چیف جسٹس ثاقب نثار کی تقریر اور عدالت کی صورتحال

396
0

 

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور اسکے ججوں سے جوگلے شکوے کئے ، پاکستان کی آزادی کیلئے قربانیوں اور اسلام کے حوالے دئیے ، جلد انصاف کے تقاضوں پر عمل کیلئے بھارت، چین اور برطانیہ کے اصلاحات کا ذکر کیااور قوم کو اچھے کی اُمید بھی دلادی۔ یہ سب ایک اچھے خطیب کی تقریر تھی جسکے جوہر ماننے کے قابل تھے لیکن اس سے قوم کی تقدیرقطعاً بدلنے والی نہیں ہے ۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے پارلیمنٹ میں تحریری تقریر کرکے واضح کیا تھا کہ ’’ 2005ء میں سعودیہ کی وسیع اراضی اور دوبئی کے اثاثے بیچ کر 2006ء میں لندن کے فلیٹ خریدے، جسکے تمام دستاویزی ثبوت اللہ کے فضل سے موجود ہیں اور بلاخوف تردیدعدالت ، میڈیا اور قوم کے سامنے پیش کرسکتا ہوں‘‘۔ عدالت نے ایک بہت بڑا وقت نوازشریف کیخلاف ثبوت مانگتے ہوئے گزار دیا مگر پارلیمنٹ میں تحریری تقریر اور اسکا جواب نوازشریف سے طلب نہ کیا، صادق اور امین نہ ہونے کیلئے بھی اقامہ کا سہارا لیا۔ چیف جسٹس خود نواز شریف کے وکیل رہے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’ نوازشریف کی یہ تقریرسیاسی تھی‘‘۔ بس نوازشریف کی طرح چیف جسٹس نے ایک سیاسی تقریر کرڈالی۔ ہمنوا خوش ہوگئے اور ناقدین نے کہا ہوگا کہ یہ اصل موضوع سے رُخ موڑنے ایک چال ہے۔

نیب کے قانون اور عدلیہ کے قانون میں بہت بڑا فرق ہے۔ حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ ’’ عورت کا شوہر نہ ہو اور اس کو حمل ہوجائے تو وہ عورت زانیہ ہے اور اس پر حد جاری ہوگی‘‘۔ جمہور ائمہؒ کے نزدیک حضرت عمرؓ نے درست قانون بنایا اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک یہ غلط قانون تھا، جب تک گواہی یا اقرار نہ ہو تو اس پر شرعی حد جاری نہیں ہوسکتی۔ پاکستان میں دونوں متضاد قوانین رائج ہیں۔ نیب کی طرف سے نوازشریف کو سزا دی گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا کو معطل کیا۔ شہبازشریف کو نیب نے پکڑلیا اور عدالت ان کو چھوڑ دے گی۔

میاں ثاقب نثار کو شریف برادران کے جلد انصاف کی فراہمی نہ ہونے کا غم کھا رہاہے۔ حمزہ شہباز کا بھی کہا تھا کہ ’’ مجھے حمزہ شہباز کی بے عزتی برداشت نہیں ‘‘اسلئے اپنے چیمبر میں اس کو اور عائشہ احد کو بلاکر نہ صرف صلح کرادی بلکہ میڈیا پر پابندی لگادی کہ اس حوالہ سے کوئی خبر شائع نہ ہو۔ ایسا توفوجی عدالتوں کے حکموں میں بھی نہیں ہوتا۔
قرآن وسنت کے قوانین میں کسی قسم کا تضاد نہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد میں واضح فرق ہے۔ حضرت عمرؓ اور جمہور ائمہؒ کے مقابلے میں امام ابوحنیفہؒ کے بعض قوانین قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں۔ عورت کو حمل پرسزا ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر حضرت مریم علیہ السلام کو سزا دی جاتی؟۔اللہ تعالیٰ نے حد جاری کرنے کیلئے چارگواہ یا اقرار کرنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ حد جاری کرنے سے انسان کو اسکا حق نہیں ملتا بلکہ اس سے اللہ کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے۔ مثلاً کسی نے زنا کیا یا چوری کی ہے تو اس پر زنا کی حد جاری کرنے سے یا چوری کی حد ہاتھ کاٹنے سے انسانی حق کا کوئی تعلق نہیں۔ ایک آدمی کے مال کو چوری کیا گیا ہے تو اس کا حق اپنامال ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنے سے اسکا تعلق نہیں ۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسے لوگ آتے تھے جنہوں نے زنا کیا ہوتا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی کوشش ہوتی تھی کہ ان پر حد جاری نہ ہو۔ حقوق اللہ کے معاملے میں صحابہ کرامؓ کے اندر بہت جذبہ ہوتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ دنیا سے پاک صاف ہوکر اٹھیں۔ دہشت گرد صحابہ کرامؓ کے پیروکار نہیں بلکہ دجال کالشکر ہیں۔ جتنے خود کش حملوں کے ذریعے وہ خود پھٹتے اور دوسرے لوگوں کو شہید کرتے تھے ،اگر وہ ایسا ماحول بناتے کہ اپنے آپ کو خود ہی شرعی حد کیلئے پیش کرنے کی جسارت کرتے تو دنیا میں اسلام بدنام نہیں نیک نام ہوتا۔ علماء ومفتیان نے ان کی درست رہنمائی کی ہوتی تو پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں تباہی نہ مچتی اور بہت سے مخلص لوگ بھی دجالی لشکر کا حصہ نہ بنتے۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے اپنے خلاف زنا کی گواہی دی ۔پھر نماز کا وقت ہوا، نبیﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد اس شخص سے کہا کہ نماز کی وجہ سے تمہاراگناہ دھل گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ اس کی گواہی مکمل ہوچکی ہے، نبیﷺ نے فرمایا ’’ عمر جانے دو، اس نے توبہ کی ہے‘‘۔ ایک خاتون نے نبیﷺ سے شکایت کی کہ انکے ساتھ فلاں شخص نے زبردستی زنا کیا ہے۔ نبیﷺ نے حکم جاری فرمایا کہ اس کو پکڑ کر لاؤ۔ وہ لایا گیا تو نبیﷺ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ اس کو پتھر مار مار کر ہی مار دیا گیا۔
زنا پر حد جاری کرنا جب حقوق اللہ کا معاملہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے در گزر فرمایا لیکن جب حقوق العباد کا معاملہ آیا تو اس پر کسی قسم کا کوئی ایک گواہ طلب نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت آپﷺ کا اجتہاد نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا جو اللہ کی کتاب قرآن مجید میں موجود تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے زنا کاری پر چار گواہ لانے کا حکم دیا ہے جبکہ زبردستی سے خواتین کیساتھ زیادتی کرنے والوں کی پہلے سے اللہ کی سنت کی خبردی ہے کہ جہاں پائے گئے ان کو قتل کردیا گیا۔ پاکستان کی عدالت، پولیس اور حکومتوں کو اسلامی تعلیمات قرآن وسنت کا ادراک نہیں تھا تو جو خواتین اپنے خلاف زبردستی کی شکایت کرتی تھیں تو ان سے گواہ کامطالبہ ہوتا تھا اور پھر چار گواہ نہ ہونے پران کو جیل بھیج دیا جاتا اور اس کو اسلام سمجھا جاتا تھا۔
اسلام کے علمبردار طالبان خود حد کیلئے پیش کرنے کے بجائے دوسروں کوہی گناہوں کی سزا دینے کے درپے رہتے تھے۔ علماء ومفتیان ، شیوخ الاسلام اور مذہبی جماعتیں وقائدین مسخ شدہ اسلامی تعلیم کیلئے احتجاج ریکارڈ کراتے تھے اور حکمران طبقے حقائق سے بے خبر اور جاہل تھے۔ جنرل پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کو تعزیرات میں شامل کرنے اور جماعت اسلامی کی طرف سے اس کے خلاف مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کی اشاعت ایک عجوبہ تھا۔ جس پر ہم نے ایک تحریر لکھ کر شائع کردی اور پھر جب پیپلزپارٹی کے دور میں قانون تبدیل ہوا تو احتجاج کی جرأت نہ ہوسکی۔ جس کی وجہ سے شکایت کنندہ خواتین کو رہائی مل سکی تھی۔لیکن زنا بالجبر کرنے والوں کیلئے آج تک شریعت کے مطابق سزا ممکن نہیں ہوسکی ۔
معصوم بچی زینب شہید اور دیگر معصوم شہداء بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد قتل کے مرتکب مجرم کو سنگسار کیا جاتا اور میڈیا اسے کوریج دیتی تو دنیا کا ہر ملک اس سزا کی بنیاد پر اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنے کی تحریک میں مدد گار ثابت ہوتا۔ سعودیہ اور ایران میں اسلامی سزائیں اتنی مؤثر اسلئے نہیں ہیں کہ وہاں مجرم کے جرائم کو اتنی کوریج نہیں ملتی اور دوسرے معاملات پر بھی قتل کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اوپن ٹرائیل سے حق وناحق تک پہنچنے کیلئے حقائق سامنے نہیں آتے۔
مدینہ کی ریاست کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا کہ جب ایک انتہائی سفاک مجرم کو سنگسار کرکے نشانِ عبرت بنایا جائے۔روز روز اغواء ہونے والی بچیوں بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو سیاستدان، جج اور جرنیل کھا پی کر موجیں اُڑائیں لیکن طوطا مینا کی کہانیاں سنا سنا کر قوم کومزید سن کرنے سے سخت پرہیز کریں۔