داعش کافتنہ صحیح حدیث میں واضح ہے، ڈاکٹرطاہر القادری

626
0

امام بخاری کے استاذ نعیم بن حماد کی کتاب’’الفتن‘‘ میں داعش کی نشاندہی موجود ہے

آج تک میرے سیاسی اور مذہبی مؤقف کی کسی نے کبھی تردید نہیں کی ہے البتہ اختلاف کیا ہے

علامہ طاہرالقادری نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں داعش کے حوالہ سے رسول ﷺ کی احادیث کا حوالہ پیش کیا، حدیث کوپورا نقل نہ کیا۔ قارئین کے سامنے رکھ دیتے ہیں: عن علی ابن ابی طالبؓ قال: اذا رأتم الرایات السود فالزموا الارض، فلا تحرکوا ایدیکم ولاارجلکم ثم یظھر قوم ضعفاء لایؤبہ لھم،قلوبھم کزبر الحدید، ھم اصحاب الدولۃ، لایفون بعھد و لا میثاق، یدعون الی الحق و لیسوا من اہلہ اسماء ھم الکنیٰ و نسبھم القریٰ وشعرھم مرخاۃ کشعور النساء حتیٰ یختلفوامابینھم ثم یؤتی اللہ حق من یشاء
( حدیث نمبر573، الفتن نعیم بن حماد)
ترجمہ’’ حضرت علیؓ سے روایت ہے فرمایا: جب تم کالے جھنڈوں کو دیکھو، تو زمین کو لازم کرلو، پس اپنی زبانوں اور ٹانگوں کو حرکت نہ دو، پھر ایک قوم ظاہر ہوگی جو کمزور ہوگی جن کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا اور انکے دل لوہے کے ٹکڑے کی طرح ہونگے، وہ اقتدار والے ہونگے،جو پورا نہ کرینگے کسی عہد اور معاہدے کو۔ حق کی طرف بلائیں گے مگر اہل حق میں سے نہیں ہونگے،انکے نام کنیت والے ہوں گے،انکی نسبت شہروں کی طرف ہوگی،انکے بال عورتوں کی لٹکے ہوئے ہونگے،یہاں تک کہ ان کا آپس میں اختلاف ہوگا ، پھر اللہ جس کو چاہے گا حق دیدے گا‘‘۔
کالے جھنڈے طالبان اور القاعدہ نے اٹھائے، اس دور میں یہ حالت تھی کہ گوشہ نشینی کی زندگی اور زبان اور ٹانگیں نہ ہلانے کا حکم درست لگتا تھا، امریکہ نے حملہ کیا توبہت کمزور تھے،ان کا ٹھکانہ نہ تھا،انکے دل لوہے کی طرح سخت تھے،اصحاب دولہ اسلئے تھے کہ طالبان کی حکومت تھی اور امریکہ، پاکستان، قطر، یورپی یونین اور سب ہی ممالک ان کی پشت پناہی کررہے تھے ،بینظیر بھٹو کو ماراگیا، بینظیر نے انکو ڈالروں کے تنخواہ دار ہونے کا کہاتھا۔ ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی میں بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر شائع ہوئی تو اسکے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہوئی تھی کہ برطانوی فوج کے سپاہیوں کو افغان فوج نے رنگے ہاتھوں پکڑا جو طالبان کو پیسے دے رہے تھے اور ردِ عمل میں شرمندہ ہونے کے بجائے ہنس رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو بھی منی لانڈرنگ میں با عزت بری کردیا گیا۔ اغیار ہمارے ریاستی اداروں اور حکمران ٹولے کو ایک ہاتھ میں رکھتا ہے اور دوسرے ہاتھ میں باغیوں کو پالتا ہے۔ یہ الزام نہیں۔
امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا تو کورکمانڈر کانفرنس میں جواب دیا گیا کہ ’’ ہم اکیلے نہ تھے یعنی تم بھی شریکِ جرم تھے‘‘۔ آج تک سب کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، اگر یہ گروپ آپس میں یہ کھیل ختم کرنے کیلئے نہ لڑتے تو حکومتوں نے ان کو پالنے کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ جنرل راحیل کی قیادت میں اسکا خاتمہ ہواہے لیکن اب بھی یہ کھیل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔
حکومت ، اپوزیشن اور ریاستی اداروں میں اگر خلوص ہو تو نہ صرف بھٹکے ہوئے طبقات کی اصلاح ہوسکتی ہے بلکہ پاکستانی قوم دنیا کی امامت کی حقدار بن سکتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق جمعیت علماء ہند سے ہی نہ تھا بلکہ وہ کانگریس کے بھی رکن تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’قرآن کے نزول کے وقت اس کے مخاطب عرب تھے ، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے وقت قرآن کا مخاطب پوری دنیا ہوگی ، جو اچھائیاں عرب میں موجود تھیں ، انکو باقی رکھا گیا اور برائیوں کو ختم کردیا گیا۔ نشاۃ ثانیہ کا زمانہ آئیگا تو دنیا بھر میں اچھائیوں کو باقی رکھا جائیگا اور برائیوں کو ختم کردیا جائے گا‘‘۔نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ’’پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، فرنٹیئر، کشمیر اور افغانستان میں جس قدر قومیں موجود ہیں ، یہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہیں، یہی امامت کی حقدار ہیں اگر ہندو پوری دنیا کو ہمارے مقابلے پر لئے آئے پھر بھی ہم اس مرکزی حصے سے دستبردار نہ ہونگے‘‘۔
غسل کے تین فرائض سے تین طلاق کی تعبیر تک ، قرآن کی تعریف سے لیکر اجماع و قیاس تک نصاب کے نام پر مدارس میں بھی عجیب منطق پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا منیر احمد قادری نے لکھا’’مولانا یوسف لدھیانوی نے توبہ کی ؟ ، آسیہ ملعونہ کی کیا سزا ہے؟ اور حضرت ابوبکرؓ کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی تو منہ پر تھپڑ مارا ‘‘۔ نبی ﷺ نے ابن صائد کو قتل نہ کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے تھپڑ مارا ، پھر ہم بھی نئے سرے سے سوچیں؟۔ نادر شاہ