Home agreement-marriage حقوقِ نسواں اور مسائل کامذاق…محمد فیروز چھیپا : ڈائریکٹر فائنانس نوشتہ دیوار

حقوقِ نسواں اور مسائل کامذاق…محمد فیروز چھیپا : ڈائریکٹر فائنانس نوشتہ دیوار

344
0

حقوق نسواں کاکام ادھورا رہا۔ کال گرل کے نام پر عزت فروخت ہوتی ہے، گرل فرینڈ سے کھلواڑ ہوتا ہے۔ جسم فروشی قدیم دور سے بدتر حالت میں پہنچ گئی ۔ بچیاں اغواء ہوتی ہیں۔جبری جنسی بے راہ روی کے شکار قصور شہر پنجاب کی کہانی منظرِ عام پر آگئی تو انسانیت پر سکتہ طاری ہوگیا۔ میڈیا کی دُم پر مخصوص عزائم کیلئے ہاتھ رکھاجاتا ہے تو طوفان اٹھتا ہے پھر وہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔
جرائم کے پیچھے دراصل ظاہرکی کارکردگی کار فرما ہوتی ہے، جرم کا تعین اور سزا نہ ہوتو معاشرہ بے راہروی و قانون شکنی کا شکار رہتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بڑی آزمائش اور اذیتناک حضرت عائشہؓ پر بہتان تھا۔ ابن ابی رئیس المنافقین نے اس کی خوب تشہیر کردی۔ چند صحابہؓ نے بنیادی کردار ادا کیاتھا۔ اللہ تعالیٰ نے پرزور الفاظ میں اس کی مذمت کردی اور یہ بھی فرمایا کہ’’ اس میں اپنے لئے شر مت سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔(سورۂ نور)
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا دل چھلنی ہوا ، صحابہؓ کے جذبات مجروح ، ابوبکر صدیقؓ بے قابو ہوگئے، نبیﷺ کو بڑے امتحان کا سامنا کرناپڑامگر اللہ نے فرمایا کہ ’’ اس میں تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔ یہ فلسفہ کیاہے؟۔ مسلمانوں نے غور کیا؟۔ اس بہت بڑی آزمائش سے پاکدامن خواتین کی ایسی حفاظت کا قانون بنا اگر اس پر عمل ہو تاتو قیامت تک کوئی کسی عورت پر بہتان باندھنے کی جرأت نہ کرتا۔
قرآن میں زنا پر 100 بہتان پر80 کوڑے کی سزا ہے۔طاقتور پر بہتان قتل اور کمزور پر حرج نہیں ۔ ن لیگ کے میاں جاوید لطیف نے مراد سعید کی بہنوں پر الزام لگایا تو تحریک انصاف کے قائد وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا کہ ’’ میں اس کو تھپڑ مارنے کے بجائے قتل ہی کردیتا‘‘۔
مراد سعید کی بہنیں پاکدامن ہیں تو مدینہ کی ریاست میں جاوید لطیف پر 80کوڑے کی سزا سے ابتداء کی جائے۔ ’’اسٹیٹس کو‘‘ اسلام نے توڑاتھا، اس قانون سے خواتین کی عزتوں کو تحفظ فراہم کیااور جو طاقتور طبقہ الزام پر قتل کردیتا تھا انہیں لگام دی، بااثرخواتین کی طرح کمزور کوبھی برابری کی سطح پرتحفظ فراہم کردیا۔ اللہ نے خواتین کی عزت کے تحفظ کیلئے فرمایا کہ ’’اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو کوئی حرج نہیں البتہ آدھا حق مہر دینا پڑیگا اور عورت پر کوئی عدت نہ ہوگی ‘‘۔ یہ قانون معاشرتی برائی کے خاتمہ میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ہاتھ لگانے ، بچے جنوانے کی طلاق کے بعد پورا حق مہر دینے میں شک باقی نہیں رہتا۔ قرآن نے بار بارتلقین کی کہ ’’جو کچھ حق مہر کے علاوہ بھی دیا اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے‘‘ پھر کس قدر شرم کی بات ہوگی کہ حق مہر کے علاوہ اپنے بچوں کی ماں، اپنی عزت بیوی سے جہیز بھی چھین لیا جائے ۔ انسان مال کے معاملے میں بڑا حریص ہے کہ اپنی عزت کا خیال بھی نہیں رکھتا اور حق تلفی میں تقویٰ پھر لقویٰ بن جاتا ہے۔ اسلئے اللہ نے فرمایا کہ ’’ا نصاف کرو اور یہ تقویٰ کے قریب ہے‘‘۔
کیایہ بھی اسلامی انقلاب کی نوید ہے کہ عمران خان کی شخصیت سے یہودن جمائما نے طلاق لی اور بشریٰ بی بی نے خاور مانیکا سے خلع لیکر وزیراعظم سے شادی رچالی؟۔ مولانا طارق جمیل کی عمران خان اور بشریٰ کی تائید ہے!۔ یہ حق قرآن ہرخاتون کو دیتا ہے کہ ناپسندشوہر سے خلع لیکر اپنی پسند سے شادی کر ے اور چاہیں تو مرضی سے کبھی ایک کبھی دوسرے سے ایگریمنٹ یا متعہ کرکے خواہشات کی پیاس جائز طریقے سے بجھائے؟۔ ایک طرف جبری زنا کا راستہ حکومت نہ روک سکے تو دوسری طرف شیخ رشید جیسے ہر حکومت میں نمایاں ہوں،یہ تضادات کسی اسلامی انقلاب نہیں بلکہ افراتفری، فتنہ وفساد اور ہلڑبازی کا ذریعہ ہیں۔
یہ المیہ ہے کہ ایک طرف شرفاء کی طرف سے حق مہر کی سیکورٹی قربانی کے بکرے اور گائے جتنی رکھنے پر اصرار کیا جائے اور دوسری طرف بچے جنوانے کے بعد طلاق پر عورت کو حق مہر سے محروم کیا جائے۔ عورت اپنی کشتی جلاکر شوہر کے گھر میں آتی ہے،شوہر کو دنیا وآخرت کا رفیق بناتی ہے۔ وہ بے دخل ہو تو غم کا مداوا ہو اور اتنا حق مہر اور شوہر کا عطیہ ہو کہ کوئی بیوی کو طلاق دینے سے پہلے سودفعہ سوچے، ورنہ پھر مرد خواتین کو کھلواڑ بناکر مزے لیتے رہیں گے۔
قندیل بلوچ قتل میں نامزدمرکزی ملزم مفتی قوی صدر تحریکِ انصاف علماء ونگ نے میڈیا پر فتویٰ جاری کیا کہ ’’جس عورت کا نکاح نہ ہو تو اس سے جنسی تعلق بغیر قید کے باہمی رضاسے نکاح ہے ، نکاح ہے ، نکاح ہے‘‘۔ اگر یہ ماحول قائم کیا گیا تو جس طرح سودی نظام کے معاملے پر اسلامی اورغیراسلامی نظام کا فرق محض ڈھونگ ہے، اسی طرح کفر کے معاشرتی نظام اور اسلامی معاشرتی نظام میں بھی کوئی فرق نہ ہوگا۔ فقہ میں حرمت مصاہرت کے مسائل انتہائی شرمناک ہیں اور دیوبندی بریلوی مکاتبِ فکر نے اس نصاب کی اصلا ح کرنی ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا پلیٹ فارم اس سلسلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز نے بالمشافہہ ملاقات میں کہا کہ نصاب کی اصلاح میںآپکا تعاون درکار ہوگا۔ میں نے عرض کیا کہ ’’ میں ایک سال تک خدمت کیلئے تیار ہوں‘‘۔ ممکن ہے کہ قبلہ صاحب پر اپنی جماعت جمعیت علماء اسلام کا کوئی دباؤ ہو۔ مولانا فضل الرحمن پر علمی تحقیقات کے حوالہ سے ایک خوف کی کیفیت طاری ہے۔ وہ غلط مذہبی خول کی بقاء میں سیاسی مفاد چاہتے ہیں۔ دین اور دنیا میں حق کو چھپانے یا ساتھ نہ دینے کا نتیجہ گھمبیر ہوتا ہے۔ مولانا نے اپنے سیاسی قد کاٹھ کا نقصان کیا ہے۔
اگر مولوی نے اپنی وکالت کا رخ متعہ کے جواز کیلئے کردیا تو ثابت کریگا کہ قرآن میں وان استمتعتم منھن فأتوھن اجورھن کیساتھ قرآن میں الی اجل مسمیٰ کا اضافہ تھا۔ یعنی معین مدت کا متعہ کرنا نہ صرف قرآن کا تقاضہ ہے بلکہ قرآن میں کمی کرکے تحریف کی گئی۔ معتبر تفاسیر میں پوری آیت موجود ہے۔ حالانکہ جس طرح تفسیر جلالین میں بھی بین السطور تفاسیر لکھی گئیں تو گزشتہ تفاسیر میں یہی اضافہ ہے۔ نصاب کی کتاب ’’ نورالانوار ‘‘ میں ہے کہ ’’ ساس کی اندورنی شرمگاہ پر شہوت سے نظر پڑنا نکاح ہے‘‘۔نصاب میں موجود غلطیوں کے تدارک سے مدارس کا نظامِ تعلیم درست ہوگا تو اسکے زبردست اور فوری اثرات ہونگے۔ دین کی فقہ کیلئے مذہبی گروہ صحابہ کرامؓ کے دور میں اصحابِ صفہ تھا اور قرآن کی نصوص و احادیث صحیحہ کو سمجھنے کی صلاحیت علماء کرام میں ہے۔انکی فکر سے نچلی سطح سے لیکر عالمی سطح تک واقعی بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔


قرآن نے مشرکوں کے مدِ مقابل غلام ولونڈی سے نکاح کو ترجیح و مشرک عیسائیوں سے نکاح کی اجازت دیکر عالمی انقلاب کی بنیادرکھی۔ ہجرت والی کزن اور ہجرت نہ کرنیوالی میں فرق سے حکمتوں کا آغاز کیا۔ نبیﷺ کی اُم ہانیؓ سے نکاح کی چاہت مگر اجازت نہ ملی اورایگریمنٹ کی اجازت تھی۔ ام ہانیؓ نے بچوں کے جذبات کا خیال رکھ کر نبیﷺ سے نکاح نہیں کیا تو نبیﷺ نے انکی اس پر تعریف فرمائی۔جمائما خان بچوں کا خیال رکھ کر نکاحِ ثانی نہیں کرتی ،متعہ کادستور نہ ہونے کیوجہ سے بوائے فرینڈز بدلتی رہتی ہے۔ اگر بشریٰ بی بی خاور مانیکا سے طلاق لیتی پھر عمران خان سے متعہ کرتی تو بہتر تھا۔ عمران خان نے خاور مانیکا کے نکاح میں بشریٰ سے تعلقات استوار کرکے وہ کیا جسکا جواز مفتی عبدالقوی کے بدنام زمانہ فتویٰ میں بھی نہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کا مذاق اسلئے اڑایا جارہاہے کہ جمائما خان کو اپنا کردار عمران اور بشریٰ بی بی سے بہتر لگتا ہے۔ مولانا طارق جمیل مائیکل جیکسن، کترینہ اور مسرت شاہین کی تعریف کا بھی سماں باندھ سکتے ہیں مگر یہ تبلیغی جماعت کا ایک فن اور طریقۂ واردات ہے۔ کروڑوہا لوگ اسلئے دامِ اسیر بنائے گئے کہ ان کو سب کا دل جیتناہی آتاہے۔ وہ ڈاکٹر ذاکر نائیک، اہل تشیع، طالبان اور سب کی تعریف کرکے اتحادِ امت کے بڑے دعویدار ہیں۔
فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں میں حرمت مصاہرت پر جو شرمناک مسائل لکھے گئے ہیں اور نصاب کی کتابوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور فتاویٰ کی کتابوں میں موجود عوام کو فتوے دئیے جاتے ہیں ان کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ ’’جب عمران خان نے فرسٹ کزن ڈاکٹر طاہر القادری کا کہا تھا کہ میں نے اس سے رشتہ تو نہیں مانگا ، جس پر ڈاکٹر طاہر القادری نے بہت برا منایا تھا۔ اگر عمران خان نے یہ کہہ دیاکہ مفتی عبد القوی کو میرا ہاتھ شہوت سے لگ گیا تو یہ بھی نکاح ہے اور انکی اولادیں ایک دوسرے کیلئے حنفی مسلک کے تحت حرام اور شافعی مسلک کیمطابق جائز ہونگی‘‘
امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب بہت سے فقہی مسائل کا حضرت امام ابو حنیفہؒ سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن اپنی طرف سے مسائل گھڑ گھڑ کر امام ابو حنیفہؒ کو بدنام کیا گیا ہے۔ قرآن میں منکوحہ اور ملکت ایمانکم کے اندر تھوڑا فرق ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ لا تنکحوا ما نکح ابائکم من النساء الا ما قد سلف ’’تم اپنے آباء کے منکوحہ عورتوں سے نکاح نہ کرو مگر یہ کہ جو پہلے گزر چکا ہے‘‘۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے منکوحہ مراد ہیں یا لونڈیاں بھی مراد ہیں؟۔ اس کا جواب ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ دونوں مراد ہیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے بھی یہی مؤقف رکھا تھا اور امام شافعیؒ نے بھی یہی مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ بعد کے لوگوں نے بڑی فضول قسم کی باتیں اور مسائل ان دونوں ائمہ اجل کیطرف منسوب کردئیے۔ آج جاہلیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں۔ اندرونی صفحہ 3پر مدیر منتظم نادر شاہ کے مضمون میں تھوڑی بہت تفصیل دیکھ لیں۔
ہم علماء کرام اور مفتیان عظام کی قدر کرتے ہیں لیکن ان کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے نصاب ، فتوے اور عمل پر نظر ثانی فرمالیں۔ ان کو خطرات بیرونی دنیا سے نہیں ہیں بلکہ اندرونی معاملات سے ہیں۔ جب دیوبندی بریلوی علماء کرام رسوم و بدعات پر لڑا کرتے تھے تو یہ ان کے اپنے اختلافات تھے۔ آج دونوں کو ان کے نصاب سے بڑے خطرات لاحق ہیں۔ ہم ان کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں مگر وہ اپنی آنکھیں کھولنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی نے مذہب کے نام پر دین کی خدمت سے زیادہ طاقت کے حصول کیلئے ہر دور میں پاپڑ بیلے ہیں۔ علماء کرام سے وہ ہمیشہ عوام کو متنفر کرتے رہے ہیں لیکن وہ خود بھی سلیس انداز میں وہی اسلام لوگوں کو پہنچاتے رہے ہیں جو مولویوں کی طرف سے قرآن و سنت کی تفسیر و ترجمہ میں لکھا گیا ہے۔
تبلیغی جماعت کے اکابر جب مولانا الیاس ؒ ، مولانا یوسف ؒ ، شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اور حضرت حاجی محمد عثمانؒ جیسے لوگ ہوا کرتے تھے تو دنیا میں ان کے درد اور خدمت سے مذہبی جذبے اٹھتے تھے ۔ افسوس اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ کبھی مولانا طارق جمیل کلثوم نواز کا جنازہ پڑھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور کبھی بشریٰ بی بی کی تعریف کے گن گاتے ہیں۔ واہ ربا انا للہ و انا الیہ راجعون۔