قرآن گھر کے ماحول کو خوشحال بنانے سے ریاست کی خوشحالی کا تصور دیتا ہے

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو زمین کا خلیفہ بنانے کا پروگرام بنایا تو جنت میں آپ کو زوجہ حضرت حواؑ کو بھی عطا کیا۔ جن سے نا فرمان بیٹا قابیل بھی پیدا ہوا اور فرمانبردار بیٹا ہابیل بھی پیدا ہوا۔ حضرت آدمؑ نے اپنی زوجہ محترمہ اور اپنی اولاد پر ہی خلافت قائم کی۔ زمین میں ایک گھر اور گھرانہ خلافت کا نظام بنا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا ہے کہ دنیا بھر میں اربوں انسان اور سینکڑوں ریاستیں ہیں۔ شرپسند عناصر قابیل کی راہ پرگامزن ہیں اور امن پسند ہابیل کی راہ پر چل رہے ہیں۔ ابلیس کو جس طرح سے بڑائی نے مارا تھا اسی طرح قابیل بھی اپنے بڑے پن کی وجہ سے زمین میں پہلا فسادی بن گیا تھا۔ آج بھی مختلف ممالک اور شہروں میں کئی بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد اپنے کرتوت سے زمین میں امن و امان کی فضاء کے سخت دشمن بنے ہوئے ہیں۔
وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَا فِی کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجْرِمِیہَا لِیَمْکُرُوا فِیہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123: الانعام) ”اور ہم نے اسی طرح ہر بستی میں اکابر بنائے ہیں جو ان میں جرائم کرتے ہیں تاکہ وہ ان میں اپنے داؤ پیچ چلائیں۔ لیکن وہ یہ داؤ پیچ نہیں کرتے مگر اپنی جانوں کے خلاف اور وہ اس کا شعور بھی نہیں رکھتے“۔ انبیاء کرام کے خلاف ملاء القوم (قوم کے اکابر) نے ہمیشہ سازشوں کے جال بچھائے اور پھر وہ اپنی سازشوں کا خود ہی شکار ہوئے۔ قیامت تک ان ملاء اور اکابر کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہنے کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نشاندہی فرمائی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں اہل حق کے خلاف ایسے اکابر اور ملاء کی سازشوں کے واقعات بے شمار ہیں۔ جب کسی بستی اور شہر کے بڑے اچھا کردار ادا کرتے ہیں تو پوری قوم کی بھی اصلاح ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل مشرکین مکہ کے بڑے ابوجہل وغیرہ بھی فسادیوں میں سر فہرست تھے۔ جب ایک مسافر اجنبی کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا تو نبی کریم ﷺ کے خاندان نے کچھ لوگوں کو حلف الفضول کے نام سے ایک عہد نامے پر جمع کیا کہ مکہ میں کسی کے ساتھ بھی نا انصافی اور ظلم نہیں کرنے دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی فرمایا تھا کہ ”مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ یہ پسند ہے کہ میں حلف الفضول میں شامل تھا“۔حلف الفضول کے وقت نبی ﷺ کے بچپن کا زمانہ تھا۔ یہ ماحول دنیا کے ظلم کو ختم کرنے کا ایک عندیہ تھا۔ ظالم کو ظلم سے روکنا انصاف کی حکومت کا کام تھا لیکن دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت کاکوئی نام و نشان تک بھی نہیں تھا۔
جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو ایک مسافر سے ابوجہل نے اس کا سارا مال ادھار پر خرید لیا اور پھر صاف انکار کردیا کہ جو کرسکتے ہو کرلو، مجھے مال واپس کرنا ہے اور نہ اس کی قیمت دینی ہے۔ ابو جہل اور قریش مکہ کے دیگر سرداروں کے ذہن میں یہ بات رچ بس گئی تھی کہ جس خاندان نے ظلم و زیادتی کے خلاف ایک مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا تھا وہ ایک فرد حضرت محمد ﷺ کی طرف سے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد اس قابل نہیں رہا ہے کہ اب وہ کسی مظلوم کی مدد کرسکے۔ جب وہ اجنبی شخص جس کے ساتھ ابوجہل نے ظلم کیا تھا خانہ کعبہ گیا اور قریش کے سرداروں سے مدد طلب کی تو انہوں نے بطور مذاق اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کی مدد کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو کھانا کھلایا اور تسلی دی کہ یہ میری ذمہ داری ہے آپ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ابوجہل کے پاس گئے اور اس کو سختی سے فرمایا کہ ابھی ابھی اس مسافر کا مال یا اس کی قیمت دے دو۔ ابوجہل پر رعب طاری ہوا اور فوراً اس نے قیمت دے دی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو خوشحال رخصت کیا تو اس نے نام پوچھ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا نام بتایا تو اس نے فوراً نبی ﷺ پر ایمان لاکر کلمہ توحید کی تصدیق کردی۔ حالانکہ اس کے ذہن میں یہ بٹھایا گیا تھا کہ ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈال سکتا ہے۔
وزیرستان کے محسود ایریا میں عرب قبائل کی طرح کوئی حکومت نہیں تھی۔ ان میں سب سے بڑی خوبی کسی مظلوم کی مدد تھی۔ جب امریکہ نے اُسامہ بن لادن پر کروز میزائل سے حملہ کرکے 150پاکستانیوں کو شہید کردیا تھا اور پھر طالبان کی حکومت ختم کرکے دنیا کو رام کرنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ مؤثر آواز اور اسکے خلاف جاندار رد عمل وزیرستان کی عوام کی طرف سے سامنے آیا تھا۔ یہ ظلم و زیادتی کے خلاف ایک عندیہ تھا لیکن جہالتوں کے ماحول سے نکلنے کیلئے اُمت مسلمہ نے قرآن کی طرف رجوع نہیں کیا تو ان قربانیوں کا کوئی صلہ اُمت مسلمہ اور انسانیت کو کبھی بھی نہیں مل سکتا ہے۔ ریاست کی بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے۔ جب کوئی بنت حوا کسی بنی آدم سے گھر بسانے کیلئے نکاح کے بندھن پر تیار ہوجاتی ہے تو اس میں دونوں کا فائدہ اور دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن و سنت میں معاہدے کیلئے کچھ بنیادی مسائل کی وضاحت ہے۔
عورت کی سیکورٹی کیلئے اللہ تعالیٰ نے مرد پر حق مہر کو فرض کیا ہے۔ اگر شوہر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے تو نصف حق مہر کا ادا کرنا اللہ کی طرف سے ایک واضح قانون ہے۔ اگر شوہر پورا حق مہر ادا کرنا چاہے یا عورت نصف بھی معاف کردے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ آپس میں ایکدوسرے پر فضل کو مت بھولو۔ یہ واضح ہے کہ ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر دینا لازم ہے۔ میاں بیوی کے متعلق قرآن کے احکامات سمجھنے کے بعد امت مسلمہ کے گھروں اور معاشرے سے لیکر اعلیٰ سطح کے اقتدار تک حکمران اور ریاست کے درست تصور کا نقشہ بھی سمجھ میں آجائے گا۔ آج ترقی یافتہ ممالک بڑی مشکل سے پسماندہ ممالک کے شہریوں کو اپنی شہریت دینے پر آمادہ ہوتے ہیں اسلئے کہ رعایا سے زیادہ ریاست اور اہل اقتدار پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر اس تناظر میں دیکھا جائے اور اسلامی احکام کو سمجھا جائے تو کسی خاتون کو اپنی زوجیت میں قبول کرنے سے پہلے مردوں کو ہزار بار سوچنے کی ضرورت پڑے گی۔ آج مسلمان معاشرے میں عورت اور رعایا کو اپنے شوہر اور حکمران سے اسلئے شکایت رہتی ہے کہ وہ خواتین اور رعایا کے اسلامی حقوق سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں۔ جس دن خواتین اور رعایا کے اسلامی حقوق کا دنیا کو پتہ چل جائے تو ساری دنیا اسلامی نظام کو قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائے گی۔ اسلامی احکام کو ایسا مسخ کردیا گیا ہے کہ لوگ اپنے روایتی ماحول کو بھی مولویوں کے اسلام سے زیادہ خواتین کے حقوق کیلئے تحفظ کا باعث سمجھتے ہیں۔
گھر میں ماں کی حیثیت ریاست اور باپ کی حیثیت حکمران کی ہوتی ہے۔ علماء نے یہ بالکل غلط تصور دیا ہے کہ بیوی کی حیثیت جانور سے بھی بدتر ہے۔ ایک بھینس زنجیر توڑ کر کہیں نکل جائے اور گم ہوجائے تو اس کا مالک بدل سکتا ہے لیکن بیوی وہ جانور ہے جو نہ اپنی زنجیر کھول سکتی ہے بلکہ اگر خلع لینے کیلئے نچلی سطح سے لیکر اعلیٰ سطح کی عدالت تک فیصلہ اپنے حق میں لے لے تو بھی علماء و مفتیان فتویٰ دیتے ہیں کہ جب تک شوہر اپنی زبان سے طلاق نہیں دے اس کی جان نہیں چھوٹے گی۔ بھلا ایک کمزور اور صنف نازک کیلئے دنیا کی کونسی وہ حکومت ہوگی جو اس قانون کو قبول کرلے؟۔ پاکستان کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنے گا۔ لیکن خلع کے حوالے سے پاکستان کی عدالتیں علماء و مفتیان کی خود ساختہ شریعتوں کو نہیں مانتے۔ جبکہ علماء و مفتیان سورہ بقرہ کی جس آیت 229البقرہ سے خلع ثابت کرنے کی حماقت کرتے ہیں اس میں خلع کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا۔ سورہ نساء آیت 19میں خلع کا حق اللہ تعالیٰ نے عورت کو دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ خلع کی صورت میں حق مہر کے علاوہ شوہر کی طرف سے دی ہوئی تمام منقولہ اشیاء کوبھی اپنے ساتھ عورت لے جاسکتی ہے۔ جب سورہ نساء کی واضح آیت پر معاشرے میں عمل کا تصور قائم ہوگا تو شوہر اپنی بیگم کو اپنے پاس روکنے کیلئے حق مہر کے علاوہ بھی زیادہ سے زیادہ چیزیں دیگا تاکہ وہ چھوڑ کر نہ چلی جائے اور اس پر تشدد اور ظلم کا کوئی سوال بھی پیدا نہیں ہوگا۔ طلاق کی صورت میں گھر کی مالکن عورت ہوگی اور تمام منقولہ و غیر منقولہ دی ہوئی اشیاء بھی عورت کو دینی ہوگی، جسکا ذکر سورہ نساء آیت 21-20میں واضح ہے
جب گھر میں باپ کی حیثیت حکمران اور ماں کی حیثیت ریاست کی ہوگی تو پوری دنیا سے ظلم و جبر کا نظام ختم کرنے میں قرآنی احکام سب سے بڑی بنیاد بنیں گے۔ اگر بچوں کے سامنے انکے باپ کی طرف سے ان کی ماں بے توقیر ہوگی اور اس کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہونگے تو کیسے ممکن ہوگا کہ اپنے گھر میں اپنی ماں کو ظلم و جبر کے قوانین میں دیکھنے والے بچے دنیا کی ریاستوں کو آزاد کرنے کیلئے کوئی کردار ادا کرسکیں؟۔ ترقی یافتہ ممالک نے مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیکر تھوڑی سی خوشحالی کا جو ماحول پیدا کیا ہے وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ اسلام نے مرد سے زیادہ عورت کو اور حکومت سے زیادہ رعایا کو بے پناہ حقوق دیکر زمین میں ایسے نظام کے قیام کی راہ ہموار کی جس سے زمین والے بھی خوش ہونگے اور آسمان والے بھی خوش ہونگے۔
اُمت مسلمہ میں ایک طرف خواتین جو بچوں کی مائیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ریاستوں کو جو عوام کی مائیں ہوتی ہیں بہت بدحال کیا گیا ہے۔ قرآن کے واضح احکام چھپائے گئے ہیں اور عورتوں کو بالکل آخری حد تک مظلوم بنایا گیا ہے اور حکمرانوں میں ریاستوں کو بھی بدحال کردیا ہے لیکن جس دن ماؤں کے حقوق بحال ہوئے اور ریاست کا کردار ماں والا بنا تو پوری دنیا پاکستان کے نقشِ قدم پر چلنے میں فخر محسوس کریگی۔
سید عتیق الرحمن گیلانی

اپنا تبصرہ بھیجیں