ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے سے تجزیہ :سید ارشاد علی نقوی

862
0

متحدہ کا راج تھا، عوام کے سر پر ہڑتال کی تلوار لٹکی رہتی تھی، الطاف حسین نے متحدہ کی لیڈر شپ کو بھی پٹوایاتو وکالت جاری رہی تھی

واقعی اپنی اصلاح کرنی ہے تو متحدہ کے رہنما ؤں کو چاہیے کہ اس معاشرے کے بالکل شریف ، ایمانداراور نئے چہرے لیکر آجائیں

جس طرح جنرل نیازی انڈیا کی قید میں رہ کر اپنی 95ہزار قیدی فوجیوں کیلئے قیادت کا کردار ادا کرتا تو کیافائدہ ہوتا؟ ارشاد نقوی

ڈاکٹر فاروق ستار ، خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالہ سے اپنے قائد الطاف حسین اور کارکنوں کی وکالت کرتے تھے، توبہ کا دروازہ اللہ تعالیٰ بند نہیں کرتا لیکن اچھے وقتوں میں اچھے اقدام اچھے لگتے ہیں، عدالتی نظام اور سیکورٹی طریقہ کار بھی قابلِ رشک نہیں۔ جس کو مجرم بنادیا مگر وہ مجرم نہ ہو اور مجرم کو انجام تک پہنچانے کے بجائے باعزت بری کردیا تو کونسا نظام ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نظام بھی درست نہیں اور سیاسی جماعتیں بھی 420کے کردار والی ہوتی ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں قتل وغارتگری کسی عوامی جماعت کیلئے بڑا مسئلہ نہیں ۔ پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قتل کیا جائے تو گواہ بھی نہ ملے۔ کسی جائز کام سے تھانہ جانا ہو، گاڑی کاانشورنس ہواہو اور سامان چوری ہوجائے تو بھی بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے لوگ حادثات میں ایک دوسرے کی مدد اسلئے نہیں کرسکتے تھے کہ پھر پولیس والوں سے جان نہیں چھوٹتی تھی۔اب عبدالستار ایدھی اور چھیپا وغیرہ نے یہ مشکل ہٹادی ہے لیکن باقی معاملات کو کون درست کرے گا؟۔
پہلے علاقہ کے ذمہ دار ، بڑے، محترم لوگ دیانت، سچ اور حقائق کی گارنٹی ہوا کرتے تھے، اب جو جتنا ڈھیٹ، نکما، بد دیانت، کمینگی میں گندھے ہوئے ضمیر کا مالک ہو۔وہی ذمہ دار، معتبر، محترم اور عزت مآب بنا پھرتا ہے۔ یہ صرف کراچی کی گلی کوچوں کی بات نہیں، مساجد، مدارس اور پاکستان کے کونے کونے میں پورے معاشرے کی یہی حالت ہے۔ ایسے میں کہیں سے تو انقلاب کا آغاز ہونا ہے۔ چپلقش بہت ہے، شیطان انسانوں کی خوشحالی پر خوش نہیں ہوتا ۔ ایسے دور میں جب ایم کیوایم کو بہت پریشانی تھی، نوشتۂ دیوار نے ان کو سہارا اور ڈھارس دیدی۔ راستہ صاف کیا اور بہت اچھے انداز میں دوسری سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے حملوں سے نجات دلائی ، غلطیوں کی بھی اچھے انداز میں نشاندہی کردی۔ ہوا کا رخ بھی بدل گیا ہے لیکن ہماری دعوت یہ ہے کہ اب ایک دوسرا رخ اختیار کرکے اصلاح کی طرف درست آنے کی کوشش کی جائے۔
مہاجروں کو ابوالکلام آزادؒ کے اقوالِ زریں سے گمراہ نہ کیا جائے،ڈاکٹر عاصم حسین کی شاہ زیب خانزادہ نے رپورٹ پیش کردی کہ’’ دہشت گردوں کا علاج ایک ڈرامہ تھا‘‘۔پیپلزپارٹی سندھ اور وفاق کی جماعت ہے، الطاف حسین نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی تھی، کارکن آنے سے روکتے تھے، حکومت نے نہیں روکا، ڈاکٹر عشرت العباد بھی مخصوص لوگوں کے نگاہوں میں بڑا قاتل، جرائم پیشہ اور سب کچھ تھا، الطاف حسین کا ہاتھ تھا تو گورنر بن گیا اور ہاتھ نہ رہا تو بھی طویل المدت گورنری کا ریکارڈ قائم کردیا۔ شیخ رشید کھل کر کہتا ہے کہ جنرل راحیل شریف زرداری کو ملک میں نہیں آنے دے رہا ۔ آئی ایس پی آر نے کبھی اسکی تردید نہ کی ، مہاجروں کو گلہ شکوہ نہیں مثبت انداز میں سوچنے اور انقلاب پر آمادہ کرنا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی نے کتنے لوگوں کوکراچی میں اپنی طرف مائل کیا ہے؟۔ سیاست کا ڈھانچہ پہلے بھی کراچی اور حیدر آباد کے مہاجروں نے بدلا تھا اور اگر متحدہ کے رہنما سیاست کے معیار کو تبدیل کریں توبہت اچھا رہے گا۔
127کی صوبائی نشست متحدہ ہار ی، یہ پہلے بھی پیپلزپارٹی کی تھی، جن80 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کو ڈاکٹر فاروق ستار نے تسلیم کیا ، ان میں 14،15ہزار ووٹ ملے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس میں پہلے متحدہ کس مارجن سے جیتی تھی، اگر پہلے متحدہ کو 60، 70ہزار ووٹ ملتے تھے تویہ اعلان کرنا چاہیے تھا کہ اب 25ہزار ملتے اور ہم جیت بھی جاتے توبھی اپنی ہار تسلیم کرلیتے ہیں۔ پہلے اشفاق منگی کی مدد سے یہ جیت گئے اور اب یہ ہم ہارگئے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ۔اس رویہ سے ان کی اخلاقی قدریں دوسروں کیلئے مثال بن جاتیں۔ ظفر ہلالی کا یہ کہنا کہ پہلے تم غلط کر رہے تھے، اب تمہارے ساتھ بھی ٹھیک ہورہا ہے مسئلہ کو مزید گھمبیر بنادیتا ہے۔ صحافت میں وکالت کرنا اچھی بات نہیں، گھوڑے گدھے کے سلوتری کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا جتنا ایک صحافی کے غلط رویہ پر اس کو بُرا سمجھا جاتا ہے۔معقول بات یہ ہے کہ جس تعداد میں متحدہ کے ووٹ کم ہوئے ہیں وہ قابلِ غور ہے۔ پیپلز پارٹی کے جتنے بڑھے ہیں، وہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں ۔ اشفاق منگی والے مل گئے۔
یہ اچھی بات ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ خود کو بدلنے کا عزم لئے ہوئے ہے لیکن مجبوری کے باعث بدلنے سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی۔ ایک طرف بانی الطاف حسین اورلندن میں بیٹھے دیگر احباب کا دباؤ ہو ، دوسری طرف الطاف حسین سے محبت رکھنے والی عوام کا دباؤ ہو اور تیسری طرف ریاستی اداروں کا دباؤ ہو، چوتھی طرف دیگر سیاسی جماعتوں اور مصطفی کمال کا دباؤ ہو اور پانچویں طرف کارکنوں اور چھٹی طرف میڈیا کا دباؤ ہو تو مشکلات بڑھتی جائیں گی لیکن یہ الگ بات ہے کہ دباؤ ڈالنے والی قوتیں خود بھی بالکل ناکارہ پرزوں کی طرح ہیں۔
ایم کیوایم نے کھالیں جمع کرنے کا منع کیا ہے، کارکن عاجزی اور انکساری کیساتھ لوگوں سے کھالیں جمع کرکے غریب آبادیوں کے مکینوں تک صاف ستھرے طریقے سے پہنچادیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ زکوٰۃ اور فطرہ غریبوں کا حق ہے مگر اس کیلئے بھی بڑے بڑے اداروں نے اپنے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے سے حقداروں کو ان کے حق سے محروم کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کو پہلے سے چاہیے تھا کہ زور جبر نہیں خلوص سے عوام کی خدمت کرتے تو آج حالات بالکل مختلف ہوتے۔ اگر مساجد کی سطح پر بھی ممکن ہو تو پرہیزگار لوگوں کے ذریعے ایسی کمیٹیاں تشکیل دینا مناسب ہوگا جہاں قربانی کی کھالیں ، زکوٰۃ ، خیرات اور چندے غریبوں تک پہنچ جائیں۔فاروق ستار نے کہا کہ ان سے کھالیں چھین لی گئیں مگر زبردستی پر دل کے کرب کا احساس ہونا مکافات عمل کا نتیجہ لگتا ہے۔