Home agreement-marriage ڈیڑھ ہزار سالہ جشن اسلام کانفرنس اکتوبر 2019 ء لاہور انشاء اللہ

ڈیڑھ ہزار سالہ جشن اسلام کانفرنس اکتوبر 2019 ء لاہور انشاء اللہ

170
0

منشور:انسانی حقوق: قرآن اورخطبہ حجۃالوداع 

قرآن نازل ہوا تو انسان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا تھا۔ عباد غلاموں کو کہتے تھے۔ غلام و لونڈی نکاح کے حق سے محروم تھے۔ جس پر غلامی کا دھبہ ہوتا اسکے ساتھ مشرکینِ مکہ کے جاہل نکاح گوارا نہ کرتے تھے۔ لونڈی نکاح کے حق سے محروم تھی۔ بیوہ اور طلاق شدہ خواتین کو نکاح کیلئے ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔
بھارت کے ریٹائرڈ چیف جسٹس مرکنڈے نے اپنی تقریر میں سامعین سے کہا کہ ’’ تم جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا سمجھتے ہو، میں تمہیں جاہل سمجھتا ہوں۔ آپ کی تعلیم بالکل برائے نام ہے۔ آج اگرتمہاری بیٹی کسی دلت(اچھوت) سے شادی کرنا چاہے تو تم اس کو فوراً قتل کر ڈالوگے اور پھر تم ایک انسان نہیں حیوان بن جاؤگے، تمہاری تعلیم دھری رہ جائے گی ، میں تمہیں پڑھا لکھا نہیں بلکہ جاہل ہی سمجھتا ہوں ، کوئی بھی پڑھا لکھا نہیں ۔ اپنا دعویٰ چھوڑ دو‘‘۔
قرآن اور نبی کریم ﷺنے جاہل عوام کو انسانیت کے مقام پر کھڑا کردیا۔ مسلمان قرآن کو ترک کرکے پھر حیوان سے بدتر بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے انسانوں کو جانور بلکہ ان سے بدتر قرار دیا۔ انگریز عدالتیں ظالم کے ظلم کو نہیں روک سکتی ہیں۔ ظلم کے خاتمہ کیلئے انسان کو حیوان کے درجے سے نکال کر انسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انسان و حیوان میں بنیادی فرق ظلم ہے۔
ارشادِنبوی ﷺ ’’ خبردار ظلم نہ کرنا ، خبر دارنہ کرنا، خبردار ظلم نہ کرنا۔ مسلمانو! اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوط تھام لو۔ مسلمانو! تمہارا مال، تمہاری جانیں اور تمہاری عزتیں حرمت والی ہیں۔ کسی مسلمان کے مال میں سے کچھ لینا جائز نہیں، ہاں اگر وہ راضی ہو۔ مسلمانو! شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ نماز پڑھنے والے اس کی پرستش کریں لیکن وہ تمہارے اندر رخنہ اندازی کریگا‘‘۔
آخری خطبے کے الفاظ ،منکر اور معروف کے کچھ جملے1991ء میں ہم نے پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں لاؤڈ اسپیکر سے سنائے۔ وقت کیساتھ ساتھ ہمیں تحقیق سے پتہ چلا ،کہ تصویر ناجائز نہیں تو ہم نے کھلے دل کیساتھ اپنے اخبار اور کتابوں میں مؤقف بھی بدل دیا۔ آج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن کو رسمی طور پر قبول کیا لیکن عملی طور پر نہ صرف عام مسلمانوں نے بلکہ مدارس کے نصاب اور مروجہ مسائل میں مذہبی طبقہ بھی قرآن سے بالکل بے خبر ہے، فرقہ وارانہ مسائل پر لڑنے والوں نے قرآن کی اس تعلیم کو ترک کردیا جو انسان کو حیوان کے درجے سے نکال کر درست مسلمان بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وانکحوا الایامیٰ منکم والصالحین من عبادکم وایمائکم ’’اور نکاح کراؤ، اپنی طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا اوراپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا‘‘۔ قرآن کا یہ اعجاز تھا کہ محروم طبقات کا نام لیکر ان کے نکاح کا اہتمام کرنے کاپورے معاشرے کو حکم دیا۔ ایک ہندو بیوہ یا طلاق شدہ خاتون مسلمان ہوجائے تو اسکے ساتھ شادی کرنے کیلئے ہم تیار نہیں ہوسکتے ہیں لیکن جوان بچیاں گھر سے بھاگ کر شادی کرلیں تو پھر یہ قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ سندھ کے اندر دوبہنوں کا اسلام قبول کرنا اور دو شادی شدہ افراد کا انکے ساتھ نکاح کرنا ایک تازہ مثال ہے۔
سندھ میں کتنی طلاق شدہ و بیوہ خواتین شادی کیلئے ترستی ہونگی۔ پاکستان ودنیا بھرمیں کتنی طلاق شدہ وبیوہ ماحول کو بگاڑ رہی ہونگی مگر انسے مسلمان شادی نہیں کرتے۔ سعودی عرب نے اس گھمبیر مسئلے کا حل مسیار نسبتاً زیادہ مدت تک متعہ کی اجازت سے نکال دیا۔ ایران میں متعہ کے نام پر خواتین کو لونڈیوں سے بھی بدتر بنادیا گیا۔ ہیرہ منڈی کی خواتین پھر بھی گناہ اور توبہ کے تصور سے کچھ نہ کچھ سدھرنے کی بھی اُمید رکھتی ہوں گی لیکن متعہ ومسیار کا تصور بظاہر مغرب کے گرل فرینڈز سے بدتر اور انسانیت کی تذلیل ہے ۔ دبئی میں فحاشی کے سرِ عام اڈے ہیں اور پاکستان کی حالت سب سے بدتر اسلئے ہے کہ ریاست کے اہلکار بھی دلائی میں نہ صرف شریک ہیں بلکہ شریفوں کو بھی کراچی کے ساحلِ سمندراور لاہور کے ہوٹلوں میں پھنسانے کے جھانسے استعمال کرتے ہیں۔
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے برائیوں کواچھائیوں سے ہی بدلنے کا ٹھیکہ خود بھی اٹھایا ہے ۔مسلمانوں اورانسانوں کو بھی بار بار یہ ترغیب دی ہے۔ قرآن وسنت میں نکاح اور ایگریمنٹ کا جائز تصور موجود ہے۔ اور اسلام نے دنیا کے ہرقوم ومذہب کے اندر انکے قانونی نکاح اور بدکاری کے تصور کو درست قرار دیا۔ ہندو جو نکاح کرتے ہیں ، اسلام میں وہ قابلِ قبول اور دنیا کے تمام مذہب کے قوانین اور تصورات درست ہیں۔ دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کیا جاتا تھا تو اللہ نے منع فرمایا اور واضح کیا کہ مگر جو پہلے ہوچکا ہے۔ آج ایران ، سعودی عرب اور مغربی ممالک میں جو نکاح اور ایگریمنٹ کا تصور ہے وہ بھی قابل قبول تو ہے لیکن بہتر کیا ہے؟۔ اس پر بحث اور مکالمے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن نے لونڈی بنانے کے طریقۂ کار کو آل فرعون کی کارکردگی قرار دیا ۔ ظاہر ہے کہ قرآن اس کی حمایت کررہا تھا، نہ ہی مسلمانوں کو آل فرعون کی راہ پر ڈال رہا تھا، تاہم مروجہ برائی کو قبول کرکے اس کو درست راہ پر ڈالنے کی بنیاد ڈالی۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھا،وہ ایک نیشنلسٹ مسلمان تھے ۔ انکے دماغ میں غلام ولونڈی کے حوالے سے قرآن کا یہ نقشہ بیٹھ گیا تھا کہ ’’ غیرقوم کو لوگ اہمیت نہیں دیتے ۔پردیسی قوم سے تعلق رکھنے والی خواتین لونڈیاں تھیں۔ قرآن میں اپنی قوم کی زیادہ سے زیادہ چار اور غیرقوم سے لاتعداد لونڈیوں سے ایگریمنٹ کا تعلق واضح ہے‘‘۔ علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے لکھ دیا کہ ’’ قرآن میں برائی کے بدلے برائی ہے، دنیا غلام و لونڈی بناتی تھی تو اسلام نے بھی اجازت دیدی اور اب جبکہ پوری دنیا اس بات پر متفق ہوچکی ہے کہ لونڈی اور غلام بنانا غیر قانونی ہے تو اسلام بھی کسی کو اب لونڈی وغلام بنانے کی اجازت نہیں دیتا ‘‘۔
اگر ایک ہندو اپنی قوم کے دلت اچھوت کو نچلے درجے کا انسان سمجھتا ہے۔ سفید فام گورے کالے انسانوں کو قانونی طور پر نہیں لیکن حیوانیت کے جذبے سے غلام سمجھتے ہیں اور ہمارے سیاستدان، علماء ، فوجی افسران ، بیوروکریٹ ، جاگیردار اور سرمایہ دار غریبوں و خواتین کو اچھوت ولونڈی کا درجہ دیتے ہیں تو قرآنی قوانین اور اخلاقیات سے ہم نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔
اسلام نے اللہ کے سواء غیروں کی بندگی کا تصور لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر ختم کر دیا۔ البتہ عوام کے دل ودماغ کا لحاظ رکھتے ہوئے غلاموں کیلئے ’’عباد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ’’ مؤمن عبد( غلام) مشرک سے بہتر ہے ،اگر چہ تمہیں اچھا لگے اور مؤمنہ لونڈی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہتر لگے‘‘۔قرآن مجیدمیں رسول اللہﷺ کا خلق عظیم انسانیت کیلئے اعلیٰ نمونہ قرار دیا گیا لیکن ہم قرآن وسنت کے بنیادی قوانین سے بھی بالکل عاری ہوچکے ہیں۔مینار پاکستان میں تمامِ مکاتب کے علماء کرام ، دانشور اور عوام کو مشترکہ دعوت ہے۔ حقائق کے چند نمونے ماہنامہ نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل 2019، صفحہ نمبر2اور4پر دیکھ لیجئے گا۔