آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا میونخ میں خطاب

413
0

German-Journalist-Reveled-Real-Facts-Behind-Mumbai-Attack-Qamar-Javed-Bajwa-delivers-a-speech-at-the-2018-Munich

جرمنی کے قدیمی معروف شہر میونخ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا ہے۔ میونخ میں علامہ اقبال نے بھی تعلیم حاصل کی ہے اور آئن اسٹائن سائنسدان کا تعلق بھی میونخ سے تھا۔ جنرل باجوہ کے خطاب کے اہم ترین نکات یہ تھے کہ روس کے خلاف جہاد کے نام پر 40سال قبل جو بویا تھا ، اسی کو اب کاٹ رہے ہیں۔ جہاد اپنے نفس پر قابو پانے کا نام ہے، قتال کا حکم صرف ریاست ہی دے سکتی ہے۔ 1840 علماء کرام و مفتیان عظام نے جہاد کو فساد کے طور پر استعمال کرنے کے خلاف متفقہ فتویٰ دیا ہے۔
آرمی چیف کیپٹن ہوکر بھرتی ہوتا ہے اور آرمی چیف تک پہنچتے پہنچتے اپنے سے بڑوں کا حکم ماننے کے علاوہ کسی چیز کو بھی نہ دیکھتا ہے ، نہ سمجھتا ہے اور نہ ہی اس پر غور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 40سال پہلے ہوسکتا ہے کہ جنرل باوجوہ پاک فوج میں ایک کیپٹن کی حیثیت سے بھرتی ہوئے ہوں۔ 80سال پہلے تو ہم برطانیہ کی ایک ادنیٰ کالونی تھے۔ امریکہ اور یورپ آج بھی ہماری فوج کو بڑی بڑی بلائیں نظر آتی ہیں۔ پاک فوج کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے ہی ذو الفقار علی بھٹو کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنادیا تھا۔ دنیا ورطہ حیرت میں پڑی تھی جب بھٹو نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس کے ایجنڈے کو پھاڑ ڈالا تھا۔
کیا خوب ہوتا کہ ہمارا کوئی سیاسی قائد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ میونخ میں دنیا سے خطاب کرتا اور ان الفاظ میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ۔
اے جرمنی کے باسیو! غور سے سن لو! ۔ تمہارے ایک صحافی نے جسطرح پانامہ لیکس کا انکشاف کیا تھا اور اس کی وجہ سے ہماری عدالتوں میںآج تک سیاسی ہلچل برپا ہے، اسی طرح جرمنی کے ایک صحافی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ممبئی بھارت میں ہونیوالا حملہ امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی ملی بھگت سازش تھی۔ پاکستان کے بہت نامور صحافی حامد میر نے مفتی نظام الدین شامزئی کی طرف سے بہت پہلے انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی مجاہدین کو امریکہ واشنگٹن کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے ذریعے پیسہ آرہا ہے جس سے علماء کو خریدا جارہا ہے۔ پھر وہی صحافی پتہ نہیں کس کے ہاتھ میں کھیل کر ممبئی حملے سے پاکستان کو بھی جوڑ رہا تھا۔ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے اتنا بھی کافی ہے کہ حافظ سعید کوئی مجاہد نہیں بلکہ رفاہی ادارے چلا رہا ہے۔ شکل اور ڈھنگ سے بھی کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسکا بھائی جو اسکا جانشین بھی ہے امریکہ ہی میں رہتا تھا اور کچھ عرصہ قبل آیا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت ان پر مقدمات بھی چلائے مگر عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش نہیں ہوسکا۔ مولانا مسعود اظہر کو انڈیا نے پکڑ لیا تھا اور تہاڑ جیل سے ہفت روزہ ضرب مؤمن میں تازہ حالات پر انکے بیانات آتے رہتے تھے۔ اتنی آزادی کے ساتھ تو وہ پاکستان میں بھی کام نہیں کرسکتا ہے۔ ایک خطیب اور صحافی کا جو کام وہ تہاڑجیل سے کررہا تھا اس سے زیادہ پاکستان میں بھی اس کو کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔
امریکہ میں 9/11کا واقعہ ہوا ۔ آج بھی اسکول کے طالب علم بگڑ کر دہشت گردی کے جو واقعات کررہے ہیں اس سے زیادہ ہمارے ہاں بھی دہشت گردی نہیں۔ امریکہ نے 9/11کے واقعہ پر افغانستان کے طالبان کو سزادی تو ہم نے عافیہ صدیقی تک کو امریکہ کے حوالے کردیا۔ افغانستان و پاکستان اس جنگ سے جتنے متاثر ہوئے اسکے اثرات آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق پر بھی حملہ کردیا اور پھر اپنی غلطی کا اقرار بھی کرلیا ۔ پھر لیبیا پر کسی وجہ کے بغیر حملہ کیا اور وہاں کی عوام کو تباہ و برباد کردیا۔ پھر شام میں لاکھوں افراد کو امریکہ نے مروا دیا اور اب افغانستان میں داعش اور طالبان کو طبل جنگ کیلئے تیار کر رکھا ہے۔ آخر یہ ساری کاروائیوں کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟۔ امریکہ کی نکیل جس اسرائیل کے ہاتھوں میں ہے اس بدمست ہاتھی کو روکنے والا آخر کون ہوگا۔ یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ اور دنیا بھر کے اکثر و بیشتر اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے برخلاف امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس کے شہر میں کھولا تو وہ دنیا میں تنہا رہ گیا۔ فلسطین میں امریکہ کی تنہائی کے بعد ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینے کی سخت ضرورت ہے جس سے دنیا میں امن کی بحالی کو یقینی بنایا جاسکے۔
ہمارا تعلق اس نبی ﷺسے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعٰلمین146146اور ہم نے نہیں بھیجا مگر تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر145145 ۔ اس کی صداقت صلح حدیبیہ اور فتح مکہ سے بھی نبی ﷺ نے ثابت کرکے دکھادی۔ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ صلح حدیبیہ میں کن شرائط کو قبول کرکے مسلمانوں نے اپنے مرکز مکہ مکرمہ پر مشرکین مکہ کی حکمرانی قبول کی۔ حضرت ابو جندلؓ کو اسی بنیاد پر زنجیروں میں باندھ کر لوٹادیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت ابو جندلؓ نے اپنی مدد آپ کے تحت فرار ہوکر اپنے طور سے ان کے خلاف جہاد کا سلسلہ شروع کیا۔ جس کی ذمہ داری نبی ﷺ کی حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی تھی۔ امریکہ مجاہدین کو گوانتا ناموبے لیکر گیا اور ایک ایسے وقت میں جب امریکہ کو وزیرستان میں بھی مجاہدین لیڈروں کی تلاش تھی اور خوش قسمتی سے ہمارے ہاں کوئی بھی لیڈر نہیں تھا تو عبد اللہ محسود کو گوانتا ناموبے سے چھوڑ کر عوام کو بنا بنایا لیڈر دیا گیا۔ عافیہ صدیقی ایک بال بچے دار خاتون ہیں لیکن ان کو 86سال قید کی سزا سنائی گئی۔ امریکہ دنیا کو یہ بتادے کہ اس کی پالیسی دہشت گردوں کو ختم کرنے کی تھی یا جلا بخشنے کی تھی؟ اور بی بی سی لندن نے کچھ ایسے لوگوں کے انٹرویو شائع کئے ہیں جن کو امریکی فوج نے اذیت دینے کیلئے اتنا ریپ کیا کہ ان کی پاخانے کی جگہوں سے خون نکلنے لگا تو کیا ان انسانیت سوز مظالم کے مقاصد دہشت گردی کو فروغ دینا نہیں ہے؟۔
آپ نے عبد اللہ محسود کو گوانتاناموبے سے چھوڑ کر ہمارے خلاف جہاد کیلئے راستہ ہموار کیا تھا، اگر ہم اس کو مارنے کے بجائے پکڑ کر تمہارے حوالے کرتے تو کیا بھروسہ تھا کہ تم پھر اس کو چھوڑ دیتے۔ القاعدہ کے بیج بھی تم نے بوئے اور پھر اس کو ختم کرنے کے بہانے دنیا بھر میں دہشت گردی کی لہر بھی تم نے دوڑادی۔ بس کرو بس ! بس کرو بس! بس کرو بس! بس کرو بس! بس کرو بس! بہت ہوگیا۔
اگر امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کوئی سیاسی قائد حقائق کے انداز میں تقریر کرتا تو امریکیوں کا ضمیر جاگتا یا سویا رہتا لیکن دنیا کو جگانے میں کامیابی ہوتی۔ اور پھر سب سے زیادہ یہ کہ ہمارے اپنے مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھل جاتیں اور ہم آپس کے فتنہ و فساد سے تو کم از کم بچ جاتے اور اگر ہم آپس میں فتنے و فساد سے پرہیز کریں تو دنیا ہم پر زبردستی کسی طرح سے بھی دہشتگردی مسلط نہ کرسکتی ۔