عدلیہ کو درپیش مشکلات اور ان کا حل: ایڈیٹر نوشتہ دیوار محمد اجمل ملک

343
0

chief-justice-saqib-nisar-iftekhar-ahmed-chowdhury-islamic-international-university-islamabad-justice-khosa-hudaibiya-paper-mills-siddique-kanju-Mustafa-Kanju

18فروری 2018کو مسلم لیگ ن کا شیخوپورہ میں یہ جلسہ ہوا تھا جس میں مریم نواز PTVپاکستان ٹیلی ویژن کے سرکاری میڈیا کو استعمال کرکے خطاب کررہی ہیں۔ اس جلسے سے مریم نواز اور نواز شریف نے بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں کو مخاطب کرکے جو کچھ کہا وہ تمام نیوز چینلوں نے عوام کو دکھادیا ہے۔ مریم نواز نے واضح طور پر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے منصفوں(ججوں ) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر کے دور میں جن ججوں نے نواز شریف کو طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں مجرم قرار دیا تھا اسی عدالت اور ججوں نے ڈکٹیٹر کی حکومت ختم ہونے کے بعد نواز شریف کو با عزت بری قرار دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ میری عمر اس وقت چھوٹی تھی اور میں نے جج سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ ’’اللہ کے عذاب سے ڈرو، نواز شریف بے گناہ ہے‘‘۔ آج ججوں کا حکم صرف نواز شریف کیلئے ہے ۔ ڈکٹیٹروں پر ججوں کا حکم نہیں چلتا۔ اصل عدالت عوام کی ہے۔ ججوں نے ایک دن اپنے کئے کا جواب دینا ہے۔
نواز شریف نے پچاس ، سو،ہزار، پانچ ہزار اور دس کا نوٹ دکھا کر عوام سے کہا کہ میں نے یہ کرپشن بھی نہیں کی، تم گواہی دیتے ہو؟۔ سب نے گواہی دے دی۔
جلسہ عام میں کوئی ایک بھی رجل رشید اور حُر نہیں تھا جو یہ کہتا کہ نا اہل وزیر اعظم پاکستان کا سرکاری ٹی وی اپنے خاندان کی جاگیر سمجھ کر کیسے استعمال کررہا ہے۔ اگر عدلیہ صرف سرکاری ٹی وی کو استعمال کرنے پر از خود نوٹس لیتی تو لوہاروں کے آہنی اعصاب کا دنیا کو پتہ چل جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح عمران خان کی طرف سے سرکاری ہیلی کاپٹر کا نوٹس لیتے ہوئے جیو ٹی وی چینل نے اس کی خوب تشہیر کی اگر سرکاری ٹی وی کے استعمال کا بھی نوٹس لیا جاتا تو نواز شریف اور اس کی صاحبزادی کو اپنی اوقات کا پتہ چل جاتا۔ سپریم کورٹ اور عدلیہ کے جج بھیگی بلی بن کر تو اپنی عزت برقرار نہیں رکھ سکتے۔ جو غلطیاں عدالت سے ہوئی ہیں ان پر پوری قوم سے معافی مانگی جائے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار ایک شریف النفس انسان ہیں، وہ نواز شریف کے کسی دور میں وکیل بھی رہے ہیں۔ جب ان کو افتخار چوہدری کے عروج کے دور میں لایا گیا تو اس پر تبصرے ہوئے کہ نواز شریف کے آدمیوں کو سپریم کورٹ میں جگہ دی جارہی ہے حالانکہ وہ پیپلز پارٹی کا دور تھا۔
نواز شریف آج کی عدلیہ کو سب سے بڑا طعنہ پی سی او ججوں کا دے رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کیساتھ جو چارٹر آف ڈیموکریسی نواز شریف نے سائن کیا تھا تو اس میں یہ بھی تھا کہ پی سی او ججوں کو بحال نہیں کرینگے۔ معاہدے کی رو سے نواز شریف کا فرض بنتا تھا کہ چوہدری افتخار سمیت کسی بھی پی سی او جج کو بحال نہ کرتے۔ نواز شریف عدلیہ کے ان ججوں کو بحال کرنے کے موڈ میں بھی نہ تھے مگر وکیلوں نے ورغلا کر عدلیہ بحالی تحریک میں شامل کیا جور یکارڈ پر ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی کہاوت پر عمل کرکے صدر زرداری کو طعنے دئے گئے کہ معاہدہ کوئی قرآن و حدیث تھوڑی ہے۔ تمام جماعتوں کے قائدین کو کسی ایک مجلس میں بلا کر عوام سے خطاب کا موقع دیا جائے تاکہ سیدھی سادی عوام کسی کے جھوٹ اور سچ کی جانچ پڑتال کرسکے۔
عدلیہ کے ججوں نے سب سے بڑی زیادتی یہ کی تھی کہ جن ججوں کو پرویز مشرف نے بھرتی کیا تھا ان کو پی سی او کی بنیاد پر عدلیہ سے نکال کر سزا دی گئی اور خود جنہوں نے کئی مرتبہ پی سی او کے حلف اٹھائے تھے اپنے آپ کو معاف کیا اور کسی بھی مذہب ، رسم و رواج اور قانون میں یہ نہیں ہوتا کہ اپنی غلطی معاف کرکے دوسرے کو سزا دی جائے۔ آج چیف جسٹس ثاقب نثار کہتے ہیں کہ میں افتخار چوہدری نہیں ثاقب نثار ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ افتخار چوہدری بھی کسی قابلیت اور کردار کے مالک نہیں تھے اور ثاقب نثار ایک شریف النفس انسان ہیں ۔ مگر جج کی حیثیت سے اگر آج چوہدری افتخار ہوتے تو عدلیہ پر حملے نہ کرنے دیتے۔
حدیبیہ پیپر ملز کے فیصلے نے نواز شریف اور مریم نواز کو موقع فراہم کردیا کہ وہ عدلیہ پر جتنے گرجیں برسیں وہ حق بجانب ہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں میں دو نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ نواز شریف پارلیمنٹ اور میڈیا میں دی گئی صفائی میں قطری خط کے ذریعے صادق و امین نہیں رہے۔ اسلئے نا اہل ہیں۔ تین ججوں نے جے آئی ٹی بنائی تھی۔ اس جے آئی ٹی میں دو اہم معاملات تھے ایک اقامہ اور دوسرا حدیبیہ پیپر ملز ۔ اقامے کے مسئلے پر نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا اور حدیبیہ پیپر ملز کا کیس کھولنے کیلئے نیب نے حکم دیا اور جب چیف جسٹس ثاقب نثار کے نائب جسٹس آصف سعید کھوسہ کے پاس رجسٹرار نے حدیبیہ پیپر ملز کا کیس لگایا تو جسٹس کھوسہ نے واضح طور پرکہا کہ میرے پاس یہ غلطی سے لگا ہے کیونکہ میں پہلے ہی پانچ ججوں کے ساتھ مل کر نیب کو حدیبیہ پیپر ملز کھولنے کا حکم دے چکا ہوں۔
سپریم کورٹ نے اپنے ہی پانچ ججوں کے فیصلے اور جسٹس آصف کھوسہ کی بدترین توہین کا ارتکاب کیا اور اس کیس میں تین ججوں کا بینچ بنادیا اور پھر فیصلہ دیا کہ میڈیا میں اس کو ڈسکس کرنے پر پابندی ہے۔ پھر تینوں ججوں نے ہمیشہ کیلئے حدیبیہ پیپر ملز کے کیس کو کھولنے پرپابندی لگادی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے شریف برادران سے کہا کہ ہم کسی کے ہاتھ میں کھیل رہے ہوتے تو حدیبیہ کا یہ فیصلہ اس طرح سے نہ دیتے۔ ایک سال تک پانامہ کیس میڈیا پر ڈسکس ہوتا رہا۔جھوٹ کے پلندے عوام کو ازبر ہوگئے۔ پارلیمنٹ میں نواز شریف کی تحریری تقریر اور میڈیا پر نواز شریف کی فیملی اور ن لیگی رہنماؤں کے علاوہ سب ثبوت بار بار عوام کو تفصیلات کے ساتھ دکھائے گئے۔ منی لانڈرنگ کے ذرائع اور اکاؤنٹ بھی بتادئے گئے۔
جب حدیبیہ پیپر ملز کے تمام شواہد اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو باقی معاملات میں بھی سزا دینے کی گنجائش رہتی ہے یا سپریم کورٹ کے جج اور نواز شریف مل کر پوری قوم کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں؟۔پلاسٹک کے جعلی شیر میں اتنی ہوا بھر دی گئی کہ وہ پھٹنے پر جی ایچ کیو کو بھی اڑانے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نواز شریف پر الزام یہ نہیں تھا کہ اس نے جعلی بندوق سے طیارے کو اغوا کیا تھا بلکہ وزیر اعظم کی حیثیت سے جہاز کو اترنے سے روکا تھا۔ جس میں جہاز کو اغواکرنے جتنی ہمت ہو وہ اپنی جان پر کھیل سکتا ہے، جو اپنی جان پر کھیل سکتا ہو وہ معاہدہ کرکے سعودی عرب جلا وطن نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ جنہوں نے لاہور ماڈل ٹاؤن میں گلو بٹوں کے ذریعے سے نہتے افراد کو مروادیا ہو تو اس کیلئے جہاز کو نہ اترنے کا حکم دینا بھی کیا بعید از قیاس ہوسکتا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تو زیادہ سے زیادہ احتجاج کی صلاحیت رکھتا تھا اور پرویز مشرف اس کو اپنی فیملی سمیت جلا وطن بھی کر سکتے تھے۔
اب تو شاید عدلیہ میں پی سی او ججوں کی باقیات بھی نہیں ہیں۔ عدلیہ سب سے پہلے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ان ججوں کو بحال کردے جن سے امتیازی سلوک کرکے فارغ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن ، ڈاکٹر منظور احمد جیسی شخصیات بھی پرویز مشرف نے کراچی یونیورسٹی اور اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں تعینات کئے تھے۔ ان ججوں میں اچھے ججوں کو منتخب کرکے بحال کرنے سے واضح ہوگا کہ عدلیہ اپنی غلطیوں پر خود توجہ دے رہی ہے۔ اسکے بعدسابقہ آرمی چیف پرویز مشرف کو انکی غیر موجودگی میں معزول کرکے جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے کہ درست تھا یا غلط۔ کیونکہ عدلیہ سندھ پولیس کے آئی جی اے ڈی خواجہ کو بھی بدلنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے تو کیا آرمی چیف کو پنجاب کی اشرافیہ برادری کو برطرف کرنے کا حق حاصل تھا؟۔
پھر ان جرنیلوں کو کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے یہ اقدام کیا کہ منتخب حکومت کو برطرف کرکے جلاوطنی پر مجبور کردیا۔ پھر ان ججوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے پرویز مشرف کو تین سال تک آئین میں مداخلت کی کھل کر اجازت دی۔ ان میں جو لوگ فوت ہوگئے ان کی قبروں پر علامتی سزا کی فاتحہ پڑھی جائے۔ اور جو زندہ ہیں ان کو عدالت میں کھڑا کرکے قوم کے سامنے پوری حقیقت واضح کی جائے تاکہ روز روز ڈگڈگی بجانے والے تماشہ نہ لگاتے پھریں۔ حقائق سامنے آجائیں گے تو کوئی پنڈورا بکس نہیں کھلے گا بلکہ سب ہی اپنی اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے پوری قوم سے معافی مانگیں گے اور اگر ان کی غلطی نہ ہوئی تو ان کو صفائی پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
لاکھوں کیس سماعت کے منتظر ہیں چیف جسٹس صاحب پتہ نہیں جانے یا انجانے میں عوام کے ان دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں جو ان کا فرض بھی نہیں۔ کراچی کی آبادی میں ڈیفنس کی شہرت ہے لیکن ڈیفنس میں پانی نہیں ہے۔ عدالت نے بلڈروں کیخلاف پانی کا نوٹس لیا اور ڈیفنس کو نہیں دیکھا تو عدلیہ کی عدالت پر عوام میں سوال اٹھنے لگے اور عدلیہ کا دفاع کرنا بھی آسان نہیں، عدلیہ نے ہسپتال کو دیکھنا شروع کیا ہے تو یہ فرض شناسی ہے یا فرائض سے پہلو تہی ہے؟۔ پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کی یہ سازش ہے یا شریف برادران کو مطمئن کرنے کی کوشش؟۔ اپنے کیسوں کی طرف توجہ نہ دینے پر بڑے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مریم نواز یا نواز شریف سے گریبان پکڑنے کا خوف ہو تو کراچی کی مہاجر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نہال ہاشمی کو سزا دینے سے مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ جبکہ اس سے کئی گنابڑھ کر پنجاب کے باسی عدلیہ کو مغلظات سے نواز رہے ہیں، ایک طرف ن لیگ عدلیہ پر ٹوٹ پڑی ہو، دوسری طرف دیگر عوام عدلیہ پر جانبداری کے قد غن لگارہے ہوں تو اس کے نتائج کیا برآمد ہوں گے؟۔ ایک مرتبہ چیف جسٹس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو پرویز مشرف کی حکومت چلی گئی۔ لیکن آزاد عدلیہ نے نہ اپنی صفائی کی اور نہ ہی غریب عوام کو کوئی ریلیف دیا۔ اس طرح عدلیہ کیسے مستحکم ہوسکتی ہے؟ جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور آنے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے مزاج اور عدل میں زمین آسمان کا فرق ہو۔ یہ صورتحال رہی تو عدلیہ پر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا پڑے گا۔ عدلیہ پر حملے اپنے لاڈلوں کی طرف سے ہورہے ہیں۔ باقی لوگوں کو اس مرتبہ تماشہ دیکھنے میں بڑا مزا آئے گا۔ وقار بلند کرنا ہو تو اقدامات کرنے ہونگے۔
شاہ رُخ جتوئی نے پولیس والے کے بیٹے شاہ زیب کو قتل کردیا تو افتخار چوہدری نے اپنی طاقت دکھا کر شاہ رُخ جتوئی کو دبئی سے انٹرپول کے بغیر واپس لانے پر مجبور کیا۔ اس پر 302کے علاوہ دہشتگردی کا دفعہ بھی لگادیا۔ 302 کے قتل میں والدین کی طرف سے دیت لے کر یا ویسے ہی معاف کرنے کی گنجائش تھی۔ پولیس والوں کا کام پیسہ لینا ہوتا ہے۔ شاہ زیب کے باپ نے دیت لی یا معاف کردیا اور ہائیکورٹ نے دہشتگردی کا دفعہ ختم کردیا۔شاہ رُخ کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ اب پھر چیف جسٹس نے ضمانت ختم کرکے شاہ رُخ کو پھانسی گھاٹ کی کال کوٹھڑی کا حکم دیا ہے۔ سندھ کا ایک باسی عدلیہ سے انصاف پارہا ہے۔
ن لیگ کے سابقہ وزیر صدیق کانجو کے بیٹے غلام مصطفی کانجو نے بھی پنجاب میں شاہ رُخ جتوئی کی طرح کسی بیوہ کے اکلوتے بیٹے کو شہید کردیا تھا۔ چوہدری افتخار کی کانڑی عدالت کو پنجاب میں دہشتگردی کا دفعہ نظر نہیں آتا تھا۔ اور غلام مصطفی کانجو پر شاہ رُخ جتوئی کے برعکس دہشتگردی کا دفعہ نہیں لگایا گیا۔ پنجاب کی غریب بیوہ نے سپریم کورٹ کے سامنے میڈیا سے کہاکہ اپنے شہید اکلوتے بیٹے کا بدلہ پوری دنیا بھی نہیں لیکن ان بد معاشوں سے مجھے خطرہ ہے کہ میری بچیوں کی عزتوں کو پامال نہ کردیں، اسلئے دست بردار ہورہی ہوں۔ عدلیہ کے ججوں کا ضمیر الیکٹرانک میڈیا بھی نہ جگاسکا۔ غلام مصطفی کانجو کو رہائی دیکر بیرون ملک بھیج دیا گیا۔ واہ بھئی واہ ، صد رحمت بابا رحمتوں پر۔
چیف جسٹس ثاقب نثار اگر اپنے ضمیر سے زنگ اور غبار ہٹانا چاہتے ہیں تو شاہ رُخ جتوئی کی طرح مصطفی کانجو کو بھی پھانسی گھاٹ کی کال کوٹھڑی تک پہنچائیں۔ یہ نہ کہیں کہ عدالت کے انصاف کا ترازو پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کیلئے ایک ہے اسلئے کہ شاہ رُخ جتوئی پر دوبارہ یہ مقدمہ چلا کر سندھیوں کو رلایا گیا تو پنجاب کی بیوہ کو بھی تو رلایا ہے یہی تو انصاف ہے۔ العیاذ باللہ استغفر اللہ۔ جس دن عدلیہ انصاف کرنا شروع کرے گی تو اس کو گالیاں بکنا بھی خود بخود بند ہوجائیگا۔ سول سوسائٹی کے جبران ناصر کو چاہئے کہ غلام مصطفی کانجو کی طرف بھی توجہ دلائے۔
لودھراں میں علی ترین کے مقابلے میں ن لیگ کی واضح جیت میں صدیق کانجو کی برادری کابھی اہم کردار ہے۔ یہ سیٹ جتوانے میں عدلیہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ راؤ انوار کے پیچھے چیف جسٹس کو بڑے لوگ تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ماڈل ٹاؤن میں سر عام قتل عام کے پیچھے بڑے لوگ اندھی عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ججوں کی نگاہوں سے اوجھل ہونگے۔ طالبان نے افغانستان میں انقلاب کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کو چند دنوں تک سولی پر لٹکا کر رکھا تو آج بہت لوگوں کو اپنے فعل پر ندامت ہے لیکن اگر پاکستان کی عوام کبھی اٹھے اور خدا نخواستہ خونی انقلاب آیا اور معتبر لوگوں کو سولیوں پر لٹکانا شروع کردیا تو تاریخ کا یہ سبق دنیا کیلئے بالکل بھی انوکھا نہ ہوگا۔ ہنگامی بنیادوں پر انصاف کی فراہمی کے بغیر خونی انقلاب کا راستہ روکا گیا تو اس میں نہ صرف سب کی بقاء ہے بلکہ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی ریاست ، ادارے، عوام ، قائدین اور علماء امامت کرنے کے قابل بن جائیں گے۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
دنیا نے طالبان اور داعش کے نام سے جو ایٹم بم تیار کر رکھا ہے اس کو پھاڑنے کیلئے ہمارا معاشرتی ، عدالتی ، سیاسی اور مذہبی نظام کافی ہے۔ جو لوگ خود پر بم باندھ کر پھاڑ رہے ہیں ان کو آخرت کی اُمید پر ورغلایا گیا ہوگا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار کرنا ممکن نہیں کہ جب غریب کیساتھ اس معاشرے میں ظلم و جبر ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں خود کشی کرنیوالے کبھی کبھی خود کش کرانیوالوں کے ہاتھ بھی چڑھ جاتے ہیں۔ پہلی مرتبہ عوام میں امریکہ سے مقابلے کی وجہ سے طالبان کو بھرپور مقبولیت ملی تو تمام سیاسی جماعتیں اور ملکی ادارے ان کے ایمان کو داد دینے پر مجبور تھے۔ انہوں نے یہ قربانی داد وصول کرنے کیلئے ہرگز ہرگز نہیں دی تھی۔ خود کش دھماکے کے بعد جن کے پڑخچے اُڑ جائیں ان کو کیا داد سے فائدہ پہنچ سکتا ہے؟۔ وہ نظام کی تبدیلی چاہتے تھے اور پھر طالبان کے سب سے بڑے حامی شریف برادران اور عمران خان یہ کریڈٹ لے رہے ہیں کہ ہم نے دہشت گردوں کو ختم کیا ہے۔ اب اگر وہ پلٹ کر آگئے تو کسی کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ ہمارے عدالتی نظام کی خرابیوں کو ہمارا جج طبقہ بھی نظر انداز نہیں کرسکتاہے۔ طالبان کیلئے جو فوجی عدالتیں تشکیل دی گئی ہیں ہمارے بدمعاش سیاستدانوں کیلئے طالبان سے زیادہ بڑھ کر مضبوط عدالتوں کی سخت ضرورت ہے۔ طالبان نے عدلیہ کے خلاف اتنا زہر عوام میں نہیں اگلا جتنا سیاستدان اگل رہے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
سینٹ کے الیکشن میں کروڑوں کی منڈیوں میں بکرے فروخت ہورہے ہیں اور یہ لوگ پاکستانی قوم کی غریب عوام کیلئے قانون سازی کا فریضہ انجام دیں گے۔ طالبان خیر اگرجبر و تشدد اور انتہا پسندی کو چھوڑ کر جمہوری میدان میں آئیں گے تو اسلام کے فطری احکام کو منوانے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ عدالتی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے مخلص اور بے لوث لوگوں کی ضرورت ہے۔ ایک الیکشن قوم کی اس بدترین حالت کو سدھارنے کیلئے ایسا ضروری ہے جو ایک پر امن انقلاب کا ذریعہ بن جائے اور پاکستان کی حالت اس قابل ہو جو دنیا میں تبدیلی کا بہترین ذریعہ بن جائے۔
الیکشن کو تجارت بنانے والوں نے اپنی تجوریاں بھر دی ہیں اور غریب عوام کو ریاست کا فائدہ پہنچنے نہیں دیا ہے۔ اگر عدلیہ نے الیکشن میں اپنی حدود سے زیادہ خرچہ کرنے والوں کو پکڑنا شروع کردیا تو تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما الیکشن سے باہر ہوجائیں گے۔ ریاست اپنی قوت کے ساتھ عملی میدان میں اترے تو کرپٹ مافیا کی جگہ اچھے لوگ پارلیمنٹ میں پہنچ کر اقتدار کا نقشہ بدل دینگے۔