تاریخ کے اوراق: حبیب جالب

603
0

1962ء کا دستور
ایوب خان کے مارشل لاء کیخلاف آواز اٹھانا بڑے ہی حوصلے کی بات تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ ایوب خان کے خلاف میرے علاوہ کسی نے آواز اٹھائی تھی۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
وہ چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
یہ نظم سننے کے دوران جو لوگ سہمے بیٹھے تھے وہ اب نعرہ زن ہوگئے بآواز بلند داد دی اور بار بار ایک ایک بند کو سنا۔
مولانا بھاشانی
میں نے بھٹو سے پوچھا کہ ’’مولانا بھاشانی کو شیشے میں کیسے اتارا تھا؟‘‘۔ بھٹو نے کہا کہ ’’بھئی وہ قصور میرا ہے۔ میں نے مولانا بھاشانی سے کہا کہ ہم چین کی طرف جا رہے ہیں، تم مادر ملت کیساتھ امریکہ کی طرف جارہے ہو۔ پھر میں نے اسے پیسے دئیے‘‘۔ ۔۔۔مولانا بھاشانی مشرقی پاکستان کے مقبول ترین رہنما تھے اور بی ڈی الیکشن میں انکے امیدوار کامیاب بھی ہوگئے تو پھر محترمہ فاطمہ جناح کیوں ہاریں؟ ۔ یہ سوال مدتوں ہم دوستوں کو پریشان کرتا رہا۔ اس وقت سنا یہی تھا کہ ایوب خان نے بھٹو کی معرفت مولانا بھاشانی سے کوئی سودا بازی کرلی تھی۔ ۔۔۔
ہماری نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما مولانا بھاشانی پر تنقید سے سخت پریشان تھے۔ ایک بار مولانا بھاشانی کو گھیر لیا ۔ اجمل خٹک اور ولی خان نے تو سخت الفاظ میں ان باتوں کا ذکر کیا جو مولانا کے بارے میں ہورہی تھیں۔ مگر مولانا جواب دینے کے بجائے ٹالتے رہے۔ ولی خان نے کہا :’’بھٹو صاحب کہتے ہیں کہ آپ نے پیسے لئے ہیں‘‘۔
’’ولی خان تم پختونستان مانگتا ہے ادھر آؤ ہم تمہاری مدد کریگا‘‘۔ مولانا بھاشانی نے ٹالتے ہوئے کہا۔
ولی خان نے جواباً کہا : ’’یہاں پختونستان کی بات نہیں ہورہی ہم تو صرف نام پختونستان مانگتے ہیں تم بتاؤ تم نے بھٹو صاحب سے پیسے لئے تھے؟‘‘۔۔۔۔
اپوزیشن لیڈر بھٹو
ایوب خان کا عہد میرے دل و دماغ پر ایک سزا کے طور پر گزرا ہے، ہماری پارٹی (نیپ) مغربی پاکستان کے ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی تھی۔ نیپ خیال کے اعتبار سے ذہین لوگوں کیلئے بڑی قابل قبول تھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ’’مجھے نیپ کا مرکزی جنرل سیکرٹری بناؤتومیں نیب میں شامل ہوجاؤں گا‘‘۔ ہم نے کہا کہ جمہوری پارٹی کا یہ کام نہیں کہ کسی کو عہدہ دے، ہمارے ہاں الیکشن ہوتاہے اور الیکشن کے ذریعے کوئی بھی منتخب ہوسکتا ہے۔
باچاخان
باچاخان آئین ساز اسمبلی کے ممبر تھے اور قائد اعظم نے انہیں اپنے ہاں چائے پر بلایا۔ قائد اعظم نے کہا کہ ’’آج میرا پاکستان مکمل ہوا ہے‘‘۔ باچاخان نے قائد اعظم کو بھی دعوت دی اور یہ بھی کہا ’’جس ایمانداری اور دیانت سے میں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اسکی کچھ وجوہات تھیں لیکن اب پاکستان بن گیا، اپنے ماننے والوں کو بھی آپ کے سامنے پیش کروں گا اور ان کو کہوں گا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ملکر کام کریں‘‘۔ قائد اعظم کی باچاخان سے ملاقات طے ہوگئی تھی جسے انگریز آئی جی اور قیوم خان نے ایک سازش کے تحت نہ ہونے دیا۔
ان سے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن جائیگا اور وہ آپ کو مار دیں گے۔ قائد اعظم بانی پاکستان ایک انسان تھے انہیں مافوق البشر قرار دینا غلط بات ہوگی۔ انسان خطاء کھا سکتا ہے قائد اعظم سے کوئی غلطی سرزد ہونا فطری عمل تھا۔ وہ باچا خان کی دعوت پر نہیں گئے اور انکے انتظار میں کھڑے لوگوں پر قیوم خان نے گولی چلوادی تھی۔ 700 سو آدمی مر گئے تھے۔ باچاخان کو گرفتار کرلیا گیا اور وہ متحدہ ہندوستان میں بھی بار بار قید ہوئے۔ اب پاکستان میں بھی انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں، قائد اعظم کو وہاں کس نے قتل کرنا تھا؟، ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے تمام سرحد کا دورہ کیا تھا ولی خان کی صدارت میں مادر ملت کا جلسہ بھی ہوا تھا۔ ولی خان نے الیکشن میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ باچاخان نے بھی مادر ملت کی حمایت کی تھی تو انہیں کسی نے قتل نہیں کیا۔ مادر ملت سرحد کے دورے پر جب تشریف لے گئیں تو ان کا شاندار استقبال ہوا۔ انکے ہاتھ دنبوں پر لگوا کر انہیں ذبح کیا گیا۔ یہ وہاں کی رسم ہے تو یہ بات غلط تھی کہ قائد اعظم کو وہاں کوئی پریشانی ہوتی یا ایسا کوئی واقعہ پیش آتا۔ (یہ خاکی وردی والے فوجی کا کام نہ تھا بلکہ انگریز پولیس آئی جی اور قیوم خان کا کام تھا۔ہر بات کا الزام فوج پر لگتا ہے۔قیوم خان کا انتخابی نشان ببر شیر ہوتا تھا جو آج ن لیگ کا ہے۔ )
شہید
کسی ڈکٹیٹر کو اپوزیشن نے نہیں اتارا بلکہ فوج نے آکر اتارا ۔ ایوب خان کو بھی اس کی فوج نے اتارا ۔ ضیاء الحق کو بھی اپوزیشن نے نہیں اتارا بلکہ فرشتہ اجل نے اُتارا۔
چنگیز خان شہید ہلاکو شہید ہے
آیا جو اس زمین پہ ڈاکو شہید ہے
جو اس نگر میں کرکے مرا ’’ کُو‘‘ شہید ہے
کاذب کے واسطے ہے ہر اک روز روزِ عید
کیا کیا نہ اہل صدق کی مٹی ہوئی پلید
کہئے یہی یقیں سے شیطان عظیم ہے
جو بھی ہے اس کے تابع فرماں عظیم ہے
ہر بو الہوس ہے معتبر و باوفا یہاں
ہر رہزن ہے رہبر و میر کارواں
ہر رہزن ہے خاک نشینوں کا ترجماں
لوگ اپنے قاتلوں کے ہیں عشاق میری جاں
نہ تو بھٹو کو شہید اور نہ ہی ضیاء الحق کو شہید مانتا ہوں۔ میں تو حسن ناصر کو شہید مانتا ہوں۔ بھٹو کی پھانسی کیخلاف میں نے بیان دیا، بھٹو صاحب نے کہا ہوگا کہ ’’اوئے تم کیا عجوبے ہو احمد رضا قصوری کو فکس نہیں کرسکتے۔۔۔‘‘ جیسے بھٹو کے عہد میں مولانا نورانی کا گریبان پکڑا گیا ۔ بھٹو نے یہ تو نہ کہا ہوگا کہ گولی ماردو اور انہوں نے جاکر گولی ماردی۔ جو نواب احمد خان کو لگ گئی۔ بھٹو کی پھانسی کا کیس کسی طرح نہ بنتا تھا۔ ہر چند کہ میرا بارہ سال کا بچہ طاہر عباس مرا، اسکا سوئم تھا، میں سوگوار بیٹھا تھا کہ بھٹو نے مجھے جیل میں ڈالا۔ میری بیوی آج تک اس کو نہیں بھولی۔ پیپلز پارٹی میں یہ خوبی ہے یا خامی کہ بھٹو فیملی سے اندھی عقیدت ہے۔ ہر پارٹی میں یہ ہوتا ہے لیکن عبد الولی خان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ سینٹرل ورکر کمیٹی میں ہر ایک کی بات سنتے ہیں لیکن طاقت سے اپنی بات منوالیتے ہیں۔ لیکن جو بھی کرنا چاہتے ہیں ،پارٹی کے اندر جمہوری انداز سے طے کرتے ہیں۔ بزنجو کیخلاف پارٹی میں اسوقت پچاس ساٹھ تقریریں ہوئی تھیں جب آئین کے مسئلے پر بھٹو کیساتھ گفتگو چلی تھی اور معاہدہ ہوا۔ بزنجو ولی خان سے اختلاف رکھتے تھے۔ وہ کسی صورت بھٹو کیساتھ کنفڈریشن کے حق میں نہ تھے۔ بزنجو صاحب میرے ساتھ جیل میں تھے تو انہوں نے کہا ’’بھئی میں ولی خان کی قید میں ہوں بھٹو کی قید میں نہیں‘‘۔
گوالیا رکا مشاعرہ
وہاں مشاعرے میں جب میں نے یہ شعر پڑھے
خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں
وہاں علامہ انور صابری احراری ہوا کرتے تھے وہ فوراً مائک پر آئے اور کہا کہ واہ واہ کیا شعر کہا ہے کہ
خدا کا نام کوئی لے تو چونک اٹھتے ہیں
ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں
’’ جالب نے جو چودہ سال پاکستان میں گزارے ۔ یہ اس کی کہانی اور داستان ہے ‘‘۔وہ جب مائک سے ہٹے تو میں نے کہا ’’شعر کبھی کبھی علامہ حضرات کے سر سے بھی گزر جاتا ہے۔ شعر انٹرنیشنل ہے ۔ خدا پاکستان ہی میں نہیں ساری دنیا میں ہے اسلئے پاکستانی سیاست کے پیش نظر تو شعر نہیں کہا ۔ جیسے علامہ صاحب نے پاکستانی خدا کو Exploitکرلیا تو یہ سراسر Exploitation ہے‘‘ دوسرے دن ایک نیشنلسٹ کہنے لگا کہ ’’کل تو آپ نے کمال کردیا ، علامہ انور صابری کو بہت اچھا جواب دیا۔ آپ تو بڑے باہوش آدمی ہیں ورنہ آپ کا تو پاکستان میں داخلہ بند ہوجاتا۔ اس نے تو سوچی سمجھی سازش کی تھی‘‘۔ میں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ کہاں کیا بات کرنا چاہیے۔ ہم دونوں ملکوں کے عوام کے حق میں بات کرتے ہیں۔ مجھے پاکستان کے عوام نے پیار دیا تو ہندوستان کے عوام بھی مجھے پسند کرتے ہیں میں نے انڈیا میں یہ بات محسوس کی ہے کہ جنگ نہ ہندوستان کے عوام کیلئے بہتر ہے اور نہ پاکستان کے عوام کیلئے سود مند ہے۔ ہم اس منافرت اور جنگ و جدل کے خلاف ہیں۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا مضبوط رشتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ابلیس نما انسان
اجمل خٹک کے ایک انٹرویو میں آیا کہ مرتضیٰ بھٹو کو کہا گیا کہ اون کرنا ہے۔ ورنہ اس کا یہ کام نہیں تھا۔ بہر کیف ضیاء الحق کو بہانہ مل گیا حکومت کا،مخالفین کو اندر کرنے کا۔ جمہوری عمل کو روکنے کا۔کراچی پریس کلب نے خط لکھا کہ آپ کوئی تازہ نظم لکھ کر لائیں۔ میں نے یہ نظم لکھی تھی۔
بندے کو خدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر ، دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ درو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
یہ اہل حشم یہ دارا و جم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائینگے سب پروردہ شب اے اہل وفا رہ جائینگے ہم
ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
حق بات پر کوڑے زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہے کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں
صحرا کو چمن بن کو گلشن بادل کو ردا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اے میرے وطن کے فنکارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
اور یہ قطعہ بھی سنا دیا
وہ کہہ رہے ہیں محبت نہیں وطن سے مجھے
سکھارہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے
میں بے شعور ہوں کہتا نہیں ستم کو کرم
یہی خطاب ملا ان کی انجمن سے مجھے
ضیاء الحق کے کارندوں نے سب سیاسی لوگوں کو پکڑ لیا ، ایم آر ڈی بن چکی تھی میاں محمود علی قصور ی انکے لڑکے فلمی ایکٹر محمد علی ، فیض صاحب کے داماد شعیب ہاشمی ، سوشلسٹ پارٹی کے سی آر اسلم سب کو کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے وہ کوٹ لکھپت جیل لے کر گئے۔ وہاں تقریباً سبھی لوگ تھے باقی آہستہ آہستہ آتے گئے۔ نصر اللہ خان بہاولپور میں نظربند تھے۔ پنجاب کے دوست مختلف جیلوں میں بند تھے۔ یہاں بھی ملاقات کے وقت سی آئی ڈی والے موجود ہوتے تھے۔ ہم کسی کا نام نہیں لیتے تھے، اشاروں کنایوں میں گفتگو کرتے کہ ’’بھئی فلاں سے قرض لے آؤ‘‘ نام لینے سے وہ پھنس سکتا تھا۔بے حد مشکل زندگی تھی ،بچے بے آسرا، میں جیل میں تھا۔ بیوی ملاقات کیلئے آئی میں نے کوٹ لکھپت جیل میں یہ غزل لکھی تھی ۔
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی
اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں میرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت میری جاں تھی
گھر میں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم
جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی
یکساں ہیں میری جان قفس اور نشیمن
انساں کی توقیر یہاں ہے نہ وہاں تھی
شاہوں سے جو کچھ ربط نہ قائم ہوا اپنا
عادت کا بھی کچھ جبر تھا کچھ اپنی زباں تھی
صیاد نے یوں ہی تو قفس میں نہیں ڈالا
مشہور گلستان میں بہت میری فغاں تھی
تو ایک حقیقت ہے میری جاں میری ہمدم
جو تھی میری غزلوں میں وہ اک وہم و گماں تھی
محسوس کیا میں نے ترے غم سے غم دہر
ورنہ میرے اشعار مین یہ بات کہاں تھی
میری کتاب ’’ سر مقتل ‘‘ ایوب خان دور میں ضبط ہوئی، ضیاء الحق دورمیں میری ایک اور شاعری کی کتاب ’’گنبد بے در‘‘ ضبط ہوگئی تھی۔ یہ عالم تھا کہ ہر طرف خاموشی تھی۔ ہماری آواز باہرتک نہ جاتی تھی۔ ضیاء دور بہت خوفناک تھا لگتا تھا جیسے ہم ساری زندگی جیل میں لڑتے رہیں گے۔ پھر معافی ناموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ’’باؤنڈسسٹم ‘‘کے تحت اس کے خلاف میں نے ایک نظم لکھ دی تھی کہ
دوستوجگ ہنسائی نہ مانگو موت مانگو ، رہائی نہ مانگو
عمر بھر سر جھکائے پھرو گے مل رہا ہے جو بار ندامت
دل پہ کیسے اٹھائے پھرو گے اپنے حق میں برائی نہ مانگو
ہم ہیں جن کے ستم کا نشانہ مت کہو ان سے غم کا فسانہ
پھر کہاں جم گھٹا یہ میسر بن گیا ہے قفس آشیانہ
اب قفس سے جدائی نہ مانگو موت مانگو رہائی نہ مانگو
رات سے روشنی مانگنا کیا موت سے زندگی مانگنا کیا
ظلم کی ظلمتوں سے میری جاں جوت انصاف کی مانگنا کیا
غاصبوں سے بھلائی نہ مانگو موت مانگو رہائی نہ مانگو
یہ نظم جیل سے باہر چلی گئی۔ اس کی سزا مجھے یہ دی گئی کہ مجھے میانوالی جیل بھیج دیا گیا اور وہاں پھانسی کی کوٹھڑی میں ڈال دیا۔ بڑی بھیانک جیل تھی۔ ہم بنیان اور جانگیا پہنے سلاخوں سے لگ کر ہوا کے جھونکے کے منتظر ہوتے۔ سامنے دیوارکیساتھ چھت ملی ہوئی تھی اور چھوٹے چھوٹے روشندان بہت اوپر تھے۔ پنکھے کو ہوا لگتی توکچھ ٹھنڈی ہوا آتی۔ لیکن پنکھا مسلسل گرم ہوا پھینکتا اسلئے بند کرنا پڑتا تھا۔ شدید تپش اور برا حال ۔ سانس لینا بھی دوبھر ہوتا تھا۔
میانوالی جیل
ایک دفعہ ہم جیل کے صحن میں بیٹھے، یہ چھوٹا سا صحن تھا اسمیں تھوڑی چھاؤں تھی، اسسٹنٹ جیلر آیااور ہمیں دیکھ کر کہا کہ ’’جالب صاحب یہاں بڑے بڑوں کے کپڑے اتر جاتے ہیں‘‘۔ کیونکہ ہم بنیان اور جانگیا پہنے ہوئے تھے۔ میں نے جواب دیا کہ ’’یہ بھی آپ کا حسن نظر ہے‘‘۔ وہ پھر کچھ دن ہم سے ملنے نہیں آیا۔
ایک دن جیلر نے کہا کہ ’’آپ کو شاعری نہیں کرنے دی جائے گی۔ نہ ہی آپ کو کاغذ قلم کی سہولت دی جائے گی‘‘۔ میں نے کہا نہ دینا میں تو بہت سادہ چیز کہتا ہوں۔ سادہ سادہ الفاظ میں۔ آپ کا یہ جو سپاہی ہے رات کو اسکے کان میں سناؤں گا ۔ صبح وہ سارے شہر میں عام ہوجائے گی۔ وہ کہنے لگا ’’میری آپکے ساتھ لائل پور سے واقفیت ہے‘‘۔ میں نے کہا میں آپ کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔ ٹھیک ہے آپ نے اپنا فرض ادا کردیا آپ نے اپنا کام کردیا اور ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ میں نے وہاں ایک غزل لکھی ۔
بکھیری زلف جب کالی گھٹا نے
نظر میں پھر گئے بیتے زمانے
جنوں کچھ اور بھی نکھرا ہمارا
بگاڑا کچھ نہ صحرا کی ہوا نے
میانوالی میں کرکے قید مجھ کو
بہت احسان کیا اہل جفا نے
ہوا اس شہر میں محروم پیدا
لکھے اس نے یہاں دل کے فسانے
بنایا شیرجاں ریگ رواں کو
محبت سے محبت آشناں نے
مجھے مٹنے دکھائی دے رہے ہیں
یہ زنداں اور یہ مقتل پرانے
گریں گی نفرتوں کی سب فصیلیں
یہاں گونجیں گے الفت کے ترانے
میانوالی میرا ، لاہور میرا
مجھے لگتے ہیں سب منظر سہانے
قفس میں مر چلے تھے ہم تو جالب
بچایا ہم کو آواز لتا نے
کراچی بدر
جس دن میں ہسپتال میں داخل ہوا تھا اسی شام پولیس مجھے پکڑنے آگئی تھی۔ انہوں نے مجھے گورنر کے آرڈر کے تحت کراچی بدر کرنا تھا۔ پولیس نے ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی سے بات کی کہ ’’ہم حبیب جالب کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر پولیس ہسپتال میں داخل نہیں ہوسکتی۔ ڈاکٹر ادیب نے کہا کہ ’’میں مریض کی خراب حالت کی وجہ سے نہیں چاہوں گا کہ آپ ان کو اٹھا کر لے جائیں۔ ٹھہرئے میں پہلے مریض سے پوچھتا ہوں‘‘۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ گورنمنٹ کے خرچ پر لاہور جانا چاہتے ہیں تو باہر پولیس کھڑی ہے اگر یہاں رہنا چاہتے ہیں تو آپ کی خدمت کیلئے ہر طرح سے حاضر ہوں۔ میں نے ان سے کہا آپ میرا علاج کریں میں یہیں رہوں گا وہ پولیس کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ مریض تو Moveبھی نہیں کر سکتا ہے پولیس نے کہا کہ ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ Move نہ کریں۔ چونکہ دوسرے دن ضیاء الحق کی آمریت کیخلاف جلوس نکلنا تھا ،مجھے شریک ہونا تھا یہ خبر چھپ چکی تھی ۔ میری حالت بہت خراب تھی اور اس قابل نہیں تھا کہ جلوس میں شامل ہوکر نعرے بازی کرسکوں۔ یہ وہ دور تھا جب ضیاء الحق نے ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا ہوا تھا پریس کلب میں ایک جلسہ تھا وہاں میں نے ریفرنڈم پر یہ نظم سنائی تھی۔
ریفرنڈم
شہر میں ہو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا
قید تھے دیواروں میں لوگ
باہر شور بہت کم تھا
کچھ باریش سے چہرے تھے
اور ایماں کا ماتم تھا
مرحومین شریک ہوئے
سچائی کا چہلم تھا
دن انیس دسمبر کا
بے معنیٰ بے ہنگم تھا
یا وعدیٰ تھا حاکم کا
یا اخباری کالم تھا
دیکھئے معلومات کا ذخیرہ(جالب بیتی : حبیب جالب)
مولانا فضل الرحمن کا کردار
کراچی کے تمام بڑے مدارس جامعہ بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی ، جامعہ فاروقیہ اور دیگر علماء نے جنرل ضیاء کے ریفرینڈم کی حمایت میں شرعی فتویٰ دیا تھا۔ ان پر حیرت تھی کہ سیاسی معاملے میں یہ نااہل فتوے کیوں دیتے ہیں؟۔ مولانا فضل الرحمن کا تعلق سیاست سے تھا اور انہوں جمہوریت کیلئے قربانیاں بھی دی تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ ’’ پاک فوج ملک کیلئے آنکھوں کی پلکوں کی طرح زینت بھی ہے اور حفاظت کا ذریعہ بھی۔ پلکوں کے بغیر آنکھیں بدنما بھی لگتی ہیں اور غیرمحفوظ بھی ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب پلکوں کا ایک بال بھی آنکھوں میں گھس جائے تو ناقابل برداشت ہوتا ہے، مارشل لاء کی صورت میں تمام پلکیں آنکھوں میں گھس گئی ہیں۔ ان کو آنکھوں سے نکالنا ضروری ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کا فریضہ پاک فوج انجام دیتی ہے تو ملک پر حکمرانی کا حق بھی اسے ملنا چاہیے۔ ملک کی حفاظت کیلئے ان کو معاوضہ ملتا ہے اور اگر کوئی چوکیدار گھر کی حفاظت کرے اور پھر وہ بندوق لیکر کھڑا ہوجائے اور مالک مکان کو یرغمال بنالے۔ اور اس کیلئے یہ دلیل دی جائے کہ مکان کی حفاظت بھی وہ کرتا ہے اور اس پر اختیار کا حق بھی اس کو حاصل ہے تو کیا کوئی اس دلیل کو مانے گا؟۔ قوم نے فوج کو بندوق اسلئے نہیں دی ہے کہ وہ قوم پر تھان کر حکومت کرے۔ یہ اسکے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ بناناہے۔ اپنی عوام پر اس کو آئین حکمرانی کا حق نہیں دیتا۔ ہمارا پیپلزپارٹی کیساتھ اختلاف ہے۔ وہ جمہوری ایجنڈہ سے جو نظام قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں ، ہم انکا مقابلہ اسلامی نظام کے ذریعے سے کرینگے۔ عوام انہیں کو ووٹ دے یا ہمیں منتخب کرے۔ گیند عوام کی کورٹ میں ہوگی مگر اب تو گیند چھن گئی ہے اور اب ہمارا مشترکہ فرض بنتا ہے کہ پہلے تیسرے فریق سے بال چھین لیں۔ فوج نے ایک ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے،اسکے لئے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے ۔ اسلئے ہمارا سیاسی جماعتوں سے اتحاد ہواہے‘‘۔