پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

743
0

turabul-haq-yousuf-ludhyanvi-shujaat-ali-qadri-janaza(2)

(مدرسہ نعیمیہ میں علامہ سید سعادت علی قادری اپنے بھائی سید شجاعت علی قادری کی میت کے انتظار میں (فروری 1993): بائیں سے مولانا ابرار احمد رحمانی ،علامہ شاہ تراب الحق قادری اور مولانا یوسف لدھیانوی ، علامہ سید سعادت علی قادری کے ساتھ۔ )

(نوٹ : یہ تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے جو آپ مندرجہ ذیل لنک پر چیک کرسکتے ہیں۔ )

https://en.wikipedia.org/wiki/File:Ulema_Janaza_Procession_Syed_Shujaat_Ali_Qadri.jpg

http://en.academic.ru/dic.nsf/enwiki/11775228
مولانا یوسف لدھیانویؒ اور علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کی تصویر حکومت اور عوام کی طرف سے شاہراہوں پر آویزاں کرنے کے لائق ہے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ نہ تو مولانا لدھیانویؒ بریلوی مکتب کو مشرک سمجھ کر ’’جہاں پالو قتل کردو‘‘ کا فتویٰ دیتے تھے اور نہ ہی علامہ تراب الحق قادریؒ دیوبندی کو گستاخ سمجھ کر انکے قتل کا فتویٰ دیتے تھے۔ کہاوت ہے کہ ہاتھی زندہ ہوتا ہے تو لاکھ کا ہوتاہے اور مرتاہے تو سوا لاکھ کا بن جاتاہے۔خوبی خامیاں سب میں ہوتی ہیں لیکن ان خفیہ گوشوں سے نقاب اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے قوم کا شعور بڑھ جائے۔

Attaur_Rehman_SissiPaleejo(2)

( بین الاصوبائی وزراء سیاحت اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر سیاحت مولانا عطاء الرحمن ، وزیر سیاحت آزاد کشمیر طاہر کھوکھر، وزیر سیاحت سندھ سسی پلیجو )

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان ؒ کا تعلق ملاعمرؒ کے شہر قندھار سے تھا۔ کسی سے نظرئیے اور عمل کا اختلاف نہ ہوتا تو عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے بھی ایک دوسرے کو قتل نہ کیا ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے سیاسی اور جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ آج مولانا الیاسؓ کی دعوت وتبلیغ نے مساجد کو رونق بخشی ہے اور مولانا الیاس قادری کی دعوت اسلامی نے مساجد کو نمازیوں سے بھرنے کی خدمت انجام دی۔ اللہ کرے کہ یہی لوگ مکہ مکرمہ کی طرح ساری عوام کو روزانہ مساجد میں لانے کے سنت طریقے کو اپنائیں ،خواتین اور بچے بھی باجماعت نماز میں آئیں۔

bukhari-ahmad-raza-molana-ilyaas(دائیں سے بائیں: اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ ، بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )

بھرچونڈی شریف دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر کے اکابرین ؒ کا مشترکہ مرکز تھا۔جس طرح سے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ مسجد نبویﷺ وکعبہ میں کون بیٹھا ہے، صلح حدیبیہ کے شرائط پر بھی زیارت کیلئے جاتے ہیں اس طرح تاریخی انقلابی مراکز کی اہمیت کو برقرار رکھناتھا، اگرعلامہ شاہ تراب الحق قادریؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ بھرچونڈی شریف، امروٹ شریف، ہالیجی شریف اور خانپور شریف اکٹھے جایا کرتے تو دونوں فرقوں میں انتشارو افتراق کی کیفیت کے بجائے اتحادو اتفاق اور وحدت کا راستہ ہموار ہوجاتااور یہ آج کے دور میں ہوسکتاہے۔

Pir-Saien-Abdul-Khaliq-Bharchundi-sharif(پیر سائیں عبد الخالق سجادہ نشین بھرچونڈی شریف، ڈھرکی سندھ۔ ہماری جماعت پہلے گئی تھی ،سائیں نے خوشی کا اظہار فرماکر تعاون کا یقین دلایاتھا۔)

ہم نے پاکستان میں بہت علماء ومشائخ سے ملاقات کرکے اتحاد واتفاق اور وحدت کے جذبے کو تقویت دینے کی کوشش کی۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خان محمد کندیاں شریف نے فرمایا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کو ساتھ کردیا تو بہت جلد کامیابی مل جائے گی مگر ہم نے کہا کہ نہیں وہ ملنا بھی چاہیں تو ہم نہیں ملائیں گے جس پر وہ زیادہ خوش ہوکر داد اور دعائیں دینے لگے۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی پیشکش تھی کہ ہمارے مدرسے کو اپنا مرکز بنالو، ہم نے معذرت کرلی کہ اپنی اجنبیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، جس پر بہت خوش ہوئے فرمایا کہ تمہاری پیشانی میں خلافت کی کامیابی کی جھلک دیکھ رہا ہوں۔ بیرشریف لاڑکانہ جمعیت علماء اسلام کے سابقہ امیر اور مولانا مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر بھی بہت تائید کرتے تھے۔ دیوبندی،بریلوی ، اہلحدیث اور شیعہ علماء کرام نے بڑے پیمانے پر ہماری تائیدکی لیکن ہم مشکل کا شکار ہوکر اس طرح سے چل نہ سکے۔ آج ہماری ریاست بھی فرقہ واریت ختم کرنا چاہتی ہے ۔ پاکستان کو اسلام کی قوت بچاسکتی ہے۔

Nawaz-Sharif-with-Afghan-War-Lords-hikmat-yaar(گلبدین حکمت یار اور نوازشریف کے درمیان کون صاحب ہیں؟۔ تاریخ کا ایک منظر، اب حالات بدل گئے ہیں یا کچھ نہیں بدلا ہے؟۔)

ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان بنایا، اسلام کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی اور اسلام کے نام پر فرقہ واریت کو پروان چڑھایا، اسلام کے نام پر ایک مخصوص کاز کی وکالت کرکے ہماری مذہبی جماعتوں کو بہت زبردست پذیرائی مل گئی۔ اب اپنے مفادات کے خول سے نکل کریہ قربانی دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان سے اسلامی نظام کے قیام کا عمل آئے۔ اسلام کی ایسی امامت کرنے سے گریز کرنا ہوگا کہ استنجاء بھی نہیں کیا ہو۔ سب سے پہلے خود احتسابی کرکے اپنی کمزوری کو دور کرنا ہوگا۔ اسلام ایک فطری دین ہے جس پر نہ صرف مسلم اُمہ بلکہ کفر کی دنیا بھی متفق ہوسکتی ہے۔ پاکستان میثاق مدینہ کے طرز پر وجود میں آیا تھا۔ نبیﷺ نے یہود، نصاریٰ، مشرکین اور منافقین سے معاہدہ کیا تھا کہ شہر اور علاقے کے تمام باشندوں کی جانوں اور عزتوں کی حفاظت مشترکہ ذمہ دار ی ہے۔ اس معاہدے کو دنیا کی کوئی طاقت بھی ایک وقتی سازش نہیں قرار دے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا وجود تو بہت بعد میں آیا ہے۔ نبیﷺ نے نبوت سے قبل مکہ میں جس حلف الفضول کو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب قرار دیا، اس میں اسلام سے پہلے ہر مظلوم کی داد رسی تھی۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت سے عرب میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہورہاہے ، اگر ہم نے فرصت کے ان لمحات سے فائدہ اٹھایا تو ناراض طالبان ، بلوچ ، مہاجر، سندھی، پٹھان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی قریب آجائیں گے اور بنگلہ دیش بھی الحاق کا اعلان کردیگا۔ کشمیروفلسطین کو بھی ظلم سے نجات مل جائے گی۔