ایک سے زائد شادیاں اور ایک خاتون کا درد بھرا خط

653
0

ایک سے زائد شادیاں
خاتون کے خط میں ایک کمی ہے وہ یہ کہ عورت میں ممتا کا جذبہ بھی ہوتا ہے ۔ خاتون اس عمر تک پہنچتی ہے جس میں قرآن کے مطابق نکاح کی رغبت نہیں رہتی لیکن بڑھاپے میں بھی ماں کیلئے سب سے بڑا اثاثہ اسکی اولاد ہوتی ہے ، خاتون بانجھ ہو تو اس کا دکھ جنسی خواہش سے زیادہ قابل رحم ہوتا ہے۔ عورت فطری طور پر شادی میں اولاد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

ایک خاتون کادرد بھرا خط
لاکھ دفعہ سوچا کہ یہ خط لکھوں یا نہ لکھوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میری یہ باتیں بعض خواتین پسند نہ کریں بلکہ شاید وہ مجھے پاگل سمجھیں لیکن پھر بھی جو مجھے حق سچ لگا باقاعدہ ہوش وحواس میں لکھ رہی ہوں۔ میری ان باتوں کو شاید وہ خواتین اچھی طرح سمجھ پائیں گی جو میری طرح کنواری گھروں میں بیٹھی بیٹھی بڑھاپے کی سرحدوں کو چھو رہی ہیں۔ بہر حال میں اپنا مختصر قصہ لکھتی ہوں شاید میرا یہ درد دل کسی بہن کی زندگی سنورنے کا ذریعہ بن جائے اور مجھے اس کی برکت سے امہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کے پڑوس میں جنت الفردوس میں ٹھکانہ مل جائے۔
میری عمر جب20 سال ہو گئی تو میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اپنی شادی کے سہانے سپنے دیکھا کرتی اور سہانے سہانے خیالات کی دنیا میں مگن رہتی کہ میرا شوہر ایسا ایسا ہو گا۔ek-se-zyada-nikah-mohabbat-ki-shadi-kuwari-ladki-ibrahim-ismail-ishaq-islamic-scholars-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani(2)

 ہم مل جل کر رہیں گے پھرہمارے بچے ہونگے اور ہم ان کی ایسی ایسی اچھی پرورش کرینگے وغیرہ وغیرہ. اور میں ان لڑکیوں میں سے تھی جوزیادہ شادیاں کرنیوالے مرد حضرات کو نا پسند کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شدید مخالفت کیا کرتی ہیں کیونکہ میں اسے ظلم سمجھتی تھی.. اگر مجھے کسی مرد کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو میں اس کی اتنی مخالفت کرتی کہ اسے نانی یاد آجاتی اور میں اسے بے تحاشا بد دعائیں دینے لگتی اور اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور چچا سے بھی اکثر بحث رہتی وہ مجھے زیادہ شادیوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور موجودہ حالات کے اعتبار سے سمجھانے کی بہت کوشش کرتے مگر مجھے کچھ سمجھ نہ آتی بلکہ میں انہیں بھی چپ کروا دیتی۔اسی طرح دن، ہفتے، مہینے سال گزرتے گئے میری عمر 30 سال سے تجاوز کر گئی اور انتظار کرتے کرتے میرے سر پر چاندی چمکنے لگی لیکن میرے خوابوں کا شہزادہ نہ آیا….!!!
یا اللہ! میں کیا کروں؟جی چاہتا کہ گھر سے باہر نکل کر آوازیں لگاؤں کہ مجھے شوہر کی تلاش ہے۔ جوانی کی ابتدا سے لے کرا ب تک میں نے نفس و شیطان کا کس طرح مقابلہ کیا اس بیہودگی اور بے حیائی کے ماحول میں کیسے بچی رہی میں اسے صرف اور صرف اللہ کا فضل اور والدین کی دعائیں ہی سمجھتی ہوں ورنہ۔۔۔۔۔اگرچہ گھر والے بھائی وغیرہ سب میری ضروریات کا خیال کرتے۔ ہر طرح کی دل جوئی کرتے میرے ساتھ ہنستے کھیلتے مجبوراً مجھے بھی انکے ساتھ ہنسی مذاق میں شریک ہونا پڑتا لیکن میری وہ ہنسی کھوکھلی ہوتی ہے ۔مجھے وہ حدیث یاد آتی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ بغیر شادی کے عورت ہو یا مرد مسکین ہوتے ہیں اور واقعی میں نعمتوں بھرے گھر میں مسکین تھی۔ خوشی یا غمی کی تقریب میں رشتہ دار عزیز و اقارب جمع ہوتے تو جی چاہتا کہ ان کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ مجھے شوہر چاہیے لیکن پھر سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ کیسی بے شرم لڑکی ہے۔ بس خاموشی اور صبر کے سوا کچھ بھی چارہ نہیں تھا۔جب میں اپنی ہم جولیوں، سہیلیوں کے بارے میں سوچتی کہ وہ تو اپنے گھروں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش وخرم زندگی بسر کر رہی ہیں تو مجھے اپنی اس خلافِ فطرت زندگی پر شدید غصہ آتا۔ گھر کی محفلوں میں سب کے ساتھ مل کر ہنستی تو تھی لیکن میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ لڑکے تو پھر بھی اپنی شادی کی ضرورت کا احساس گھر والوں کو دلا سکتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنی فطری شرم وحیا میں ہی گھٹی دبی رہتی ہیں۔
وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ میرے بڑے بھائی کی شادی ایک عالمہ لڑکی سے ہو گئی جو ماشاء اللہ دینی اور دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ تقویٰ، پاکیزگی اور دیگر صفات حسنہ سے متصف تھی.. شادی کے چند دن بعد ہی گھر میں مدرستہ البنات شروع کر دیا گیا۔ میں بھی بی اے کے بعد فارغ تھی تو میں نے بھی اپنی پیاری بھابھی کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سب سے پہلے داخلہ لے لیا۔ ان کی ترغیبی باتیں سن کر میراکچھ دھیان بٹا، تسلی ہوئی اور مدرسے کی پڑھائی کے ساتھ انہوں نے کچھ مسنون دعائیں و اذکار بھی بتائے جن کے پڑھنے سے دل کو کافی سکون محسوس ہوا۔ وہ تو میرے لیے کوئی رحمت کا فرشتہ ہی ثابت ہوئیں،اگر وہ نہ ہوتیں تو نجانے میں کن گناہوں کی دلدل میں دھنس چکی ہوتی یاخود کشی کی حرام موت مر کر جہنم کی کسی وادی میں دردناک عذاب سہہ رہی ہوتی۔
ایک دن میرے بڑے بھائی گھر آئے اور بتایا کہ آج آپ کے رشتے کیلئے کوئی صاحب آئے تھے لیکن میں نے انکار کر دیا.. میں نے تقریباً چیختے ہوئے پوچھا آخر کیوں؟ کہنے لگے وہ تو پہلے ہی شادی شدہ تھا اور مجھے آپ کا پتہ تھا کہ آپ کبھی بھی دوسری شادی والے مرد کو قبول نہیں کریں گی۔ آپ تو دوسری شادی کرنے والوں کے سخت خلاف ہیں.. میں نے کہا نہیں بھائی نہیں! اب وہ بات نہیں! جب سے میں نے بھابھی جان کے پاس قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا ہے،سیرت نبوی پڑھی ہے تو قرآن وحدیث کے نور سے میرے دماغ کی گرہیں کھلنا شروع ہوئیں اورمجھے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی حکمتیں سمجھ آنے لگیں،اب تو میں کسی مرد کی دوسری کیا تیسری یا چوتھی بیوی بننے کیلئے بھی خوشی سے تیار ہوں۔۔۔اور میں نے جو اب تک اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کی اس پر میں استغفار کرتی ہوں۔اللّہ کی قسم! جب تک زیادہ شادیوں والا اللہ کا حکم حضور ﷺاور صحابہؓ کے دور کی طرح عام نہیں ہوگا نکاح آسان ہو ہی نہیں سکتا.. جس مرد نے زندگی بھر ایک ہی شادی کرنے کا فیصلہ اور عزمِ مصمم کر رکھا ہے وہ کبھی بھی کسی مطلقہ، بیوہ،غریب، مسکین یا کسی بھی اعتبار سے کسی کمی کی شکار لڑکی سے شادی نہیں کرے گا۔!!!
ایک دن قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یہ آیت نظر سے گزری:ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَرھوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالہم …ترجمہ: یہ (ہلاکت) اس لیے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالیٰ نے(بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ اس پر تو میرے تورونگٹے ہی کھڑے ہو گئے۔ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو نہ صرف ناپسند سمجھا بلکہ اس کی شدید مخالفت کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے میں اس خط کی وساطت سے مرد حضرات تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اگر عدل کرنے کی نیت اور استطاعت ہو تو آپ ضرور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو زندہ کیجئے۔ دو، تین اور چار شادیوں کو فروغ دیجئے اور دکھی دلوں کی دعائیں لیجئے.. باقی جو عورت آئے گی اپنا نصیب ساتھ لیکر آئیگی اوراس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی اپنا نصیب ساتھ لائے گی۔ رازق تو صرف ایک اللہ ہے اور اسی اللہ نے قرآن میں شادیوں کی برکت سے غنی کرنے کا وعدہ کیا ہے.. اور رسول اللہ ﷺنے بھی تنگ دستی دور کرنے کایہ ہی نسخہ بتایا ہے۔
اس موضوع پر ایک مثال ذہن میں آئی کہ ایک دفعہ حکومت نے فوجیوں کوڈوبتوں کو بچانے کی ایسی ٹریننگ دی کہ ہر فوجی بیک وقت چار چار ڈوبتوں کو بچا سکے!اچانک زور دار سیلاب آگیا بے شمار لوگ سیلاب کی زد میں آکر ڈوبنے لگے حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوج کو بھیجا کہ جا کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچائیں اب یہ فوجی جوان پانی میں کود کر بجائے چار چار آدمیوں کو نکالنے کے اگرصرف ایک ایک کو نکالنے پر اکتفا کریں اور باقی چیختے چلاتے رہیں بچاؤ بچاؤ، ہمیں بھی بچاؤ اور وہ ان بیچاروں کی سنی ان سنی کر دیں اور انہیں آسانی سے ڈوبنے اور مرنے دیں.تو آپ انہیں کیا کہیں گے؟حکومت انہیں کیا کہے گی؟کیاحکومت انہیں شاباش دے گی؟یا دوسری صورت:اگر کسی رحم دل فوجی کو ان پر ترس آجائے اور وہ کسی اور ڈوبتے کو بچانے لگے تو پہلے جو چمٹا ہوا ہے وہ کہے کہ خبردار کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھایا بس مجھے ہی بچاؤ باقی ڈوبتے مرتے رہیں ان کی طرف دیکھو بھی مت اسے کیا کہا جائیگا۔؟کہیں اس معاملے میں ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا…!!!
قال اللہ تعالیٰ:فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ….(سورہ النسا۔ آیت نمبر 3) قرآن میں زیادہ شادیوں والی اس آیت میں بالکل یہی واضح نظر آتا ہے کہ اصل حکم تو زیادہ شادیوں کا ہے مجبوراً ایک پر اکتفا کرنا جائز ہے۔
مثلاً اگر آپ اپنے ملازم کو بھیجیں جاؤ گوشت لاؤ ہاں اگر گوشت نہ ملے تو دال لے آنا۔ یعنی اصل حکم تو گوشت کا ہی ہے مجبوراً دال ہے۔ اسکی دلیل حضور ﷺ، خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ہے.. ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے مردوں کی طرح ایک والا نہیں سب کے سب زیادہ شادیوں والے ہیں۔ آپ اگر اپنی دینی اور دنیاوی مصروفیات کا بہانہ بنائیں تو بھی صحابہ کی زندگیوں کو دیکھئے وہ آپ سے زیادہ دینی اور دنیاوی مصروفیات والے تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ عالیشان کی منشاء کو سمجھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کیے.پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر کچھ عرب خواتین پلے کارڈ اٹھائے باقاعدہ جلوس کی شکل میں نکل کر مردوں کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہہ رہی تھیں:تزوجوا مثنی وثلاث ورباع ان کنتم رجالا ….کہ اے مردو! اگرتم واقعی مرد ہو تو دو دو،تین تین، چار چار شادیاں کرو اور بے شمار بے نکاحی عورتوں کیلئے حلال کا راستہ آسان کرو..ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی بیوی میں کوئی عیب یا کمی ہو تو ہی آپ یہ قدم اٹھائیں۔ اس کے بغیر بھی آپ رسول ﷺ کی اتباع میں یہ عمل کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھیں پھر آپؐ نے اتنے نکاح فرمائے۔
اور چند باتیں میں ان مسلمان بہنوں سے کرنا چاہتی ہوں جن کواللہ تعالیٰ نے شوہر سے نوازا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مجھ جیسی کروڑوں بے نکاح مسکین خواتین میں سے نہیں ہیں۔ آپ کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ بے نکاح رہنے میں کیسی کیسی مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے آپ پر بھی کچھ مشقتیں آتی رہتی ہیں ان پر توآپ کو ان شاء اللہ اجر ملے گا لیکن یہ خلاف فطرت بے نکاح رہنا انتہائی خطرناک ہے.. میری آپ سے گزارش ہے کہ اگر آپ کے شوہر اس مبارک سنت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جسے لوگ میری طرح اپنی جہالت اورنادانی کیوجہ سے گناہ سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی ان کیلئے ہر گز ہرگز رکاوٹ نہ بنئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چل جاتا تھا یہ جو خاتون حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہے۔ اس سے آپ نکاح کر سکتے ہیں لیکن وہ تو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں اور پھر آپ ان خاتون سے نکاح کر بھی لیتے.. آپ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پرچلتے ہوئے اگر رکاوٹ نہیں بنیں گی تو اللہ تعالیٰ ان کیساتھ آپکا حشر فرمائیں گے۔ اللہ سے ڈریے ۔۔۔اللہ سے ڈریے ۔۔۔اللہ سے ڈریے۔ اللہ کے حکم کو پور اکرنے میں اپنے شوہر کی معاون بنیں اور کروڑوں عورتوں میں سے استطاعت کے بقدر کچھ تو کمی کا ذریعہ بن جائیں ۔
اس حکم کو برا سمجھنے والی میری بہنو! خدانخواستہ اگرآپ کا شوہر اللہ کو پیارا ہو جائے اور آپ عین جوانی میں بیوہ ہو جائیں اور آپ سے کوئی کنوارہ مرد شادی کرنے کوتیار نہ ہو تو آپ پر کیا بیتے گی؟ ذرا سوچئے! حدیث کی رُو سے ہم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہ دوسروں کیلئے پسند نہ کرنے لگیں۔ لہٰذا جیسے آپ کو شوہر اور بچوں کیساتھ رہنا پسند ہے اس طرح آپ دیگر خواتین کیلئے بھی یہ پسند کیجئے اور اگر آپ کو قربانی دینا پڑے تو اللہ کی رضا کیلئے قبول کیجئے ۔پھر اللہ کے خزانوں سے دنیا و آخرت کی خوشیاں حاصل کیجئے۔ میری پیاری بہنو! یہ دنیا فانی اور عارضی ہے اور دار الامتحان ہے.. آخرت باقی اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اور دار الانعام ہے۔
اس ایثار اور قربانی پر آخرت میں جواللہ آپ کو انعامات سے نوازیں گے آپ انکا اندزہ نہیں لگا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی ایک جھلک آپ کو اس سلسلے میں آنے والی مشکلات، مشقتوں اورتکلیفوں کو بھلا دے گی۔ میری دل سے دعا ہے کہ اللہ کرے کہ میری کسی بہن کو اللہ کے اس حکم کو پورا کرنے اور فروغ دینے پر کبھی بھی کوئی تکلیف نہ آئے بلکہ راحت ہی ملتی رہے۔اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں سے ایک ماں سے بھی ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہر ہر حکم میں اس کی طرف سے رحمتیں اور برکتیں ملتی رہیں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رحمۃ للعالمین ہیں وہ کبھی بھی ہمیں ایسا حکم صادر نہیں فرما سکتے جو ذرہ برابر بھی ہمارے لیے مشکل اور پریشانی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو اور اللہ میری جیسی تمام بہنوں کو خیر کے رشتے عطا فرمائے۔
ایک کتاب میں زیادہ شادیاں کرنے کے فضائل اور فوائد پڑھے وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کردوں:زیادہ شادیاں کرنے پر رسول اللہ کی کثرتِ امت والی چاہت پوری ہوگی۔ زیادہ بیویوں کے مل کر رہنے میں دین کی محنت آسان ہوسکتی ہے۔ سوکن رہنے سے ازواج مطہرات و صحابیات کی مشابہت اور اسکی برکت سے جنت میں ان کی رفاقت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مل سکتی ہے اگر اس کی وجہ سے خدانخواستہ کچھ مشقت اس دنیا میں آ بھی گئی تو آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی لامحدود زندگی میں ازواجِ مطہرات کے پڑوس والی جنت کی ایک جھلک سارے دکھوں کو بھلاسکتی ہے۔
پہلی بیوی میزبان بننے کا ثواب پاتی ہے۔ اگرچہ یہ حکم خواتین کو قدرے مشکل لگتا ہے لیکن وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ میں جو تمام احکامات جو نفس کو پسند ہوں یا گراں سب ہی احکامات قبول کرنے کا جو دعویٰ ہے اس کی دلیل دینے کا موقع ملتا ہے۔ اسکے فروغ دینے سے بیوگان، مطلقات، شکل و صورت یا ذات پات وغیرہ کسی بھی کمی کا شکار خواتین کے لیے بھی نکاح کرنا آسان ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نکاح پر اکتفا کرنے کا جو مرد فیصلہ کرتا ہے تو وہ ہر اعتبار سے پرفیکٹ ہی کو پسند کریگا تو اس طرح آپ خود کشی اور غلط راستوں پر چلنے والی مجبور بہنوں کو حلال راستہ فراہم کرنے کا ثواب پاسکتی ہیں۔اس حلال راستہ کے بند ہونے کی وجہ سے بے شمار مرد حرام اور غلط راستوں سے اپنی خواہشات پوری کرنے پر مجبور ہیں تو جب مردوں کونکاح کے حلا ل طریقے سے اپنی خواہش پوری کرنے پر حدیث پاک کی روسے صدقہ کا ثواب ملے گا تو پہلی بیوی جو بخوشی اجازت دیتی ہے اس کو بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔ میری نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے والدین سے پر اصرار اور درد مندانہ گزارش ہے کہ میرے اس درد بھرے خط کو اپنے بیٹے یا بیٹی کی طرف سے سمجھئے..
اللہ کیلئے تمام رسوم ورواج (جوخود ساختہ ہیں۔ شریعت میں ان کا کوئی ثبوت نہیں۔ اکثررسوم ورواج تو ہندوؤں وغیرہ سے لیے گئے ہیں) ان سب سے توبہ کیجئے۔ شادی کو آسان بنا کر اس کی برکات ملاحظہ کیجئے۔ یہ تو حضور ﷺکا ارشادِ گرامی ہے جس کا مفہوم ہے کہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچہ ہو … چنانچہ لڑکے والے لڑکی والوں کیلئے اور لڑکی والے لڑکے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ نکاح میں کم سے کم خرچہ ہو۔ اللہ پر توکل کیجئے اور دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ کیلئے کافی ہوجاتا ہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ فقط و السلام آپکی گمنام بہن منقول