سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عبد القدوس بلوچ (تیز و تند) کا بیان

383
0

نوشتۂ دیوار کے کالم نگار عبدالقدوس بلوچ نے کہا کہ ’’حکمران کے قول وعمل میں تضاد ہے، وزیرستان کے طالبان نے رات کی تاریکی میں حملہ کیااور13افرادکو شہیدکردیا ۔اپنے ہلاک شدگان کو ساتھ لیجاکر رات کی تاریکی میں دفن کردیا ۔ اسکے مقابلہ میں ماڈل ٹاؤن لاہور کا واقعہ زیادہ واضح تھا، پولیس نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے 14افراد کو شہید کردیا۔ لاہور کے واقعہ میں رانا ثناء اللہ ، شہباز شریف کو نوازشریف اور چوہدری نثار نے ذمہ دار قرار نہ دیا۔طالبان امیر بیت اللہ اوردیگر رہنماؤں نے قاری حسین اور حکیم اللہ کو ذمہ دار قرار دیاتھا۔ جنہوں نے قصاص کیلئے خود کو پیش کرنے کیساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ تم بھی قصاص کیلئے تیار ہوجاؤ، اسلئے کہ تمہارے کہنے سے ہم نے بہت بے گناہوں کا خون کیا۔ اپنے گاؤں کے شریف انسان ملک خاندان کو انکے گھر والوں سمیت تمہارے حکم پر شہید کردیا، انکے قصاص کیلئے تم بھی تیار ہو؟۔ جس پر طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔ طالبان چاہتے تو انکار بھی کرسکتے تھے اور اس وقت حکومت کا بھی ان پر کوئی دباؤ نہ تھا۔ اگر مسلم لیگ ن ان طالبان کی تعریف نہ کرے جنہوں نے قربانی دی تو کیا اپنی تعریف کریگی ؟ جو لوٹ کر قوم کا سارا مال کھا گئے اور ڈکار بھی نہیں لے رہے ؟۔ قومی ایکشن پلان پر جن طالبان کیخلاف عمل ہوا، انکے سہولت کار سیاستدان و حکمران ان سے کئی درجے بدتر ہیں، جو قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے ذمہ دار تھے، اچھا ہوا کہ جنرل راحیل وقت پر چلے گئے ورنہ انکی مخلصانہ سرگرمی شکوک کا شکار بن جاتی۔ ٹھنڈے مزاج جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں عدلیہ نے انصاف سے وزیراعظم کا فیصلہ کیاتو عاصمہ جہانگیر یہ نہ کہیں گی کہ ’’ عدلیہ اور فوج دو خدا مل گئے ‘‘ اب تو پنجاب کے پنج تن پاک کی پاکدامنی کا دامن بھی پاک نہ رہاہے۔ راجہ رنجیت سنگھ نے بھی ایسی کرپشن نہ کی ہوگی۔ الفاظ کا احترام عمل سے مشروط ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور انکی جماعت کے رہنما ہزاربار کہیں کہ ’’ محترم قاتل صاحب!، محترم ڈاکو صاحب!، محترم کرپٹ صاحب‘‘۔یہ الفاظ کی پاکیزگی کاثبوت نہیں ۔ طالبان نے اپنی قوم کو تباہ کیا اور موقع ضائع کیا ورنہ ان سے توبہتر ہوتے۔خرم نواز گنڈہ پور نے کہا کہ’’ طالبان میں فرشتہ صفت انسان بھی ہیں اور شیطان بھی‘‘۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا: پولیس ایکٹ1821 ؁ء کے اختیار ات سے 21ویں صدی کے انصاف کی توقع غلط ہے جبکہ سندھ پولیس کے قاتل اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔خرم نواز گنڈہ پور کی بات بھی درست تھی کہ طالبان میں ہرقسم کے لوگ ہیں، آئی جی سندھ خواجہ کی بات بھی درست ہے کہ پولیس کے اندر اصلاحات کئے بغیر معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی اور جب پولیس سیاسی دباؤ سے آزاد نہ ہو تو بات نہیں بنے گی۔ خیبر پختونخواہ کی پولیس کو آزاد سمجھا جائے تو اس کی وجہ صوبائی حکومت کا کمال بھی ہوسکتاہے مگروہاں پاک فوج کی وجہ سے سیاسی عمل دخل بھی نہیں ہوسکتا۔اے ڈی خواجہ کے کمالات بھی کراچی میں رینجرز اور سندھ حکومت پر پاک فوج کے دباؤ کانتیجہ ہے۔ عدلیہ نے بھی ان کو بحال کرنے میں اپنا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ریاستی اداروں کے افراد کو عوام کے مقابلے میں جرائم پر بڑی سزا دی جائے تو اسکے اچھے نتائج نکلیں گے اور پاکستان کی ریاست اتنی مستحکم ہوگی کہ دنیا میں کوئی ملک اس کا مقابلہ نہ کرسکے گا۔
پنجاب پاکستان کیلئے ایک بہت بڑ اثاثہ ہے۔ پاک فوج کی وہاں باقی صوبوں کے مقابلے میں شاید کوئی گنجائش بھی نہیں نکلتی ہے کہ اپنا کوئی کردار ادا کرسکے۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف اپوزیشن یا حکومت میں ہوں ، پاک فوج کی اعلیٰ قیادتوں سے راز ونیاز کا معاملہ رہتاہے۔ پنجاب پولیس نے اتنا بڑا سانحۂ ماڈل ٹاؤن رونما کردیا لیکن قربانی کا بکرا گلو بٹ بن گیا۔ گاڑیوں کے شیشے توڑنے والا مجرم مگر انسانی جانوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکے۔ پنجاب پولیس کو ایسا استعمال کیا گیا جیسے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے سپریم کورٹ پر ہلا بول دیا تھا۔اگر یہی حال رہا تو طالبان اور ایم کیوایم کے علاوہ دوسری شکلوں میں بھی ریاست کے خلاف کھڑی ہونے والی قوتیں پیدا ہوں گی۔
بلوچستان ، پختونخواہ اور کراچی کے آسودہ حال لوگ پنجاب اور اندورن سندھ کے بدحال لوگوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے حالات کو بدلنے کیلئے پنجاب اور اندرون سندھ میں بہت محنت کی ضرورت ہے۔ جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے سارے گڑھ پنجاب میں ہیں لیکن وہ بڑے سلجھے ہوئے لوگ ہیں۔ بلوچ اور پٹھان پہاڑوں اور صحراؤں کی وجہ سے سخت طبیعت اور مزاج کے مالک ہوتے ہیں۔بلوچ کی تاریخ انتقامی کاروائی میں سنگدلی کی رہی ۔جبکہ ایم کیوایم کی تشکیل نے کراچی کے شریف مہاجر کو بھی سفاک بنادیا۔ فوج، عدلیہ اور پولیس ہمارے لئے اس وقت بہتر ہیں جب ہم اپناکردار درست کرلیں۔ اسلام نے مشرکینِ مکہ جیسے جاہل اور مدینہ کے منافقین کی سرشست کو بدلنے میں عظیم الشان کامیابی کا مظاہرہ کیا۔ رئیس المنافین عبداللہ بن ابی کے بیٹے سچے صحابی تھے، ابوجہل کے بیٹے عکرمہؓ نے دل وجان سے اسلام قبول کرکے اپنا سابقہ اسلام دشمنی کاحساب چکا دیاتھا ۔
بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں اور اداروں کے کردار کو درست نہج پر نہیں لایا جاسکا اور انگریز سے آزادی کے بعد عروج حاصل کرنے کے بجائے مزید تنزلی کا شکار ہوگئے مگر مایوسی کفر ہے۔ ہم نے اس کلچر کو بدلنا ہوگا کہ زور وزبردستی، جبرو تشدد اور ظلم وتعدی سے بڑا انقلاب آسکتاہے۔ اس کلچر کو بھی بدلنا ہوگا کہ کرپشن کے ذریعہ پیسے کماکر لیڈرشپ قوم کو دی جائے۔ سیاسی اشرافیہ قوم کے سامنے بے نقاب ہے ، اس قوم کو دھوکے میں رکھنا ممکن نہیں ۔ سیاسی جماعتوں نے مغلیہ دور کی خاندانی امارت قائم کررکھی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت راجہ رنجیت سنگھ سے بھی بدتر ہے اور پیپلزپارٹی راجہ داہر سے بدتر کردار ادا کررہی ہے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سارے اثاثے آل اولاد سمیت باہر ہیں اور یہ یہاں برٹش امپائر کی طرح عوام کو غلام کی طرح استعمال کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کررہے ہیں۔
طالبان، بلوچ قوم پرست ،ایم کیوایم کی طرح ریاست پنجاب کے ارباب اقتدار کا بھی محاسبہ کرے، ورنہ اس دفعہ شدت پسندی کی لہر غریبوں کے ہاں سے اٹھے گی اور پھریہ بھول جاؤ کہ ریاست اس پر قابو پاسکے گی،سب کچھ بہالے جائے گی۔ نوازشریف کا پہلوان بیٹا حسین نواز عوام کے بچوں کیساتھ پڑھتا تو اس کی صلاحیتوں کو قوم دیکھ لیتی۔ جنرل راحیل شریف نے جس ٹرسٹ کا اعلان کیا ہے، اس سے ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان کے سنگم پر ایک تعلیمی اکیڈمی بنائیں تو شہداء کے بچوں کا مستقبل بہتر ہوسکتاہے۔ ہم نے گومل میں کبیر پبلک اکیڈمی بنائی تھی تو اس میں امیروں کے پہلوان بچوں کے مقابلے میں غریبوں کے بچے زیادہ باصلاحیت تھے۔ قوم اس وقت ترقی کرسکتی ہے جب غریبوں کو تعلیم کے یکساں مواقع ملیں۔ قابلیت والے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں اور صلاحیت سے عاری اپنی اوقات میں رہیں تو قوم عروج کی منزل دیکھے گی۔نوازشریف کے بیٹے جتنے بڑے کاروباری خودکو کہہ رہے تھے ، قطری شہزادے کے خطوط نے ان کی مٹی پلید کرکے رکھ دی۔مجیب الرحمن شامی اپنا تأثر قوم کو بتائیں کہ حسین نواز میں ماشاء اللہ کتنی صلاحیت تھی؟۔ یہ لیاری میں گدھا گاڑی چلاتا تو اس کا دماغ بھی تیز ہوجاتا اور صحت بھی بورے اٹھانے سے تندرست رہتی۔ قوم کاچوری پیسہ کھانے پر عزت خراب ہوگئی وہ بھی بچ جاتی۔سعد رفیق کو اپنا رزق حلال کرنے کیلئے غصہ نہ کھانا پڑتاتھا۔عدلیہ ن لیگ کی کارکن تو نہیں بن سکتی ہے۔ جج بیمار ہوسکتے ہیں ، فیصلے میں تاخیری حربے استعمال کرسکتے ہیں ۔ رحمن ملک جب ایف آئی اے کے ملازم تھے تو سپریم کورٹ کے حکم سے تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے عدالت کے ریکارڈ کا حصہ بنایا تھا ، اگر معزز جج صاحب عمران خان کے وکیل پر ہنسیں گے کہ وہی رحمن ملک جو وزیر تھے تو اس سے جج کی عزت میں یقیناًکوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ کوئی بھی سرکاری افسر یا ملازم فارغ ہو تو دوسال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سیاسی کردار کو سرکاری ملازم رکھا جائے۔ ججوں کی تقرری سوالیہ نشان ہے، زرداری کے دور میں افتخار چوہدری نے جو جج لئے تھے وہ سب ن لیگ کے قریب سمجھے جاتے تھے اور چیف جسٹس ثاقب نثار کا معاملہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں، خواجہ آصف نے جان بوجھ کر سابقہ کردار پر میڈیا میں تبصرے پر شرم نہیں کی ۔ قدوس بلوچ