زنا و چوری کی سزا (منکرات)

617
0

مسلمانوں کو یہ معلوم نہیں کہ منکرات اور جرائم کس مصیبت کا نام ہے۔ معروف میں اختلاف اور معروف کا نہ کرنا جرم سمجھا جانے لگاہے۔ جب یہ کہا جائے کہ زنا، قتل، رشوت، شراب، جواء، شرک اور تمام جرائم سے بڑا جرم نماز کا چھوڑ دینا ہے ۔ فون کی گھنٹیوں پر یہ پیغام عام ہو، کسی عالم دین، صحافی، میڈیا اور حکمران کو اسکے خلاف بات کرنے کی بھی جرأت نہ ہو تو اس سے زیادہ امت کا زوال کیا ہوسکتاہے؟۔ سیون شریف میں دھمال کرنے والے نمازی نہیں تھے تو اچھا ہوا کہ ان کو اس جرم کی سزا مل گئی؟۔ اکثریت نماز نہیں پڑھتی تو دہشت گرد صحیح کررہے ہیں کہ خود کش حملوں سے اڑا تے ہیں۔ اکثر میڈیا چینلوں پر جس شخصیت کو سب سے مقبول اور معتبر بناکر پیش کیا جارہاہے اگر اس کی آواز میں لوگوں کو مژدہ سنایا جائے تو رشوت ، سود، قتل، زنا، زنابالجبر اورہر طرح کے جرائم میں ملوث لوگ صرف نماز پڑھ کر بری الذمہ ہونگے؟۔ قرآن و سنت میں زنا بالجر اور قتل کی سزا قتل اور سنگساری ہے۔ زنا کی سزا 100کوڑے، بہتان کی سزا80کوڑے ہیں۔ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ بے نمازی کی سزانہیں۔
مولانا طارق جمیل عوام کے سامنے خطاب کریں کہ صحابہ کرامؓ نے اپنے خلاف گواہی دیکر سنگساری کی سزا کھائی۔ کسی نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیاتوخود کو سنگساری کیلئے پیش کرکے دنیا میں صاف ہوکر قبر میں جائے۔ زنا کی سزا100کوڑے ہیں ،کچھ عرصہ گھر سے غائب ہونا گناہ کی تلافی نہیں بلکہ کوڑے لگنے سے قرآن میں بیان کردہ اللہ کے حکموں پر عمل ہوگا۔ یہ جھوٹی رٹ ہوگی کہ اللہ کے حکموں میں کامیابی اور غیروں کے حکموں میں ناکامی کا یقین دلوں آجائے مگر جو لوگ زنا بالجبر ، زنا، قتل ، بہتان اور چوری کی سزائیں معاشرے میں رائج کرنا چاہتے ہوں ان کیخلاف غلط پروپیگنڈہ کیا جائے ۔ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ چوری کرو تو چلہ لگاؤ، زنا کرو،بہتان لگاؤ تو چار ماہ لگاؤ اور قتل کرو توسال لگاؤ اور زنابالجبر کرو تو ڈیڑھ سال لگاؤ۔ طالبان کے دور میں تبلیغی اجتماع ہوا کرتا تھا تو طالبان جنگ بندی کا اعلان کرتے۔ کچھ لوگ اپنے اوپر شرعی حدود نافذ کرنے کیلئے خود کو پیش کردیتے تو اسلام کا دنیا میں ڈنکا بج جاتا۔ جرائم پیشہ عناصر طالبان کا لبادہ اوڑھ لیں یا تبلیغی جماعت کا، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تبلیغی جماعت میں علماء کو بھی چھ نمبر سے باہر نکلنے نہیں دیا جاتا تو اللہ کے وہ احکام جو جرائم کے حوالہ سے قرآن میں ذکر ہیں ان پر عمل در آمد کیلئے ماحول کیسے بنے گا؟۔ تبلیغی جماعت میں سونے جیسے لوگوں کی کمی نہیں ۔
تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے رہنما اور کارکن بہت ساری الجھنوں میں پڑنے کے بجائے چیدہ چیدہ معروف احکام اور منکرات و جرائم کی سزائیں سکھا کر ماحول بنائیں تاکہ لوگ قرآن کی ان آیات سے آگاہ ہوں جن میں جرائم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔ اگر لوگ صرف ان لوگوں کے طریقۂ کار سے راہِ راست پر آسکتے تھے تو پھر قرآن میں جرائم اور ان کی سزاؤں کے احکام کیوں ہوتے؟۔ اللہ کی طرف سے یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو عقیدت اور محبت ہے ، ان کیلئے قرآن کے احکام کا پیغام بہت مقبولیت کا باعث بنے گا۔ مذہبی سیاسی لوگوں میں بھی بہت قیمتی شخصیات ہیں اور اگر وہ قرآن کے احکام کامنشور عام کردیں، لوگوں میں شعور بیدار کریں، مظلوموں کی مدد کا جذبہ پیدا کریں تو مذہبی طبقات کے آپس میں ٹوٹے ہوئے دل جڑ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے محبت رکھتی ہے لیکن انکے پاس علم اور شعور نہیں ۔فرقہ وارانہ جذبے اور تعصب سے فائدہ اٹھانا اسلام نہیں۔ قرآن و سنت سے قریب کرنے کا طرزِ عمل روزِ محشرنبیﷺ کے سامنے سرخرو کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کی یہ شکایت پہلے سے لکھ دی کہ رب ان قومی اتخذوا ھٰذا القران مھجورا ’’ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ علماء دیوبند انگریز کیخلاف لڑ رہے تھے تو مولانا الیاسؒ نے اخلاص کیساتھ تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔ جس طرح قرآن پڑھنے کیلئے نورانی قاعدے کو مقبولیت ملی لیکن قائدہ پڑھنے کو ہی منزل سمجھ لینا بڑی جہالت ہے۔ تبلیغی یہی کررہے ہیں۔
جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتیں کسی مخصوص فکر کو ترجیح دینے کے بجائے قرآن و سنت کو مساجد سے زندہ کرنا شروع کریں تو مذہب کے نام پر فتنہ وفساد ، اختلاف وانتشار، جھگڑے اور خلفشار کا خاتمہ ہوسکتاہے۔ جماعت اسلامی پہلے کئی رتبہ بڑے بحرانوں سے گزر چکی ہے، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کی دھڑی بندیاں بھی مخفی نہیں۔ تبلیغی جماعت کے مرکز بستی نظام الدین میں اختلاف جنگ میں بدل رہاہے۔ حاجی عبدالوہاب اور مولانا الیاسؒ کے پوتے مولانا سعد تبلیغی جماعت کے مرکزی شوریٰ کے دس ارکان میں آخری بچے ہیں جن میں انتشار کا آغاز ہوا ہے۔