دنیا بھر کی جاہلانہ رسوم قوانین اور اسلامی حقوق کامسئلہ

520
0

سعودی عرب، ایران، پاکستان ،افغانستان، ترکی، مصر، عرب امارات، قطر ، عمان،شام،عراق، امریکہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، روس، آسٹریلیا،فلسطین،سوڈان، بنگلہ دیش،برما، ملیشیا، جاپان، لبنان ،چین،کوریا کے علاوہ دنیا بھرکے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان بہت سے فرقہ وارانہ، مسلکانہ حقیقی رنجشوں کے علاوہ تہذیب وتمدن اور حالات کے تناظر میں بھی کچھ اختلافات ہیں۔
قرآن وسنت کی عظیم روشنی سے آفتاب کی ضیاء اورمہتاب کے نور کی طرح ہمارا ہر مسئلہ حل ہوسکتاہے۔ اللہ کی کتاب قرآن اور آخری نبی حضرت محمدﷺ کی سنت پر کسی مسلمان کا اختلاف تو دور کی بات ہے وہ شخص مسلمان بھی نہیں ہوسکتا۔ ہمارا اتنا بڑا عظیم الشان اثاثہ ہونے کے باوجود مسلمان اپنے اپنے مفادات اور تعصبات سے کھیل رہے ہیں۔ زوال وپستی کی انتہاء اور بلندی وعروج کے درمیان فاصلے کی کمی نہیں لیکن کسی بیمار ذہن کو بات الٹی لگتی ہو تو اسکے علاج کی ضرورت ہے۔ قرآن شفاء للناس ’’عوام کیلئے شفاء‘‘ ہے۔ دورِ جاہلیت میں باپ کی منکوحہ سے بیٹے شادی رچانے کا حق رکھتے تھے اور منہ بولے بیٹے کی منکوحہ کو حقیقی بہوسمجھ لیا جاتاتھا ۔ اس بدترین بے غیرتی کا اللہ تعالیٰ نے زبردست طریقے سے علاج کردیا ۔
اصلاحات کے نام پر فسادکی بھی بنیاد پڑتی ہے۔ عرب میں لاتعداد عورتوں سے نکاح کا رواج تھا۔بادشاہوں کے حرم سراؤں میں سینکڑوں لڑکیوں کو پابندِ سلاسل رکھا جاتا تھا۔ لڑکے کو باپ کی منکوحہ ، لونڈی یا داشتہ سے نکاح کی اجازت اصلاح کی خاطر بھی دی جاسکتی ہے اور ہوائے نفسانی میں خواہشات کی تکمیل کیلئے بھی۔ معاشرہ اصلاحات بھی لاتا ہے اور فسادات بھی۔ کسی معاشرے میں افراد اپنی بیشمار بیگمات کو طلاق دیتا ہو یا بیوہ بناکر چھوڑتا ہو تو اسکا حل کیاہے؟۔ طلاق شدہ اور بیوہ سے نکاح پر کوئی مشکل سے راضی ہوتاہے۔ اسامہ بن لادن کے باپ نے 22عورتوں سے نکاح کیا تھا۔ جب سعودی عرب نے دیکھاکہ خواتین پر سخت پابندیوں کے باوجود بھی خاطر خواہ اثر نہیں تو مسیار کے نام پر وقتی نکاح یا متعہ کی اجازت دیدی۔ وہاں کے علماء ومفتیان اور مذہبی شدت پسندوں کا حکومت میں کردار ہے۔ بڑے لوگوں پر تو ان کا بس نہیں چلتا مگر غریب غرباء پر ٹھیکہ داری کو جماتے ہیں۔ سختی کے انداز میں وہاں پر کام کرنے والے پسماندہ ملکوں کی عوام سے پوچھتے ہیں کہ ’’آپ نے مسیار تو نہیں کیا ‘‘۔ اگر مذہبی طبقے کے ذہن میں یہ بات ہو کہ’’ حکمرانوں نے قرآن وسنت کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسیار کی اجازت دی ہے‘‘ تو یہ زبردست تصادم ، نفرت اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ اور جب مذہبی طبقے بڑوں سے نہیں نمٹ سکتے اور غریب غرباء پر اپنی ٹھیکہ داری جمانا اپنا حق سمجھتے ہیں تو ملاء اعلیٰ سے ان کا رشتہ ٹوٹ کر احسن تقویم نہیں رہتا بلکہ سافلین میں نچلے ترین درجے پر پہنچ جاتاہے۔ مذہب، سیاست ، صحافت میں کچھ لوگ آلۂ کار کا کردار ادا کرتے ہیں تو معاشرہ کبھی بھی اخلاقی قدروں پر کھڑا نہیں رہ سکتاہے۔
جب امام ابوحنیفہؒ پر وقت کا بادشاہ ، امیرالمؤمنین یا خلیفہ اپنے مقاصد کیلئے قابو نہ پاسکا تو آپ کو جیل میں بند کرکے تشدد کیا اور زندگی سے محروم کردیا۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کو بھی سرِ عام منہ کالا کرکے گدھے پر گھمانے اور سخت ترین کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔ قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)شیخ الاسلام کا لقب پانیوالے امام ابویوسف کو حکومت کی تمام مراعات حاصل تھیں، ممکن ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار عہدے پر ہوں اور نوازشریف سے مکمل ہمدردی رکھنے کے باجود دوسرے ججوں کے ذریعے نوازشریف کو سزا ہوجائے تو اسی طرح امام ابویوسف کی ہمدردی امام ابوحنیفہؒ کیساتھ ہوں مگر عملی طور سے کچھ نہیں کرسکتے ہوں۔چیف جسٹس و عام ججوں کے جذبے میں فرق ہوسکتاہے، آرمی چیف اور کورکمانڈروں کے جذبے مختلف ہوسکتے ہیں جس طرح نوازشریف اور مریم نوازکی خواہش اسٹیبلشمنٹ سے طبلہ جنگ بجانے میں تھی اور واحد شخص چوہدری نثار تھے جو کھل کر نوازشریف کی خواہش کے خلاف چلے اور آج ان کی فکرسب پر غالب بھی آگئی۔یہاں تک جیو اور جنگ نے بھی نوازشریف کی خواہشات کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرنے کے بعد اپنی توپوں کا رُخ بدل کر چوہدری نثار کے مشن کو پذیرائی دینا شروع کی۔
خواہشات ، خواب اور خمار کی آنکھوں سے دیکھنے والی دنیا اور معروضی حقائق کی دنیا میں فرق ہوتا ہے لیکن کبھی معروضی حقائق میں بھی خوابوں کی طرح تبدیلی کا عمل اتنا تیزی سے مکمل ہوتا ہے کہ آنکھوں کو یقین نہیں ہوتا۔ سائنس کی دنیا نے ایک ایسا انقلاب برپا کردیاہے کہ مُردے جی اٹھیں تو دنیا پر قیامت کا یقین کرنے لگیں۔اس سے بڑا انقلاب دورِ جاہلیت کو اسلام نے اعلیٰ اخلاقی اقدار سے بدل ڈالا۔ دنیا آج تک اس کی نظیر لانے سے بالکل قاصر ہے۔ حضرت بلال حبشیؓ کو سیدنا کا لقب مل گیا اور ابوجہل وابولہب اور ابن اُبی کی سرداری غارت ہوگئی۔ حضرت علیؓ کے بھائی شہید ہوگئے تو بھابی حضرت ام عمیسؓسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے شادی کرلی اور حضرت ابوبکرؓ کا وصال ہوا تو اسی سے حضرت علیؓ نے شادی کرلی۔ جس سے محمد بن ابوبکرؓ تھا جس سے پوتاقاسم بن محمد بن ابوبکرؓ تھے جو مدینہ کے 7فقہاء میں بھی تھے۔ عروہ بن زبیرؓ حضرت ابوبکرؓ کے نواسے بھی 7 فقہاء میں تھے اورمکہ پر قابض عبداللہ بن زبیرؓ بھی حضرت ابوبکرؓ کے نواسے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے کہا کہ ’’متعہ زنا ہے تو حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ تم بھی اسی کی پیداوار ہو‘‘۔ (زادالمعاد: علامہ ابن قیم‘‘۔
حضرت امام حسینؓ کی کربلا میں شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیرؓنے مکہ کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یزید کی موت واقعی ہوگئی لیکن اپنی زندگی میں مکہ پر قبضہ نہیں کرسکا۔ یزید کی طرف سے لڑنیوالے نے یزید کی موت کے بعد عبداللہ بن زبیرؓ کو صلح کی پیشکش کی مگر آپؓ نے پیشکش کو دھوکہ سمجھ لیا اور مصالحت سے انکار کردیا۔ یزید کی حکومت عدمِ استحکام کا اسقدر شکار تھی کہ چالیس دن میں اسکا بیٹا معاویہؒ اقتدار چھوڑ گیا۔ عبداللہ بن زبیرؓ سے ایک بیٹے کے سوا سب بدست بردار ہوگئے تواپنی 100 سالہ اماں حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ’’ چاہتا ہوں کہ ہتھیار ڈال دوں اسلئے کہ میری لاش کیساتھ بہت برا سلوک کیا جائیگا تو آپ اس ضعیف العمری میں یہ دُکھ برداشت نہ کرسکوگی۔ حضرت اسماءؓ( نبیﷺ نے ذات النطاقین کا خطاب دیا) نے فرمایا کہ ’’ بیٹا جب تم مرجاؤ تو لاش کو کیا تکلیف ہوگی؟۔ اگر تم ہتھیار ڈال دو تو مجھے اس سے زیادہ تکلیف ہوگی جب تمہاری لاش کیساتھ بہت برا سلوک ہو‘‘۔ عبداللہ بن زبیرؓ نے گود میں سر دیکر دعا کی درخواست کردی کہ آخری اور فیصلہ کن مرحلہ میں جان کی بازی لگانے کا وقت آگیاہے ، استقامت مل جائے، اور ماں نے پیٹھ پر تھپکی دینے کیلئے ہاتھ لگایا تو پوچھا کہ یہ سخت کیا چیز ہے؟۔ بعض اوقات چوٹ کھانے سے بھی جسم سخت ہوجاتا ہے۔ بیٹے نے عرض کیا کہ زرہ ہے تو ماں نے کہا کہ بیٹا اس کو اُتاردو۔ چونکہ ماں نابینا ہوچکی تھیں اور اپنے بیٹے کو بہادری کا سبق سکھارہی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے تاریخ کے اوراق میں اس کو محفوظ بھی کرنا تھا۔
عبداللہ بن زبیرؓ کی لاش کو کئی دنوں تک لٹکائے رکھا گیا۔ اماں حضرت اسماء بنت ابی ابکرؓ لاش کے پاس پہنچ گئی تو حجاج نے کہہ دیا کہ ’’دیکھ لیا ، اپنے بیٹے کا انجام !‘‘۔ حضرت اسماءؓ نے فرمایا کہ ’’ بالکل دیکھ لیا اور اللہ کا شکر کہ سودا گھاٹے کا نہیں ۔ تم نے میرے بیٹے کی دنیا تباہ کی ۔ اس نے تمہاری آخرت کو بگاڑ دیا ‘‘۔ تاریخ کے اوراق میں محفوظ یہ واقعات دنیا کے سامنے اسلئے نہیں آتے کہ حکمرانوں کیخلاف بغاوتوں کی تقویت کا باعث بنتے ہیں۔ عربی میں یہ واقعہ فتنہ ابن زبیرؓہے۔ شیعہ اسلئے وقت کے حکمرانوں کی نظر سے گرے ہوئے ہیں کہ واقعہ کربلا کی یاد مناتے ہیں۔ حقائق کا معیارتہذیب وتمدن سے اکثر وبیشتر مختلف رہتاہے۔ امریکہ اور اس کی باقیات سے توقع نہیں کہ افغانستان کے ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش سے ہونے والے سلوک پر دنیا سے معافی مانگ لیں اوراپنے ا قدار کے پیمانوں کو درست کرنا شروع کردیں۔
سندھ کی بیٹی، اسلام کی صاحبزادی ، اقدار کی شہزادی اور دختر انسانیت محترمہ ثانیہ خاصخیلی کی عظیم شہادت کا سانحہ ہماری تہذیب وتمدن ، معاشرہ ، حکومت اور ریاست کے منہ پر کربلا سے بڑی کالک ہے۔ یزید کے دبار میں پہنچتے ہی اہلبیت کے گھرانے کو تحفظ مل گیا۔ زین العابدین نے شہر کی جامع مسجد میں جمعہ کی تقریر کی۔ ثانیہ شہید کے گھر والے تحفظ کی بھیک مانگتے ہیں۔ ہماری عدالتیں قابلِ احترام ہیں لیکن جب مجرم انجام کو پہنچیں گے تو اس میں اتنا وقت لگے گا کہ اس کی معصوم بچی بہن اپنی عمر کی کئی بہاریں کھودے گی۔ خاندان عرصہ تک اس طرح ہراساں رہے گا۔ وڈیرے قاتلوں اور انکے سہولت کاروں کی مونچیں تاؤ کھاتی رہیں گی۔ سیاسی کھوتے ، مذہبی گدھے اور حکومتی وریاستی خر مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے بلکہ کمزور کے مقابلہ میں ظالم طاقتورسے ہمدردیاں جتارہے ہونگے کیونکہ ازل سے تہذیب وتمدن اور معاشرے کی یہی رسم وروایت چلی ہے۔
ثانیہ شہید کی خبر چار دن بعد سوشل میڈیا سے نہ پہنچتی تو حکمرانوں نے کوئی خبر نہیں لینی تھی۔ ثانیہ ایک غریب تھی جس نے اپنی اور خاندان کی عزت کیلئے جان کی قربانی دیدی مگر اسلامی، انسانی اقدار کو تحفظ دے گئی۔ سندھ، پاکستان، اسلام اور انسانیت کو اپنی اس عظیم سپوت پر فخر کرنا چاہیے ،جس نے بڑی بہادری سے جامِ شہادت قبول کرلی۔ ثانیہ سندھ ، انسانیت اور اسلامی اقدار کی محسن ہیں۔ سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں، عدالتی بار کونسلوں، پریس کلبوں اور مدارس میں سیمینار، جلسے اور جلوسوں کے ذریعے سے ان کی غیرت کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے ۔ اس کی یومِ شہادت کو عالمی طور پر ’’ انسانی غیرت ‘‘ کو اُجاگر کرنے نام پر منانا چاہیے اور یہی اسلام کے احکام اور انسانی اقدار کا بڑا سرمایہ ہے۔ انسان کو یہی غیرت جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اور حکومت وریاست کی اہم شخصیات کو ملکر ثانیہ شہید کے قبر پر سلامی پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ظالموں کا قلع قمع اور غریبوں، مظلوموں اور بے کسوں کیلئے پاکستان سے دنیا کے سامنے ایک مثبت پیغام جائے۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمین گاہ دارالخلافہ اسلام آباد سے زنجیرمیں جکڑی ہوئی لڑکیاں پکڑی گئیں ہیں جو فروخت کی جارہی تھیں۔ ثانیہ شہید کا جذبہ اور ثانیہ شہید کی قربانی کو اُجاگر کرنے سے ہمارا معاشرہ اس گندے نظام سے نکل آئیگا جس کے خمیر سے بڑے بھیانک انداز میں دنیابری طرح لتھڑ چکی ہے۔
سندھ کی پارلیمنٹ سے شادی کیلئے لڑکیوں کی عمرکم ازکم 16کی جگہ 18سال کا قانون پاس کیا گیا جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے برعکس تھا اور سینٹ میں پیپلز پارٹی کے اپنے لوگوں میں سے بھی رحمن ملک وغیرہ نے حمایت نہیں کی۔ امریکہ میں ایک طرف آزاد جنسی معاشرہ ہے تو دوسری طرف شادی کیلئے بلوغت ہی نہیں اچھی خاصی عمر بھی شرط ہے۔ کچھ معاملات وہ ہوتے ہیں جن کا تعلق حکومت سے ہوتاہے اور کچھ معاملات میں حکومت بے بس دکھائی دینے پر مجبورہوتی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں جنسی بے راہ روی کو روکنا ممکن نہیں تو شادی پر پابندی لگانے سے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟۔ امریکہ میں نکاح کیلئے بڑے سخت قوانین ہیں ، نکاح کے بعد عورت جدائی اختیار کرنا چاہے یا شوہر، دونوں صورتوں میں جائیدادبالکل آدھی آدھی تقسیم ہوتی ہے۔ اگر حکومت بچپن کی شادی پرپابندی نہ بھی لگائے تو لوگ خود بھی شادی کے بجائے اس خوف سے بوائے اور گرل فرینڈز بننا پسند کرتے ہیں کہ جائیداد تقسیم ہوگی۔ نکاح کی خاص پختہ عمر تک پہنچنے کیلئے جسمانی اور جنسی طورسے بالغ ہونے کے بجائے ذمہ داری، عقل اور شعور کی عمر تک پہنچنا بھی ضروری ہوتاہے اور قرآن میں بھی اتفاق سے اسی ہی کا ذکرہے۔ چنانچہ یتیم بچوں کیلئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’جب وہ نکاح تک پہنچ جائیں ‘‘۔ اس میں جنسی بلوغت مراد نہیں بلکہ اس کی وہ صلاحیت مراد ہے جس میں مالی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بن جائے۔
غلام احمد پرویز نے حتی اذا بلغوا نکاحاسے عورت کی جنسی بلوغت مراد لی ہے۔حالانکہ یہاں سرے سے عورت کا ذکر نہیں اور بلوغت کے معنیٰ بھی بلوغت نہیں بلکہ پہنچنے کے ہیں اور وہ بھی جنسی بنیاد پر نہیں بلکہ مالی ذمہ داری اٹھانے کیلئے۔ چونکہ اسلام نکاح کا حق مہر، شادی کے اخراجات، بیوی بچوں کا نان نقفہ سب ہی مرد کے ذمہ ڈالتاہے اسلئے پاکستان میں لڑکی کیلئے شادی کی عمر16اور لڑکے کی عمر18 سال رکھنے میں خواتین کی حق تلفی نہیں ۔ اگر دنیا کو پتہ چل گیا کہ اسلام میں غیرشادی شدہ کیلئے بدکاری کی سزا 100کوڑے ہیں لیکن لڑکیوں کو جان سے ماردیا جاتاہے تو اقوام متحدہ مطالبہ کریگی کہ لڑکیوں پر شادی کی خاص عمرکی پابندی ختم کردی جائے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چند ٹکوں کو کھرے کرنے کیلئے کام کرنے کے بجائے واقعی میں انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے کام کریں گی۔ اگر چہ امریکہ کی ریاستوں میں شادی کیلئے لڑکیوں کی کم ازکم عمر الگ الگ ہے لیکن وہاں پولیس کے ذریعے چھاپہ مار کاروائی کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اسلئے کہ علیحدگی کی صورت میں عدالت کی طرف سے پھر کوئی ریلیف نہیں مل سکتا ہے اور جنسی میلاپ اور نکاح کے بغیر بچوں کی پیدائش پر ویسے بھی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ہے۔ بچوں کو جائیداد کی تقسیم کا سامنا کرنا پڑے تو معاشرے کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اسلئے امریکہ اور مغرب میں اپنے مخصوص حالات اور تہذیب وتمدن میں قوانین بھی ہم سے بالکل مختلف ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں مولانا فضل الرحمن MRDکی تحریک میں تھے اور مولانا نورانی ؒ کے بیان اخبار میں شائع ہوتے تھے کہ ’’ کراچی کو فری سیکس زون میں تبدیل کرنے کی سازش ہورہی ہے‘‘۔ آج حالات بدل گئے، بینظیر بھٹو کیخلاف بڑا شرمناک پروپیگنڈہ ہوتا تھا ، تومریم نوازشریف خود کو بینظیر بھٹو بناکر پیش کرتی ہے۔ احتساب عدالت کا یہ فائدہ ضرور ہواہے کہ مریم و صفدر کی جوڑی قریب قریب ایک جگہ دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان نے عائشہ گلالئی کیخلاف الیکشن کمیشن میں اس بنیاد پر کیس دائر کیا کہ اس نے شیخ رشید کواپنا ووٹ نہیں دیا ، حالانکہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے بھی اپنے نامزد وزیراعظم شیخ رشید کو ووٹ دینے کی زحمت نہیں کی۔اب سیاست سیاست نہیں رہی بلکہ بے شرمی، بے غیرتی، بے حیائی، بے ایمانی اور بے وقوفی کی لیاقت رہی ہے۔ میرے لئے اور پورے معاشرے کیلئے سب سے عزتمند طبقہ وہ مخلص سیاسی رہنما اور کارکن ہیں جو اصولوں کیلئے اپنے ٹھیٹ کردار اور گفتار کی ضمانت ہوتے ہیں لیکن بیکارسیاسی قیادت اور پارٹیوں نے ان کو بھی بے وقعت بنایا ہے۔ بلاول بھٹو، مریم نواز، نوازشریف، آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق، مولانا فضل الرحمن،محمود خان اچکزئی، چودھری شجاعت، شیخ رشید ، الطاف حسین اور سب ہی سیاسی لیڈروں نے اصول، اخلاقیات اور کردار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کرنیوالاسیاست کے نام پر قیادت کے چھولے پُلاؤ بیچنے کے لائق بالکل بھی نہیں رہاہے۔ فوج کا کام سیاست نہیں اور ان کی نرسرسیوں و گملوں میں پھلنے والی قیادت کیا قیادت ہوگی؟۔ موروثی قیادت اور نااہل قیادت کی گود میں پرورش پانے والی قیادت کے اندر کیا صلاحیت ہوگئی اور اسکے کیا اوقات اور اخلاق وکردار ہوں گے؟۔ اچھے لوگوں کو سیاست کیلئے لنگوٹ کس کر نکلنا ہوگا۔
محمود اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نوازشریف کیلئے بیربل و ملادوپیازہ نہ بنیں جو پیرروشان کے مقابلہ میں مارے گئے، قبائل کے 40FCR کی زد میں خود آئیں تو قبائل کے درد کا پتہ چلے ،کالے قانون کا سامنا قبائل کو ہی کرنا پڑتاہے۔ختم نبوت کی ترمیم کیلئے میڈیا نے خوب آواز بلند کردی، پھر سینٹ میں بل کی منظوری ہوئی، جس پر مزید شور گونج اٹھا۔ قومی اسمبلی میں بل پیش ہونے سے پہلے شیخ رشید نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود کا نام لیکر مولانا فضل الرحمن کو پکارا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی ختم نبوت کی ترمیم کیخلاف بولا مگر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ نے مہنگائی پر بات کی، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کی نااہلی کو موضوعِ بحث بنایا۔ مسلم لیگ ن کے بیرسٹر ظفراللہ کی وضاحت اعترافِ جرم بھی ہے اور اس میں وزن بھی ہے کہ ’’ سب جماعتیں ختم نبوت کی ترمیم میں آن بورڈ تھیں‘‘۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی وڈیو بھی آچکی ہے کہ وہ قادیانی جماعت کے سربراہ سے ملاقات کرکے ووٹ میں تعاون مانگ رہاہے۔
تحریک انصاف، پیپلزپارٹی ، ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے اس سلسلے میں غفلت نہیں بدترین منافقت کا رول ادا کیاہے۔ اگر فوج کے ترجمان آصف غفور کی طرف سے وضاحت نہ آتی کہ ’’پاک فوج ختم نبوت کے مسئلہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی‘‘ تو آئین میں ختم نبوت کی اس ترمیم کا یہ لوگ کریدٹ لیتے لیکن جب فوج کی طرف سے وضاحت آئی تو یہ خوف پیدا ہوا کہ جو حشر جیو ٹی وی چینل کا توہین اہل بیت کے مسئلہ پر کیا گیا تھا ، اس سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ہوسکتاہے تو ترمیم واپس لی گئی۔ جسکے بعد مولانا فضل الرحمن کا بیان جدہ سے آگیا کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ ختم نبوت کی ترمیم کا مسئلہ کیا ہے؟‘‘۔ اہم مواقع پر مولانا نے ہمیشہ کی طرح رفوچکر ہونے کی چلن سیکھنے کا فائدہ اٹھایا تھا۔ پھر سوات کے جلسہ میں مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ’’ ہم نے ختم نبوت کی ترمیم کی سازش ناکام بنادی‘‘۔ منافقت میں گراوٹ کے حدود اور قیود نہیں ہوتے۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ’’ منافق جہنم کے سب سے نچلے حصہ میں ہونگے‘‘۔پھر مولانا فضل الرحمن نے یہ بیان دیا کہ ’’امریکہ کو پیغام دیا گیا کہ ہم نے ختم نبوت کا مسئلہ آئین سے نکال دیا‘‘۔
اب کوئی مولانا فضل الرحمن سے پوچھ لے کہ یہ پیغام کس نے دیا ؟۔ توکہے گا کہ یہ حالات پر منحصر ہے، اگر نواشریف کی کشتی ڈوب گئی تو نوازشریف کا نام لوں گا اور عمران خان نے مات کھائی تو اسکا نام لوں گا، جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام آیا تو اسکا نام لوں گا۔ اور کبھی خدانخواستہ حالات ایسے بن گئے کہ ختم نبوت کی ترمیم واپس لینے کے دینے پڑگئے تو مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ ’’ امریکہ کو میں نے پیغام دیدیا تھا کہ یہ کام ہم نے کیا تھا لیکن سازش کے تحت اس کو ناکام بنادیا گیا‘‘۔ ہماری سیاست اور مذہب کا یہ معیار ہے کہ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے کہا کہ ’’ شہباز شریف تم کب رانا ثناء اللہ کو نکالوگے؟‘‘۔ در پردہ سراج الحق کہے گا کہ میں نے رانا ثناء اللہ کیخلاف مرغی بن کر آذان دی ، جے یوآئی والے رانا ثناء اللہ سے بڑے مجرم ہیں۔ آج مولانا فضل الرحمن مرغا بن کر کُڑ کُڑ کرے تو سراج الحق مرغی بن کر بغل میں کھڑا ہوگا۔ سخت زباں کا استعمال اتنا خطرناک نہیں جتنا منافقانہ کردار خطرناک ہوتاہے۔ پاک فوج کے پہلے دو آرمی چیف آزادی کے بعد بھی انگریز تھے، قادیانی آرمی چیف منافقت کی بنیاد پر بنتاہے تو یہ غلط ہے، پاک فوج کیلئے بھی اور قادیانیوں کیلئے بھی۔
نوازشریف نے جنرل باجوہ پر الزام کی گنجائش دیکھ کر آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا اسلئے کہ اس کو جنرل راحیل شریف کے بعد بہت کمزور آدمی کی ضرورت تھی ، جب مسلم ن نے دیکھا کہ ختم نبوت کا مسئلہ کریڈٹ بننے کے بجائے گلے کا طوق بن رہاہے تو کیپٹن صفدر سے قومی اسمبلی میں فوج میں عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹانے پر زور دیا ، کچھ ڈاکٹر عامر لیاقت جیسے ہیں کہ الطاف حسین کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں، جیو کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں، پاکستان اور اسلام کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں اور جب وہی بات ڈی رینجرز کرتاہے کہ فرقوں کی بجائے اسلام اور لسانی وصوبائی اکائی کی بجائے اپنی شناخت میں پاکستانیت کو اولین ترجیح دو، بول سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت کی طرف سے کلپ جوڑ کر بلیک میلنگ کی گئی جس پر دوبارہ بول میں رکھوا دیا گیاہے۔ اب اگر جنرل باجوہ نے جھوٹ سے بھی کہہ دیا کہ ’’ میں کٹر قادیانی ہوں اور ڈاکٹر عامر لیاقت مجھ پر تبصرہ کرو ‘‘ تو ڈاکٹر عامر لیاقت کہے گا کہ’’ تحریک انصاف اسلئے میں جوائن کی ہے کہ عمران خان قائداعظم کا نام لیتاہے، قائداعظم کے قادیانی پر کفر کا فتوے نہیں لگاتے تھے، یہ تو پاکستان مخالف ہندؤں کے ایجنٹ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا ایجنڈہ تھا جس کو ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو کمزور بنانے کیلئے استعمال کیا تھا۔ قادیانی ہم سے زیادہ پکے مسلمان ہیں‘‘ ۔
جب صحافت اور سیاست کا معیار گر جائے۔ کوئی میڈیا چینل اور صحافی سیاست نہیں کرسکتااورنہ ہی کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرسکتاہے، یہ قانوناً جرم ہے لیکن سیاستدان صحافت اور صحافی سیاست کررہے ہیں۔ یہی منافقت کی بنیادیں ہیں اور اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ صحافت کا کام کارگردگی کی بنیاد پر بلاتفریق سب ہی کی حمایت اور سب ہی کی مخالفت ہے تاکہ قوم ، ملک اور سلطنت میں سیاست اور سب اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے اور غلطیوں کی اصلاح ہوسکے ۔ سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کا یہ معیار ہے کہ میڈیا، پارلیمنٹ اور دنیا بھر میں متضاد اور مختلف بیانات کے ذریعے قابلِ وکیلوں کو استعمال کرکے عدالتوں میں صفائی پیش نہ کرسکے اور الزام سازش کا لگارہے ہیں۔ کوئی فوجی عدالتوں کے ذریعے ٹرائیل ہوتا تو سازش کہہ سکتے تھے اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں ایک ترمیم ہوگئی جسے نادانستہ غلطی قرار دیا جارہاہے۔ کلمہ کی بات ہے تو فوج اور پارلیمنٹ کیلئے مذہبی معیار کے پیمانے کو بھی بدل دیا جاتاہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے جہاد کو منسوخ قرار دیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاک فوج کا راستہ جہاد کا ہے۔ قادیانیوں کو مذہبی طور پر فوج میں خود بھی شمولیت سے اسلئے گریز کرنا چاہیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اسکے سوا کوئی دوسرا کارنامہ بھی نہیں اور جب اس کارنامے پر زد پڑے تو ایسی نوکری کرنا انکے مذہب، ضمیر اور مشن کے خلاف ہے اور فوج پر بھی برا اثرمرتب ہوتاہے۔
جاویداحمد غامدی ایک قابل آدمی ہیں وہ کہتاہے کہ ’’ تمام انسانیت کی طرح میں قادیانیوں کیلئے بھی نرم گوشہ رکھتا ہوں ، پارلیمنٹ نے ان کو کافر قرار دیا ہے تو میرے نزدیک بھی وہ کافر ہیں لیکن پارلیمنٹ نے یہ غلط کیا ہے اسلئے کہ آغا خانی ، بوہری اور دیگر فرقوں کیلئے پہلے کبھی یہ طرزِ عمل نہیں اپنایا گیا۔ پارلیمنٹ کا یہ کام نہیں کہ آپ کسی کو اسلام سے نکالنے یا داخل کرنے کا کام کرو۔ قادیانی تو صرف ایک نبی کا اضافہ مانتے ہیں اور جولوگ الہام کے قائل ہیں وہ تو نبوت کا بڑا سلسلہ مانتے ہیں، میرے نزدیک وہ بھی ختم نبوت کا انکار ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا مگر مبشرات، عرض کیا گیا کہ مبشرات کیا ہیں تو نبیﷺ نے فرمایا کہ نیک آدمی کا خواب۔ حدیث سے ختم نبوت ثابت ہوتی ہے اور کچھ بھی باقی نہ رہاہے‘‘۔
جاوید غامدی کا یہ وڈیو تضادات کا مجموعہ ہے، مان لیا کہ پارلیمنٹ کا کام یہ نہیں تو پھر قادیانیوں کے معاملہ میں کیوں مان لیا؟۔ قادیانیوں سے بدترکافر علماء و صوفیاء کے وہ سلسلے ہیں جن کی کتابوں میں الہامات درج ہیں تو پارلیمنٹ کی وجہ سے ایک طبقہ کو کافر کہنا اور دوسرے کو نہیں کہنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ جبکہ بقول تمہارے اس میں پارلیمنٹ کا کردار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کونسی منطق ہے کہ پارلیمنٹ کی ایسی بات جس کا اس کو اختیار ہی نہیں اس پر کیسے کلمہ کا انحصار کیا جائے۔
جاوید احمد غامدی نے حدیث کو بھی ختم نبوت کے حق میں بیان کیاہے یا اس کے خلاف؟۔ اس کی متضاد منطق کے باعث یہ بھی غلط فہمی کا باعث ہے۔ جب نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا تو کیا نیک آدمی کے خواب کو نبوت میں سے باقی حصہ قرار دیا گیا ہے؟۔ نبوت سے مراد حدیث میں کیاہے؟۔ اور مبشرات کیاہے؟۔ نبوت سے مراد غیب کی خبریں ہیں اور غیب کی خبروں کا واحد ذریعہ وحی ہے۔ وحی کا سلسلہ بالکل ختم ہوچکاہے اور اس کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ عربی میں استثناء کی دوقسم ہیں ایک کی مثال یہ کہ’’ قوم آئی مگر زید‘‘۔ زید کا تعلق قوم کے افراد سے ہے ، اس کو متصل کہتے ہیں ، دوسری قسم کی مثال یہ ہے کہ ’’ قوم آئی مگر گدھا‘‘ ، گدھے کا تعلق قوم کے افراد سے نہیں ، اس کو استثناء منفصل کہتے ہیں۔ حدیث میں مبشرات کا تعلق استثناء منفصل سے ہے۔ جاوید غامدی نے جس نصاب میں مہارت حاصل کی ہے ، اس میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھاکر قوم کی خدمت کریں، اسلام کی تبلیغ پر پابندی نہ تھی اور نہ ہونی چاہیے لیکن گمراہ کن خیالات کو الٹی سیدھی منطق سے بغیر کسی درست دلیل کے پیش کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے، جس کی سخت مذمت بھی مناسب ہے۔
نیک آدمی کے خواب کا حدیث میں نبوت کے حوالہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کو محض خواب کی بنیاد پر بشارت قرار دیا گیاہے۔ الہام اچھے اور برے ہوسکتے ہیں اور قرآن میں اس کا ذکر ہے، نیک آدمی کا خواب یا الہام نبوت کے باقیات نہیں اور اس بنیاد پر نبوت کا دعویٰ بھی غلط ہے اور اس کو نبوت قرار دینا بھی بالکل غلط ہے۔ جاویداحمد غامدی نے مرزاغلام احمد قادیانی کی صف میں امت کے تمام طبقوں کوبھی شامل کرکے بدترین جہالت کا ثبوت دیاہے۔ غلط الہامات کو درست سمجھ کر لوگ غلط راہ پر لگ سکتے ہیں لیکن جب تک اس کو وحی کا درجہ نہ دیں تو کافر نہیں۔مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے پیروکاروں نے شیطانی الہامات کو وحی سمجھ کر عام مسلمانوں کواس بنیاد پر کافر قرار دیا کہ ’’ اس مسیح موعود کو تم کیوں نہیں مانتے، جس نے محمدی بیگم کی محبت میں غلط سلط عربی جملوں کو جوڑ کر‘‘ اسے الہامات اور وحی کا نام دے رکھا تھا۔
سعودی عرب کے ولی عہد نے بھی نئے اعلانات کردئیے ہیں، اسلامی شدت پسندوں اور مسلمان اعتدال پسندوں کے درمیان معرکہ آرائی ختم کرنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ قرآن واحادیث کے واضح احکام کا خاکہ سامنے لایا جائے۔ اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ دین میں زبردستی کا تصور قرآن وسنت نے ختم کردیا۔ لاکراہ فی الدین کوئی مصنوعی جملہ نہیں، مدینہ کی ریاست نے صلح حدیبیہ میں بھی اس پر عمل کیا۔ نبیﷺ نے ابن صائد سے کہا کہ میں کون ہوں، ابن صائد نے کہا: آپ اُمیوں کے نبی ہیں اور میں سارے عالمین کا نبی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ جو اللہ کے نبی ہیں وہی اللہ کے نبی ہیں‘‘۔ صحابیؓ نے قتل کی اجازت مانگی تو نبیﷺ نے منع فرمادیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ کے دور میں ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کرکے مدینہ پر فوج کشی سے حملہ کردیا تو وہ گرفتار کرلی گئی اور وعدہ لیکر چھوڑ دی گئی کہ پھر وہ مدینے کا رخ نہیں کریگی۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلافت مستحکم کرنے کیلئے نبوت کے جس دعویدار مسلیمہ کذاب کا خاتمہ کیا تھا ، نبوت کی دعویدار عورت نے اسی سے شادی رچائی تھی۔ ریاست مانعین زکوٰۃ سے جنگ کا فیصلہ اور حج وعمرے پر ایک ساتھ پابندی لگائے تو اس کی محرکات کو دیکھ کر اتفاق یا اختلاف کا اظہار کرنا چاہیے۔ تاکہ مطلق لعنان حکومتوں کا قیام بھی عمل نہ آئے اور فتنوں کی بھی اچھی طرح سے سرکوبی ہو۔ ایک دور وہ تھا کہ حکومت پاکستان نے ہی ’’ ختم نبوت‘‘ پر پابندی لگائی تھی جس میں مولانا عبدالستار خان نیازی کو داڑھی منڈھانا پڑگئی تھی۔
ایک آدمی مغربی کلچر میں اپنا ایمان محفوظ نہیں سمجھتا اورمسلم حکومتیں رقص وسرود کی محافل سجاتے ہیں تو شدت پسندوں کیلئے خود کش حملہ کرنا ایمان کا تقاضہ بن جاتاہے اور اسٹیج پر موجود اداکارہ ہاتھ نہیں آتی تو لمحہ بھر میں حوروں کے مزے اڑانے کا شوق پورا کردیتاہے جس کی تربیتی کیمپوں میں اس کو ترغیب ملی ہوتی ہے۔ میڈیا چینلوں پر مفتی عبدالقوی کے قندیل بلوچ کیساتھ ویڈیو کلپ دکھائے جائیں مگر ان احادیث کو بھی سامنے لایا جائے جس میں مدینہ کی ریاست میں رقص وسرود اور شراب کباب کی محل سجائی گئی تھی۔ سید الشہداء امیر حمزہؓ نے خاتون رقاصہ کے اشعار پر حضرت علیؓ کی اونٹنی کے نشہ میں مست ہوکر ٹکڑے کردئیے۔ بنیﷺ نے فرمایا کہ یہ تم نے کیا ؟ جس پر امیر حمزہؓ نے نشے کی حالت میں کہا کہ ’’ جاؤ، تیرا باپ میرے باپ کا نوکر تھا‘‘ اس حدیث میں ہے کہ نبیﷺ سمجھ گئے کہ نشہ میں ہے اور واپس تشریف لے گئے۔
خاتون دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں سے رقص کررہی تھیں،صحابہؓ دیکھ رہے تھے اور نبیﷺ بھی دیکھنے کھڑے ہوگئے، اکابر صحابہؓ حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علی اور دیگر بھی اس محفل کو دیکھ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کو آتے دیکھا تو رقاصہ پھر بھاگ کھڑی ہوگئی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ عمر سے شیطان بھی بھاگتاہے‘‘۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نبیﷺ سے حضرت عمرؓ کے اندر زیادہ روحانی طاقت تھی بلکہ عوام کو ایک طرف اس روایت میں ریلف ہے تو دوسری طرف علماء وصوفیاء کیلئے اعتدال کی راہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ رقص وسرود کی محفل کو سنت اور صحابہؓ کا اجماع قرار دیکر اپنی ان ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجائیں جو نبوت کے کام کے حوالہ سے ان پر عائدہوتی ہیں۔ ان روایات سے امت مسلمہ اعتدال کی راہ پر چل سکتی ہے۔ علماء کرام کیلئے یہ ضروری ہے کہ قرآن وسنت کے ذریعے سے ایک فعال کردار ادا کریں۔ مولانا فضل الرحمن کا سارا ٹبر حکومتوں سے ملنے والی مراعات پر چلتاہے اور کوئٹہ کے جلسے میں کہتا ہے کہ علماء اور مدارس کیلئے حکومتی امداد زہر قاتل ہے۔ تحریک انصاف نے مولانا سمیع الحق کو فنڈز دئیے تو مولانا فضل الرحمن کے بھائی اپنا حصہ نہ ملنے کا کیوں شکوہ کیا؟۔ مولانا کی تقریر نہیں سنی لیکن جمعیت کے ایک پرانے رہنما نے بتادیا کہ کوئٹہ میں علماء نے محسوس کیا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن کو فنڈز ملتے ہیں اور ان کو اس توقع سے باز رکھنے کیلئے یہ بیان داغا ہوگا۔ جس سے بیچارے غریب علماء کرام محروم ہیں اور انہی کے بل بوتے پر مولانا کی سیاست چلتی ہے۔
حکومت کا بڑا مسئلہ مالی بحران ہے، ہمارے پاس اشرف میمن اور شاہد علی جیسے ماہرین اور فیروز چھیپا جیسے امین موجود ہیں جو ملک کی خدمت کرکے بحرانوں کی زد سے نکالنے کی بفضل تعالیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کا بنجر علاقہ سیاحت کیلئے ترکی کے طرز پر بناؤ سنگھار کرکے بہت پیسہ کمایا جاسکتاہے۔ قوم و ملک کی سمت اچھی ہو تو عبدالقدوس بلوچ، انکے بھائی وہاب بلوچ اور دیگر بلوچوں کو میدان میں اتار کر بلوچستان کو پاکستان کا پرامن علاقہ بنانے کی بھی بفضل تعالیٰ صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے مشکل کام انسانیت اور اسلامی شدت پسندوں کے درمیان حقیقی اعتدال کی راہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کا خاتمہ ہے اس کی بھی قرآن وسنت کی عظیم لشان روشنی کی بدولت ہمارے اندر صلاحیت ہے ۔: فاما بنعمت ربک فحدث ’’پس جو اپنے رب کی نعمت ہے اس کا اظہار کرو‘‘۔ خادم علماء وصلحاء سید عتیق الرحمن گیلانی