اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

358
0

جیوٹی چینل پر سلیم صافی نے مشرق وسطیٰ کے مسائل کے ماہر سے انٹرویو کیا تو اس نے بتایا کہ القاعدہ اور داعش میں شدید اختلافات ہیں۔ القاعدہ کا نظریہ ہے کہ فی الحال عالمی خلافت کے قیام کیلئے عملی اقدام درست نہیں، افغانستان میں امارت اسلامی کے بعد جہادی سر گرمیاں جاری رکھی جاتیں تو عالمی قوتوں کو مشکلات سے دور چار کیا جاسکتا تھا، داعش مفاد پرست ہے جبکہ داعش کا مؤقف یہ ہے کہ’’ اسلامی خلافت کا قیام ایک شرعی فریضہ ہے، جس کیلئے قریش ہونا اور جسم کے اعضاء کا سالم ہونا بنیادی شرط ہے اور یہ دونوں شرائط امیرالمؤمنین ملا عمر میں نہیں پائی جاتی ہیں‘‘۔ القاعدہ، طالبان اور داعش کے آپس سمیت امت مسلمہ کے اختلافات کو سلجھانے کیلئے اغیار کی طرف دیکھنے کی بجائے اندرون خانہ مسلم علماء، دانشور اور ہماری ریاستوں کو باہمی طور سے مل بیٹھ کر حقائق کی طرف آنا ہوگا۔
اسماعیلی آغا خانی اور داؤدی بوہرہ کے اہل تشیع فرقوں نے اپنی جماعتوں اور ان کے سربراہوں کو امام زمانہ قرار دے رکھا ہے، اسلئے وہ تمام ممالک میں بہت خاموشی کیساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسی سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں۔ اہلحدیث سے کٹ جانی والی جماعت المسلین نے بھی اپنی جماعت اور اسکے امیر کا ایک تصور بنالیا ہے جو کراچی سے پاکستان بھرمیں اپنی سرگرمیاں جاری ہوئے ہیں، اہل تشیع کے امامیہ فرقے کے نزدیک احادیث میں بارہ خلفاءِ قریش کا ذکر ہے اور وہ انکے نزدیک حضرت علیؓ سے مہدی غائب تک بارہ ائمہ اہلبیت ہیں۔ جب تک ان کے نزدیک مہدی غائب کا ظہور نہیں ہوجاتا ، وہ اسلامی امارتوں کے قیام اور اجتہاد سے کام لیکر اپنے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، ایران میں انکی جمہوری حکومت اور شام میں خاندانی بادشاہت ہے۔ دنیا بھر میں اہل تشیع کا یہ معروف فرقہ نہ صرف اپنے عقائد ومسلک بلکہ سیاسی اور جہادی جدوجہد میں بھی مصروفِ عمل ہے۔ صدام حسین عراق میں سنی حکمران تھے جس کا تختہ الٹ کر امریکہ نے وہاں شیعہ کوحکومت بنانے کا موقع فراہم کیا، اب امریکہ شام کے شیعہ حکمران حافظ بشار الاسد کو ہٹانے اور وہاں کسی سنی حکمران کو لانے کی تگ ودو میں ہے۔ حال ہی میں داعش کے نام پر امریکہ نے 60شامی فوجیوں کو بمباری کا نشانہ بناکر شہید کردیا اور پھر وضاحت کی کہ غلط فہمی میں یہ ہوا ہے۔ روس امریکہ کیخلاف تھوڑی بیان بازی کرلیتا ہے اور یہ بھی مسلم ریاستوں کے بھیگی بلی بن جانے کے مقابلہ میں غنیمت سے کم نہیں۔
روس کی فوجیں پاکستان میں پہلی بار ایسے موقع پر مشقیں کرنے آئی ہیں جب بھارت اور دنیا کشمیر کے مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر دباؤ بڑھارہے ہیں۔ امریکہ سے کھربوں کی خریداری کا معاہدہ من موہن سنگھ نے کیا تھا، اسلحہ کی خریداری اور اس کا استعمال ہو یا پاکستان اور خطے سے کمائی کرکے بھارت کو اپنی قسطیں ادا کرنے ہوں، لگتا ہے کہ امریکہ نے بھارت کو مانیٹری کا فریضہ سونپ دیا ہے۔چین اور سعودی عرب سے دشمنی ایران ، افغانستان اور بھارت سے امریکہ کی دوستی بنے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟۔ باتوں سے بات نہیں بنے گی بلکہ ایک مضبوط اور مربوط لائحۂ عمل تشکیل دینا ہوگا۔ تب پاکستان کی سلامتی خطرے سے باہر ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلے ان معاشرتی مسائل کو پاکستان اٹھائے جن پر عالمِ اسلام میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے۔ افغانستان، ایران ، سعودی عرب، عرب امارات، کویت ،قطر عمان، مصر،سوڈان، لیبیا، شام، عراق ، یمن، ملائشیاء، انڈونیشاء،ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ اور تمام مسلم ممالک اور غیرمسلم ممالک بھارت ، امریکہ،لندن، فرانس، جرمنی ،روس وغیرہ سے علماء ومفتیان کے وفود کو پاکستان طلب کرکے خواتین کے حقوق اور خلع وطلاق کا مسئلہ سامنے رکھا جائے تو ایک یکجہتی کا انقلاب پیدا کرنے میں بالکل بھی کوئی مشکل نہ ہوگی۔پاکستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان اور دانشوروں کو حکومت اور ریاست بلاکر اس کا تجربہ کرکے بھی دیکھ لے۔
نماز کے اوقات میں فرق اسلئے ہوتا ہے کہ کہیں دن تو کہیں رات ہوتی ہے لیکن پوری دنیا میں چاند ایک ہی ہے، اگر امریکہ اور پاکستان میں ایک دن میں روزہ اور عید کا تصور درست ہے تو پاکستان ، ایران اور سعودی عرب میں بھی ایک دن کا ہونا کوئی غلط، غیرشرعی اور غیرفطری بات نہیں۔ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کو دن دھاڑے کچھ فاصلے پر بھینس نظر نہیں آتی تو ہلال کہاں سے نظر آئیگا۔ اگر یہی ہلال شرعی ہو، جو پاکستان میں دکھتا ہے ، ٹی وی چینلوں کی زینت بنتاہے ، کوئی نہیں بھی دیکھنا چاہے تو آسانی سے نظر آنے کیلئے تیار ہوتا ہے، بس خالی آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی دیر ہوتی ہے تو پھر ایسے ہلال کو دیکھے کیلئے کمیٹی کا بوجھ سرکار کو اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ایک مرتبہ محکمہ موسمیات پاکستان نے اعلان کیا کہ کراچی میں چاند نظر آنے کا امکان ہے، اسلام آباد میں ابرآلود موسم کی وجہ سے بالکل نہیں تو میڈیا پر دکھایا جارہا تھا کہ مفتی منیب الرحمن کراچی سے اسلام آباد چاند دیکھنے پہنچے۔ وہاں بادلوں میں چاند تلاش کرنے کے مناظر دکھائے جارہے تھے۔
اتفاق سے مجھے اور اشرف میمن کو اسلام آباد کسی کام جانا پڑا تھا، ائرپورٹ پر یہ ہلال کمیٹی والے حضرات بھی مل گئے، ایک ہی جہاز میں ہماری ٹکٹیں تھیں۔اشرف میمن نے مفتی منیب الرحمن سے سوال جواب کئے۔ اشرف میمن نے کہا کہ اگر چاند یہاں اور سعودی عرب کا اوقات کی وجہ سے ایک دن کافرق ہے تو یہاں اور امریکہ میں اوقات کا زیادہ فرق ہے، پھر زیادہ دنوں کا فرق ہونا چاہیے ۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ’’یہ پاکستان ہے انجوائے کرو‘‘۔ یہ پرویزمشرف کے دور کی بات ہے۔ جب پوری دنیا میں چاند ایک ہے تو عالمی اسلامی خلافت ہو تو بھی ایک دن میں عید ہوگی ، پھر عالمی اسلامی خلافت کے قیام سے پہلے کیا عالم اسلام کی ریاستیں ایک دن کے روزے، عیدالفطر اور عیدالاضحی پر متفق نہیں ہوسکتے ہیں یا تمام ریاستوں کو مرغے پالنے کی شرعی نہیں سیاسی ضرورت ہے؟۔ صرف اقدام کی ضرورت ہے ورنہ یہ کوئی مشکل کام نہیں، جس سے عالم اسلام میں اتحاد کی ایک نئی روح دوڑے گی۔
احادیث میں مسلمانوں کی جماعت ، خلافت کے قیام اور امام زمانہ کو پہچاننے پر زور دیا گیا ہے، ایک وقت تک کا مولانا فضل الرحمن اپنی جماعت پر احادیث کو فٹ کرتا تھا، جمعیت علماء اسلام کی ایک بڑی مرکزی علماء کانفرنس میں ان کا یہ خطاب بھی سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن مولانا نیاز محمد قریشی نے ’’آذان انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کیا تھا، میرے بھائی جمعیت علماء اسلام کے سابقہ مرکزی شوریٰ کے رکن اور مولانا مفتی محمودؒ و مولانا فضل الرحمن کے عقیدتمند پیر نثار شاہ نے کہا تھا کہ ’’میرا پندرہ سالہ مطالعہ ایک طرف اور مولانا فضل الرحمن کی یہ تقریر دوسری طرف تو اس کا وزن زیادہ ہے‘‘۔ جب میں اپنی کتاب ’’ اسلام اور اقتدار‘‘ میں ان احادیث کی وضاحت اور مولانا فضل الرحمن کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ’’ عاقل کیلئے اشارہ کافی ہے ‘‘ تو مولانا نے پھر اپنی جماعت کوان احادیث کا مصداق نہیں ٹھہرایا۔
ویسے تو علامہ اقبالؒ نے امامت کا مسئلہ بالکل حل کردیا ہے، تاہم امامت کے شرعی مسئلے پر عالمی کانفرنس بلائی جائے تو ہلال سے بڑھ کر سورج کی طرح سب ایک امام پر نہ صرف اتفاق ہوسکتا ہے بلکہ امت مسلمہ فتنوں اور فرقہ واریت کی زد سے بھی نکل سکتی ہے اور انسانیت کا بھی بھلا ہوسکتا ہے۔ شیعہ سنی خلفاء وائمہ پر اختلاف تاریخ میں ایسی حیثیت رکھتا ہے جیسے دن گزرنے کے بعد رات کو سایہ کی لیکروں پر جھگڑے کی فضاء کھڑی کی جائے لیکن اتحادواتفاق اور وحدت آج بھی ہوسکتی ہے۔