دارالافتاء جامعہ العلوم السلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی :عطاء اللہ ۲۷،۲،۱۳۸ھ/۱۷۲۷(فتویٰ نمبر)

1593
0

السلام علیکم ! ہماری شادی کو 12سال ہوگئے ۔2سال بعد نشے کی حالت میں لڑائی ہوئی، اس حالت میں ان سے میں نے کہا’’مجھے طلاق چاہیے اور لے کر رہوں گی‘‘انہوں نے کہا ’’ جا، دی، دی، دی غرق ہوجا‘‘۔ میں اپنے گھر آگئی۔ 2مہینے بعد ہم نے رجوع کرلیا۔پھر دوبارہ3، 4سال بعد دوبارہ لڑائی ہوئی۔ نشے میں سسر کے سامنے اور انہوں نے(شوہر نے) سسر سے کہا کہ ’’یہ جائے گی تو میں اسے طلاق دیکر بھیجوں گا‘‘۔میں گھر سے نکل گئی۔ (آیا، اس صورت میں طلاق پڑگئی؟)۔ گھر والوں کے بیان سے طلاق ہوگئی۔ میں نے عدت بھی کی۔6ماہ بعد معلوم کروایا، تو کہا کہ نکاح ٹوٹ گیا۔ہمارا دوبارہ نکاح ہوا۔ ہم ساتھ رہنے لگے اور اب 4ماہ پہلے انہوں نے نشے میں کہا ’’میری طرف سے طلاق ہے، جا دی، کیا کرلے گی؟، جو کرنا ہے کرلے۔
آپ ہماری رہنمائی کرکے بتائیں کہ ہم کیا کریں؟۔ ہمارے والدین کہتے اور سمجھتے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے۔ کیا ہم شرعی طور پر دوبارہ رجوع کرسکتے ہیں یا پھر حلالہ کی صورت میں؟؟؟۔ اور اگر حلالہ ہوا تو کن صورتوں میں ہوگا؟؟۔ ہمارے تین چھوٹے بچے ہیں۔ جن کی خاطر ہم دوبارہ رضامندی کیساتھ دل سے توبہ کرکے دوبارہ رہنا چاہتے ہیں۔ کاشف حبیب، کورنگی کراسنگ اللہ والا ٹاؤن، 31.Bکراچی،فون:0315 8566993, 0323 3249241
الجواب حامدًاو مصلیاً صورت مسؤلہ میں سائلہ نے جب اپنے شوہر سے کہا کہ ’’مجھے طلاق چاہیے اور لیکر رہوں گی‘‘ ، اور شوہر نے اسکے جواب میں کہا’’ جا! دی، دی دی‘‘ تو شوہر کا اس طرح کہنے سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، نکاح ختم ہوچکاہے۔ اب رجوع جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، حلالہ شرعیہ کے بغیر جتنا عرصہ ساتھ رہے، یہ سب ناجائز و حرام تھا، علیحدگی کے بعد دونوں پر توبہ واستغفار لازم ہے۔ عالمگیری میں ہے: وفی المنتقیٰ امرأۃ قالت لزوجہا طلقنی فقال الزوج قد فعلت طلقت ۔(فتاویٰ عالمگیری: ۱/۳۵۶، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق)وفیہ أیضاً : وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقہا او یموت عنہا. (ج: ۱/۴۷۳)۔ امداد الفتاویٰ میں ہے : یہ زبان سے کہا ہے کہ میں نے طلاق دیدی دیدی دیدی ،کروجو کچھ کرتی ہو.. بعد تحریر جوابِ ھذا غور کرنے سے معلوم ہوا کہ مطلب اس شخص کا یہی ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں (امدادالفتاویٰ ۲ /۴۳۰،۴۳۱) فقط واللہ اعلم۔۔۔ کتبہ عطاء اللہ المنصور المتخصص فی الفقہ الاسلامی جامعہ العلوم اسلامیہ علامہ بنوریؒ ٹاؤن کراچی نمبر5۔ ۷/۳/۱۴۳۸ھ 7دسمبر2016ء الجواب صحیح مفتی ابوبکر سعیدالرحمن۔ مفتی محمد شفیق عارف
مفتی صاحبان نے یہ جواب دیا کہ پہلی بار دوسال بعد ہی تین طلاق پڑچکی ہیں،دوماہ بعد رجوع کرنا غلط تھا، اسکے بعد ازدواجی تعلقات حرام کاری اور اولاد ناجائز کا نتیجہ ہیں۔ یہ فتویٰ قرآن وسنت کیمطابق بالکل لغو اور غلط ہے۔نشے کی حالت میں طلاق کا فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ طلاق اصلاً نہیں ہوتی،شراب کی وجہ سے بطورِ سزا یہ حکم دیا گیاہے،یہاں شراب کے نشے کا بھی ذکرنہیں ہے، فقہاء کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی طرف سے طلاق نہ ہونے کے باوجود حلالہ کی سزا دیں۔ اسلام کو اجنبیت میں دھکیلنے والوں کے دن گنے چنے لگتے ہیں۔مشرکین مکہ کی جہالت میں دو مشہور جرائم تھے ایک میاں بیوی کے درمیان جدائی اور دوسرا بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا۔ زندہ دفن کرنے کی رسم تو ختم ہوگئی ہے لیکن میاں بیوی کو جدا کرنے کے حوالہ سے بہت ساری آیات کے باوجود اس غلط رسم کو بوجوہ جاری رکھاگیا، اہل علم ودانش اور اصحابِ حل وعقد کا فرض ہے کہ مخلوقِ خدا کی رہنمائی کرنے کا حق ادا کریں۔ عتیق گیلانی

binori-town-mosque-fatwa-triple-talaq