Home اداریہ درسِ نظامی کی اصلاح وقت کی اشدضرورت ہے… اداریہ نوشتہ دیوار

درسِ نظامی کی اصلاح وقت کی اشدضرورت ہے… اداریہ نوشتہ دیوار

498
0

مجھے علماء سے عقیدت ومحبت ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ میں زیادہ عقیدت و محبت مولانابدیع الزمانؒ سے ہے ۔ آپؒ کی تلقین مسلم اُمہ کے تمام مسائل کا حل ہے کہ ’’روزانہ قرآن کے ایک ایک رکوع کا ترجمہ وتفسیر سمجھنے کی کوشش کرو‘‘۔ ایک مرتبہ کسی آیت پر اشکال کے حل کا طلبہ کو ایک ہفتے کا وقت دیا کہ کتب تفاسیر میں تلاش کرو، جس سے پوچھنا ہوپوچھ لو،اور اسکا جواب لادو، سوال کا منہ سے نکلنا تھا کہ میں نے بے ساختہ جواب دیدیا۔ میری برجستہ اور خلافِ توقع بے صبری سے قدرِ ناگواری کا اثر بھی چہرے پر نمایاں ہوا پھر حسبِ معمول ہلکاسا تبسم فرمایا۔ اگر کسی نیک طینت بڑے سے بڑے عالمِ دین یا چھوٹے طلبہ پر درسِ نظامی کے حوالہ سے میری گزارشات پر اچانک ناگواری یا سوچنے سمجھنے کے بعد اطمینان کا اظہار ہو تو یہ ایک فطری بات ہے۔ میری تعلیم و تربیت عقیدت ومحبت کے ماحول میں ہوئی۔ فقہ کی کتاب کنزالدقائق میں100فیصد نمبر اورمولانا عبدالمنان ناصر نے میرے اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’عتیق کی بات درست ہے ، کنز والے کی غلط‘‘ تو مجھے کتنا بڑا حوصلہ ملا ہوگا؟۔ درسِ نظامی کی آخری تفسیر ’’بیضاوی شریف‘‘پر اشکال اٹھادیا تو مولانا شبیراحمد (رحیم یارخان والے) نے فرمایا کہ ’’ عتیق کی بات درست ہے اور بیضاوی نے غلط لکھا ہے‘‘ ۔ میں نے جاوید غامدی کے شاگرد ڈاکٹر زبیر سے اساتذہ کاذکر کردیاتو حیران ہوگئے۔ وہ اپنے استاذ کی طرف سے اختلاف کوشائستہ انداز میں برداشت کرنے تعلیم وتربیت کو باعثِ افتخار قرار دے رہے تھے۔
اصول فقہ کی تعلیم ہے کہ قرآن و سنت میں تطبیق (موافقت) ممکن ہو تو تطبیق پیدا کی جائے،پہلا سبق قرآن حتی تنکح زوجا غیرہ کاحدیث سے تضاد ہے کہ ’’ اللہ نے خاتون کی طرف نکاح کی نسبت کی‘‘۔یعنی ولی سے اجازت کی پابند نہیں، حدیث میں بغیر اجازت ولی اسکا نکاح باطل ہے۔(اصول الشاشی)۔ زنا بالجبر اور غیرت کے نام پرقتل کیخلاف پارلیمنٹ میں قانون بنا ، اس پر نیوز 1 چینل میں ڈاکٹر فرید پراچہ نے ’’فساد فی الارض‘‘ کا حوالہ دیکر اختلاف کیا۔ جاہل کو معلوم نہیں کہ دیوبندی بریلوی مدارس حنفی ہیں ، جماعتِ اسلامی اسی کی مقلد ہے، خواتین کا ولی کی اجازت کے بغیر شادی میں درسِ نظامی کا کردارہے۔قرآن نے یہودو نصاریٰ کو ولی بنانا منع کیا ، مذہبی طبقہ امریکہ کو سرپرست بنانا جائز اور دوست بنانا جائز نہیں سمجھتا۔ بکرکنواری اَیم طلاق شدہ و بیوہ ہے،قرآن و حدیث میں تضاد نہیں بلکہ توازن ہے۔ قرآن میں طلاق شدہ کو نکاح کی اجازت دی ہے ،تو نکاح کرانے کا حکم بھی ہے وانکحوالایامیٰ منکم (طلاق شدہ وبیواؤں کا نکاح کراؤ) اور حدیث میں کنواری ہی کیلئے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح باطل ،تو حدیث میں بیٹی کی اجازت کے بغیر باپ کا نکاح کرانا باطل ہے۔ دارالعلوم کراچی کے فاضل نے بتایا کہ ’’مفتی تقی عثمانی کی بیٹی کا ٹیوشن پڑھتے ہوئے استاذ سے معاشقہ ہوگیا تھا مگر مفتی تقی عثمانی نے اپنی بیٹی کا نکاح زبردستی سے اسکی مرضی کے بغیرکسی اورسے کردیاتھا‘‘۔
حنفی فقہ سے قرآن کے مقابلہ میں من گھڑت حدیثوں کا راستہ رک گیاتھا،باقی حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ ’’ حدیث صحیحہ کے مقابلہ میں میری رائے کو دیوار پر دے مارا جائے‘‘۔ علم وکردار کے لحاظ سے بہت سے علماء ومفتیان نے حق وصداقت کی راہ اپنانے کی بجائے مذہب کو پیشہ بنالیا ہے،اسلئے قرآن وسنت کے فطری دین کو ہردور میں اجنبیت کی منزلیں طے کرکے کہاں سے کہاں پہنچادیا گیاہے۔
نکاح و طلاق پر قرآن وسنت میں تضادو ابہام نہیں۔ قرآنی آیات اور احادیث کی طرف دیکھنے کی زحمت گوارا کرنے کے بجائے مسلکوں کی وکالت کی گئی ۔ صراطِ مستقیم نہیں پگڈنڈیوں کی بھول بھلیوں سے نصاب مکڑی کاجالا ہے۔ مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن کے جیب اور پیٹ بھرنے کا وسیلہ ہویا سیاسی حکومت کہدے، تو یہ لوگ امت پر رحم کھاکر درسِ نظامی کی تعلیم کو درست کرنے پر نہ صرف آمادہ ہونگے بلکہ عوام کے ایمان اور اسلام کیلئے اپنی خدمات بھی پیش کرینگے، اب تو یہ خانہ خراب سودی نظام کے جواز اور سیاسی خدمات کیلئے مرمٹ رہے ہیں۔
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک طلاق کے بعد عدت میں نکاح قائم رہتاہے، اسلئے ہر فعل وقول رجوع کیلئے معتبر ہے، پھر فقہاء نے غلطی سے شہوت کی نظر پڑنے ، نیند کی حالت میں میاں یا بیوی کا شہوت سے ہاتھ لگنے کو بھی رجوع قرار دیا جو غلو ہے ، شافعی مسلک والوں نے اسکے برعکس نیت نہ ہو تومباشرت سے بھی رجوع کو معتبر قرار نہیں دیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لاتغلوا فی دینکم ’’اپنے دین میں غلو مت کرو‘‘۔ اس سے بڑھ کر غلو (حدود سے تجاوز) کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟ ۔
قرآن وسنت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ ہے، اللہ نے ناراضگی وطلاق کی عدت بھی بیان کی ہے اور اس میں صلح و رضامندی سے مشروط رجوع کی اجازت کو بھی واضح کیا ہے، دونوں میں جدائی کا خوف ہو تو ایک ایک رشتہ دار دونوں جانب سے تشکیل دینے کی بھی ہدایت فرمائی ہے ، تاکہ ان دونوں کا ارادہ صلح کرنے کا ہو تو معاملہ سلجھ جائے اور اللہ تعالیٰ ان میں موافقت پیدا کردے۔اللہ نے باربار معروف طریقے سے رجوع یا معروف طریقے سے رخصت کرنے کا حکم دیا ہے۔ عربی میں معروف اور احسان کی ضد منکر ہے۔ نکاح، طلاق اور رجوع میں باربار احسان اور معروف طریقے کی تلقین کی گئی ہے۔ دورِ جاہلیت میں جو منکر صورتیں طلاق ورجوع کے حوالہ سے رائج تھیں اسلام نے ان سب کا خاتمہ کردیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق پر شوہر کے غیرمشروط رجوع کو ختم کیا تھا۔ اسلام نے محض طلاق کے بعد بھی شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق نہیں دیا ، حضرت عمرؓ کے اقدام کی اسلئے صحابہؓ نے توثیق کردی، اگرطلاق واقع نہ ہو تو عورت شادی نہ کرسکے،جیسے بہشتی زیور و بہارشریعت میں امت کے اس اجماع سے انحراف کیاگیا ہے ۔کسے یہ کیامعلوم تھا کہ باہمی رضامندی سے بھی رجوع کا راستہ بنداور حلالہ کا دروازہ کھول دیا جائیگا۔
حضرت عمرؓ کے کارناموں میں سرِ فہرست ہوگا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر سے رجوع کا حق چھین لیا،مگر اسکا مطلب یہ ہرگز نہ تھا کہ اللہ نے بار بار باہمی رضا سے عدت کا حوالہ دیکر رجوع کی گنجائش رکھ دی اور حضرت عمرؓ نے ان آیات کو منسوخ یا انکے احکام کو بھی مسخ کرکے رکھ دیا،بلکہ قرآن وسنت کی روح اور الفاظ کا یہ تقاضہ تھا کہ شوہر طلاق دے تو صلح کے بغیر اس کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔ عورت کو اس حق سے محروم سمجھا گیا تو حضرت عمرؓ نے ایک ساتھ تین طلاق کی صورت میں شوہر کو رجوع کے حق سے محروم کیاتھالیکن یہ محرومی صرف اس صورت میں تھی جب عورت صلح کیلئے رضامند نہ ہو۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے یکطرفہ رجوع کا حق نہ دینا اور طلاق واقع ہونے کا متفقہ فتویٰ تاکہ عدت کے بعد دوسری شادی ہوسکے دیگر بات ہے اور اس بنیاد پر باہمی صلح اور رجوع کا راستہ روکنا اور حلالہ پر مجبور کرنا قرآن اور انسانیت کو مسخ کرنا ہے۔ حضرت عمرؓ پر قرآنی آیات کو مسخ کرنے کے اقدام اور حلالہ کی لعنت کو جواز فراہم کرنے کا الزام لگاکر سنی مکتبۂ فکر نے اہل تشیع کو صحابہؓ سے بدظنی پرمجبور کیا اور اپنوں کاحلالہ کی لعنت سے کباڑا کردیاہے۔
کالعدم سپاہ صحابہ جماعتِ اہلسنت اور کالعدم فقہ جعفریہ وحدت المسلمین کوایک ہی اسٹیج سے کھڑے ہوکر قرآنی آیات ، احادیث صحیحہ اور فاروق اعظمؓ کے اقدام کی درست توجیہ سے پاکستان کو ایران و سعودیہ عرب اور عالم اسلام کا امام بنانا ہوگا۔اور طلاق کے متعلق قرآن وسنت کیخلاف غیرفطری تصور کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ شوہرایک طلاق دے تو عورت کی دوسری جگہ شادی کے بعد بھی پہلا شوہر دو طلاق کا مالک ہو۔