مفتی شفیع کے نالائق نواسے کا حاملہ عورت کو تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ

1030
0

darul-uloom-karachi-korangi-hamla-aurat-ko-talaq-per-halala-ka-fatwa

جامعہ دار العلوم کراچی کورنگی سے مفتی محمد شفیعٌ کے نالائق نواسے حسان سکھروی نے پھر حاملہ عورت کو تین طلاق پر حلالے کا فتویٰ دیا

دور جاہلیت کے حلالہ سے قرآ و سنت میں چھٹکارے کا پہلا طرز عمل

درسِ نظامی اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں واضح ہے کہ ’’ جس طلاق میں حلال نہ ہونے کا ذکر ہے وہ اپنے ماقبل فدیہ دینے کی صورت سے حنفی مسلک کے نزدیک خاص ہے ‘‘۔

علامہ ابن قیم نے زادالمعاد میں ابن عباسؓ کایہ قول نقل کیا ہے کہ ’’طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کی صورت دومرتبہ طلاق اور فدیہ سے خاص ہے‘‘۔

جاہلیت کا ایک غلط رواج ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ اور عدت کے اندر تاحیات باربار رجوع کی گنجائش تھی ۔ اس پر تفصیل کیساتھ اللہ نے سمجھایاہے کہ رجوع باہمی صلح سے مشروط ہے۔

اللہ نے تین طلاق کو الفاظ کے بجائے عدت کے تین ادوار میں طہرو حیض کیساتھ خاص کیا۔ رجوع کیلئے عدت رکھی اور حلالہ کی خاص صورت واضح کی

طلاق معاشرتی مسئلہ تھا اور قرآن نے معاشرتی انداز میں اسے حل کیا ہے۔ ایک طرف عورت کو طلاق کی صورت میں بھی اپنی مرضی سے شادی نہ کرنے دیجاتی تھی تو دوسری طرف رجوع کیلئے باہمی رضا مندی کے باوجود ان کورجوع نہیں کرنے دیا جاتا تھا اور حلالہ پر مجبور کیا جاتا تھا۔ سورہ بقرہ کی آیات میں بہت واضح انداز میں بھرپور وضاحتیں ہیں۔ پہلی وضاحت یہ کہ طلاق سے رجوع کا تعلق باہمی صلح اور رضامندی سے ہے۔ دوسری وضاحت یہ ہے کہ عورت پرعدت تک انتظار لازم ہے اورحمل کی عدت بچے کی پیدائش اور حیض کی عدت طہرو حیض کے تین ادوار ہیں۔ طہرو حیض کے تین ادوار کے دروان شوہر صلح کی شرط پررجوع کا زیادہ حقدار ہے ۔ سوال پیدا ہوگا کہ زیادہ حقدار کیوں کہا؟۔ جس کا جواب یہ ہے کہ خلع کی صورت میں نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’عورت ایک حیض کے بعد شادی کرسکتی ہے‘‘۔ شوہر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے تو عورت تین حیض نہیں ایک حیض کے بعد شادی کرسکتی ہے، جب شوہر غلام ہو تو حدیث میں آتاہے کہ شوہر کی طلاقیں دو اور بیوی لونڈی ہو تو اس کی عدت دو حیض ہے۔ عورت 3حیض سے عدت پوری کرے اور شوہر طہرمیں پرہیز سے3 مرتبہ طلاق دے۔یہ قرآن و سنت میں بالکل واضح ہے۔ کوئی آیت، حدیث ، صحابہؓ اور اماموں کاایسا قول نہیں کہ تین طلاق پرعدت تک انتظارکے بعد حلالہ کرنے کا حکم ہو۔ قرآن میں 2مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دی گئی کوئی چیز واپس لینا حلال نہیں۔ جب دونوں اور فیصلہ کرنیوالے با ہوش و حواس فیصلہ کریں تو پھر وہ چیز فدیہ کرنے میں حرج نہیں اور یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوزکرنیوالے ظالم ہیں۔ پھر طلاق دی جائے توعورت کیلئے دوسری جگہ مستقل شادی کا حکم ہے ، شوہر کیلئے رکاوٹ ڈالنا حلال نہیں ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد سورہ بقرہ کی آیت نمبر 231اور 232میں تسلسل کیساتھ پھر وضاحت فرمائی ہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی معروف طریقے سے جب دونوں باہمی رضامندی سے صلح کرنا چاہتے ہوں تو رجوع کرسکتے ہیں۔
قرآن میں باہمی رضامندی کی صلح کو ہی معروف طریقے کی رجوع قرار دیا گیا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اسکے بالکل برعکس منکر طریقے سے رجوع کو انتہائی بیوقوفی سے اُمت مسلمہ میں رائج کرنے کی بڑی بدعت ڈالی گئی ہے۔ حنفی مسلک کے کتب میں رجوع کیلئے نیت شرط نہیں، اگر شوہر رجوع نہیں کرنا چاہتا ہو مگر بے دھیانی میں شہوت کی نظر بیوی پر پڑ گئی تو رجوع ہوگا۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیند کی حالت میں بھی شوہر کا ہاتھ لگ جائے تو رجوع ہوگا۔ اس سے بڑی بات یہ کہ نیند میں ہاتھ لگنے کی صورت میں بیوی کی شہوت بھی معتبر ہوگی۔ فقہی کتابیں عجائبات سے بھری ہیں

دور جاہلیت کے حلالہ سے قرآ و سنت میں چھٹکارے کا دوسرا طرز عمل

سورۂ طلاق کی میں عدت کے اندر ہی رجوع کی تفصیل بتادی اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع اور ہمیشہ رجوع کا دروازہ کھلا رہنا واضح کردیا

ابوداؤد کی روایت میں مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی اُم رکانہؓ سے ابورکانہؓ کو سورۂ طلاق کا حوالہ دیکر حلالہ کے بغیر رجوع کرنیکا نبیﷺ نے حکم فرمادیا

عدت کی وضاحت کیساتھ باہمی صلح سے بار بار قرآن کی اجازت سے خود کو زبردستی سے اندھا کرنیوالے قیامت کو نابینا بن کر اٹھ سکتے ہیں العیاذ باللہ

اللہ نے فرمایا کہ ’’جو یہاں اندھا تھا وہ قیامت میں بھی اندھا رہے گا‘‘ ،خودکو اندھا بنانیوالا کہے گا کہ ’’ مجھے کیا ہوا کہ دیکھ نہیں رہا اور میں تو دیکھتا تھا‘‘۔

جب اللہ نے سورۂ بقرہ کی آیات میں بہت تفصیل سے واضح کردیا کہ تین طلاق کا تعلق طہرو حیض کی عدت میں تین مراحل سے ہے۔ ان مراحل میں صلح سے رجوع کا دروازہ بالکل کھلاہے۔ معروف طریقے سے رجوع کا مطلب بھی باہمی صلح ہے اور قرآن میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حلالہ کے تعلق کو عدت کے دوران دومراحل میں دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے تیسری مرتبہ رجوع کرنے کے بجائے طلاق کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی حدتک بھی محدود نہ کیا بلکہ مزید وضاحت بھی کردی کہ دونوں اور معاشرے نے باہوش و حواس یہ فیصلہ کردیا تو فدیہ دینے میں حرج نہیں اور ان حدود سے تجاوز کرنا جائز نہیں، اسی صورت طلاق دینے کے بعد شوہر کیلئے یہ اجازت نہیں کہ عورت کا نکاح کسی اور سے کرانے میں رکاوٹ ڈالے۔ اس کو اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے دیا جائے۔ سورہ بقرہ کی آیت 230سے پہلے اور بعد میں خوب وضاحت ہے کہ عدت سے پہلے اور عدت کے بعد باہمی صلح سے رجوع ہوسکتا ہے۔ 228،229اور231،232 کی آیات میں واضح ہیں۔ صاحبِ ہدایہ ، فتاویٰ شامیہ ، قاضی خان ودیگر فقہاء نے جس طرح سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا جواز لکھا تھا اور100فیصد غلط تھا، اسی طرح حلالہ کیلئے بھی تمام حیلے بہانوں کے حوالے قرآن وسنت اور شریعت و عقل کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ علماء وفقہاء نے حیلوں سے عوام کی عزتوں کو حلالہ کے نام پر تار تار کرناہے۔ خاندانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔ اسلئے سورۂ طلاق میں مزید وضاحت سے بتادیا کہ طلاق کا تعلق عدت کے مراحل سے ہے۔ تکمیل عدت پر رجوع کرو اور طلاق کا حتمی فیصلہ کرنے کی صورت میں دوعادل گواہ مقرر کرو۔ جو اللہ سے ڈرا، اللہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادیگا۔ سورۂ طلاق بھرپور وضاحت کرتاہے مگر حلالہ والوں کو نشہ لگ گیاہے۔
حلالے کی لعنت نے فقہی کتابیں لکھنے والوں کے دماغ کو اتنا خراب کردیا ہے کہ قرآن کے روشن دلائل ان کے حلق سے نہیں اترتے۔ لیکن غیر فطری طلاقوں کے عجیب و غریب قسم کے مسائل پر ان کو یہی یقین ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سب کا سب درست ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
قرآن میں وضاحت ہے کہ شوہر کا بیوی پر عدت کا حق ہے اور بیوی کو عدت میں انتظار کا حکم ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی اس کی بھرپور وضاحت ہے۔ انسان کی فطرت بھی اس کو قبول کرتی ہے لیکن یہ فقہاء اور محدثین کا کمال ہے کہ کسی ضعیف روایت پر عجیب و غریب خلاء تک بلڈنگ تعمیر کرلی۔ ایک عورت کو شوہر ایک طلاق دیتا ہے اور دو اپنی جیب میں رکھ لیتا ہے۔ پھر دوسری ، تیسری ، چوتھی ، پانچویں سے ہزار اور ہزار سے زیادہ شادیوں تک نکاح کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو سب کی دو ، دو طلاقوں کی ملکیت عورت پر باقی ہونگی۔