Home اداریہ پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے ایک منشور کی ضرورت

پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے ایک منشور کی ضرورت

413
0

موسمیاتی تبدیلیوں ، پانی کے ذخائر،ماحولیاتی آلودگی ، اسلحہ کی دوڑ دھوپ سازش کے تحت فرقہ وارانہ لڑائی اور مضبوط اداروں کو سازش کے تحت کمزور کرنیکا رویہ خاص طور سے بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ ریاست کی مضبوطی اداروں سے اور اداروں کی مضبوطی دیانتداری، میرٹ اور اپنے کام سے کام رکھنے میں ہی ہے۔ سیاسی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو ملک وقوم کے بجائے اپنا کاروبار چمکارہے ہیں۔
1: تعلیمی نظام کے نصاب کو درست کرنیکی ضرورت ہے، بھاری بھرکم بستے اور بڑی بڑی فیسوں نے قوم کے بچوں ، نوجوانوں اور نسلوں کے مستقبل کوداؤ پر لگادیا ہے۔ اچھے نصاب اور بچوں کے معیار سے تعلیمی قابلیت کے اساتذہ قوم کی ضرورت ہیں۔ اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ اورطلبہ کی زیادہ سے زیادہ فیس بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔ جس سے قوم تباہ ہورہی ہے، سکول مالکان کی ناجائز منافع خوری المیہ ہے، تعلیم کاروبار نہیں خدمت ہے،اساتذہ کو کسمپرسی سے نکالنا اور طلبہ کو سستی تعلیم دینا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے بجائے بوجھ بنتا جارہاہے جسکی وجہ سے نقل اور جعلی ڈگریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قوم کی نااہلی کیلئے ہمارا تعلیمی نظام اپنا کردار ادا کرنے میں سب سے آگے ہے۔
قدرت نے پاکستان کو بے پناہ دولت سے نوازا ۔ پانی اور ہر موسم کی آب و ہوا، میدانی و پہاڑی سلسلہ ، دشت وصحرا، عرب وعجم اور مشرق ومغرب کے اس سنگم پر واقعہ ہونا جس میں دنیاکیلئے اسکی بہت بڑی اہمیت ہے۔حکمران قذاقوں کی طرح لوٹ مار کے بجائے قوم کے بہتر مستقبل کیلئے سوچیں۔ہم گرمی میں پہاڑی، سردی میں میدانی علاقے کا موسم انجوائے کرنیوالے تعلیمی ادارے بناسکتے ہیں جو کم خرچ بالا نشیں ہونگے، وزیرستان کے بھی ایسے مدارس ہیں۔اگر مدارس کا نصاب درست کرلیا تو اسکے بہت مثبت اثرات پڑینگے۔ قرآن وسنت سے معاشرہ مالا مال ہوگا، تو عالم اسلام ہی نہیں پاکستان دنیا کی امامت بھی کریگا۔
2: پہاڑی علاقوں سے آنیوالا شفاف پانی ڈیموں کے ذریعہ ذخیرہ کیا جائے تو زیرزمین پانی کے ذخائز میٹھے پانی سے مالامال ہونگے۔ سستی بجلی پیدا ہوگی توعام لوگ پاکستان میں اے سی اور ہیٹر کا استعمال کرکے دنیا کے جہنم سے بچ سکیں گے اور پانی کو ہر طرح کی آلودگی سے بچانے کیلئے انتظام ہوگا تو صحتمند معاشرے پر حکمران فخر کرسکیں گے۔ ملیں، کارخانے اور فیکٹریاںآلودگی پیدا کریں توا ن کو فی الفور کراچی گوادر کوسٹل ہائی وے منتقل کیا جائے۔ بلوچستان کی غیرآباد زمیں آباد اور باقی پاکستان کو آلودہ پانی سے نجات ملے گی۔ دنیامیں کیا ہورہاہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟۔ جس طرح انسانی جسم قدرت کا حسین شاہکار ہے۔ کھانے پینے اور ہگنے وپیشاب کرنیکی راہیں ایک ہوجائیں توپورا جسم بدحال ہوجائے۔ ان حکمرانوں کی مسیحائی کے سہارے بیٹھنا زیادتی ہے جو قوم کی تباہی کو پیشہ بناچکے ،پاکستان کے اندر میٹھے پانی کی اتنی صلاحیت ہے کہ کراچی کی ندیاں شفاف پانی سے مالامال ہوں۔ بڑی سڑکوں پر گرین بیلٹ، نہریں اور چھوٹی سڑکوں پر نالے بنیں اور عوام فائدہ اٹھائیں۔ ابھی تو کچی آبادی کیا، متوسط طبقے بھی نہیں ڈیفنس والے بھی پانی سے محروم ہیں۔ سندھ کی زرعی آبادی کیلئے کالاباغ ڈیم ضروری ہے، سندھ کو نہری نظام کے ذریعے بنجر ہونے سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ دریائے سندھ کبھی طوفان نوح اور کبھی کربلا کا منظر پیش کرتا ہے، دنیا آسمانی پانی کی تسخیر پر عمل پیرا ہے اور ہم بہتے پانی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔کالاباغ ڈیم بن جائے تو جب دریا خشک ہوتاہے توپورادریا ڈیم بن سکتاہے، نہ صرف دریا بلکہ جگہ جگہ بڑے مصنوعی ڈیم بنادئیے جائیں تو پاکستان سرسبزوشاداب ہوگا، باغات و جنگلات کی وجہ سے بارشیں برسیں گی ،پانی کا کوئی مسئلہ نہ ہوگا، نہری نظام اور گندے نالوں کا جال پاکستان کو فطری زندگی سے مالامال کردے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ ہم نے پانی سے ہر جاندار کو زندگی بخشی ہے‘‘ ۔پانی کا مسئلہ حل کئے بغیر بہتر مستقبل کا خواب پورانہ ہوگا۔
3: پاکستان کے شہری علاقوں میں سڑکوں پر ہجوم کا معاملہ روزانہ خوامخواہ کی اذیت ہے۔ جہاں سرکاری املاک ہوتے ہیں وہاں بھی سڑک انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سرکار عوام کی خادم ہو تو سب سے پہلے سرکاری املاک کی بہت بڑی کٹوتی کرکے راہ دکھائی جائے کہ جہاں عوام کو تکلیف نہ ہوگی وہاں زمین اور مارکیٹوں کا بھاؤ بھی نسبتاً بہت زیادہ ہوگا۔ گورنمنٹ کے اداروں کیلئے زمین کونسا بڑا مسئلہ ہے، لینڈ مافیا سے مل کر حکومت اور عوام کے املاک پر قبضے کا سلسلہ کب سے جاری ہے؟، مقتدر طبقہ اپنے مفاد میں اندھا ہونے کے بجائے قومی مفاد اور عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھے ،لیاری ایکسپریس وے کے مکینوں کوگھروں سے محروم کیا جارہاہے اور بدلے میں 50ہزار روپے دئیے جارہے ہیں؟۔ کیا غریبوں کی بدعا ان لوگوں کو نہیں لگے گی؟۔ حکومت کیلئے مشکل نہ تھا کہ فلیٹ یا گھر بناکر دیتی مگربے حس اور مفاد پرست طبقہ حکمرانی کے مزے لیتاہے۔ منصوبہ بندی کرکے تمام شہروں کی شاہراہوں کو وسیع کیا جائے، ٹریفک نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ شریعت میں قبرستان اور مساجد کو بھی راستہ بڑا کرنے کیلئے مسمار کیا جاسکتاہے۔ پنجاب کی آبادی بہت بڑی ہے، جنوبی پنجاب کو ملتان سے اسلام آباد تک موٹر وے کے ذریعے میانوالی کی صراط مستقیم سے ملایا جائیگا تو اسکا فائدہ کراچی سندھ اور کوئٹہ بلوچستان کشمیر ، گلگت بلتستان، ہزارہ کے علاوہ پنجاب کو بھی ہوگا ٹریفک کی آلودگی سے بچت ہوگی۔ بڑی مقدار میں فیول اور انرجی بچے گی۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں کو بہترشاہراہوں کے ذریعے ملایا جائے توپوری قوم موسم کیمطابق پاکستان کے ہر علاقہ سے فائدہ اٹھا ئیگی۔ بابائے قوم گرمی کی چھٹیاں زیارت میں گزارتے تھے، حکمرانوں نے پہاڑی علاقوں میں محلات بنا رکھے ہیں تو عوام بھی اپنی اوقات کے مطابق گرمیوں کا موسم پہاڑی علاقے میں گزارسکتے ہیں۔
4: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خداداد صلاحیتیں دی ہیں، کوئی ذہنی صلاحیت رکھتاہے اور کوئی جسمانی صلاحیت رکھتاہے۔کوئی بھی قوم ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو ذہنی کاموں پر لگادیتی ہے اور جسمانی صلاحیت والوں کو جسمانی صلاحیت پر لگادیتی ہے تو وہ بلندی وعروج حاصل کرلیتی ہے اور جو اسکے برعکس جسمانی صلاحیت والوں کو ذہنی اور ذہنی صلاحیت رکھنے والوں کو جسمانی کام پر لگادیتی ہے تو وہ گراوٹ و پستی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نوازشریف اور شہباز شریف میں قائدانہ صلاحیتیں نہ تھیں مگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کو پروان چڑھایا جس کی سزا آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں صلاحیت تھی تو ایوب خان نے ان کا درست انتخاب کیا تھا، جب بھٹو نے احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا اورایوب خان کو چھوڑ دیا تو عروج کی منزل حاصل کی مگر ڈکٹیٹر کے اثر نے خوئے جمہوریت کھو دی۔ اب بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز میں قائدانہ صلاحیت تو دور کی بات ذہنی صلاحیت بھی نہیں اور ملالہ یوسف زئی میں ایک غریب کی بچی ہونے کے باوجود قائدانہ صلاحیت ہے۔ جب امیر وغریب کو تعلیم کے یکساں مواقع مل جائیں تو ذہنی صلاحیت امیر وغریب کے بچے میں ہو تو قوم کو قابل ڈاکٹر، انجینئراور تعلیم یافتہ طبقہ ملے گا۔ جن میں ذہنی صلاحیت نہ ہو تو وہ قوم پر نالائق بن کر بھی بوجھ نہیں بنے گا۔ جاگیردار کا بچہ ذہنی صلاحیت سے محروم ہوکر ڈاکٹر بنے اور غریب کا بچہ ذہنی صلاحیت سے مالامال ہوکر بھی کھیتی باڑی کرے تو قوم کا مستقبل کبھی نہیں بن سکتاہے۔ پاکستان میں مزارعت پر پابندی لگائی جائے تو جاگیردار زمین کاشت کریگا یا مزراع کو مفت میں دیگا۔ جس مزارع کو مفت میں کاشت کیلئے زمین مل جائے تووہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دلواسکے گا۔ والدین بچوں کو تعلیم دلاسکیں تو بچوں پر مزدوری نہ کرنے کی پابندی لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔پھر بلاول زرداری، حسن و حسین نواز جیسے لوگ کھیتی باڑی کرینگے اور قابل لوگ آگے آئیں گے۔
5: میاں بیوی ، حکمران رعایا اور طاقتور کمزور کے حقوق کا تعین ہوجائے اور معاشرہ شعور سے مالامال ہوجائے تو ظلم وجبر کا خود بخودخاتمہ ہوگا اور اعلیٰ اخلاقی قدریں تہذیب وتمدن کا حصہ بن جائیں گی۔ النساء کی آیت19میں عورت کو خلع کا حق اور20میں شوہرکوطلاق کا حق اجاگر کیا جائے تو99%شوہروں کے غیر اخلاقی اور تشدد کے رویہ میں فرق آئیگا۔ اس طرح طلاق کی درست تعبیر سامنے لائی جائے تو 100%عوام رمضان کے مہینے میں تین عشرے کی طرح تین مرتبہ طلاق اور آخری عشرے میں مساجدمیں اعتکاف کی طرح حلالہ کا مسئلہ سمجھ میں آجائیگا۔ حقوق کا مسئلہ حل ہوگا تو لوگ قرآن کے وعظ سے مستفید ہونگے۔