غیرت کے نام پر قتل…

826
0

مذہبی طبقوں کی بڑی بے غیرتی ہے کہ غیرت کے نام پرعورتوں کے قتل کی حما یت اور زنابالجبر کی سزا میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور یہ سب اسلئے ہے کہ غیرت کے نام پر انہی کو قتل ہونا چاہیے جو مرد ہوکربھی بدفعلی کرواتے ہیں۔بچوں کیساتھ زبردستی جنسی زیادتی کرنے والوں کو غیرت کے نام پر قتل کی قانون سازی ہوتو بے غیرتوں کی غیرت جاگ اُٹھے گی۔ذرا سوچئے کہ کیا یہ اسلام ، غیرت، انسانیت، فطرت، رسم ورواج اور کسی بھی نام پر قاعدہ قانون ہوسکتاہے کہ عورت اپنی مرضی سے کہیں غلطی کرے یا اس پر شبہ کیا جائے تووہ غیرت کے نام سے قتل کردی جائے اور جب کوئی مرد کسی خاتون کو زبردستی سے زیادتی اور ہوس کا نشانہ بنائے تو قانون مرد کو تحفظ دے؟،حال ہی میں زنابالجبر کے خلاف اسمبلی سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے مشترکہ قانون سازی کی تو پیپلزپارٹی کے ’’کو چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری ‘‘ کی طرف سے اس کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ’’اب کوئی زنابالجبر کا مجرم قانون کے شکنجے سے بچ نہ سکے گا‘‘ اور ’’جماعت اسلامی کے امیر متحدہ مجلس عمل پختونخواہ کے سابق سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے بیان جاری کیا کہ’’ یہ اسلام کے خلاف سازش ہے، باہمی رضامندی سے اسلام قتل کو معاف کردیتاہے‘‘۔
پاکستان کی مذہبی جماعتوں میں سب سے گٹھیا کردار جماعتِ اسلامی کا ہمیشہ سے رہا ہے، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بالکل ناواقف، خفیہ طاقتوں کی ایجنٹ، مذہبی جذبہ اور سیاست کو محض طاقت کے حصول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی عادی مجرم رہی ہے ۔ منصورہ میں بیٹھنے والی جماعتِ اسلامی کا اجتماعی ضمیر بالکل مرچکا ہے۔ نام نہاد شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے سود کے عالمی نظام کو اسلام قرار دیا تو جماعت اسلامی کا اس پر کیا ردِ عمل سامنے آیا؟۔ علماء دیوبند کے تمام مدارس نے مفتی تقی عثمانی کے فتویٰ کو مسترد کیا مگر جماعتِ اسلامی نے سرمایہ دارانہ نظام اور امریکہ کی ایجنٹ ہونے کا تسلسل برقرار رکھا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرویزمشرف کے دور میں زنابالجبر کو حدود سے نکال کر تعزیرات کا حصہ بنایا گیا تو مفتی تقی عثمانی نے بہت ہی جاہلانہ طرز عمل سے اس کو اسلام کیخلاف سازش قرار دیا، اورجماعتِ اسلامی نے اس کو پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا، جس کا میں نے مکمل اور مدل جواب لکھ کر شائع کردیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کیساتھ زبردستی کی بے حرمتی کے بارے میں فاین ما ثقفوا فقتل تقتیلا ’’ جہاں پائے گئے قتل کئے گئے‘‘ کی وضاحت کی ہے، جماعتِ اسلامی کے جاہل ڈاکٹر فرید پراچہ نے اس کو قرآن میں لفظ ومعنیٰ کی تحریف کرتے ہوئے توہین رسالت اور اذیت رسول کیساتھ جوڑ دیا تھا، حالانکہ یہ اذیت رسول کاذکر بھی اس رکوع میں نہیں بلکہ اس سے پہلے والے رکوع میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک خاتون نے کسی کی شکایت کی تو رسول اللہﷺ اس کو سنگسار کرنے کا حکم فرمایا، حضرت وائل ابن حجرؓ سے روایت اس حدیث کو ’’موت کامنظر‘‘ نامی کتاب میں بھی ’’زنا بالجبر کی سزا‘‘کے عنوان سے ہی نقل کیا گیاہے۔ قرآن نے بالکل واضح کردیا ہے کہ ’’زنا بالجبر کی سزا گذشتہ امتوں میں بھی قتل ہی رہی (جسمیں کوئی روایتی گواہوں کے رسم پورے کرنے کے بجائے) جہاں بھی پائے گئے قتل کردئیے گئے‘‘۔ آج قرآن وسنت کا یہ قانون دنیا کے اجتماعی ضمیر کے سامنے رکھا جائے کہ زنابالجبر کی سزا قتل اور سنگساری ہے تو پوری دنیا اس کو قبول بھی کریگی اور دنیا میں خواتین کیساتھ جبری زنا کے تصور سے بھی لوگ گھبرائیں گے۔ کوئی غیرتمند انسان اس کی مخالفت بھی نہ کریگا۔اگر حکومت پارلیمنٹ میں یہ قانون لائے کہ بچوں کیساتھ زیادتی پر بھی سزا ہو،اور مدارس میں قومی ایکشن پلان کے تحت سروے کیا جائے، ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے تو اس سے مدارس پر بدمعاش اور بدکردار لوگوں کے تسلط کا بالکل خاتمہ کرنے میں سہولت ہوگی۔
عورت اپنے جنسی میلان کی وجہ سے خراب ہوجائے تو یہ قابلِ فہم ہے لیکن مردوں کا ملوثی ہونا انسانی فطرت کے منافی ہے، لڑکوں کوغلط عادت پڑے تو غیرت کیوں نہیں کھائی جاتی ہے؟۔ مدارس اور معاشرے میں لواطت کی بدفعلی کو پروان چڑھایا جاتاہے ،کیا اس میں غیرت کے نام پر قتل کی اجازت ہوسکتی ہے؟۔ جس مذہبی طبقے میں اسلامی علوم کیلئے وقف ہونے والے بچوں کو جبری زیادتی کا نشانہ بنانے پر کوئی غیرت نہ کھائی جائے اور نہ ہی اس کیلئے کوئی قانون سازی کے حق میں ہو، اس ماحول کے مارے ہوئے طبقے خاتون کیساتھ زبردستی کی زیادتی کرنے والے کو سزا دلوانے میں کیسے کردار ادا کرسکتے ہیں؟۔
اسلامی قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن مذہبی طبقات کے اجتماعی ضمیر کو جگانے کیلئے جس ماحول کی ضرورت ہے، اس کی فراہمی قومی ایکشن پلان کے تحت ہی ریاست کی ذمہ داری ہے، مدارس کے نصاب اور ماحول کو اسلام، انسانیت اور فطرت کے مطابق بنانے میں جس دن مقتدر اداروں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کردیا تو پاکستان سے اس اسلامی نظام کا آغاز ہوگا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ دہشتگردی کاخاتمہ ہوگا بلکہ عالمی قوتیں بھی اسلام کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہونگی۔