دہشتگردی کا خاتمہ خلافت کے قیام سے ممکن ہے

533
0

dehshat-gardi-misaq-e-madina-mufti-rafi-usmani-zina-bil-jabr-daish-khilafat-daily-jang-newspaper

جب امریکہ نے پہلی مرتبہ اُسامہ بن لادن پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا اور اس میں ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی بھی شہید ہوگئے تو اس وقت ہم نے اپنے ہی اخبار ماہنامہ ضرب حق کراچی میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت اور سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا ، اسلام خلافت کے قیام کے بعد اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے ، پھر جزیہ کا مطالبہ کرتا ہے اور اسکے بعد جہاد کا مسئلہ آتا ہے۔ جب مدینہ منورہ میں خلافت کا قیام عمل میں آیا تھا تو میثاق مدینہ میں یہود بھی شامل تھے اور نصاریٰ بھی۔ منافق بھی اپنے سردار عبد اللہ ابن اُبی کی صورت میں موجود تھے۔ نبوت کا دعویٰ کرنے والا ابن صائد بھی مدینہ منورہ کی گلیوں میں کھلے عام بلا خوف و خطر گھومتا تھا۔
دہشت گردی کی بنیاد انتہا پسندی ہے ، انتہا پسندی انسان کی ذہنیت و فطرت سے ایک مخصوص ماحول کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہے۔ جانور اور پرندوں میں بھی یہ غیرت ہوتی ہے کہ اپنی مادی کیساتھ کسی کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر دہشت گردی پر اتر آتے ہیں۔ انسان کیلئے برداشت کی اس سے بڑھ کر کوئی بات نہیں ہوسکتی کہ اپنی زوجہ کو کسی دوسرے کے ساتھ کھلی ہوئی فحاشی کی صورت میں دیکھ لے۔ قرآن نے کھلی ہوئی فحاشی پر بیوی کو گھر سے نکالنے اور نکلنے کا مسئلہ واضح کیا ہے۔ اور عدالت میں لعان کی صورت پیش کرکے مقدمہ دائر کرنے کی تلقین کی ہے۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ سے لیکر موجودہ دور تک ہم قرآن کی ان آیات کو عملی طور پر قبول کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ بد قسمتی سے جو لوگ قرآن کی واضح آیات کو بھی قابل عمل سمجھنے سے انکاری رہے ہیں وہ اپنی بیگمات حلالہ کیلئے بہت ہی بے غیرتی کے ساتھ خود ہی پیش کردیتے ہیں۔
جس دن قرآن کریم کی آیات کو توجہ سے پڑھنے کی کوشش کی اور معاشرے کی جان حلالے کی لعنت سے قرآن و سنت کے مطابق چھڑائی تو بہت معاملات حل ہوجائیں گے۔ عالم انسانیت کے سامنے مسلمانوں کا قرآن کیخلاف بالکل غیر فطری رویہ قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے اپنے خلاف گواہی دیکر اپنے اوپر حد جاری کروائی لیکن شدت پسندوں نے خود پر حد جاری کرنے کے بجائے دوسروں پر خودکش حملوں سے اسلام کو بدنام کردیا۔ مفتی اعظم مفتی محمد رفیع عثمانی سے میڈیا نے رجوع بھی کیا تھا لیکن خود کش حملوں کو حرام نہیں قرار دیا۔ آج علماء و مفتیان کا معاشرے میں بہت بڑا مقام ہوتا جب دہشتگردی کیخلاف ریاست کی طرف سے دُم اٹھانے سے پہلے یہ خود ہی مخلص نوجوانوں کو اسلام کا حقیقی آئینہ دکھادیتے۔ قرآن و سنت میں شرعی حدود کی وضاحت بالکل واضح طور پر موجود ہے۔ سورہ نور میں زنا کی حد 100کوڑے اور بہتان کی حد 80کوڑے واضح کئے گئے ہیں۔ سورہ نساء میں شادی شدہ لونڈی کی حد آدھی اور دوسری جگہ نبی ﷺ کی ازواج پر کھلی فحاشی کیلئے دوگنی ذکر کی گئی ہے، سورہ احزاب میں زنا بالجبر کی حد قتل اور حدیث میں سنگساری ہے۔ جس میں گواہ ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نابینا صحابی عبد اللہ ابن مکتومؓ کی آمد پر چیں بہ جبیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل ہوئی اور نبی ﷺ فرماتے تھے کہ مجھے اس کی وجہ سے ڈانٹ پڑی ہے۔ ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کی دعا سے بڑی دولت ملی تو اس نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ نبی ﷺ نے اس کیخلاف کوئی جہاد نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوا ، حضرت ابوبکرؓ خلیفہ اول نے زکوٰۃ نہ دینے پر قتال کا حکم جاری کیا تو پہلے حضرت عمرؓ نے اختلاف کیامگر پھر ساتھ دیا۔ اہل سنت کے چاروں امام حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے حکمران کی طرف سے زکوٰۃ زبردستی لینے اور اس پر قتال کرنے کو شرعاً ناجائز قرار دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے عدت میں ہی زبردستی شادی کرلی تو حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو مشورہ دیا کہ حضرت خالدؓ کو اس جرم میں سنگسار کیا جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ پر اکتفاء کیا کہ ہمیں خالدؓ کی ضرورت ہے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں بصرہ کے گورنر حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیخلاف زنا کی گواہی آئی۔ سنگسار کرنے کی روایت قرآن کی آیات سے منسوخ ہوچکی تھیں مگر اللہ کے اوامر میں سب سے زیادہ سخت حضرت عمرؓ کے دل و دماغ میں سنگساری کا سودا سمایا ہوا تھا۔ حضرت مغیرہؓ کی آزمائش نے اس غیر فطری سزا کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا۔ چار اماموں میں سے دو اماموں نے بے نمازی کو واجب القتل اور دیگر دو نے زدو کوب اور قید و بند کی سزا کا مسلک ایجاد کیا۔ یوں اسلام بتدریج اجنبی بنتا چلا گیا۔ خلافت کا قیام اگر مغرب کے کینیڈا میں بھی کسی علاقے میں قائم ہو تو پوری دنیا اسلامی نظام خلافت کی دلدادہ ہوجائے گی۔
ہم نے 1984میں جمعیت اعلاء کلمۃ الحق کے نام سے وزیرستان کے طلبہ کی ایک تنظیم بنائی تھی اور پھر 1991میں وزیرستان سے خلافت کے آغاز کیلئے روزنامہ جنگ کراچی ، لاہوراور کوئٹہ یا راولپنڈی میں ایک اشتہار بھی دیا تھا۔ کسی ایک ایڈیشن میں شائع نہیں ہوا تھا۔ پورے پاکستان سے تمام مکاتب فکر کے اہم اور بڑے علماء کرام نے تحریری شکل میں ہماری باربار تائید فرمائی ہے۔ یہ زبردستی اور جبر کا معاملہ نہیں ہے۔ القاعدہ سے نکلنے والے داعش نے اپنی خلافت کا قیام عالم اسلام کیلئے شروع نہیں کیا بلکہ دولت اسلامیہ عراق و شام کے نام سے ایک ریاست کے قیام کا آغاز کیا۔ جس پر القاعدہ سے ان کے اختلافات ہوئے۔
مدینہ میں خلافت کے قیام کیلئے کسی طور سے رسول اللہ ﷺ نے دہشتگردی کا کبھی تصور بھی نہیں دیا۔ القاعدہ سے نکلنے والے داعش اور طالبان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی اسلامی خلافت کے قیام کیلئے احادیث صحیحہ میں جو پیش گوئیاں کی گئی ہیں اس میں یہ بشارت بھی ہے کہ آسمان اور زمین والے دونوں کے دونوں اس سے خوش ہوں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ پیش گوئی میں مشرق سے اٹھنے والی جماعت کا بھی ذکر ہے اور مغرب میں خلافت قائم کرنے والی جماعت کا بھی ذکر ہے۔ طلاق و نکاح کے مسائل علماء و فقہاء نے جس طرح سے بہت غلط انداز میں الجھادئیے ہیں اگر ان کو سلجھادیا جائے تو بھی اسلامی انقلاب کیلئے کافی ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور مفتیان عظام ہماری طرف سے تحریر کردہ کتابوں سے متفق ہیں یا خاموش ہیں اور خاموشی بھی نیم رضامندی ہے جو ہماری خوش بختی ہے۔ جب اکابر علماء و مفتیان طلاق سے رجوع پر قرآن کی واضح آیات کو سمجھ کر لوگوں کو فتویٰ دینا شروع کرینگے تو ہمارا لہجہ شیریں ہوگا۔