دار العلوم کراچی نے حلالہ کا فتویٰ دیا…..

629
0

(کراچی) نمائندہ نوشتۂ دیوار قاری سلیم اللہ نے کہا کہ ڈیفنس ویو فیز 1 میں واقع شاگرد کی والدہ نے کہا کہ میری بہن کو اس کے شوہر نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں تو ہم نے دار العلوم کراچی سے رجوع کیا ۔ ان کا فتویٰ ہے کہ تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ حلالہ کے بغیر رجوع جائز نہیں ہے اور ہم حلالے کیلئے تیار نہیں اسلئے بہت پریشان ہیں۔ قاری صاحب نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ، قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی بنیاد پر بغیر حلالہ کے بھی رجوع کرنے کا جائز راستہ ہے۔ تو منیر صاحب کی زوجہ نے کہا کہ آپ میرے والدین ، بھائی ، ماموں وغیرہ کو بھی سمجھائیں۔ پھر نمائندہ نوشتۂ دیوار مولانا شبیر احمد اور حافظ طارق مدنی کو ساتھ لے کر ان سے ملے۔ ہم نے کہا کہ ایکساتھ تین طلاق دینے سے قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی بنیاد پر ایک طلاق واقع ہوئی ہے۔ جس کی تفصیل عتیق گیلانی کی نئی تصنیف ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ میں دیکھ لیجئے۔ ان میں کچھ لوگ سیخ پا ہوئے، کہا کہ ہمارا تعلق دار العلوم کراچی سے ہے ، ایک نے کہا کہ میرا ایک بچہ ابھی بھی دار العلوم کراچی میں زیر تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کس طرح سے کہتے ہو کہ رجوع بغیر حلالہ کے جائز ہے؟۔ جبکہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ہے کہ رجوع حلالہ کے بغیر جائز نہیں۔ تو ہم نے عتیق گیلانی کی کتاب اور اخبار نوشتۂ دیوار دے کر کہا کہ خودبھی پڑھ لیں اور دار العلوم والوں کو بھی دکھادیں۔ اگر عتیق گیلانی کی تحقیق غلط ہے تو دار العلوم کراچی سے جواب لائیں۔ ہمیں ابھی تک انہوں نے جواب نہیں دیا ہے، پھر وہ لوگ دار العلوم کتاب لے کر گئے، انہوں نے کتاب دکھا کر کہا کہ یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے ، تو مفتی صاحب نے کہا کہ دو طلاق واقع ہوئی ہے۔ میاں بیوی کو لے کر آؤ ہم انہیں بغیر حلالہ کے ملادیتے ہیں۔ آج وہ جوڑا خوش و خرم زندگی بسر کررہے ہیں۔ حال ہی میں مطلقہ کی بہنوئی اور بہن سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ قاری صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ آپکی وجہ سے میری بہن کو نئی زندگی مل گئی ہے۔

تیز وتند عبدالقدوس بلوچ

حضرت مولانا حضرت ولی ہزاروی اور دیگر دیوبندی مکتبۂ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی سے نوشتۂ دیوار کے وفد کی ملاقات کروائیں تاکہ دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔ تین طلاق ایک بن سکتی یا تین! مگر اس پر دو طلاق کا اطلاق کیسے ہوگا؟۔ حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ بہت سی احادیث درج کی ہیں اور ایک طرف مشکل ترین حالات کا ذکر ہے تو دوسری طرف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خوشخبری بھی ہے۔ اگر علماء ومفتیان کا رویہ بدل گیا اور اعلان کردیا کہ کوئی غلط طریقے سے حلالہ کے نام پر عزت نہ لوٹے تو بہت اچھا اقدام ہوگا۔ یہ پالیسی ترک کرنا ہوگی کہ جس کو چاہا حلالہ کے نام پر شکار کیا لیکن بادشاہوں کے بعد اب باشعور لوگوں کو بھی چھوٹ دینی شروع کردی اور غریب طبقے اور عام لوگوں کی جہالت کا فائدہ اٹھایا اور ان کو حلالہ کا شکار کردیا۔ یہ صرف دارالعلوم کا مسئلہ نہیں بلکہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور تمام دیوبندی بریلوی مدارس کا مسئلہ تھا اور اب بڑے مدارس کے بڑے مفتیوں کیلئے زباں کھولنا ضروری ہوگیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ بہت پیچیدہ اور رنجیدہ مغالطہ تھا جس پر دبیز پردے تھے۔ اب قرآن وسنت اور فقہی کتابوں سے اس کا ایک یہ انداز بہت قبولیت کا درجہ لے رہا ہے جوعتیق گیلانی نے بہت وضاحت کے ساتھ پیش کیاہے یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان میں اس پر حکومتی سطح پر عنقریب بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوتی نظر آرہی ہے۔ عبدالقدوس بلوچ