ڈاکٹر طاہرالقادری کا دھرنااورکچھ معروضی حقائق

681
0

یوں تو پتہ نہیں چلتا کہ خودکش حملوں اور پلانٹ کردہ بموں کے اصل کردار کون ہیں مگرماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کی انکوائری مشکل نہیں ، البتہ لاہورکے تازہ واقعہ میں شہید ہونے والے70افراد حرفِ غلط کی طرح بھُلادئیے گئے جن کی چپقلش بھی نہ تھی بس تاریک راتوں میں مارے گئے۔اسلام آباد دھرنے میںPAT کے کارکنوں نے ایس ایس پی کی جس طرح ٹھکائی کردی، اسلام آباد ائرپورٹ پر جس طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کے جیالوں نے پولیس کو مارا، وہ کسی سے مخفی نہیں، ماڈل ٹاؤن میں پہلی مرتبہ ڈنڈے مارنے اور جوش کا مظاہرہ کیا ہوگا تو پولیس نے گولیاں چلائی ہونگی۔ اس سانحہ کی ذمہ دار صرف ریاست نہیں بلکہ PAT بھی ہے جس نے غریبوں کو ڈنڈے مارنے اور گولیاں کھانے کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
پہلی مرتبہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد دھرنے کا اعلان کیا تو کراچی آئے اور ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین گویا اسکے فسٹ کزن تھے جبکہ دوسرے دھرنے کے دوران عمران خان فسٹ کزن قرار پائے جو الطاف حسین کو ہزاروں افراد کا قاتل ، ظالم اور جابر کہتا ہے۔ اب اس سوال کا جواب چاہیے کہ 14افراد کے قتل پر آسمان و زمین کی قلابیں ملانے اور انقلابیں برپا کرنے والے کو اس وقت ہزاروں افراد کا قاتل الطاف اپنی طرح ایک مسیحا اور بھائی لگتے تھے اور نظام کی تبدیلی کیلئے اسی کا ساتھ چاہیے تھا ؟۔ اگر یہ سب جھوٹ اور غلط پروپیگنڈہ ہے تو اپنے بھائی کے حق میں آواز کیوں نہیں اُٹھائی جارہی ہے؟۔ تقریر و تصویر پر پابندی تو دنیا کے بڑے بڑے دہشت گردوں کی بھی نہیں لگی تو کیا اس پابندی نے الطاف حسین کو دنیا کا واحد مقبول لیڈر نہ بنایا؟۔ کراچی کی عوام لکھی پڑھی ہے، اگر ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح الطاف حسین کا متضادرویہ اور تقریروں کا عجب انداز سامنے لایا جاتا تو عقیدت و محبت میں کیا اضافہ ہوتا؟۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی ویڈیو دکھائی جاتی ہے جسمیں سینہ کھول کر وہ کہتے ہیں کہ گولی مار دو میں نہیں ڈرتا، اور پھر لوڈسپیکر پھٹنے پر حواسہ باختہ دکھایا جاتا ہے،حالانکہ قوتِ مدافعت سے اچانک لرز جانا کوئی بزدلی بھی نہیں ۔
البتہ جب ڈاکٹر طاہرالقادری امارات کے جہاز میں چپک کر بیٹھ گئے اور کہاکہ ’’میں اتروں گا نہیں ورنہ ماردیا جاؤں گا‘‘۔ تو اتنا کہہ دیا جاتا کہ تم نے اس وقت خوف کا مظاہرہ کیا ،اپنے عقیدتمندوں کے سامنے بھونڈی حرکت کی ضرورت نہ تھی کہ کوٹ کھول کر سینہ دکھایا اور کہا کہ میں گولی سے ڈرنے والا نہیں۔ یہ کہنا اسوقت ججتا ہے جب کوئی بزدل دشمن بندوق لیکر نشانہ بنانے سے ڈراتا ہے کہ میں بزدلوں کے ڈرانے سے نہیں ڈرتا ۔ قوم کا درد رکھنے اور خاندانی سیاست نہ کرنے کی بات وہ کرے جو خود ملوث نہ ہو۔ جب اسلام آباد کی سردی میں دودھ پیتے بچے ٹھنڈ سے بدحال تھے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے جوان بیٹے ، بیٹی محفوظ کنٹینر میں دندناتے تھے۔ ابھی تک قوم کو پتہ نہیں کہ حکومت کو ڈھیل اسلئے دی کہ ڈاکٹر طاہر القادری بیمار تھے یا حکومت کو وقت دینا چاہتے تھے؟ اور تیسرا دھرنا اسلئے ملتوی کیا کہ خرم نواز گنڈہ پور کی زبان کی پاسداری کی، یاپھر رمضان میں لوگوں کوتکلیف نہ دینا چاہتے تھے؟۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ’’میرے لئے کرسی پر بیٹھ کر تقریر کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن میں نے کھڑے ہوکر تقریر اسلئے کی کہ یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ میں بالکل فٹ ہوں، میں بیٹھ کر تقریر محض اپنے سہولت کیلئے کرتا ہوں، یہ میری مجبوری نہیں‘‘۔ جب ڈاکٹر صاحب نے فجر کی نماز پڑھائی تو سجدے میں جانے کی بجائے کرسی ہی پر بیٹھ جاتے تھے، یہ انکا عذر اور مجبوری ہے یا ان کی کرسی سے محبت اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے بھی روکتی ہے؟۔جنرل راحیل شریف اپنی چھڑی سے نوازشریف کو سبق سکھائیں تو ڈاکٹر طاہرالقادری کو بھی اللہ کے سامنے سجدے کا اشارہ کریں ، اللہ کیلئے نہیں تو جنرل کیلئے ضرور مصلے پر سجدہ کریں گے۔ڈاکٹر طاہرالقادری مصلہ پر بیٹھ کر سجدہ نہیں کرسکتے توکیسے کہا کہ ’’میں نے مصلہ پر گڑگڑا کر بہت دعائیں مانگ لیں کہ اے اللہ! میری عزت کا پاس رکھنا، اگر 14غریب شہداء کے لواحقین میں سے کوئی ایک بھی بک گیا تو میری عزت خاکستر ہوجائیگی، شکر ہے اللہ نے میری عزت رکھ لی ، حکومت نے بہت پیشکش کی کہ دیت لے لو لیکن کوئی ایک بھی نہ بکا‘‘۔
کارکنوں کی کیا حیثیت ،رہنماؤں کے بدل جانے سے بھی قائدین پر کوئی اثر نہیں پڑتا، یہ بات ہوتی تو پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ،تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی کیا عزت رہتی؟،کتوں کے ریلوں کی طرح سیاسی رہنما پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ مرتد ہوگئے تو اس پر بھی نبیﷺ کی عزت پر کیوں کر اثر پڑتا؟۔ البتہ جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ شہر میں جنگ لڑیں تو اچھا رہیگا اور نوجوان صحابہؓ نے ضد کی کہ ہم باہر نکل کر مقابلہ کرینگے تو نبیﷺ کا ارادہ بدل گیا اور شہر سے نکلنے کیلئے زرہ زیبِ تن فرمایا، نوجوانوں کو بڑوں نے ڈانٹا کہ اپنی رائے پر اصرار کیوں کیا تو وہ عرض کرنے لگے کہ ہماری رائے بدلی ہے، شہر میں جنگ لڑیں گے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب نبی ایک دفعہ زرہ پہن لے ،پھر مناسب نہیں کہ اس کو اتاردے۔ اب شہر سے باہر ہی جنگ لڑیں گے۔ پھر گھمسان کی جنگ میں بعض صحابہؓ کے پیر اُکھڑ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا انا نبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ’’ میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ،میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘‘۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے قوم کے سامنے کفن لہرایا کہ ’’ اس کو میں پہنوں گا یا اس کو نوازشریف کی حکومت پہنے گی‘‘۔ دونوں باتیں نہیں ہوئیں بلکہ جسکو فسٹ کزن قرار دیا تھا اسکو بھی چھوڑ کر بھاگا، کیونکہ بھکر میں انتخابات کانتیجہ دیکھ لیا تھا۔ عزت رکھنے کی بات ہوتی تو اپنی بات پر قائم رہ کر خود اپنی عزت رکھ لیتے۔ کارکن دیت لیتے بھی تھے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی اجازت اسلئے نہ دی تھی کہ غریب کے عمل سے باتوں کے سکندروں کی عزت پامال ہوتی۔البتہ جب ریمن ڈیوس نے صرف شہریوں کو قتل نہیں بلکہ ریاست کی بھی خلاف ورزی کی تو اس وقت صوبائی ومرکزی حکومت اور فوج وعدلیہ کے کردار نے اپنی عزت داؤ پر لگادی۔ عمران خان اگرچہ نیازی ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری کی طرح باپ سے زیادہ ماں اور ماں کے خاندان کا نام لیتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا نسب قادری نہیں تو کس اعتبار سے فسٹ کزن ہیں؟۔ کیا امپائر کی انگلی اٹھنے یا توقعات کے حوالہ سے فسٹ کزن ہیں؟۔
خرم گنڈہ پور نے میڈیا پر مسلسل کہا ’’ اگر ہمارے پاس اسلحہ ہوتا تو انکو بھی نشانہ بنادیتے، میں تربیت یافتہ فوجی ہوں، میری نااہلی پاکستان آرمی کی نااہلی ہے‘‘۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے خرم نواز گنڈہ پور کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا اور کہا کہ ’’ہمارے پاس پاک آرمی کے ریٹائرڈ تربیت یافتہ کمانڈوز تھے میرے بیٹے حسن اور حسین نے منتیں کرکے ان کو کمروں میں بند کیا کہ ہمارے ابا کا حکم ہے، سب کو بھی مار دیا جائے تو پُر امن رہنا۔ اگر اس وقت ان کی اجازت ملتی تو 14لاشیں ان کی بھی گرجاتیں‘‘۔ اگر ایک بیٹا گارڈز کو روکتا اور دوسرا گولی کھانے والوں کیساتھ گولی کھا لیتا تو شاید پروفیسر طاہرالقادری کو اسی وقت پاکستان آنے کی توفیق مل جاتی لیکن جو غریب مرتے ہیں ان کی کیا اوقات ہوتی ہیں، اگر حکمرانوں میں عقل ہوتی تو وہ یہی کہتے کہ اسلام آباد کی بجائے لاہور ہم زبردستی سے اسلئے لائے ہیں کہ دعا اور تعزیت کا خیال تو رکھو۔ عمران خان اسپیشل جہاز سے کراچی آئے تو ایم کیوایم کیخلاف ایک لفظ بھی نہ کہا اور اپنی جماعت کی خاتون رہنما زہرہ شاہد کی تعزیت بھی نہیں کی۔ ہمارا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے جن کا اپنا کوئی حال نہیں ۔
جمہوریت کی بساط لپیٹی جائے توتمام سیاسی مقاصد و فوائد حاصل کرنے والے طبقے کو ایک ہی چھڑی سے سیدھا کیا جائے تاکہ ماضی کی غلطیاں نہ دھرائی جائیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی