جب قرآن کو قرآن نہ مانا جائے تو اسلام کے خلاف اس سے بڑی سازش کیا ہوسکتی ہے؟

879
0

dars-e-nizami-me-hei-keh-quran-se-murad-quran-ke-nuskhe-nahi-yeh-nuqoosh-hein-jo-na-lafz-hein-na-maani-hukumat-or-riasat-notice-le

جمہوری نظام کا تعلق اقتدار سے ہے، آئین میں طے تھا کہ 15سال تک انگریزی چھوڑ کراردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائیگا اور تمام قوانین اسلام کے مطابق ہونگے۔ پارلیمنٹ کی اکثریت کو آج بھی انگریزی نہیں آتی مگر پھر بھی 44سال سے تمام سرکاری دستاویزات کو اردو میں نہ بدلا گیا اور نہ بدلنے کا کوئی پروگرام ہے۔ حافظ حمداللہ نے بتایا کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی ساز ش ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت کوئی دوسری جماعت اس کیلئے کھڑی نہ تھی۔ جمعیت علماء اسلام نے خود بھی اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ عمران خان نے اقتدار کیلئے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین سے بھی ملاقات کی تھی اور پارلیمنٹ میں ان کیلئے وعدہ بھی کیا تھا۔ اس وعدے کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پارلیمنت میں اس ترمیم کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی، شیرین مزاری و عمران خان نے بھی اس ترمیم کے علاوہ دوسری چیزوں پر اعتراضات اٹھائے۔ ان سب کے خیال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قادیانی تھے اور ان کی ناراضگی مول نہ لے سکتے تھے۔ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی میں اس ترمیم کے خلاف آواز اٹھ گئی مگر کسی کی کان پر جوں نہ رینگی، جب پاک فوج کے ترجمان نے یہ وضاحت کردی کہ ’’آرمی ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہ کریگی‘‘ توحکومت نے یوٹرن لیامگر بات دھرنے تک جاپہنچی۔
میڈیا ،پاک فوج، سیاستدانوں اور علماء ومفتیان کی توجہ ہم اپنے اخبار اور کتابوں کے ذریعے سے مسلسل اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرتے رہے ہیں کہ اسلامی مدارس میں قرآن کی تعریف میں تحریف کا ارتکاب کیا گیاہے لیکن جس طرح ختم نبوت کی ترمیم کے مسئلہ پر جلاؤ گھیراؤ ہوا، اس طرح جلاؤ گھیراؤ سے پہلے مخلص شخصیات اور اداروں کواپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔ سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، تحریک طالبان اور مختلف دھڑوں کی افزائش کے بعداب تحریک لبیک یارسول اللہ نے اپنی جگہ بنالی ہے۔ طالبان بریلوی مکتبۂ فکر والوں کو مشرک قرار دیکر قرآن کا حکم سمجھ کر قتل کرتے تھے، بریلوی دیوبندیوں کو گستاخ قرار دیکر ان کو قتل کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ کے قتل پر بریلوی مکتبۂ فکر نے خوشی میں میٹھائیاں بانٹیں تھیں۔
بریلوی دیوبندی کے علاوہ حنفی اہلحدیث کے نام پر بھی فرقہ وارانہ شدت موجود ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی کا عسکری ونگوں سے بھی گٹھ جوڑ ہے۔ تحریک طالبان مجھ پر بریلوی کا ٹائٹل لگارہی تھی اسلئے میرا گھر تباہ کیا گیا، اگرچہ جمعیت علماء اسلام ف و س اور ختم نبوت کی ضلعی قیادت اور ٹانک کے تمام دیوبندی علماء تحریری اور تقریری حمایت بھی کرتے تھے۔ مذہبی جنونیت علم نہیں جہالت کی وجہ سے ہی پروان چڑھتی ہے، علم کو عام کرنے کیلئے نصاب کو درست کرنا ضروری ہے۔ مدارس کی مقبولیت بھی اسی میں ہے۔
جب مدارس میں قرآن کی یہ تعریف پڑھائی جائے کہ کتاب وہ قرآن ہے جو مصاحف میں لکھاگیاہے مگر اس سے مراد کتابت کی شکل میں موجود قرآن نہیں ، یہ نقش ہے جو نہ الفاظ ہے اور نہ معنیٰ ہے۔ تو سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ انوکھی تعریف کہاں سے لائی گئی ہے۔ کتاب تو وہی ہوتی ہے جو کتابت کی صورت میں موجود ہو۔ کوئی ان پڑھ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے؟، بچہ اور بچی بھی سمجھ رکھتے ہیں کہ کتاب کیا ہے؟ اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔
کتاب کی یہ تعریف قرآن مجید سے نہیں بلکہ علم الکلام سے لی گئی ہے۔ علم الکلام وہ علم ہے جس کو گمراہی قرار دیکر امام ابوحنیفہ ؒ نے تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ فرمائی تھی۔ یہ کس قدر ڈھیٹ پن ہے جس میں آنکھ بینائی، کان سننے ، دماغ سوچنے اور دل سمجھنے سے محروم ہیں کہ یہی کہاجاہے کہ کتاب سے مراد قرآن المکتوب فی المصاحف ’’ جومصاحف میں لکھا گیاہے‘‘ ہے مگر قرآنی نسخوں میں لکھاگیا مراد نہیں ہے کیونکہ وہ تو محض نقوش ہیں۔ چناچہ فقہ کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف کا کفارہ دینا پڑیگا مگر قرآن کے مصحف پرہاتھ رکھنے سے حلف منعقدنہیں ہوتا کیونکہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر یہ بات بھی ہے کہ فقہ حنفی کی معتبر کتب میں لکھا گیاہے کہ سورۂ فاتحہ یا دیگر آیات کو علاج کیلئے بول یعنی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی کتابوں ’’ تکملہ فتح الملہم ‘‘ اور ’’ فقہی مقالات‘‘ میں لکھ دیا تھا کہ’’ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں لکھاہے کہ اگر یقین ہو کہ علاج ہوجائیگا تو سورۂ فاتحہ کو بھی پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ میں نے کوشش کے باجود امام ابویوسفؒ کی کتابوں میں یقین کی شرط نہیں پائی‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے دعوتِ اسلامی کی مہم جوئی سے گھبرا کر روزنامہ اسلام اخبار میں مضمون لکھ کر اپنی کتابوں سے اس کو نکالنے کا اعلان کردیا۔ مگرفتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ قاضی خان میں تاحال یہ عبارات موجود ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی شرح صحیح مسلم میں اتنا لکھاکہ ’’علامہ شامیؒ سے بال کی کھال اتارنے کے چکر میں غلطی ہوگئی ہے ورنہ ان کے دل میں قرآن کا بڑا تقدس تھا‘‘۔ تو بریلوی مکتب کے علماء نے ہی علامہ سعیدیؒ کا گریبان پکڑا تھاکہ تم نے علامہ شامی کے خلاف یہ جسارت کیسے کردی۔
تحریک انصاف کے ایک مفتی عبدالقوی قندیل بلوچ کیس میں ریمانڈ پر ہیں تو دوسرے مفتی سعید خان نے بھی اپنی کتاب’’ ریزہ الماس‘‘ میں سورۂ فاتحہ کو پیشاب لکھنا نہ صرف جائز قرار دینے کا دفاع کیا ہے بلکہ یہانتک لکھ دیا ہے کہ قرآن میں خنزیر کا گوشت بوقت ضرورت جائز ہے تو وہ جسم کا حصہ بھی بنتاہے جبکہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جسم کا حصہ نہیں بنتاہے۔ یہ کتاب 2007 میں شائع ہوئی ۔ مفتی سعید خان سے بالمشافہ علماء کی مخالفت بھی کی۔
قرآن میں ہے :الذین یکتبون الکتاب بایدیہم ’’جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب وہ ہے جو ہاتھ سے لکھی جاتی ہے۔ وقلم ومایسطرون ’’قسم قلم کی اور جو کچھ سطروں میں لکھاہے اس کی قسم ‘‘۔ اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں قرآن وسنت کیخلاف واضح مواد نے علماء ومفتیان کو گمراہی میں ڈال دیاہے۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے موجودہ دور میں مساجد کے علماء کو احادیث کی بنیاد پر بدترین مخلوق اور مدارس کے مفتیوں کو جاہل قرار دیاہے جبکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتاب’’ تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ میں علماء کے اٹھ جانے سے علم کے اٹھنے و جاہلوں کا رئیس بننے کی اس حدیث کو چار امام کے بعدہی تمام آنیوالے علماء پر فٹ کیاہے۔ مفتی تقی عثمانی نے ٹھیک بات کہی ہے گو اسکا ارادہ باطل ہے۔ جیسے حضرت علیؓ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’ ان کی بات درست ہے مگر وہ اس ٹھیک بات سے باطل مراد لیتے ہیں‘‘۔
اپنی کتابوں’’ ابررحمت ،تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوارحل‘‘ میں پیچیدہ مسائل کے آسان حل کی کوشش کی ہے جسکی تمام مکاتبِ فکر نے تائید بھی کردی ہے۔ بڑے بڑوں نے گدھوں کی طرح آنکھ بند کرکے سمجھ رکھاہے کہ مذہب کی تجارت چل رہی ہے مگر ڈریں اسوقت سے جب مکافات عمل شروع ہوگا اور پھر ہمارے بچانے سے بھی یہ سب بچ نہ پائیں گے۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ نے جس علم الکلام کو گمراہی قرار دیا تھا وہ اصول فقہ میں قرآن کے خلاف سازش یا غلطی سے شامل ہواہے تو اس کو نصاب سے خارج کردینا چاہیے تھا، جس کی ہم نے بار بار زبردست طریقے سے نشاندہی کی۔ جب قرآن میں بسم اللہ کے وجود کو صحیح قرار دینے کے باوجود مشکوک کہا جائے تو قرآن پر ایمان باقی نہیں رہتا، جہری نمازوں میں جہر سے بسم اللہ پڑھنے پر امام شافعیؒ کو رافضی قرار دیاگیا اور منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا تو آج خطرہ ہے کہ جہری بسم اللہ پر خود کش نہ ہوجائے۔ افراتفری کی فضاء سے علماء اور حکمرانوں کو سخت نقصان پہنچے گا جو آرام سے کھا پی رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور مفتی رفیع عثمانی اتنی مہربانی کریں کہ اپنی اپنی کتابوں میں حدیث کے ادھورے حوالہ کی عوام کے سامنے صرف وضاحت کردیں تاکہ گونگا شیطان یا علم چھپانے کی وعید سے بچ جائیں اور 12امام کادرست نقشہ بھی سب کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے بھی اپنی کتاب ’’تصفیہ مابین شیعہ و سنی‘‘ میں لکھا کہ’’ بارہ امام آئندہ آئینگے‘‘۔ جس حدیث میں آخری امیر کو واضح کیا گیا ہے اسی میں قحطانی امیر سے قبل والے مہدی کی بھی وضاحت ہے۔ اجنبی کیلئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اس پر قرآن اپنی عظمت کے ساتھ روشن ہوگا‘‘۔ آج ہمیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔