اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

514
0

مسلمانوں میں ایک عرصہ سے یہ رویہ رہا ہے کہ میاں کی طرف سے بیوی کوکسی لفظ کے استعمال پر علماء ومفتیان کی طرف بھاگنا پڑتا ہے کہ ’’ طلاق ہوئی یا نہیں اور اس میں حلالہ کی ضرورت ہے یا نہیں؟‘‘۔ عوام نے شروع سے اقتدار پر خود قبضہ کیا، بنی امیہ اور بنوعباس کے ادوار سے مذہبی طبقہ بھوسی ٹکڑیوں پر گزارا کررہا تھا، حکمران کی آنکھیں پھرنے سے فقہاء کی دنیا تاریک ہوجاتی تھی۔ حکمران تو اپنے لئے اپنے باپ کی لونڈیوں پر دل آنے کی صورت میں بھی فقہاء سے حلال کروالیتے تھے۔ جن علماء حق کے اپنے وسائل ہوتے تھے، ان کو کسی نہ کسی بہانے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور جودرباری حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہوتے تھے وہ عیش اڑانے کیساتھ ساتھ دین کا حلیہ بگاڑنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مزارعت کے بارے میں احادیث صحیحہ ہیں کہ زمین کو بٹائی، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا سود اور ناجائز ہے۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اورامام شافعیؒ اس بات پر متفق تھے کہ احادیث صحیحہ کے مطابق زمین کو مزارعت پر دینا سود اور ناجائز ہے لیکن جاگیرداروں اور درباری علماء و فقہاء نے حقائق کا چہرہ مسخ کرکے رکھ دیا۔ آج احادیث اور ائمہ مجتہدینؒ کے متفقہ مسلک پر عمل ہوجائے تو پاکستان کی تقدیر بدل جائیگی۔ غریب کیلئے سیاستدان اور حکمران کچھ بھی نہ کریں صرف زمین میں محنت کا ان کو مالک بنادیں تو ایک بڑا انقلاب بھرپا ہوجائیگا۔ کامریڈ لال خان کے پندرہ روزہ’’ جدوجہد ‘‘ میں کمیونسٹوں کا جومنشور لکھا گیا ہے وہ بھی ایک بڑا فراڈ ہے ، ایک شق میں مزارعہ کو زمینوں کا مالک بنانے کالکھا ہے اور دوسری شق میں زمینوں کی اجتماعی ملکیت اور اجتماعی مزارعت کا لکھاہے، یعنی مزارعین زمینداروں کی بجائے سرکارکے ملازم ہونگے۔روس اور چین میں جو نظام ناکام ہواہے ،اس کا تجربہ پاکستان میں کرنے کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
چلو مزارع کمزور ہے اور زمیندار طاقتور مگر اپنی عورت کی عزت تو اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ہمارا ایک برگشتہ پیربھائی تھا، مسجد الٰہیہ سوکواٹر کورنگی کراچی میں خادم تھا، مولانا نورالحق، اس نے حلالے کو دھندہ بنارکھا ہے، ہمارے ساتھیوں کی موجودگی کا بھی لحاظ نہ کیا، ایک غریب آیا کہ بیوی کو طلاق کیلئے یہ الفاظ استعمال کئے، اس سے پوچھا کہ تیری کتنی تنخواہ ہے؟، اس نے کہا کہ تیس ہزار، اچھا ہوجائیگا، بیس ہزار روپے لاؤ اور بیوی کو میرے پاس رات کو چھوڑ جاؤ۔ دوسرے سے ہاں تمہارا کیا مسئلہ ہے؟ اس نے کہا یہ الفاظ استعمال کئے ہیں ، کیا کام کرتے ہو؟، فلاں کام، اچھا تم دس ہزار لاؤ اور پرسوں رات اپنی بیوی کو یہاں چھوڑ جاؤ، حلال کردوں گا۔ یہ دھندے کتنے لوگوں نے جاری رکھے ہونگے؟۔
ایران میں ایک دوست مولانا عبداللطیف بلوچ ہیں جو دارالعلوم کراچی سے فاضل ہیں، خیرالمدارس ملتان میں پڑھتے تھے تو ملتان میں ہمارا دفتر تھا اسلئے ملاقات ہوجاتی تھی ایک مرتبہ وہ میرے ساتھ ٹانک اور وانا بھی گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کا ہمارے ہاں جلسہ تھا ، پھر مولانا نور محمد سے بھی ہم وانا میں مل کر آگئے۔ کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی تو طلاق کے مسئلہ پر بات چیت کا یہ نتیجہ نکلا کہ انہوں نے بتایا کہ ’’ہمارے ہاں ایک مولوی نے عورت کا حلالہ کیا، چند دن بعد اس عورت کو دیکھا اور پوچھا کہ تمہیں مزہ آیا تھا یا نہیں؟۔ اس نے کہا کہ مزہ تو نہیں آیاتھا۔ مولوی نے کہا کہ پھر تم حلال نہیں ہوئی ہو،اسلئے کہ حدیث کے الفاظ میں ایکدوسرے کامزہ چکھ لینے کی شرط ہے۔ پھر دوبارہ اس کے ساتھ معاملہ کیا اور پوچھا کہ اب مزہ آیا تو اس عورت نے کہا کہ ہاں، تو اس کے حلالہ کو درست قرار دیا۔ جب ہمیں پتہ چلا تو اس مولوی کو پکڑا کہ خبیث تم نے یہ کیا کیا ہے؟۔ مولوی نے بتایا کہ عدت تو میں بھولا تھا، جب اس سے کہا کہ تم اس عورت کو حق مہر دو، تو اس نے کہا کہ میرے پاس ایک تمن (روپیہ)بھی نہیں ہے‘‘۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا اللہ داد صاحب ژوب کے صاحبزادے مولانا عزیزاللہ نے ہمارے ساتھیوں عبدالعزیز اور امین اللہ کو بتایا کہ ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ کتابچے سے میری ایک دیرینہ تشویش کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، ہماری قوم بات بات پر طلاق کا لفظ استعمال کرتی ہے چائے اور کرائے کے پیسے دینے پر بھی دونوں طرف سے طلاق ڈالی جاتی ہے، ظاہر ہے کہ کسی ایک کو طلاق پڑجاتی ہوگی ۔ ایسے میں ہماری قوم کے نکاحوں کی پوزیشن کیا ہوگی؟۔ تعلق اور پیداوار جائز یا ناجائز ہونگے؟۔ اس کتاب نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ یہ صرف کاکڑ قوم کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ پٹھان زیادہ تر اس معاملے میں یہی روش اختیار کرتے ہیں۔
قرآن میں صلح ومصالحت اور نیکی وتقویٰ کے کاموں میں کیلئے رکاوٹ ڈالنے اللہ نے اپنی ذات کے استعمال سے روکنے کے بعد بڑے مفصل انداز میں طلاق کا مسئلہ واضح کردیا ہے، سب سے پہلے یہ وضاحت کی ہے کہ لغو قسموں پر اللہ نہیں پکڑتا مگر دلوں کی کمائی پر پکڑتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی عورتوں سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہو ان کیلئے چار کا انتظار ہے۔ اگر پھر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر طلاق کا عزم تھا تو اللہ سنتا اور جانتا ہے۔ آیت میں خواتین کے حق کی وضاحت ہوئی ہے کہ چارماہ سے زیادہ انتظار کی زحمت نہیں دی جاسکتی ہے، طلاق دینے اور پڑنے کی چیزنہیں بلکہ علیحدگی کا عمل ہے۔ چار ماہ سے زیادہ انتظار تو بہت دور کی بات ہے اگر اس ناراضگی میں بھی پہلے سے طلاق (چھوڑنے ) کا عزم تھا تو اس دل کے گناہ پر اللہ کی گرفت ہوگی۔ اسلئے کہ طلاق کے اظہارکی صورت میں انتظار کی مدت کم ہے۔
پھر اللہ نے طلاق والی عورتوں کیلئے تین مرحلوں تک انتظار کا حکم دیا ہے، جسمیں شوہر ہی کو صلح کی شرط پر بیوی کو لوٹانے کا حقدار قرار دیا ہے۔ حدیث میں یہ مرحلے پاکی کے ایام اور حیض کے حوالہ سے واضح کئے گئے ہیں، میڈیکل سائنس کے علاوہ انسانی فطرت وعقل بھی ان مرحلوں کے ادراک سے آگاہ ہے۔ اللہ نے میاں بیوی کے یکساں حقوق اور شوہر ایک درجہ فضیلت دینے کو واضح کیا ہے اور اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہوگی کہ شوہر چھوڑنے کا اعلان کردے اور بیوی عدت کا انتظار کرے؟، ان تین مراحل کے پسِ منظر میں تین مرتبہ طلاق کا تصور واضح ہے جس میں اللہ نے بار بار رجوع کی گنجائش کو عدت کی تکمیل سے واضح کیا ہے، سورۂ طلاق میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں دوعادل گواہوں کا بھی ذکرہے، تاکہ عورت کے مالی معاملہ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس کو نکاح کا پیغام بھی دینا چاہے تو دے سکے۔ قرآن نے بیوہ اور طلاق شدہ کے علاوہ اپنی صالح لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان احکام پر عمل اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب معاشرے میں عدت کے بعد عورت کا باقاعدہ دوسرے شوہر سے فارغ ہونا واضح ہو۔
قرآن میں اللہ نے جہاں ایک خاص صورتحال میں میاں بیوی کے درمیان باہوش وحواس علیحدگی جس میں فیصلے کرنے والوں کا بھی کردار ہو اور سب متفق ہوں کہ شوہر کی طرف سے دی گئی اشیاء میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں مگر جب سب کو یہ خدشہ ہو کہ کسی خاص چیز کو واپس کئے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو بیوی کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے اور شوہر کی طرف سے لینے میں دونوں پر حرج نہ ہوگا، یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تووہی لوگ ظالم ہیں اس مخصوص صورتحال میں علیحدگی یعنی طلاق کے بعد اس عورت کا پہلے سے نکاح اس وقت تک درست نہیں جب تک دوسرے سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ کاش علماء ومفتیان آیات پر غور کرکے اپنے فتوؤں پر نظر ثانی کردیں تو بات بن جائے۔