ایٹمی جنگ ہوگی تو کیوں اور نہیں ہوگی تو کیوں نہیں ہوگی؟ ایڈیٹر نوشتہ دیوار اجمل ملک

برصغیر پاک و ہند پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اگر ایٹمی جنگ ہوگئی تو اس کا سبب کیا ہوگا؟۔ اور اگر جنگ کے خطرات ٹل گئے تو وجوہات کیا ہوں گی؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اگر عورت کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ نصف حق مہر دینا ہوگا اور اگر حق مہر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق حق مہر دینا ہوگا۔ اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے ماہنامہ ’’اشاعۃ التوحید و السنۃ‘‘ پنج پیر صوابی نے انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے مدرسے کیلئے چندے کی رقم طلب کرنے کی ترغیب دی تھی۔ یہ میجر عامر کے بھائی شیخ القرآن مولانا طیب صاحب کے زیر سرپرستی نکلتا ہے۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں نصف حق مہر ہے تورخصتی اور کئی سالوں کے بعد طلاق دینے پر پورا حق مہر کیسے فرض نہ ہوگا؟۔ ایک بہت بدھو شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کی صورت میں حق مہر کے علاوہ تمام دی ہوئی چیزوں کی بھی وضاحت کی ہے کہ کوئی چیز واپس نہیں لی جاسکتی۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ’’دی ہوئی چیزوں سے مراد حق مہر ہے‘‘۔ اس نے یہ تفسیر لتا حیاء کو بھی بھیج دی تھی۔ سورہ نساء آیت 20، 21میں واضح طورپر اللہ نے فرمایا کہ ’’طلاق کی صورت میں دی ہوئی چیز نہیں لی جاسکتی ‘‘۔ اور سورہ بقرہ آیت 229میں یہ بھی واضح ہے کہ ’’جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں الا یہ کہ دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اوراگرتمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اسکے بغیر اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو اس چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں‘‘۔ یہ بھی طلاق کی صورت ہے۔ وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو مرتبہ طلاق کے بعد آیت 229 تسریح بالاحسان ہی قرآن میں تیسری طلاق ہے۔ خلع کی صورت سورہ نساء آیت 19میں واضح ہے۔ جہاں عورت کو نہ صرف خاوند چھوڑنے کا حق دیا گیا ہے بلکہ منقولہ اشیاء کو ساتھ لے جانے کی وضاحت بھی ہے۔ لتا حیا کو قرآن کی صحیح تفسیر پیش کی جاتی تو تمام کٹر ہندو بھی اسلام قبول کرنے میں باک نہیں سمجھتے۔ حلالہ کی لعنت اور گائے کی وجہ سے جب انسانوں کا قتل ہوتا ہے تو بر صغیر پاک و ہند ایٹمی عذاب کے مستحق بنتے ہیں اور اگر ان کی اس لعنت سے جان چھڑائی جائے تو ایٹمی جنگ کا عذاب اللہ تعالیٰ ٹال دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں