عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

626
0

مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ کی کتاب پر بعنوان عرض ناشر مولانا جلال پوری لکھتے ہیں’’ رسالہ ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں ‘‘ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی اسی افادیت کے پیشِ نظر اُسے ۱۴۰۵ھ میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا ، جسے اللہ تعالیٰ نے بے حد مقبولیت سے نوازا، اور بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوا۔اب جبکہ کمپیوٹر کمپوزنگ کا دور ہے تو احباب کا اصرار ہواکہ۔۔۔
*عربی متن پر اعراب لگاکر ۔۔۔* اب ترجمہ کا لفظ بڑھایا گیا۔ ۔۔۔*سابقہ ایڈیشنوں میں جہاں کہیں عربی یا اردو کی کتابت کی اغلاط تھیں۔۔۔ * احادیث کے متن کو اصل سے ملاکر اس کی تصحیح کردی گئی ہے۔۔۔ *احادیث کے نمبرات کو واضح کرنے کیلئے ان کو چوکٹے میں واضح کردیا گیا ہے۔
اگرچہ ناقص کا ہر کام ناقص ہوتاہے ، تاہم بہتر سے بہتر کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی ہے ، اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو امت کی راہ نمائی اور ہماری اصلاح کا ذریعہ بنائے آمین ۔خاکپائے حضرت لدھیانوی شہیدؒ سعید احمد جلال پوری ۲۰/۲/۱۴۲۵ ھ
’’پیش لفظ‘‘ کے عنوان سے مولانا یوسف لدھیانویؒ کا مقدمہ قابلِ غور ہے۔
دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجئے لیکن اخلاقی اقدار روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودنائت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینۂ انسانیت کیلئے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔ خلیفۂ ارضی (بنی نوع انسان) کی فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر ، جبل و دشت اور وحوش و طیور ’’ الامان والحفیظ!‘‘ کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، یہ دیکھ کر اہلِ بصیرت کایہ احساس قوی ہوتا جارہاہے کہ شاید اس عالم کی بساط لپیٹ دینے کا وقت زیادہ دور نہیں۔ ذیل میں احادیث نبویہ ( علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ و سلام) سے ایک آئینہ پیش کیا جارہا ہے جس میں دورِ حاضر کے تمام خدو خال نظر آتے ہیں اور علماء ، خطباء ، حکام اور عوام سبھی کے قابلِ اصلاح اُمور کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، اس کی جمع وترتیب سے مقصود کسی خاص طبقہ کی تنقیص نہیں، لالچ صرف یہ ہے کہ ہم اس شفاف آئینہ میں اپنا رخِ کرداردیکھ کر اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔
یہ سلسلہ ماہنامہ بینات میں شروع کیاگیاتھا، اورمندرجہ بالا ابتدائیہ بھی اس کی قسطِ اوّل میں آیاتھا۔ ۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ اسے قبول فرمائے اور تمام فتنوں سے امت کی حفاظت فرمائے ۔ واللہ ولی التوفیق محمدیوسف لدھیانوی۱۵/۱۰/۱۴۰۵ھ
1: ہلاکت کا خطرہ کب؟۔ عن زینب بنت جحشؓ قالت۔۔۔ قیل : انھلک و فینا الصالحون ؟، قال : نعم اذا کثر الخبث ’’ حضرت زینب بنت جحشؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا : کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں؟۔ فرمایا: ہاں جب خباثت کی کثرت ہوجائے ۔ بخاری ج۲، ۱۰۴۶۔ مسلم ج۲، ۳۸۸
عصر حاضر کی یہ پہلی حدیث ہے۔ جب جمعیت علماء اسلام کے اکابرین پر مفتی رشید احمد لدھیانوی، مفتی محمد شفیع، مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ نے کفر والحاد کا فتوی لگایا تھا تو علامہ یوسف بنوریؒ نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہ1970ء کی بات تھی۔ پھر حاجی عثمانؒ پر علماء ومفتیان نے جب فتویٰ لگادیا تو مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ حاجی عثمان کوئی اچھے انسان ہونگے ، پیسہ کھاکر یہ فتویٰ لگایا ہوگا جیسے70میں کیا تھا۔ جب میں نے علماء ومفتیان سے ایسا فتویٰ لیا ہے جس میں وہ حضرت شاہ ولی اللہؒ ، حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ، علامہ یوسف بنوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ پر کفر والحاد اور قادیانیت کے فتوے لگاکر پھنس رہے تھے تومولانا فضل محمد نے کہا کہ مفتی رشید نے علامہ یوسف بنوریؒ کو بہت ستایا تھا، حدیث قدسی ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے میرے ولی کو اذیت دی ، میرا اس کیساتھ اعلانِ جنگ ہے۔اب مفتی رشید احمد لدھیانوی اس کی سزا بھگت رہاہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ سے کہا تھا کہ’’ دنبے کو آپ نے لٹادیا، چھرا تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس کو ذبح کردینا، اگر ٹانگیں ہلائیں تو ہم پکڑ لیں گے‘‘علماء ومفتیان جمعیت کے رہنماؤں سے بھیک مانگ رہے تھے کہ ’’ ہم پھنسے ہیں ، کسی طرح سے ہمیں بچاؤ‘‘۔مفتی رشید لدھیانوی کے جانشین مفتی عبدالرحیم کی وہ تحریراور فتویٰ ان لوگوں کیلئے وبال جان اور عذاب بن کر رہ گیا تھا۔
ہفت روزہ تکبیر کراچی کو انہوں نے خود مہیا کیا تھا جس پر ثروت جمال اصمعی نے لکھاکہ ’’یہ فتویٰ حاجی عثمان کے خاص مرید سید عتیق الرحمن گیلانی نے لیا، جنکے اس قسم کے عقائد ہوں تو حکومت کو اس پرپابندی لگانی چاہیے‘‘۔ مگر علماء اپنے دام میں صیاد کی طرح پھنس گئے تو مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذمہ معاملہ لیا، مفتی تقی عثمانی نے حاجی عثمانؒ کے وکیل کی طرف سے نوٹس کے جواب میں لکھا کہ ’’ہم نے نام سے کوئی فتویٰ نہیں دیا‘‘۔ پھر تکبیر کراچی نے لکھا کہ ’’ اگرعلماء کی طرف سے کوئی بے احتیاطی ہوئی ہے تو غلط بیانی کے بجائے اعتراف میں عزت ہے‘‘۔ ہم چاہتے تو عوام میں ان کو بہت خراب کرسکتے تھے لیکن ہمارا طرزِ عمل پھر بھی ادب واحترام اور بہت پردہ پوشی والا ہی رہا ۔ حاجی عثمانؒ نے ثبوت دیا کہ ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ ورنہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی چاہت بھی تھی کہ انکی عزت خراب ہوجائے۔
پھر ایک شخص نے مختلف الفاظ میں مفتیان سے الگ الگ فتویٰ لیا ، جس میں وہ حاجی عثمانؒ کے مریداور ہونے والے داماد کو شریعت کا پابند بتاتے ہوئے نکاح کے جواز اور منعقد ہونے کا فتویٰ پوچھ رہا تھا۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے فتویٰ دیا کہ ’’نکاح بہرحال جائز ہے، جو فتویٰ منسوب ہے، وہ درست نہیں تو فتویٰ نہیں لگتا‘‘۔ اسرار، مفتی عبدالسلام چاٹگامی اور مفتی ولی حسن ٹونکی کے دستخط تھے۔ دارالعلوم کراچی سے نکاح منعقد ہونے کا لفظ پوچھا گیا تو فتویٰ لکھ دیا کہ ’’نکاح منعقد ہوجائیگامگر بہتر یہ ہے کہ علماء نے جو فتویٰ لگایا ہے، انکے حالات سے آگاہ کیا جائے‘‘۔ مفتی رشید لدھیانوی کی دارالافتاء نے نکاح کے ناجائز ہونے کا فتویٰ لگادیا۔ پھر تینوں فتوؤں کے بعد مفتی رشید لدھیانوی کے شاگرد نے ایک ہی قلم سے سوال وجواب فتویٰ لکھا کہ ’’ اس نکاح کا انجام کیا ہوگا ؟، عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا‘‘۔ پھر مجذوب مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکیؒ نے بھی دستخط کردئیے، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی نے لکھ دیا کہ ’’نکاح جائز نہیں، گومنعقد ہوجائے‘‘۔ مفتی نظام الدین شامزئی جامعہ فاروقیہ میں تھے تو حاجی عثمانؒ کے حق میں فتویٰ دیا اوربنوری ٹاؤن آئے تو دارالعلوم دیوبند انڈیا کی طرف سے ہمارے حق میں اور علماء ومفتیان کی مخالفت آئی تو مفتی شامزئی نے کہا کہ ’’ابھی میں نیا نیا آیا ہوں اسلئے رسک نہیں لے سکتا ہوں‘‘۔ مفتی رشید کی خباثت کا طوطی بول رہا تھاتو امت کے اکابر اور پھر عوام کی ہلاکت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اسے عصر حاضر کی پہلی حدیث کی روشنی میں دیکھ لیجئے۔ قیوم آباد کے قریب محمودآباد کے ایک مولانا نے بتایا کہ ’’امریکی کونصلیٹ کا ملازم اور مفتی رشید کا مرید کہتاہے کہ مفتی رشید کیلئے جو گناہ کئے، اللہ مجھے معاف نہیں کریگا‘‘۔