ’’ شیطان جھوٹا ہے مگر یہ بات اس کی سچ ہے‘‘۔ زید حامد نے عمران خان کا کہا کہ میں اس کو غدار نہیں کہتا مگر ملک دشمنوں سے زیادہ یہ ملک کو نقصان پہنچائیگا‘‘۔ چلو ! اچھا ہے کہ سیاستدانوں میں کسی ایک کو تو غدار نہیں کہا اور اس بات میں بھی شک نہیں کہ نادان دوست ہوشیار دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔ جو صحافی ہوشیار ہیں اور وہ ہر بات میں فوج کے پیچھے پڑنے سے باز نہیں رہتے ان سے زیادہ زید حامدجیسے لوگ ہی پاک فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر دونوں طبقے سے شعور میں اضافہ ہورہاہے۔ دونوں پر پابندی کی ضرورت نہیں ۔
پاک فوج پاکستان کے استحکام کا بنیادی ادارہ ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو ریاستِ پاکستان کا وجود نہ رہیگا، یہ نہیں کہ فوج غلطی سے پاک ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پہلا کٹھ پتلی بنایا گیا۔ پھر نوازشریف کو بھی بنایا گیا اور اب حد ہوگئی ہے کہ عمران خان جیسے کو بنایا جارہاہے۔ غلطیوں کا تسلسل باشعور لوگوں میں ہی نہیں زید حامد جیسے احمقوں میں بھی بڑا شعور اجاگر کررہاہے۔ عمران خان سے زیادہ شریفوں کی منافقت خطرناک ہے۔ شہبازشریف جنازہ کے موقع پر دکھا رہاتھا کہ بلور کی شہادت سے لاتعلق ہیں ، مریم نواز الزام لگارہی تھی کہ فوج ہماری وجہ سے ملک کو تباہ کررہی ہے۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔ سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر تو لہوبول اٹھے گا آستین کا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نواز و شہباز شریف کا منافقانہ رویہ ہے تو عمران خان بھی حق لاشریک نہیں البتہ PTMکے جوانوں کو اگر زبردستی سے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی تو بھی ان کی مظلومیت پکار اُٹھے گی۔ سیاسی قائدین میں ڈکٹیٹرشپ ہے ، منظورپشتین اپنی ڈکٹیٹر شپ کا ماحول قائم نہ ہونے دیں تو کامیابی ملے گی۔