Home agreement-marriage مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبد القوی کے درمیان موازنہ : مولانا...

مفتی تقی عثمانی اور مفتی عبد القوی کے درمیان موازنہ : مولانا محمد حسین منطقی

360
0

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل مولانا منطقی نے مفتی تقی عثمانی صاحب کے بیان پر اپنا رد عمل دیا ہے اور موازنہ پیش کیا ہے۔
مولانا محمد حسین منطقی ، فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے لکھاہے کہ: ہائے ہائے مفتی تقی عثمانی صاحب نے کیا خوب پاکستان کا نقشہ کھینچا، کیا تعریف کی، کیا اپنے والد محترم مفتی اعظم کا تعریفی خطاب کیا۔ ذرا فرمائیں مفتی صاحب! کہ حلالہ مروجہ کی رسم کہاں سے اجازت دی۔ اگر یہ مروجہ حلالہ درست ہے تو اہل تشیع کے متعہ کے بارے میں کیوں حرام کا فتویٰ جاری کرتے ہو؟۔ اگر پاکستان مسلمانوں نے بنایا مسلمانوں کیلئے اور مخالفین کفار تھے ، توبقول آپ کے تو ذرا فرمائیے علمائے دیوبند کے اکابرین بشمول شیخ الاسلام مدنیؒ اور مولانا آزاد صاحبؒ کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے؟۔ جاری کردیں تاکہ ہم جو اکابرین علماء کے معتقدین ہیں انکے دلوں کو بھی تسلی ہوجائے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب اکابر پر یہ فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ پاکستان واقعی اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر وجود میں لایا گیا مگر ہوا کیا کہ پاکستان میں د ختم نبوت کا نعرۃجرم، گستاخ رسول آزاد! گستاخ رسول کیخلاف بات جرم اور سانحہ ساہیوال، سانحہ قصور اور سانحہ خیسورہ جیسے ہزار ہا سانحات رونما ہورہے ہیں۔ اس پر ہمارے تقی صاحب جیسے مفتی صاحبان اور سیاسی قائدین طبلہ بجانے پر لگے ہوئے ہیں۔ سندھ میں قاتل آفیسر راؤ انوار جیسے لوگ جرم ثابت ہونے پر بھی آزاد اور پروٹوکول کے ہمرا چلتے ہیں۔ مظلومین پر دباؤ، دھمکی۔ مفتی تقی صاحب کیا آپ کی نظر میں یہی پاکستان جو حجاز مقدس سے مقدس ہے۔ حجاز مقدس کا کوئی منشور نہیں۔ اندھے! حجاز مقدس کا منشور آپکو کیوں نظر نہ آیا حجاز مقدس کا منشور پوری انسانیت کے محافظ اور پوری انسانیت کی فلاح ہے وہ صرف اور صرف اللہ کا کلام اور نبی کی سنت!
آگے چلتے ہیں تقی صاحب! ذرا آپ کے والد محترم کا وہ فتویٰ اٹھائیں جو آپ کے والد ماجد صاحب نے 1971کے جنگ کے دوران بنگال کے متعلق دیا تھا۔ جناب مفتی محمود صاحب کو اللہ جنت نصیب کرے مفتی محمود صاحبؒ نے آپکے والد کو نشاندہی کی ۔آپکے والد صاحب چپ تو ہوگئے مگر رجوع نہ کیا۔ رجوع کرتا بھی تو کیا ہوتا فتویٰ کیساتھ ہی کام توہو چکا تھا۔ بالآخر جسکے نتیجہ میں سقوط مشرق پاکستان ہوا سانحہ1971کے مکمل ذمہ دارنہ کوئی جرنیل اور نہ کوئی سیاستدان ہیں صرف اور صرف آپ کے والد محترم مفتی شفیع صاحب ہیں۔ جناب مفتی تقی صاحب آپ اپنے خطاب تو روکیں اور کیا کیا کرینگے۔ شادی بیاہ کے نیوتہ کو سود قرار دیا۔ بینک کے سود کو حلال! بس کرو! ذرا خدا کا خوف کرو۔ خطاب سے لگتا ہے کہ آپ ایسا ملک چاہتے ہیں جس میں راجہ داہر ، ہٹلر، لینن جیسے لوگ ہوں جو بر سر اقتدار آئے کسی کی عزت محفوظ نہ رہی، کوئی ظلم کیخلاف آواز اٹھائیں تو مار دئیے جائیں۔ مولانا تقی صاحب! اب بھی ٹائم ہے وقت ہے کہ توبو الی اللہ آپ کے ہوش باقی ہیں تاخیر کے بغیر شاہ صاحب گیلانی کی خدمت میں حاضری دے دیں۔ انشاء اللہ آپ کا برین واش ہوجائے گا اور توبہ بھی کرادیں گے، باقی دن اچھے گزریں گے۔
نوشتہ دیوار میں انڈین خاتون محترمہ شبینہ انڈیا کی فریاد پڑھ کر سر شرم سے جھک گیا جہاں احادیث اور دیگر چیزوں کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں اللہ پاک نے قرآن پاک میں ہی محرمات کا ذکر فرمادیا۔ اور سسر جو باپ کے زمرے میں آتا ہے اس سے حلالے کا سوچنا بھی بدتر گناہ ہے۔ اب بڑے بھائی سے حلالہ کروانے کی بات ہے۔ افسوس ان لوگوں نے عورتوں کو پراپرٹی سمجھا ہوا ہے۔ جس کی مرضی ہو نہا دھوکر آئے۔ بے غیرتی کی بھی حد ہوتی ہے یہ تو بکروں والا سلوک ہے جو بکری پر اسکا بچہ اور اسکا بھائی اور اسکے والد سب چڑھتے ہیں۔ یہ سراسر ظلم و ناجائز و حرام ہے۔ افسوس کہ مولانا آزاد جمیل کی رائے کہ مجبوری میں سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ اور وہ بھی ماہ رمضان میں فتویٰ جاری کیا۔ واہ مولانا آزاد صاحب! بہت خوب کیا ذہانت ہے آپ کی۔ نعوذباللہ آپ کا ذہن کتاب اللہ سے بھی بہت آگے ہے۔ لگتا ہے آپ واقعی آزاد ہیں جو منہ میں آئے بک دیں جو جی میں آئے کردیں جو دل چاہیں کریں مگر یاد رکھو اللہ پاک سے آزاد کوئی نہیں۔ کوئی نبی اور ولی آزاد نہیں تو آپ کیا آزاد ہونگے۔ ذرا شرم کرو۔ کیا آپ نے بھی تقی عثمانی صاحب سے تعلیم تو حاصل نہیں کی۔ جو فتویٰ مفتی صاحب کا ہے اسی طرز پر فتویٰ دئیے جارہے ہو۔ آزاد صاحب! اللہ نے اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول فرمایا ہے کہیں اطیعوا الشفیع یا اطیعوا التقی نہیں فرمایا۔ ڈرنا اللہ سے ہے نہ کہ مفتی شفیع و مفتی رفیع و مفتی تقی سے۔ اللہ نے عزت و ذلت زندگی اور موت اپنے قبضے میں رکھی ہے۔ اور روزی روٹی کی ذمہ داری خود سنبھالی ہے۔ ڈالر والوں کے قبضے میں کچھ نہیں پھر ان سے ڈرنے کی وجہ کیا؟ محترمہ شبینہ انڈیا کے ساتھ یہ ظلم حیوانیت ہے اس سے علماء تو علماء بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے سر شرم سے جھک گئے اور شبینہ کے سسرالیوں کے ساتھ حضرت فاروق اعظمؓ جیسا انصاف کرنا چاہیے تاکہ دوسرا کوئی اس طرح غلط قدم اٹھانے سے باز رہے۔ اور محترمہ کو چاہیے کہ خود اپنی طرف سے ان ظالموں اور زانیوں سے چھٹکارا حاصل کرلے اور کسی اچھے اور غیرتمند مرد سے اپنی زندگی استوار کرلے۔
فرق دونوں مفتی حضرات میں
مفتی عبد القوی صاحب کنواری لڑکیوں سے ہمبستری کو جائز قرار دیتا ہے مفتی تقی صاحب دوسرے کی بیوی کے ساتھ(حلالہ کی شکل میں) ہمبستری کو جائز قرار دیتا ہے۔
مفتی قوی صاحب شادی میں ڈانس کو جائز کہتا ہے اور مفتی تقی صاحب بینک کے سود کو جائز کہتا ہے۔ مفتی قوی صاحب دوسرے کی بیوی سے ہمبستری ناجائز سمجھتا ہے۔ مفتی تقی صاحب شادی کے نیوتہ کو حرام و ناجائز سمجھتا ہے۔
دونوں مفتی صاحب سواء سواء(برابر برابر) ہیں۔
تبصرہ محمد حنیف عباسی
بد سے بدنام برا ، اسلئے کہ جب کوئی نیک نام بد کرتا ہے تو چمتکار اور بدنام کرتا ہے توبلتکار۔ فاعتبروا یا اولی الالباب البتہ یہ یاد رہے کہ قرآن نے بار بار عدت میں عدت کے بعد باہمی رضامندی اور معروف طریقے سے رجوع واضح ہے۔ سلف صالحینؒ نے تنازع میں رجوع کی اجازت نہ دی توانکا مؤقف سوفیصد درست تھا، حلالہ کی لعنت کا تصور اس وقت قائم ہوتا ہے جب دونوں صلح کرنا چاہتے ہوں۔ علماء وفقہاء نے بعد میں طلاق کا درست مفہوم مسخ کردیا۔
مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ سید عتیق الرحمن گیلانی سے طلاق کے مسئلے پر گفتگو کرکے اسلامی انقلاب کیلئے راستہ ہموار کردیں۔ جس طرح زکوٰۃ کے بعد سودی نظام جائز قرار دیا گیا ،اسی طرح کبھی حلالہ کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ یہ یاد رہے کہ حضرت عمر فاروق اعظمؓ اور ائمہ اربعہ ؒ نے بالکل درست فیصلہ اور فتویٰ دیا تھا کہ تنازع کی صورت میں مرد کو رجوع کا حق حاصل نہیں ، دنیا کی ہر عدالت یہ فیصلہ دیگی۔ قرآن کی واضح آیات میں باہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت کے بعد حلالہ کی لعنت والوں نے فتویٰ بدلا۔