درس نظامی کے اصول اور ان سے انحراف کی تعلیم، مدارس اور انکے علماء و مفتیان

608
0

darse-nizami-ke-usool-aur-un-se-inheraf-ki-taleem-madaris-aur-unke-ulmaa-o-muftian

پیپلزپارٹی کی رہنما سسی پلیجو سابق وزیر سیاحت کیساتھ وزیر مملکت مولانا عطاء الرحمن تھے۔ سسی پلیجو نے میڈیاپروگرام میں بتایاکہ مولاناحمداللہ رہنما JUI نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھانے کو قانون بنانیکی قرار داد تھی جس کو انہوں نے ناکام بنایا کہ غیرمسلم کیلئے یہ کیسے ممکن ہوگا؟، یہ قدم قابل تعریف ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ سے پہلے مولانا یوسف لدھیانوی کی تقریر میں سنا کہ ’’ قرآن کے نسخے پر حلف نہیں ہوتا، یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ نقشِ کلام ہے‘‘ ۔ تو بڑا تعجب ہوا کہ جاہل عوام اور علماء میں اتنا فرق ہے کہ علماء کے نزدیک قرآن کے نسخے پر حلف نہیں ہوتا اور اللہ کے کلام کا لفظ کہنے پر حلف ہوتاہے جبکہ عوام قرآن کے نسخے پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے سے گھبراتے ہیں اور ویسے قرآن کا لفظ کہہ کر بے دھڑک قسم کھاتے ہیں۔
جامعہ بنوری ٹاؤن میں اپنے استاذ مولانا مفتی عبدالسمیع سے بحث کایہ نتیجہ نکلا کہ انہوں نے قرآن کا نسخہ دکھایا کہ یہ اللہ کتاب ہے؟۔ میں نے کہا کہ نہیں،تو مجھے کافر قرار دیا۔ جب میں نے مولانا یوسف لدھیانوی کا بتایا توکہنے لگے کہ تم لوگ پڑھ کر آتے ہو اور مقصد استاذ کو ذلیل کرنا ہوتاہے۔ پھر چوتھے سال نورالانوار میں پڑھا کہ المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئے قرآنی نسخے نہیں بلکہ 7 قاریوں کے الگ الگ قرآن ہیں کیونکہ لکھے ہوئے نقوش الفاظ اور معانی نہیں ہیں۔ جس پر کوئی تعجب بھی نہیں ہوا اسلئے کہ میرے علم یہ بات آئی تھی ،البتہ یہ معلوم ہوا کہ مولانا لدھیانوی بڑے عالم ہیں اور مولانا عبدالسمیع کی قابلیت زیرو ہے۔ پھر مفتی تقی عثمانی کی کتاب’’ فقہی مقالات‘‘ میں دیکھا کہ ’’ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے، صاحب ہدایہ‘‘ تو دماغ پر بوجھ آیا اور بنوری ٹاؤن سے حوالہ دئیے بغیر خلاف فتویٰ لیا۔ اخبارمیں شائع کیا تو مفتی تقی عثمانی نے عوامی دباؤ سے تنگ آکر اپنی دوسری کتاب ’’تکملہ فتح الملہم‘‘ سے بھی نکالنے کا اعلان کیا۔ سمجھ میںیہ بات نہیں آتی کہ صاحب ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں یہ کیسے جائز قرار دیا، جو فتاویٰ شامیہ و قاضی خان میں بھی ہے۔ پھر اصول فقہ کا سبق یاد آگیا جو تحریری شکل میں قرآن کو الفاظ اور معانی نہیں مانتاہے اور فقہ میں قرآن پر حلف بھی نہیں ہوتا ہے۔ اصول فقہ میں قرآن کی تعریف آیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پڑھنے اور پڑھانے والے اسکے بھیانک نتائج سے عاری ہیں، اس تعریف کی اصل وجہ علم الکلام ہے جسے حضرت امام ابوحنیفہؒ نے کھلی گمراہی قرار دیکر توبہ کرلی۔ نادان مسلکی فقہاء نے مغالطے سے پھر اس کی گمراہی نصابِ تعلیم میں داخل کردی ہے۔
اصولِ فقہ کا یہ قاعدہ ہے کہ قرآنی آیات سے حدیث ٹکراتی ہوتو اسے مسترد کردیا جائیگا۔ بہت سی احادیث پیش کی گئیں جو آیات سے نہیں ٹکراتی ہیں مگر خود ساختہ قیاس کے ذریعے سے ان احادیث کو بالکل رد کردیا گیاہے۔ یہ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کا تقویٰ تھا کہ اللہ نے مجھ جیسے طالبِ علم کو اس ادارے میں تعلیم کا موقع دیا اور اسکے علاوہ دیگر مدارس میں موقع ملاتھا تو ان اساتذہ کرام کا مشکور ہوں جنہوں نے میری طرف سے تعلیمی نصاب پر حوصلہ دیا تھااور امید ظاہر کی تھی یہ بڑا کام میں کرلوں گا۔
مجھے تبلیغی جماعت کا بھی شکریہ ادا کرنا ہوگا کہ جہاں سے انبیاء کرام ؑ کی طرف بلا اجرت تبلیغ کی تعلیم وتربیت ملی تھی اور اس ذہنیت کی وجہ سے دارالعلوم کراچی کورنگی میں داخلے کے باوجود مجھ سے کہا گیا کہ آپ کا داخلہ نہیں ہوا۔
مولانا سیدیوسف بنوریؒ کی خواہش تھی کہ کوئی اچھا سا تعلیمی نصاب مرتب کیا جائے مگر وہ اس خواہش کو پورا نہ کرسکے۔مفتی محمودؒ نے بھی بعض کتب کو درسِ نظامی سے نکالنے کا کہا مگر جب وہ مدرس تھے تو کراچی سے ڈھاکہ تک مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ؒ کے فتوے کی زد میں آئے، جب خود مفتی اعظم بن گئے تو سیاست سے فرصت نہیں تھی۔ مفتی رفیع عثمانی ومفتی تقی عثمانی نے زکوٰۃ کے مسئلے پر بھی ان کی بات نہیں مانی۔ مولانا فضل الرحمن پر بھی شروع میں علماء ومفتیان کا متفقہ فتویٰ آیا تھا جسکا دفاع میری قسمت میں تھا۔ میرے اشعار سے فتویٰ انجام کو پہنچا۔ پھر ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ پر بھی فتوے لگائے گئے اور بکاؤ مال نے شکست بھی کھالی۔ ٹانک کے تمام نامور علماء کرام کی طرف سے میری کھل کر تائید ہورہی تھی جن کا تعلق علماء دیوبند سے تھا۔ جمعیت علماء اسلام (س+ف) اور ختم نبوت کے ضلعی امیر سب ان میں شامل تھے۔ مجھے امید ہے کہ جسطرح مفتی تقی عثمانی نے اکیلے پرواز کرکے معاوضہ سے سودی نظام کو جواز بخشا ہے تو جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے نصاب اور فتوے کی اصلاح کا عمل بھی انشاء اللہ ضرور شروع ہوجائیگا۔
دارالعلوم کراچی کورنگی میں مفتی عبدالروف سکھری مفتی شفیع کے داماد ہیں ، اسکی نالائقی کا یہ عالم ہے کہ ٹی وی سے چپک جانیوالی مردہ لڑکی کا من گھڑت واقعہ بھی بیان میں بتایا۔ اب اسکے بیٹے حسان سکھروی نے یہ فتویٰ لکھ دیا ہے کہ ’’حاملہ عورت کیلئے بھی لفظی تین طلاق کے بعد حلالہ کرنے کا اطلاق ہوتاہے‘‘۔ باقی صاحبان لگتاہے کہ اللہ کا خوف کھارہے ہیں، مفتی عصمت اللہ نے کافی عرصہ سے ایسا کوئی فتویٰ نہ دیا۔ اندرونی صفحہ 3پر فتویٰ اور اسکے خلاف دلائل ملاحظہ کریں۔ان پر غور کرکے اسلام کے نام پر جہالت کے فتویٰ سے باز آجائیں۔ اللہ بنوری ٹاؤن کو ہمت کی توفیق دے۔ یہ وقت بہت نازک آگیا ہے۔