اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

433
0

ہندو کے بارے میں مشہور تھا کہ ’’ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام‘‘، مودی سرکار نے اس کا بالکل الٹا نقشہ پیش کرتے ہوئے ایک ایسے موقع پر جب وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر میں مظالم اور بھارتی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی تھی، اس عین موقع پر مودی نے سر پر دوپٹہ باندھ کر دھوتی سے باہر آنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ جب پاکستان کے دفاعی بجٹ کے برابر پاکستان سے بھارت پیسہ منتقل ہورہا ہے تو افواج پاکستان کے برابر مودی سرکار کو نوازحکومت کی فکر ضرور ہوگی اور جو کبوتر نوازشریف کی طرف سے مودی سرکار کے پاس پیغام لے کر گیا ہے یہ وہ منافقت کا کبوتر ہوسکتا ہے جو مودی سرکار نوازشریف کی نواسی کی شادی کے موقع پر ہی چھوڑ کر گیاہو، کچھ دن پہلے دبئی سے پاکستان لائے جانے والے جن کبوتروں کی خبر میڈیا کی زینت بنی تھی ان بھی بھارتی کبوتروں کی اسمگلنگ کا معاملہ ہوسکتاہے۔

Molana_Fazluپچھلے دنوں سندھ میں جمعیت علماء اسلام نے ڈاکٹر خالد سومرو شہید کے قاتلوں کا مقدمہ فوجی عدالتوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنے کیلئے کراچی میں مظاہرہ کیا تو اس میں پچاس بسیں تھرپارکر جیسے قحط زدہ علاقے سے لانے کی بات جے یوآئی ف کورنگی کے ذمہ داروں مولانا سیدعالم انصاری وغیرہ نے دارالعلوم کراچی کے پاس اجلاس میں کیا، یہ سب نوازشریف ہی کی طرف سے خرچے کا اہتمام لگتاہے،یہ تو ہوسکتاہے کہ بلوچستان کے وزراء اپنی حرام کی کمائی سے جمعیت علماء اسلام ف کے جلسوں کو کامیاب کریں لیکن سندھ والوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ یہ فوج کو اپنی قوت دکھانے کا مظاہرہ ہے، مفتی تقی عثمانی نے ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کاساتھ دیا مگر اب اسحاق ڈار کیساتھ روابط کے نتیجے میں ترکی میں فوج کی ناکامی پر یکجہتی کا پیغام دیا گیا، مولانا فضل الرحمن نے دیر میں جلسہ کیا تو سعودیہ کی رقم کھا جانے اور قبائلی عوام کوان کی مرضی کے مطابق نظام دینے کی بات کی۔ جس نوازشریف سے پیسہ لیکر جلسہ کیا گیا اسی کیخلاف غلطی سے ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے لگے تو جیو ٹی وی چینل نے دکھائے لیکن صحافیوں نے مولانا فضل الرحمن سے یہ سوال نہیں کیا کہ
قبائلی علاقوں کے کسی نمائندے کو حکومت نے اپنی کمیٹی میں شامل نہیں کیاہے تو اس سے بڑھ کر حکومت کا قبائل کیساتھ ظلم کیا ہوسکتاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اس کا یہی جواب دیتا کہ یہ سوال قبائلیوں کا حق بنتا ہے کہ اٹھائیں، میں تو قبائلی نہیں ہوں، سلیم صافی قبائلی ہیں وہ یہ سوال اٹھارہے ہیں یہ ان کا حق بنتاہے، البتہ یہ صحافیوں کا کام نہیں سیاستدانوں کا کام ہے، مسلم لیگ کے قبائلی رہنما تو یہ سوال اٹھانہیں رہے اور ہم ان کے اتحادی ہیں اسلئے ہم بھی نہیں اٹھارہے ہیں۔ تحریک انصاف والوں کو بات کرنے کاحق ہے لیکن حکومت سنے یا نہ سنے یہ حکومت کا حق ہے۔ میراکام تواپنی جیب بھرنا ہے ، باقی قبائلی بھاڑ میں جائیں، میں صرف شرارت کرکے اپنا پیسہ حلال کرسکتاہوں جو نوازشریف نے عنایت فرمایا ہے، اسکے بدلہ میں کہہ سکتا ہوں کہ فوج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن نہیں کیا ہے بلکہ قبائلی عوام کیخلاف کیا ہے، جس سے قبائل اور نوازشریف دونوں خوش ہونگے اور فوج پر دباؤ بڑھ جائے گا۔
مولانافضل الرحمن سے سوال کیا جاتا کہ وزیراعظم نوازشریف نے عیدالفطر کو لندن میں پاکستان سے ایک دن پہلے سعودی عرب کیساتھ منایا اور عیدالاضحی کو اسکے بالکل برعکس امریکہ میں سعودیہ کے ایک دن پاکستان کیساتھ منایا، اس کی وجہ کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمن فی البدیہ کہہ دیگا کہ مجھے نوازشریف کی وکالت کرنی ہے، اسلئے یہ راستے بنانے کیلئے مدلل شرعی مسائل بتانے پڑیں گے۔ جاویداحمد غامدی سے بھی یہ پوچھ لیا جائے تو وہ کہہ دینگے کہ یہ عوام اور علماء کی صوابدید کا مسئلہ نہیں ہے، یہ فیصلہ تو حکومت نے کرنا ہوتا ہے، لندن اور امریکہ میں جن کی حکمرانی ہے، اوباما وغیرہ ، عید کا فیصلہ وہاں انہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے، لہٰذا نوازشریف نے عیدالفطر پاکستان سے ایک دن پہلے سعودیہ اور عیدالاضحی ایک دن بعد سعودیہ کے بعد پاکستان کیساتھ ٹھیک منائی۔ مفتی اعظم پاکستان بریلوی اور چیئرمین ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن اور مفتی اعظم پاکستان دیوبندی مفتی رفیع عثمانی بھی یہ فتویٰ دیں گے کہ مسئلہ یہی ہے اور پھر کسی اور کا فتویٰ نہیں چلے گا۔ اگر عمران خان بک بک کرے تو اس نے بھی اپنی صوبائی رویت کے مسئلہ میں حکومت کا جبر قبول کرلیا، پاکستان میں اتحاد سے عیدیں منائی گئیں۔ جب تک اقوام متحدہ کسی ملک کو تسلیم نہ کرے ، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور اقوام متحدہ میں مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ کا بنیادی کردار ہے، ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر امریکہ و برطانیہ نے ہماری عیدوں میں بھی دلچسپی لینی شروع کردی ہے، سودی نظام کو اسلامی بنانے میں بھی انہی کی مہربانی ہے اور اسلامی خلافت کے قیام کی کوشش بھی انہی کی مرہونِ منت ہوگی۔
پاکستان کے سابق صدرپرویزمشرف نے کہا کہ ’’ امریکہ نے ہمیں استعمال کیا اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے‘‘۔ یہ غلط بات ہے، پاکستان نے اپنی مجبوری اور مفاد کی خاطر امریکہ کا ساتھ دیاتھا، اب امریکہ کا مفاد بھارت کیساتھ ہے تو بھارت ہی کا ساتھ دے گا۔ ہمارے حکمرانوں میں سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے، کل توشریف براداران کو زرداری کے سوئس اکاونٹ کیخلاف آواز اٹھانے میں کوئی جمہوریت کے خلاف سازش نظر نہیں آتی تھی مگر آج پانامہ لیکس میں نوازشریف کی کمپنیوں پر سازش نظر آتی ہے۔ عدالت نے تو زرداری کو بھی گیارہ سال تک قید میں رکھنے کے باوجود کوئی سزا نہیں دی تھی۔ اگر شریف برادری کو پاکستان سے محبت ہے تو دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے اپنے بچوں کو دولت سمیت پاکستان لائیں۔
پاکستان کی میڈیا کو اگر جمہوریت کی حمایت ،اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت اور قانون کی حکمرانی کا خیال ہو تو 16سال بعد سپریم کورٹ نے اسلامی جمہوری اتحاد کا جرم عدالت میں ثابت کردیا، یوسف رضاگیلانی کی طرح نوازشریف کو بھی نااہلی کی سزا دی جائے۔ عدلیہ بحالی تحریک سے زیادہ قانون کی حکمرانی کیلئے اس تحریک کی جان ہوگی،اسلئے افتخار چوہدری نے پہلے خود بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا۔ عدالت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر لاہور سے جی ٹی روڈ اور ساہیوال سے فیصل آبادکے راستے موٹروے، کوئٹہ سے ڈیرہ غازی خان کے راستے کراچی سے ملتان کے راستے اورپشاور سے اسلام آباد کیطرف ہلکا پھلکا مارچ کریں تو حکومت قانون کے سامنے گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ لوڈشیڈنگ کاوعدہ حکومت نے پورانہ کیا۔ عمران خان کی تقریرپر کیبل آپریٹر کی کارستانیاں بھی رہیں۔