اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام عدل و انصاف

472
0

democracy-and-western-countries-hadees-atomic-power-of-pakistan-hind-sindh-khorasan-fars-quota-system-and-merit-

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
نہیں ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
سروں کو گنا کرتے ہیں کاٹا نہیں کرتے
صحیح مسلم کتاب الامارت
باب 673 قولہ ﷺ لا تزال طائفۃ من اُمتی ظاہرین علی الحق لا یضرھم من خالفھم
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری اُمت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گامخالفت کرنے والا نقصان نہیں پہنچائیگا۔
حدیث نمبر 4843۔۔۔۔۔۔عن سعد بن ابی وقاصؓقال رسول اللہ ﷺ لا یزال اہل الغرب ظاھرین علی الحق حتیٰ تقوم الساعۃ
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔

صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث کا عنوان اہل حق کی وہ جماعت ہے جو حق پر قائم رہے گی اور کوئی مخالفت کرنے والا اس کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔ اس باب کے عنوان کے تحت آخری حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب والے ہمیشہ قیامت تک حق پر قائم رہیں گے۔ عالم اسلام میں مملکت خداداد کو سب سے بنیادی اعزاز یہ حاصل ہے کہ یہ واحد ملک ہے کہ جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور نظرئیے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ واحد ایٹمی قوت ہے۔ تیسرا یہ کہ اس پر فرقہ واریت اور مسلکوں کی چھاپ نہیں۔ چوتھا یہ کہ اس میں سب سے زیادہ جمہوریت اور جمہوری نظام ہے۔ پانچواں یہ کہ اس میں مختلف قومیتیں اور لسانی اکائیاں ہیں۔ چھٹا یہ کہ جغرافیائی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت اسی کو حاصل ہے۔ ساتواں یہ کہ احادیث صحیحہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے ہندو فارس اور سندھ و خراسان کا ذکر ہے ۔ اس مملکت خداداد پر ان سب کا اطلاق ہوتا ہے۔ آٹھواں یہ کہ دنیا بھر سے اسلامی تعلیمات کیلئے طالب علم بڑے پیمانے پر یہاں علم کے حصول کیلئے آتے ہیں۔ نواں یہ کہ افواج پاکستان ، علماء و مفتیان پاکستان اور پاکستانی سیاستدانوں کو دنیا بھر میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ دسواں یہ کہ عالم اسلام کے مسلمان پاکستان کو اپنا مذہبی ، دنیاوی اور روحانی امام سمجھتے ہیں۔
امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی ؒ نے قرآنی انقلاب کیلئے حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کو بنیاد بناتے ہوئے قرآن کے آخری پارہ کی تفسیر ’’المقام المحمود‘‘میں سورۃ القدر کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’سندھ، بلوچستان، پنجاب، کشمیر، فرنٹیئر(خیبر پختونخواہ) اور افغانستان میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ سب امامت کے حقدار ہیں۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے مرکزی حصہ یہی ہے۔ اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے میں لے آئیں تب بھی ہم ان علاقوں سے دستبردار نہ ہوں گے ۔ ایران کے اہل تشیع بھی اس انقلاب کو قبول کرلیں گے اسلئے کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کئی ائمہ اہل بیت کے شاگرد تھے ۔ قرآنی تعلیمات کو امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کے تقاضوں کے مطابق ہی زندہ کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مجدد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ تھے جنہوں نے خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت کرنے کا انداز زندہ کردیا۔ عرب کی جگہ پر عجم سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی قرآن و سنت میں خبر ہے اور یہ پیشگوئی اس خطے سے پوری ہوگی ‘‘۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تعلق کانگریس سے تھااور پاکستان بننے سے بہت پہلے فوت ہوگئے تھے۔ پاکستان 27ویں شب رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کی رات کو معرض وجود میں آیا۔ اس میں جمہوری نظام کی تائید صحیح مسلم کی مندرجہ بالا روایت سے ہوتی ہے۔ جس کا تعلق حکومت کے حوالے سے کتاب الامارت سے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا اذا حکمتم بین الناس فاحکموا بالعدل ’’جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو‘‘۔ اور فرمایا اعدلوا ھواقرب للتقویٰ ’’انصاف کرو اور یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔ جب کوئی دو فریق کے درمیان فیصلہ کرنے سے اسلئے کترائے اور فیصلہ نہ کرے کہ یہ تقویٰ کا تقاضہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کردی اور فرمایا ہے کہ پہلو تہی کے بجائے انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’’حدود کو شبہات سے ساقط کرو‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعی حدود میں انسانوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا ہے۔ چوری کردہ مال انسان کا حق ہوتا ہے لیکن اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا اللہ کا حق ہے۔ زنا کار کو کوڑے مارنا شرعی حد ہے لیکن یہ شرعی حد اللہ کا حق ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’اگر 100گناہگاروں پر شرعی حد جاری نہ ہو تو یہ اتنی بڑی زیادتی نہیں جتنی زیادتی ایک بے گناہ پر حد جاری کرنے سے ہے اس لئے شبہات سے حدود کو ساقط کرنے کا حکم ہے‘‘۔
جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ سے ایک خاتون نے شکایت کی کہ فلاں شخص نے مجھ سے جبری زیادتی کی ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے یقین کرنے کے بعد گواہوں کا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور اس شخص کو سنگسار کرنے کا حکم فرمایا۔ ابوداؤد میں وائل ابن حجرؓ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے اور مشہور کتاب ’’موت کا منظر‘‘ میں بھی زنا بالجبر کی سزا کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق میں ظالم ، خائن ، ڈاکو اور لٹیرے کو شبہات سے فائدہ پہنچانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیاہے۔ فقہاء عظام نے شریعت کے نام پر بہت غلط قسم کے مسائل گھڑ لئے ہیں۔ ایک ضعیف العمر صحابیؓ نے اپنے بیٹے کی شکایت کردی کہ وہ خرچہ نہیں دیتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انت و مالک لابیک ’’تو اور تیرا مال تیرے والد کیلئے ہے‘‘۔بعض فقہاء نے لکھا کہ باپ بیٹے کو قتل کرے تو بدلے میں باپ کو قتل نہیں کیا جائے گا اسلئے کہ اس حدیث سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹا باپ کی ملکیت ہے۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ، بلکہ حدیث سے مراد یہ ہے کہ کسی پر دوسرے کو قتل کرنے کا الزام ہو لیکن دلائل اور قرائن سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہو کہ وہ قاتل نہیں بے گناہ ہو۔ اس شبہ کی وجہ سے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ فقہاء نے یہ بکواس بھی کی ہے کہ ماں بہن سے نکاح کیا جائے تو اس میں بھی جواز نہیں لیکن جواز کا شبہ ہے اسلئے اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ حالانکہ نبی علیہ السلام نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ ہمارے عدالتی قوانین میں صرف جھول نہیں بلکہ 180ڈگری کے زاوئیے سے عدل کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ اکرم راجہ اصغر خان کیس میں نواز شریف کو 100%مجرم ثابت کرتا ہے اور میڈیا میں خاندان کے افرادنے جو واضح بیانات دئیے اور پارلیمنٹ میں نواز شریف نے جس طرح کہا کہ میں بلاخوف تردید کہتا ہوں کہ میرے پاس سعودی و دوبئی کی اراضی 2005ء میں بیچنے اور لندن کے فلیٹ 2006ء میں خریدنے کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جس کو میں عدالت اور ہر فورم پرثابت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اور پھر قطری خط میں بہت بھونڈے طریقے سے اس پارلیمنٹ کے بیان سے مکر گیا جس کو پاکستان کے اندر سب سے زیادہ مقدس ، بالادست اور سپریم قرار دیتا ہے۔ اسی طرح جو بابر اعوان آصف علی زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا وہ آج عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہوکر عمران خان کی صفائیاں پیش کررہا ہے۔ چوہدری اعتزاز ایک مشہور وکیل ہیں لیکن جب نواز شریف کی وکالت کررہے تھے تو پھر وکالت کا پیمانہ بالکل حقائق کے برعکس استعمال ہورہا تھا۔
قرآن میں حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمانؑ کا واقعہ ہے ۔ دونوں باپ بیٹے آصف زرداری اور بلاوہ بھٹو کی طرح تھے اور نا مریم نواز اور نواز شریف کی طرح۔ معاشرے قانون سے زیادہ اخلاقیات پر چلتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت داؤد ؑ کے پاس دو فریق آئے ، ایک فریق کے جانوروں نے دوسرے فریق کی فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔ حضرت داؤد ؑ نے دونوں کی قیمت نکال کر فیصلہ کیا۔ فصل کے بدلے میں دوسرے فریق کو جانور حوالے کردئیے۔ حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ اس طرح سے ایک فریق بالکل محروم ہوگا ، جب روزگار نہیں رہے گا تو چوری اور ڈکیتیوں پر مجبور ہوگا جس سے معاشرے میں بد امنی اور بد انتظامی پھیلے گی۔ یہ فیصلہ میں کرتا ہوں ۔ چنانچہ فصل والے کو جانور حوالے کردئیے کہ جب تک فصل اپنی جگہ پر نہ آئے تو اس کا فائدہ اٹھاؤ۔ دودھ ، اون ، گوبر کارآمد تھے۔ جانور والوں کو فصل حوالے کی کہ اپنی غلطی کی سزا بھگتو اور جب تک فصل اپنی جگہ پر نہ آئے اس کی خدمت پر مأمور رہو۔ اس دانشمندانہ فیصلے کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کی تعریف کی ہے۔ جب ذو الفقار علی بھٹو نے کراچی والوں سے میرٹ کا روزگار چھین لیا تو کراچی میں بد امنی ، ڈکیتی ، چھینا جھپٹی، بھتہ خوری اور چوری سینہ زوری کی مصیبت آئی۔ پاکستان کی اشرافیہ نے دولت کو بڑے پیمانے پر لوٹا تو غریب عوام نے بیروزگاری میں حدود و قیود پھلانگنے کو اپنا وطیرہ بنالیا۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں کے اخلاقیات تباہ و برباد ہوگئے۔ قرآن میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو جس طرح پورا کرنے کی تلقین کی گئی ہے اسی طرح قوموں کی معیشت اور روزگار پر قبضہ کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دو عورتیں لکڑیاں کاٹنے گئی تھیں ، ایک عورت کا بچہ بھیڑیا لے گیا تو اس نے دوسری کا بچہ اٹھالیا ۔ حضرت داؤد ؑ نے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کیا اور بچہ اسی کو دیا۔ حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ یہ فیصلہ میں کروں گا ، دونوں کی بات سن لی اور پھر اعلان کیا کہ میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا اسلئے بچے کو دو ٹکڑے کرکے بانٹتا ہوں۔ ایک نے کہا کہ مجھے یہ بھی منظور ہے ، دوسری نے کہا کہ میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں میں نے جھوٹ بولا تھا یہ میرا بچہ نہیں اسی کا ہے مگر اس کو دو ٹکڑے مت کرنا ۔ اپنی حکمت عملی سے حضرت سلیمان ؑ نے حقیقی ماں کو دریافت کرلیا اور بچہ سے دستبردار ہونے کے باوجود اسی کے حوالے کیا۔ بد قسمتی سے ہمارا عدالتی نظام اس قدر خراب ہے کہ اگر چیف جسٹس کو کیمروں کی آنکھ کے سامنے تھپڑ مارا جائے تو بھی وکیل اس شہادت کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اگر مقصد عدل کا قیام ہو تو انصاف ملنے میں چند لمحات لگتے ہیں لیکن اگر مقصد قانونی پیچیدگیوں کے ذریعے سے وکالت کا کاروبار چلانا ہو تو انصاف سے ایک عمر تک الجھنے کے مواقع ملتے ہیں لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک بہت سارا وقت اور پیسہ ضائع ہوجاتا ہے۔ نواز شریف پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک معینہ تاریخ کے اندر لندن فلیٹ کے ذرائع بتاتا ہے لیکن عدلیہ کے ججوں کو اتنی توفیق نہیں ملتی کہ کورٹ کے کٹہرے میں سچ اور جھوٹ کا پتہ لگا سکیں۔ پانامہ کا فیصلہ اقامہ پر دیا جاتا ہے اور عدلیہ کے جج صاحبان اس کے عوض اپنی پیٹھوں پر گالیوں کی چپت برداشت کرتے کرتے بیزار ہوجاتے ہیں۔ یہ عدالتی نظام نہیں ایک گھناؤنا کھیل ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور اسلام میں حکومت کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت عدل و انصاف کی ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ حکومت کفر کے ساتھ چل سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔ اگر یہی عدالتیں قائم رکھنی تھیں تو اس کیلئے انگریزوں کے کالے غلام ججوں سے گورے حکمران انگریز خود بہتر تھے۔
جمہوری نظام کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ ایک جلسے سے قائدین باری باری خطاب کریں ۔ جمہوریت کو حرام کی کمائی نے یرغمال بنا یا ہے جو جمہوریت کی نفی ہے اور اسلام کو شدت پسندی نے یرغمال بنایا ہے جو اسلام کی نفی ہے